منگل, فروری 22, 2011

بھکاری کی کرنسی ، دعائیں

شاہ جی کے ساتھ ایک جاپانی لڑکا ہوا کرتا تھا
یہ لڑکا بیچارہ ذہنی طور پر بچہ ہی رہ گیا تھا، جاپان میں ایسے بچوں کو بھی سکول بھیجا جاتا ہے اور اس قابل کردیا جاتا ہے کہ اگرچہ کہ خود سے کوئی فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہے لیکن کسی کسی کی قیادت میں کام کاج کر ہی لیتا ہے
شاہ جی کے کہنے پر سارا دن کام کرتا رہتا تھا ، ایک دن میں نے شاہ جی سے پوچھا کہ اسے دیتے کیا ہیں؟؟
شاہ جی کا جواب تھا
دینا کیا ہے ، بس شاباش ہی دیتے ہیں

دو کافر ملکوں میں ایٹمی تعاون کا معاہدہ ہوا
یہ ایٹمی تعاون ہے کیا؟
بجلی بنانے والے جنریٹوں کو ایٹم کی توانائی سے چلانے والے پاور پلانٹ بنا کردینا ان لوگوں کو جو اس بات کی تکنیکی صلاحیت نہیں رکھتے
انڈیا بم تو بنا سکتا ہے لیکن اس ایٹم کو آہستہ آہستہ توڑنے کے عمل اور اس عمل کے تسلسل کی مہارت نہیں رکھتا
جو کہ جاپان کے پاس ہے
جاپان انڈیا کو پاور پلانٹ بنا کر دے گا اور انڈیا جاپان کو سے کے تبادلے میں کچھ مادی چیزیں دے گا
جو کہ اجناس بھی ہو سکتی ہیں اور مسالے بھی یا پھر سونا اور پیسے بھی ہو سکتے ہیں
پاکستان بھی جاپان سے اس ایٹمی تعاون کا طلب گار ہے
پاکستان اس کے تبادلے میں جاپان کو کیا دے گا؟؟
دعائیں !!!!!!!۰
دے گا
اب مادہ پرست لوگوں کو اس بات کی تشویش ہے کہ دعائوں کا ہم کیا کریں گے
کیونکہ دعائوں میں خود کفیل پاکستان کے حالات ان کے سامنے ہیں
جہاں تک خاور کا خیال ہے
پاکستانی ایلٹ لوگ پاکستان میں بجلی چاہتے ہی نہیں ہیں
اور جاپان کی ادائیگی کی شرائیط کو جاپان کا انکار بتا کر بھولے لوکاں کا دل بھلائیں گے
کہ
ہم تو کوشش کر رہے ہیں
بس سخی لوگ ہی بخیل ہو گئیے ہیں
پاکستان میں ایک طاقت ہے جو اگر کسی چیز کا فیصلہ کر لے تو اس کو پورا کرکے ہی جھوڑتی ہے
جیسا کہ ایٹم بم بنانے کا فیصلہ تھا
کہ بھٹو اور ضیا جیسے متضاد طبیت لوگ بھی اس مشن پر لگے رہے
حتی کہ بے نظیر اور شریفین ، ایک لسٹ ہے متنوع طبیت لوگوں کی
لیکن بم بنا کے ہی چھوڑا
اسی طرح اس طاقت کیکوشش ہے کہ کشمیر کا مسیلہ حل ناں ہو اورملک کے لوگ تعلیم حاصل ناں کر سکیں
اور بجلی پانی جیسی بنیادی ضروریات کے لیے قوم کو ترسا کر مارا جائیے
اور قوم کی اس طاقت کا علم ہی نہیں ہے
اور جو بتائے گا
غائیب ہو جائیے گا
میں مسٹر زرداری کے جاپان کے دورے کے اختتام سے پہلے پشینگوئی کرتا ہوں کہ
پاکستان کو ایٹمی بجلی میں جاپان کا تعاون نہیں ملے گا
اس لیئے نہیں کہ جاپان کا قصور ہے بلکہ
بلکہ اس لئیے کہ یہ پاک ایلیٹ کے مفاد میں نہیں ہے

