منگل، 26 اکتوبر، 2010

بابا فرید شکر گنج

پاک پتن والی درگاھ پر بم دھماکے کی کی خبر پڑھی هے
میرے ابا جی بھی اس خانقاھ کے مجاورں کے مرید هیں
اس لیے مجھے بچپن میں اس خانقاھ کو دیکھنے کا موقع ملا هے
اور پھر جوانی میں بھی
پیر صاحب کے محل نما گھر جس کو کوٹھی کہتے هیں
پہلی بار مردانه اور زنان خانہ دیکھا
اور کسی گھر میں لائیبریری بھی یہیں دیکھی
وھ افسانوں میں پڑھے هوئے ماحول کی باتیں
جو که همارے ماحول کی باتیں نهیں هوتی
اس کوٹھی میں مسالے ملے جو چاول پکتے هیں ، مریدوں کے لیے وھ بڑے هی ذائقه دار هوتے هیں
تین دن تک انہی مسالوں کے ڈکار آتے رهتے هیں
بچپن کی وجه سے میں ماں (آپاں جی) کے ساتھ زنان خانے میں بھی چلا جاتا تھا
جهاں میں نے بیبیوں کا فیشن دیکھا ، ان کے بالوں کی تراش اور چلنے پھرنے پر میرے محسوسات ،
میں نهیں لکھوں گا که
کوئی مجھے شہید کرکے
خود غازی نه بن جائے
کیا پینڈو پن هے که میں نے ڈائل والا ٹیلی فون بھی نزدیک سے یهیں دیکھا تھا
اور بڑی خواہش تھی که گھنٹی بجے اور میں جلدی سے اٹھا لوں
تاکه واپس پنڈ جا کر دوستوں پر رعب ڈالوں میں نے فون بھی کیا هوا هے
یه ان دنوں کی بات ہے جب علی ہجویری صاحب زندھ تھے
اب تو ان کی بھی خانقاھ هے
جو که مشرقی دروازے ( جهاں دھماکہ هوا هے) سے داخل هوں تو بائیں طرف هے
جب پیر صاحب اپنی کوٹھی میں مریدوں کے لیے دربار لگاتے تھے تو
ایک صاحب بستہ سا لے کر بیٹھ گئے جس میں تعویز تھے
بستے پر جیبیں بنی هوئی
اور هر جیب پر تعویز کی کیٹاگری لکھی تھی
جن میں سے مجھے ایک کیٹاکری اب بھی یاد هے
بھینس کے دودھ والی
پیر صاحب اشارھ کرتے تھے اور
معزز مرید بستے میں سے مطلوبه تعویز جو که پرنٹڈ هوتا تھا نکال کر
غرض مند مرید کو دیتے تھے اور هدایات جاری کرتے تھے که چاندی کے تعویذ میں مڑھنا ہے که لکڑی کے گھٹ میں مڑھ کر بھینس سے گلے میں ڈالنا ہے
بہشتی دروازھ تو جی بند تھا
لیکن میں نے دیکھا که جس کمرے کو یه دروازھ لگا هے اس کے دوسری طرف بھی ایک دروازھ ہے نکلنے کے لیے
اس دروازے کے باہر نکلتے هی
ایک میٹر کےبعد ایک تقریباً ایک میٹر اونچی دیوار بھی هے
میں نے اس کمرے کا طواف بھی کرنے والے لوگ دیکھے
اور مجھے یه دیوار خانه کعبه کے پاس والی دیوار جیسی لگی جو که تصویروں میں دیکھی هوئی تھی
اسی کمرے کے مشرقی طرف کھلی اور پکی جگه هے جهاں میں نے نصرت فتح علی خاں کو قوالی کرتے دیکھا
اور اس کو سننے والے ڈیرھ درجن لوگوں میں میں بھی شامل تھا
مجھے نصرت فتح علی خاں کے بڑے بڑے دانت یاد هیں جو که مجھے اس وقت کچیچیاں لیتے هوئے سے لگے تھے
بہت بعد میں میں اس بہشتی دروازے سے بھی گزارا تھا
غالباً اس کمرے میں موجود پکی قبر
بابا فرید شکر گنج
کی هے
اپنے ابا جی کے پیروں اور ان کی اولادوں کو دیکھ کر اپنی کمتری کا ایک احساس هوا تھا
جو که اج تک هے
هم دو مختلف طبقوں کے لوگ هیں
پیر صاحبان کا طرز زندگی اور همارا طرز زندگی
معاشرت کی دو انتہاؤں پر هے

11 تبصرے:

عثمان کہا...

واہ جی واہ !!
سواد آ گیا پوسٹ کا !!

