سوموار، 21 مارچ، 2011

ریمنڈ ڈیوس

میں نے تو جی پہلے هی لکھا تھا که ریمنڈ ڈیوس نے چھوٹ تو جانا هی هے
http://khawarking.blogspot.com/2011/01/blog-post_30.html
لیکن اگر کسی بہانے سے چھوڑا جائے تو بہتر هے
جو بهانے میں نے لکھے تھے ان ميں قصاص کا نهیں لکھا تھا
که میرا دھیان اس طرف گیا هی نهیں تھا که غیر مسلم اور مسلم کے درمیاں اس قسم کے معاملے کے متعلق
مولوی
کیا کهتے هیں ، مجھے معلوم هی نهیں تھا
اب جب که ذہیں لوگوں نے ایک قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کر لیا هے تو
جذباتی لوگوں کا اسلام خطرے میں پڑ گیا هے
وچکارلے ـ روشن خیال ـ مخصوص ذہنیت ، یا جو بھی حسن کرشمه ساز کرے لیکن
عام لوگوں کو یه بتائیں که
اسلام ميں ایک قانون هے !ـ
اور
پیسے والے اس قانون کی سهولت لے کر کام چلا لیتے هیں تو !ـ
کیا؟
اس کو غلط کهنا اسلام کی توهین نہیں ہے؟؟؟
میرے ذہن میں تو میرا اسلام واضع ہے
آپ کا اسلام کیا هے ؟
کیا یه واضع هے؟
چلو جی اسلام کو چھڈو
ملکی قانون کا هی سهارا لو
لیکن کس کے ذہن میں یه واضع هے که کیا کرنا ہے
غیر قانونی اسلحے کا کیس بھی بنایا جاسکتا تھا
که پنجاب پولیس اس کیس کی ماہر هے جی
چوھدریوں کے کهنے پر کمیوں کے لڑکوں کو لتر لگانے کی
جعلی نمبر پلیٹ کا کیس بھی تو هے ناں جی ؟
لیکن اس کیس کی رشوت کا ایک ریٹ هے
جو ادا کر دیا گیا هو گا
پنجاپ پولیس کے کسی تھانیدار سے کہتے که کیا کیس بنانے هیں تو
ایسے ایسے کیس بنا کر دیتا که
امریکی قانون دان حیران هو جاتے لیکن
اس کے بعد اس تھانیدارکو فوراً پیچھے هٹا لیا جائے ورنه
ان کیسوں کےرشوت کے ریٹ بتانے لگے گا

یارو
پاکستان کے هر بندے کو
هر چیز کے پیچھے
سازش نظر اتی هے
اور
یه هے بھی ٹھیک
هی
که وهاں پاکستان ميں ایک سازش در سازش کا جال ہے
جو که بنا جاچکا ہے اور بننے والے هیں
جی ٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠!ـ
میں نے نهیں بتانا ہے
ورنه میں بھی غائب هو جاؤں گا
ایک بندے کے کارندے نے میرے سامنے میرے دادے کو
کہا
اؤے تہڑوایا!!ـ
اور میں کچھ ناں کرسکا
اور میں دیکھ رها هوں که اس بندے کا کردار کیا هے اس وقت کی ملکی حالت کے پیچھے
لیکن اس کا نام کهیں بھی کسی بھی اخبار میں نهیں هے اور ناں هی کسی ٹیلی وژن پروگرام ميں ـ

لوگو سنو!!!!ـ
تمهارا مذہب بھی هائی جیک هو چکا هے اور
تمهارا ملک بھی
اور مجھے افسوس هے اس بات کا که تمہارے ذہن بھی هائی جیک هو چکے هیں اور تمهاری اولادوں کے بھی

4 تبصرے:

عثمان کہا...

