جمعرات, مارچ 17, 2011

اسلام کا ڈھول

ہم نے جب ہوش سنبھالا تو ہمارے گائوں میں دو شیخ کھر ہوا کرتے تھے
ایک خوجے شیخ اور دوسرے ڈھول بجانے والے شیخ
خوجے شیخوں کو لوگ شیخ کم ہی کہتے تھے
اصلی شیخ تو ڈھول بجانے والے ہی تھے
آج کل خود کو شیخ الاسلام کہلوانے والے ، مولوی طاہر صاحب بھی ڈھول ہی بجاتے ہیں
کبھی انقلاب کا کبھی اسلام کا
جب یہ مولوی صاحب نے سیاست کے خلاف کا ڈھول بجایا کرتے تھے تو ایک دن میں نے اپنے ایک کزن کو جو کہ ان کا بڑا فین تھا ، بلکہ سپین کے شہر بارسلونا میں ان کے کاربار کی بنادیں رکھنے والا بھی ہے
اس کو بتایا کہ مولوی صاحب وزارت عظمی کے خواہش مند ہیں
تو اس نے کہا کہ کیا اپ کو معلوم نہیں ہے کہ مولوی صاحب نے سیاست ناں کرنے کی قسم کھا رکھی ہے؟؟
تو میرے منہ سے نکل گیا کہ یہ مولوی صاحب اس قسم کو توڑیں گے بھی اور اس کا کفارہ ادا کرکے اسلام پر بھی احسان کریں گے
اور ہوا بھی ایسا ہی اور پھر زمانے نے دیکھا کہ
اسلام کا ڈھول بجانے والے شیخ صاحب نے کیسے اسلام کو استعمال کیا
اور ان کے ماننے والوں نے اسے ہی اسلام جانا
تو
جی
اگر
شیخ الاسلام
اپنے مقاصد کے لیے اسلام کو استعمال کرسکتا ہے تو؟؟؟
کیا ریمنڈ ڈیوس کے مالکوں نے دھتورا کھایا ہوا ہے کہ
اسلام کو استعمال ناں کریں

5 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

مثال زبردست دی ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

زبردست

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

نہ جی دھتورا تو پاکستانی قوم نے پی رکھا ہے کہ جس کا ذہن کام ہی نہیں کر رہا آجا کے پھر سے انھیں بے غیرت حکمران ٹولے کے پیچھے سربسجود ہونگے جنہوں نے قوم کو ان حالات تک پہنچا دیا ہے۔


تو گویا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کچھ لوگوں نے اسلام کو ایک ایس شئے کے طور پہ سبھال رکھا ہے کہ جسے ٹھک سے مہر کی طرح جہا ں جب ضرورت ہو لگایا اور یہ جا ، وہ جا ۔ اسکے علاوہ انہیں اسلام سے کوئی غرض نہیں اور چلتے چلتے یہ نسخہ حمیت و غیرت کا جنازہ نکالنے کے لئیے ہمارے حکمران اور امریکی بھی ہم پہ استعمال کرنے لگے ہیں۔ لیکن نہیں جانتے کہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے '' مکر و مکراللہ واللہ خیر ماکرین '' یعنی اللہ سب سے بہتر (چال چلنے والا) حیلہ گَر ہے۔

خدا کی چال کے سامنے یہ کر سکیں گےـ؟

UncleTom کہا...

لو جی اب ہمارے شیخ الاسلام پر بھی تنقیدیں ہوا کریں گی ، اور شیخ الاسلام اگر ڈھول بجاتے ہیں تو اس میں برای کیا ہے پہلے زمانے میں بھی تو نقارہ بجتا تھا ۔ بات کرتے ہیں تاریخ کا پتا نہیں ۔

نادیہ علی کہا...

سنا ہے کہ شیخ صاحب طالبان کے خوف سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔

Popular Posts