سوموار، 18 اکتوبر، 2010

مولا جٹ نما ان ایکشن


یه پہلوان نما خاتون یا
که
خاتون نما پہلوان
جی که مولاجٹ کا زنانہ ماڈل لگ رها هے
اس کے متعلق کچھ مخصوص حلقوں میں خیال کیا جارها هے
پاکستان میں غربت کی وجہ اس صاحبہ کی خوش خوراکی ہے
قحط کے جن آثار کا خدشہ ظاهر کیا جارها ہے وھ بھی خیال کیا جارها ہے که
سیلاب سے زیادھ ان صاحبه کے ابے اور ان کی کارستانی هے
اس پہلوان کے ابے کے ہاضمه کے متعلق شنید ہے که بڑا هی مضبوط هے
لیکن اس بات کا بھی گمان کیا جاتا ہے که اصل میں ان کے ابا ساری کمائی اس پہلوان کی بھوک کے لیے کرتے هیں

16 تبصرے:

عثمان کہا...

کون ہیں یہ خاتون؟

شعیب صفدر کہا...

اس قسم کی تحریر سے پرہیز کیا جائے ایسی تحریریں یہ تاثر دیتی ہین کہ صاحب تحریر کے متعلق اچھا تاثر نہیں دیتی۔

یاسرخوامخواہ جاپانی کہا...

پاکستان کی غربت کا مجھے اب پتہ چلا!!۔

عنیقہ ناز کہا...

زرداری اور بے نظیر کی یہ بیٹی صاحبہ سنا ہے ذہنی کمزوری یا معذوری کا شکار ہے۔ معذور بچوں کے ساتھ وزن کے مسائل عام طور پہ ہو جاتے ہیں بالخصوص اگر وہ خوشحال خاندانوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ کہ انکی ہر کمی کا مداوا غذا سے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان کی غربت کی وجہ انکے ابا جیسے لوگوں کی ہوس کا کم نہ ہونا ہے ۔ اور عالم یہ ہے کہ مرض بڑغتا گیا جوں جوں دوا کی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اوہ
خاور جی
اگر یہ بچی بیمار ھے۔تو
گذارش ہی کر سکتا ہوں کہ یہ پوسٹ ہٹا دیں۔یاتحریر میں تبدیلی کردیں۔
بیماری کا سن کر کچھ افسوس ہوا۔۔۔۔۔

خاور کھوکھر کہا...

اس لڑکی کے ابا جی بھی ذہنی مریض تھے
اور انہوں نے اس کا ڈاکٹری سرٹفکیٹ بھی پیش کیا تھا

میں اپنے اس نظریے کی تکرار کروں گا که ان بچوں کا باپ کس کی بھوک کے لیے یه سب کریپشن کررها هے
اپنے بچوں کے لیے
یه لوگ اپنی بھوک کے لیے کچھ بھی ڈرامے کرسکتے هیں
ان کا عتبار نهیں هے
اج ذہنی مریض هے کل کو اپنے مقصد کے لیے
جئنیس بنا کر بھی پیش کی جاسکتی هے
اور بھولے لوگ هیں که ان کو فوراً ترس آجاتا ہو ان لوگوں پر
یارو
عام لوگوں پر بھی ترس کھاؤ
جس کو ملک چھوڑںے پر مجبور کردیا گیا
ملک کے کاروباری حالات خراب کرکے اور بے روزگاری پھیلا کے
اور اب ان ملک چھوڑے لوگوں میں سے کچھ احمقوں کو پارٹی ممبر بنا کر
ملکو ملکی پھرتے هیں اور ان احمقوں سے خدمت کرواتے هیں
اور ان احمقوں کو اپنے بیوقوف بننے کا احساس بھی نهیں ہے اور اپ ان کو احساس دلا بھی نهیں سکتے
تو ان کو بیوقوف بنانے والوں کی چالاکی تک اپ پہنچ هی نهیں سکتے جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی
اب پہونچ گئ۔
دیکھا جائے تو بھوکے حکمرانوں اور سیاسستدانوں نے ہم سب کو دما غی مریض بنا رکھا ھے۔
ان کے گھروں میں اگر اللہ میاں نے کچھ اتار دیا ھے تو
ہمیں مزید برداشت کرنے کی تیاری کر لینی چاھئے۔

گمنام کہا...