قصاص کا قانون چونکہ قرآن میں واضح الفاظ میں موجود ہے اس لئے اس سے صرف نظر ناممکن ہے۔ تاہم پاکستان جیسے غیرمنصفانہ اور کرپٹ معاشرے میں یہ قوانین لاگو کرتے وقت احتیاط سے کام لینا پڑے گا ورنہ نتیجہ وہی نکلے گا جو ریمنڈ ڈیوس کیس میں نکلا ہے۔ میری ناقص رائے میں موجودہ حالات میں اگر چند باتوں کا خیال رکھا جائے تو اس قانون سے بہت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ مثلاً

۱) قتل خطا کے ضمن میں قانون سے استفادہ کیا جائے تاہم قتل عمد میں فی الوقت گریز کیا جائے۔
۲) قاتل اور مقتول کی معاشرتی حثیت مساوی ہو۔ دولت ، طاقت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے شرکائے مقدمہ کے مابین ذیادہ تفریق نہ ہو جیسا کہ ریمنڈ ڈیوس کے کیس میں تھی۔
۳) اس بات کا فیصلہ عدالت کرے کہ آیا قصاص کا قانون متعلقہ مقدمے میں استعمال کیا جائے یا نہیں۔ اس کے بعد اختیار مقتول کے ورثا کو دیا جائے۔ اس طرح یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ کوئی دھونس ، دھمکی نہیں استعمال کی گئی۔

جب معاشرے کی حالت آہستہ آہستہ بہتر ہوتی جائے گی تو اوپر بیان کی گئی حدود ہٹا کر قانون آزادانہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

قاسم کہا...

taza tareen fatwa from fatawa usmani

افتخار اجمل بھوپال کہا...

قصاص اور ديت کے متعلق اللہ کا واضح حُکم موجود ہيں ۔ قصاص کا مطلب ہے ہاتھ کے بدلے ہاتھ ۔ کان کے بدلے کان ۔ جان کے بدلے جان ۔ اس سے بچاؤ کا طريقہ ديت ہے يعنی خون بہا ورثاء قبول کريں ۔ مگر بنيادی شرط ورثاء کا آزادانہ فيصلہ ہے جو کھلے عام ہونا چاہيئے ۔ ريمنڈ ديوس کے معاملہ ميں اندر کھاتے کيا ہوا کسی کے علم ميں نہيں ہے ۔ ويسے بھی يہ صرف قتل نہيں بلکہ فساد فی الارض کا کيس ہے جس ميں ديت لاگو نہيں ہوتی ۔
دوسری بات اُن دفعات کی ہے جو حکومت کی طرف سے لگائی جانا چاہئيں تھيں اور نہيں لگائی گئيں ۔ وہ ہيں ناجائز اسلحہ کی موجودگی ۔ اہم عمارات کے نقشے ۔ غيرمُلکيوں کيلئے ممنوعہ علاقہ ميں بغير پوليس کو اطلاع کئے گھومنا وغيرہ

عنیقہ ناز کہا...

دیت کے قانون میں کہیں بھی آزادانہ عدالت کا نکتہ نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ دیت اس وقت لاگو ہوتی ہے جب جرم ثابت ہو جائے۔ اور ورثاء راضی ہوں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ دیت لینے سے پہلے ورثاء کوئ پبلک اعلان جاری کریں کہ ہم دیت لینے جا رہے ہیں ، ہر خآص و عام کو اطلاع ہو۔
اسلام سے پہلے عرب قبائل میں یہ قانون رائج تھا۔ آج اگر دنیا کی پرانی ترین تہذیبوں میں جھانکا جائے تو وہاں بھی یہ قانون ہو گا کہ جس کے فریق مارے جائیں اس سے لین دین کے بعد معاملہ صاف کر لیا جائے۔
ظاہر سی بات ہے اسلام میں دیت کا تصور اتنا آسان ہو جیسا کہ قرآن کی آیت کے حوالے سے کہا جاتا ہے تو رسول اللہ یہ کبھی نہ کہتے کہ فاظمہ بھی اگر چوری کرتی تو اسکے ہاتھ کاٹ دئیے جاتے۔
اپنی اس بنیادی شکل میں تو یہ امراء کے بچاءو کا ایک ذریعہ نظر آتا ہے۔
خیر اس ساری بحث سے ہٹ کر، اگر امریکہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کا خون بہا دینے کو تیار ہو تو میرا خیال ہے کہ دائیں بازو کی سیاست کرنے والوں کو کوئ اعتراض نہیں ہوگا۔

Popular Posts