4 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

آپکا تجزئیہ درست نہیں اور آپکی ذاتی دانش اور سوچ کے تحت ہے۔ اور چڑ کی کیا وجہ ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ خیر یہ آپ جانتے ہونگے۔

جس پاک ایلیٹ کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اور آپ پچھلے دنوں اس کے بارے میں لکھتے آئیں ہیں۔ وہ غالبا آپکی نظر میں افواج پاکستان ہیں۔

افواج پاکستان کے بہت سے اقدامات اور ماضی میں سیایسی حکومتوں پہ شبخون پہ ہمیں بھی ہمیشہ اعتراض رہا ہے۔ مگر اسکا مطلب یہ قطعی طور پہ نہیں بنتا کہ افواج پاکستان یا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ، عوام کے لئیے پانی بجلی تعلیم وغیرہ وغیرہ جسی سہولتیں اور ترقی نہیں چاہتیں۔ یا اسے روکنے کے لئیے اس حد تک جاسکتی ہیں کہ اس بارے دوسرے ممالک سے ہونے والے معائدوں میں روڑے اٹکائیں۔

میری رائے میں پاکستان قحط الرجالی کا شکار ہے ۔ جسے پنجابی میں "اوتر نکھتر" کہا جاتا ہے۔ قوم جو حکمران جنم دے رہی ہے ان میں دیانت، شرافت، اہلیت، غیرت، بردباری، جرائت شجاعت، جسی حکمرانوں کے لئیے بنیادی وصف اور خصوصیات کی بجائے ہر وہ عیب پایا جاتا ہے جس سے قومیں انتشار کا شکار ہوجاتی ہیں۔

رہ گئے ہم، آپ اور دیگر عوام تو ہم سب کو کوسنے دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکال کر آرام سے بیٹھ جاتے ہیں۔

israr کہا...

I agree with Javed

جاویداقبال کہا...

خاورصاحب، یہ آپ کاذاتی خیال ہےاورجہاں تک اب پاک ایلیٹ والامحاورہ جوآپ نےاستعمال کیاہےاب جب کہ فوج کوبہت موقع ملاتھاکہ وہ اقتدارپرقبضہ کرلیتی لیکن اس نےنہیں کیاہےاب انشاء اللہ ماضی کی طرح نہیں ہوگا۔آمین ثم آمین

syed masood haider hashmi کہا...

لگتا ھے کہ کوئ بھی خاور کی بات کو نہی سمجھ سکا۔میرے خیال میں وہ الیٹ کا لفظ پاکستان کے ان جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقے کو کہ رہا ھے جو اپنی جاگیروں اور ملوں کے مزدورں کو بھٹیوں میں زندہ جلانے کے بعد اب پوری قوم کو ‏ذاب میں مبتلا کرنے کے لیے اقتدار پر قابض ھو چکے ھیں۔اور جس جس مل کے یہ لوگ مالک ہیں وہ چیزیں عوام کی پہنچ سے دور ھوگئ ھیں۔۔اور ھم عوام میں ایسے ناعاقبت اندیش لوگوں کی کمی نہی ھے جو ان ظالم بھینسوں کی پوچھل پکڑ گندے پانی کا چھپڑ پار کرنا چاھتے ھیں۔۔ھاں اگر فوچ میں بھی کوئ ان وڈیروں کی اولاد میں سے بھرتی ھے تو وہ فوجی نہی الیٹ ھی ہے۔۔۔۔اورسیز پاکستانیون کی سمجھ نہی آتی وہ ان بدمعاشوں کی اجنٹی باھر کے ملکوں میں بیٹھ کر کرتے ھیں۔۔یار تم لوگ خود ایک پاور فل طبقہ ھو غریب عوام میں سے نکل آۓ ھو تم لوگوں کو اپنے ملک کے پسے اور دباۓ ھوۓ عوام کی اواز اور سھارا بن نا چاھیۓ تھا تم لوگ ملک سے فرار ھونے بعد بھی ان ھع لوگوں کی کمی گیری کرنا چاھتے ھو

Popular Posts