ہفتہ, اکتوبر 9, 2010

مزاروں سے همدردیاں

یه مزار ، یه پیر بابے ، یه روحانی شخصیات یه تعویذ ، یه مجاور
بنگالی بابے اور اور پھر وھ والے بابے جو افغانسان کے راستے آئے ایرانی بابے افغانی بابے
صدیوں کے چکر میں اصلی والے سید هو جانے والے بابے
معجزات ، کرامات ،
یه سب کیا هے پاکستان ميں؟؟
اور حالات هیں که بگڑتے هی جارهے هیں
یه سارے پیر بابے اور مزارات مل کر کیا ان حالت کے بگڑنے کو سنبھال سکتے هیں ؟؟؟
جی هاں
اگر یه سارے بابے ، پیر مزارات ختم هی جائیں تو
اب مجھے سورت اور پارھ تو یاد نهیں هے
لیکن جی قران میں هے تھوڑی تلاش سے کوئی بھی اس بات کو پاسکتا ہے که
شرک والے معاشروں کا کیا حال هو گا
اور جب ان معاشروں پر مسلط دکھوں اور پریشانیوں کے عذاب سے گبھرا کر کچھ لوگ بھاگ کر دوسروں کے پاس جائیں گے تو
وھ دوسرے والے بھی ان کو انے میں شامل کرنے سے گھبرائیں گے
که ان کے عذاب هم پر بھی نازل ناں هو جائیں
پاکستانی پاسپورٹ پر پاکستان سے بھاگ کر امریکه جاپان اور یورپ میں پناھ کے خواہش مندوں کا کیا حال هوتا ہے ؟؟
پاکستان میں الله کی بات کرو تو جی لوکاں کو
بابے یاد انے لگتے هیں
قران کی بات کرو تو ان کو اور کتابیں یاد انے لگتی هیں
جب مشرکوں کو سمجھاؤ
تو ماں بہن کی گالیاں دینے لگتے هیں
بلکل ویسے هی
جیسا که توریت
انجیل
اور
قران میں لکھے انبیاءکے قصص میں هے
اگر تم سیانے هوتے تو
تم امیر ناں هوتے
اوئے
تم اپنا خاندان تو دیکھو
هو کے کمیار تے گلاں کردا اے وڈیاں وڈیاں
اوئے دس
کھاں تینوں اسلام دا دسیا کینے سی؟؟
تے هن تو اینہاں بابیاں نو ں برا کہنا ایں

20 تبصرے:

ایک قاری کہا...

خاور جانی۔کفار کو حضور علیہ سلام نے طائیف کے مقام پر قرآن ہی پڑھ کر سنایا تھا اور آپ علیہ سلام کو پتھروں سے لہو لہان کردیا تھا۔آپ صلے علیہ سلام سے اچھی دین کی بات سمجھانے اور بتا نے والا نا تو کوئی آیا ھے اور نہ کوئی آۓ گا۔ اگر آپ حضور صلے علیہ سلا م قران پڑھ کر سنانے سے پتھر پڑے تو آج کوئی بھی قرآن پڑھے اور کفار اور مشرقین اسے گالیاں نہ دیں یہ کیسے ھو سکتا ھے۔جو قرآن کی بات نہیں کرے گا اسی کو حلوے مرغ مسلم ملیں گے۔ورنہ قرآن سمجھانے والوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عثمان کہا...

بہت خوب

الف نظامی کہا...

دس کھاں تینوں اسلام دا دسیا کینے سی؟؟
تے هن تو اینہاں بابیاں نو ں برا کہنا ایں
یہ تو کہنے والے نہ درست بات کہی کہ برصغیر میں اسلام کی ترویج انہی اولیاء اللہ کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے۔

ایہہ وی دس کھاں بئی جہاد مزاراں تے دھماکے کر کے معصوماں نوں مار کے ہندا ہے یا حربی کافراں دے نال ہندا اے؟؟

بزرگان دین کا شرک سے کوئی نتعلق نہیں۔
اظہار بغض میں حقائق مسخ نہ کیجیے۔

آپ کو بابوں سے اختلاف ہے تو اس کی کوئی وجوہات بیان کیجیے اور احسن طریقے سے نا کہ بازاری طریقہ سے۔

اور اسی طرح اگر آپ مزارات پر دھماکہ کرنے والوں سے متفق ہیں تو اس کی وجہ بھی جاننے کی جرات کر رہا ہوں۔

کاشف نصیر کہا...

سمجھنے کی چیز یہ ہے کہ تصوف اور مزار پرستی دو مختلف نوع کی چیزیں ہیں اور انکا آپس میں جو تعلق زبردستی بنا دیا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی سے معین الدین چشتی اور سید علی ہجویری تک کسی ایک نے بھی کبھی مزار پرستی کی تعلیم نہیں دی ۔تصوف کا مقصد تو روحانی اصلاح ہوا کرتا ہے لیکن مزار پرستی انہی روحانی بیماریوں میں مبتلا کرتی ہے۔
صاحب مزار پرستی اکثر چھوٹی موٹی بدعات سے شروع ہوکر شرک تک پہنچ جاتی ہے۔جہلا میں زیارت قبور سے شروع ہونے والا یہ مزار پرستی کا مرض ، مردوں سے توصل اور اعانت سے ہوتا ہوا اتنی تیزی سےآگے بڑھتا ہے کہ دیکھنے والے کے لئے مزار اور بت میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ صرف یہی نہیں جنات اور سائے وغیرہ اتارنے کے نام پر جو طوفان بدتمیزی اکثر نظر آتی ہے وہ الگ ہے۔ اور ان سب سے زیادہ مزار سے ملحق ناجائز تجاوزات پر دنیا بھر کے جرائم ہوتے ہیں جن میں جوا سے لیکر ہم جنس پرستی تک سب شام ہیں۔

Saad کہا...