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تو جناب آپ بھی بہشتی ہیں۔
یعنی بہشتی دروازے سے گذر چکے۔
ایک پیر صاحب کے بیٹے سے دوستی ہو گئی تھی۔
وہ ابا جی کے کارنامے چٹخارے لے کر سناتے تھے۔

جاویداقبال کہا...

اسی اونچ نیچ نےہی توسارا بگاڑپیداکیاہےاصل میں جوپیڑصاحب ہوتےہیں وہ ہی محلوں میں رہنےکےعادی ہیں لیکن جوصحیح اورسچاپیرہےاسکی گھرکی حالت ایک غریب کےگھرکاپیش خیمہ ہوتی ہےاورباقی ان درگاہوں کےمجاوروں نےتواپنی دال روٹی چلائی ہےدال روٹی نہیں گوشت روٹی کہہ سکتےہیں

عنیقہ ناز کہا...

خانہ ء کعبہ اور مسجد نبوی دونوں میں اس وقت دنیا کی بہترین چیزوں کا ایک حیران کن مجموعہ ہے جسے وہاں جانے والے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ رسول اللہ کے زمانے میں تو ایسا کوئ تذکرہ نہیں ملتا مگر اب خانہ ء کعبہ کے غلاف پہ سونے کے تاروں سے کڑھائ ہوتی ہے اور یہ ہر سال بدلا جاتا ہے ۔ پرانے غلاف کے ٹکڑے خاص لوگوں کو ملتے ہیں سنا ہے کہ جسکی قبر میں یہ ٹکڑے ہونگے وہ حساب کتاب سے معاف ہوگا۔ کعبے کے کمرہ ء خاص یعنی وہ چوکور ڈبہ جسکے گرد طواف ہوتا ہے۔ اس کے اندر بہت کم لوگ جا پاتے ہیں یہ مخصوص دنوں میں مخصوص لوگوں کے لئے کھلتا ہے جس میں تقریبا سب ہی وی آئ پیز ہوتے ہیں میرے لئے تو خیر پابندی ہے کہ بغیر محرم حج نہیں کر سکتی۔ لیکن آپ کو بھی اگر موقع ملے تو حجرہ ء اسود کو چھو لینا ہی بڑی بات ہوگی۔ چہ جائیکہ اس کمرے میں داخل ہونا جسکا عرش الیہی سے خاص تعلق بتایا جاتا ہے۔ اب اگر خدا کو سامنے رکھوں تو یہ سب چیزیں افسانہ لگتی ہیں۔ مسجد نبوی میں کالص سونے کی اور سونے کی پلیٹڈ اشیاء کا ایک ڈھیر موجود ہے جس میں اضافہ اور جسکی حفاظت عالی جناب عزت مآب خادمین شریفین کی ذمہ داری ہے۔ کیا میرا دل مان سکتا ہے کہ رسول اللہ اپنے لئے یہ سب چاہتے ہونگے۔
یہ سب محبت یا دکھاوے کی زیادتی ہے۔ میں سادگی سے سوچتی ہوں۔

کاشف نصیر کہا...

دلچسپ تحریر ہے، سچائی کو خوبصورت انداز میں بیان کیا؟ بچپن میں زنان خانے گئے اور وہاں کی یادیں آج تک محفوظ رکھیں، آخر وہاں کیا تھا۔

یہ مزارعات سازی اور سجادہ نشینی تو خاندانی کاروبار کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بھیا کونسے مذہب اور کونسے مسلک میں مجاوری اور سجادہ نشینی کی گنجائش ہے؟؟؟ پھر یہ مجاور گیلانی میاں، مجاور قریشی میاں اور مجاور امین میاں کا اسلام اور مسلمانوں کا بیر

اور یہ عنیقہ آپا کا مسئلہ سمجھ سے بالاتر ہے، محترمہ عادت سے مجبور ہیں کہ طنز کے تیر چلاتے ہوئے مسجد اور مزار کا فرق ہی محسوس نہ ہوا اور تو اور مسجد بھی کیا مسجد حرام اور مسجد نبوی۔ ویسے عنیقہ جی اللہ سلامت رکھے بھائی صاحب کو وہ کہاں نکل لئے اور اگر آپکا یہ محرم والا فکرہ محض طنز ہے تو کس پر؟؟؟

البتہ اس بات سے اتفاق ہے کہ مادی ترقی اور خوشحالی نے حرمین کے نقشہ کو بھی بدل دیا ہے، لیکن عام مسلمانوں کے لئے آج بھی وہاں کی روحانیت اور مذہبی اہمیت ہی پرکشش ہے نہ کہ جدید اور پرآسائش عمارت۔ مجھے اس بات پر سیدنا عمر رضی اللہ کا دور یاد آگیا کہ جب قیصر و قیصرا کے خزانے انکے پاوں کا ڈھیڑ بن چکے تھے تو وہ خوش نہیں غمگین تھے کہ یہ مال اس امت کا فتنہ ہے۔

عنیقہ ناز کہا...

