بدھ, اکتوبر 20, 2010

چیزوں کی قدر

پنجابی کے ایک لکھاری مسعود منور
لکھتے هیں که حکمرانوں کے پاس اپنی عیاشیوں ،طاقت کی نمائیش اور قانون کو هاتھ میں رکھنے کا ایک پرمٹ هوتا ہے
جس کی یه لوگ
مینڈیٹ کہتے هیں
اور ان حکمرانوں کی ان باتوں کو جواز دینے والے
مذہبی جواز دیتے هیں

ساتھ کی دھائی کی پیدا پاکستانی نسل
جن میں میں بھی شامل هوں
ان کو یاد هو گا که پانچ پیسے کا سکه هوا کرتا تھا
پہلے پیتیل کا هوتا تھا ، بعد میں سلور(ایلمونیم) کا هو گیا تھا
ان سنا ہے که یہی سکه پانچ روبے کے طور پر چل رها هے
وہی ڈیزائین ہے بس اس پر پانچ روپے لکھ دیا ہے
اس طرح تو پچاس روبے کی اٹھنی بنی هو گی اور پچیس روبے کی
چوّنی
جب میں جاپان آیا تھا تو
پاکستان میں لوگ کہتے تھے جاپان کی کرنسی سنا ہے بڑی چھوٹی هوتی هے
جی ہاں سات ین کا روپیه هوتا تھاان دنوں
لیکن ان دنوں پاکستان کی کرنسی کی اکائی پیسه هوتی تھی
یعنی که چودھ پیسے کا ایک ین یا ایک ین کے چودھ پیسے بنتے تھے اور اس طرح سے پاک کرنسی چھوٹی هو جاتی تھی
لیکن جی هم هر بات میں بس فخر کرنے کے بہانے ڈھونڈتے هیں
جاپانی زبان میں دھول اور
فخر کے لیے ایک هی لفظ بولا جاتا ہے
هوکوری
بس هم لوگ فخر بھرے هیں اور دھول میں اٹے هیں
اج کل کیا ریٹ چل رها هے ڈالر کا پاکستان میں
نوے روپے
جن کے بنتے هیں
نوہزار پیسے
قوم سے هاتھ هو گیا
پیسے کی قدر کم هو گئی اور جو پیسا کھا گئے ان کی قدر زیادھ هو گئی
پیسا کھانے والوں پر طنز بھی اب تو جرم ہے که بلاگ کی پوسٹ پر تبصرے میں اس کو مذہبی رنگ دیتے هیں
سرے کی کاؤنٹی ميں محل
سوئس اکاؤنٹ بھرے پڑے هیں
اور رقم کے شمار کے لیے منشی رکھ هیں
قدر تو بڑھی هے ناں جی
پاکستان میں قدر بڑھی هے سیاستدانوں کی
اور حساس ادارے کے جرنلوں کی
باقی هر چیز کی قدر کم هوئی هے
عوام کی جانوں کی قدر کم هوئی هے
مصنوعات کی قدر کم هوئے هیں
پیسے کی قدر کم هوئی هے
پاکستانی مزدوروں کی بیرون ملک قدر کم هوئی هے
پاکستان مين سوائے سیاسی خاندانوں کے اور فوجی جرنلوں کے
کسی اور چیز کی قدر میں اضافہ کی نشاندھی کرنے والا ہے کوئی؟؟
لیکن مزے کی بات یه هے که جن چیزوں کی قدر بڑھی نظر اتی هے پاکستان میں رهتے هوئے
یعنی سیاسی اور فوجی کی
ان کی قدر بھی جب اپ کسی معتبر قوم کے سیاستدان اور فوجی کے ساتھ تقابل کریں کے تو……….
یعنی اس کا مطلب هوا که
چیزوں کی قدر جانچنے کی صلاحیت کی بھی قدر کم هو گئی هے
ساری هی قوم کی
بشمول
حساس جرنلوں کے اور
برے سیاستدانوں کے

3 تبصرے:

Abdullah کہا...

http://ejang.jang.com.pk/10-20-2010/pic.asp?picname=1049.gif

جاویداقبال کہا...

واقعی خاوربھائی، لیکن ہرہرچیزکی قدرکمی کےساتھ ہم لوگوں سےایکدوسرےسےبھائي چارہ کی قدربھی بہت کم ہوچکی ہے۔کیونکہ ہم لوگ اتنےبےحس ہوچکےہیں کہ کسی پربھی کوئی بھی ظلم کرےتوہم تماشہ ضروردیکھیں گےاس کےخلاف دولفظ بھی نہیں بولیں گے۔

Rashid کہا...

آداب

میں آپ کو جناب ابن صفی پر اپنی غیر تجارتی ویب سائٹ دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں، پتہ پے:

www.wadi-e-urdu.com

اس کے علاوہ چند لنکس درج کررہا ہوں، امید ہے آپ ہسند فرمائیں گے:

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=8412
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

http://hamariweb.com/articles/article.aspx?id=7778
والد مرحوم کی یاد میں

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=8082
ایک یاد رہ جانے والا واقعہ

http://www.youtube.com/watch?v=Qf6lPrkm1PI
پکٹوریل ٹریبیوٹ ٹو ابن صفی


خیر اندیش
راشد اشرف

Popular Posts