کیا جہالت بھرا مضمون ہے کیا تمہاری ماں بہنیں بیٹیاں نہیں ہیں بے ضمیر شخص کوئی اگر تمہاری دشمنی میں یہی کام کرے تو تم گوارہ کرو گے
کسی سے اگر اختلاف ہے تو اصول و قوائد کے اندر رہتے ہوئے لڑو کسی کی بیٹی کی عزّت یوں نہ اچھالو کیونکہاسلام کا کوئی بھی فرقہ اس گھٹیا پن کی ذاتیات پر حملہ کرنے کی اور ان رکیک جملوں کی قطعئی اجازت نہیں دیتا

ایک قاری کہا...

نام نا لکھنے والے صا حب سے میں اتفاق کرتا ھوں۔ واقعی تحریر میں جہا لت اور بغض نظر آرھا ھے۔ایک تو لکھ کر غلطی اوپر سے تبصرے میں بھی غلطی پر نادم نظر نہیں آتے ۔اور تو اور ایک محترمہ نے بھی حصہ ڈالا ھے جناب اس کارے خیر میں۔ واہ خاور صاحب ۔۔۔ دل سے اتر تے ھوے محسوس ھو رھے ھیں

عنیقہ ناز کہا...

قاری صاحب، میں نے اگر اس طرف توجہ دلائ کہ یہ بچی ذہنی طور پہ معذور ہے ۔ اس لئے اسکا تذکرہ کرنا صحیح نہیں تو کیا یہ میری غلطی ہے۔ جو آپ نے طنزیہ اس میں مجھے گھسیٹ لیا۔

نعیم اکرم ملک کہا...

بھئی پبلک فگرز پر اس قسم کی تنقیدیں تو ہوتی رہتی ہیں۔۔۔ اور اپنے صدر صاحب سے عوام الناس جس قدر "محبت" کرتے ہیں۔۔۔ اس کے نتیجے میں ایسی تحریریں تو منظرِ عام پر آئیں گی۔۔۔ اس میں اسلام کو نہ گھسیڑیں حضرت۔۔۔

گمنام کہا...

نعیم اکرم ملک صاحب اگر آپ انکی پچھلی تمام پوسٹ کا مّعا ئنہ کریں تو آپ بخوبی جان لیں گے کے ان کا قلم کس کس مذہبی ٹاپک سے چھیڑ چھاڑ کرتا رہا ہے جس میں یہ آزادانہ اپنے مسلکی عقائد پر کھل کر اظہار کرتے رہے ہیں اب ان کی موجودہ تحریر جو کے سراسر جہالت پر مبنی ہے مذہب و مسلک کی بدنامی کا باعث بنے گی
لیکن ان کی موجودہ تحریر مذہب کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کے خانے میں بھی فٹ نہیں ہو رہی انسانیت ہرگز یہ نہیں کے کسی کی ذاتیات پر حملہ کیا جائے اور مذہب انسانیت کے مخالف تعلیمات ہرگز نہیں دیتا

Ansoo کہا...

Well said anonymous

کاشف نصیر کہا...

ناموس بنتِ زرداری کے غم میں مرنے والے کیا زرداری کی سنت کو زندا کرکے مستقبل میں خود بھی صدر پاکستان بننے کا ارادہ رکھتے ہیں! اگر ایسا ہے تو اس تحریر پر انکے غصہ بے جا نہیں۔
عدم برداشت تو عوامی جمہورت کا حسن ہے لیکن شکر ہے خاور صاحب کو گمنام صاحب نے بھارتی ایجنٹ نہ کہ کر بہت بڑا احسان کیا۔

تانیہ رحمان کہا...

خاور آپ کہاں کہاں سے اس قسم کی پوسٹ تلاش کرتے ہو ۔۔۔۔۔ اب اس مولا جٹ نامی خاتون کہاں سے ملی ۔۔۔کیا جاپان میں گھوم رہی تھی

Goraya کہا...

@khawar kammi
sharam tum ko mgr nahi aati.

Popular Posts