کاشف نصیر، کیا رسول اللہ نے اپنے مزار کو الگ سے کوئ تعظیم دینے کو کہا تھا۔ کیا نہوں نے یہ کہا تھا کہ میرے مزار کی دیواروں کو سونے سے سجا دینا۔ مسجد نبوی صرف مسجد رسول اللہ کا مرقد مبارک بھی ہے۔ اور یہی اسکی فضیلت ہے ورنہ مدینہ منورہ میں اور بہت سی تاریخی مساجد ہونگی۔ تیل کی دریافت سے پہلے وہاں کے مکینوں کی آمدنی کا واحد ذریعہ یہی حج تھا اور آج بھی انکی آمدنی کے بڑے ذرائع میں شامل ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک عمرے یا حج پہ ایک شخص کتنی رقم ادا کرتا ہے۔
جہاں تک آپکا اپنے بھائ صاحب کے متعلق تشویش کا اظہار ہے وہ بجا ہے۔ وہ میرے محرم مرد ہیں اور جب تک انکا موڈ نہیں ہوگا میں محض اپنے موڈ پہ یہ سفر نہیں کر سکتی۔ جبکہ آپ اگر آج چاہیں تو آئیندہ چند دنوں میں جانے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔ تنہا شخص اور ٹیم کے ساتھ کام کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ اس سے آپکے برے اندیشوں پہ اوس ہی پڑنی چاہئیے۔

Farhan Danish کہا...

بابا فرید گنج شکر کی درگاہ پر ہی حملہ نہیں ہوا صدیوں قبل خود اُن کی زندگی کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاریخ کی کتب میں اس حملہ آور کا حلیہ بھی بیان کیا گیا ہے جس نے کوئی آٹھ سو برس پہلے حضرت بابا فریدالدین مسعودگنج شکر کی حیات میں بھی ان پر قاتلانہ حملہ کرنے آیاتھا۔

Abdullah کہا...

صرف ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ مسجد نبوی کی فضیلت اس لیئے نہیں کہ وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرقد مبارک ہے بلکہ اس کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اسلام کی پہلی جامع مسجد تھی ،اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیر کروایا ور اس میں ایک زمین کا ٹکڑا جنت سے آیا ہے جسے ریاض الجنتہ کہتے ہیں،
اور آپ نے فرمایا کہ مسجد حرام(مکہ)میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر میری اس مسجد میں ایک نماز کا ثواب 50ہزار نمازوں کے برابر ہے،
اس کے علاوہ آپنے تین مسجدوں کے لیئے سفر کرنے کا کہاایک مسجد حرام ،مسجد نبوی اور مسجد اقصی،اس کے علاوہ زیارتوں کے نام پر جتنے بھی سفر کیئے جاتے ہیں انکا کوئی حکم نہیں،

جو لوگ وہاں یہ سوچ کر جاتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے جارہے ہیں وہ نبی کے حکم کی نفی کرتے ہیں،اصل نیت اللہ کی عبادت اور نمازوں کے اجر کی ہونا چاہیئے،
باقی باتیں عنیقہ نے جو بھی لکھیں درست ہیں بمع کاشف نصیر کے بارے میں کی گئی تحریر کے۔۔۔۔۔۔
:)

Abdullah کہا...

داتا دربار کی پیروں کی پارٹ ٹائم جاب!!!
http://www.jang.com.pk/jang/oct2010-daily/26-10-2010/u50685.htm

عثمان کہا...

مسجد قبا پہلی مسجد ہے جو ہجرت مدینہ کے وقت تعمیر کی گئی۔ اس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے رکھی۔ مسجد نبوی اس کے بعد بنائی گئی۔ مسجد نبوی صرف ایک تاریخی اہمیت کی حامل مسجد ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے عقیدت کے رکھتے ہوئے اگر کوئی اس کا سفر کرتا ہے تو اچھی بات ہے۔ باقی دین میں اس کا کوئی مقام نہیں۔
بیت اللہ کی بات اور ہے۔ کہ اس طرف رخ کرکے نماز ادا کی جاتی ہے۔ نیز عمل حج وہاں واقع ہوتا ہے۔ اہمیت پھر بھی عمل اور عبادات کی ہے۔ نا کہ عمارات کی۔

Abdullah کہا...

عثمان نے غور نہیں کیا کہ میں نے مسجد نبوی کو پہلی جامع مسجد لکھا ہے مسجد قبا پہلی مسجد تھی یہ مجھے معلوم تھا،پھر بھی جزاک اللہ!

Popular Posts