میں کاشف نصیر صاحب سے متفق ہوں

جاویداقبال کہا...

خاورصاحب، آپ کی باتیں بعض اوقات حقیقت سےاوپرسےگزرجاتیں لیکن کیونکہ یہ آپ کی اپنی آراء ہےلیکن یہ حقیقت سب کےسامنےروزروشن کی طرح عیاں ہےکہ ان اولیاء اللہ کی بدولت ہی اسلام کاپوداان ممالک برصغیرپاک وہندویں لگاتھا۔انہوں کی کتابیں جس میں کشف المعجوب اوردوسری تصوف پرکتابیں ہیں ان میں کہیں بھی شرک کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ اسلام کوبڑےاچھےطریقےسےواضح کیاہےلیکن کیاکہنےہم لوگوں نے بجائےکہ جوجرم ان کےاحاطہ مزارات میں ہوتےہیں ان پرلکھیں بلکہ انہی پرالزام لگانااپناوطیرہ بنالیاہے۔ اللہ تعالی ہم کوصحیح طورپردین اسلام کی آگاہی عطاء فرمائیں ۔ آمین ثم آمین

جعفر کہا...

پاکستان کے صوبوں پنجاب اور سندھ میں 20 فیصد کے قریب شیعہ اور 90 فیصد اھل بیت سے محبت رکھنے والے افراد آباد ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں پر سعودی عرب کے وہابی اعتقادی لحاظ سے بہت زیادہ سرگرم عمل ہیں اور شیعوں کے ہر علاقے میں ایک وہابی جماعت موجود ہے۔ بدقسمتی سے شیعہ اپنے کم علم ہونے کی وجہ سے وہابیوں کے اثرات تلے دبے ہوۓ ہیں ۔
شیعوں کی مالی اور اطلاعاتی مشکلات کے برعکس سعودی عرب نے وہابی فرقہ کے لیۓ یہاں پر ایک مدرسہ بنا رکھا ہے جہاں پر 5 ہزار کے قریب طلباء زیر تعلیم ہیں جن پر ایک مہینے میں 100 ہزار روپے خرچ کیۓ جا رہے ہیں ۔
وہابی نہ صرف شیعوں بلکہ سنیو ں پر بھی رحم نہیں کرتے اور ان پر بھی اپنے اعتقادات لاگو کرنے میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔گذشتہ تیس سالوں میں 150 ہزار کے قریب شیعہ ڈاکٹر ، انجینیر ، وکلاء ، جج وہابیوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں ، اس لیۓ پاکستان کے شیعہ ابھی بے سرپرست ہیں ۔ وہابی شیعہ علماء کے ساتھ سنی علماء کو بھی مار رہے ہیں ۔.

عَلآمہ کاشف نصیر کہا...

گند ہی گند دیو بند و دیو بندی۔۔۔ :lol:

کراچی میں صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں دو خودکش حملوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور پچپن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
تحریکِ طالبان پاکستان نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک نائب ترجمان احسان اللہ احسان نے بتایا ہے کہ یہ دھماکے تحریکِ طالبان کا کام ہیں اور وہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بریلوی مسلمان طالبان کے

عَلآمہ کاشف نصیر کہا...

گند ہی گند دیو بند و دیو بندی۔۔۔ :lol:

کراچی میں صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں دو خودکش حملوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور پچپن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
تحریکِ طالبان پاکستان نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک نائب ترجمان احسان اللہ احسان نے بتایا ہے کہ یہ دھماکے تحریکِ طالبان کا کام ہیں اور وہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بریلوی مسلمان طالبان کے مخلاف ہیں اسی لیے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے

جاویداقبال کہا...

اللہ تعالی ہم پررحم کرے۔ آمین ثم آمین
دراصل شعیہ حضرات کی ہمیشہ سےیہ کوشش رہی ہےکہ وہ اپنےآپ کوایسےثابت کریں جیسےکہ وہ بہت معصوم ہیں اورباقی سب لوگ ان کےساتھ زیادتی کرتےہیں حالانکہ حقیقت اس کےبرعکس ہےجوبھی حضرات صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالی عنہم کےخلاف انتہائی اخلاق سےگری بات کرےگاکیاوہ اخلاق کی بات کرسکتاہےحالانکہ ان کااخلاق توایساہےکہ جہاں متعہ ایک ایساکام ہےجس کی وہ بہت تعریف کرتےہیں جس مسلک میں جھوٹ کونوفیصدی حصہ ایمان کہاجائےجس میں بجائےمحبت کےنفرت کےبیج بوئیں جائيں جن کاتصورمسلک یہودیوں کاپروردہ ہو۔جنکی سوچ انتہائي گری ہوئی ہوجوکہ صحابہ اکرام حتی کےام المنومنین حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات کوبھی نعوذبااللہ نازیبدہ الفاظ سےبلائيں۔ ان کےخلاف نفرت پیداہوناایک فطری چیزہےلیکن حقیقت یہ ہےکہ یہ سلسلہ انہوں نےشروع کیاہےلیکن اہلسنت والجماعت نےان کےاس اقدام کی ہرہرقدم پرحوصلہ شکنی کی ہےبلکہ جب شعیوں نےایران کی ایماء پراپنےزیادہ پرپرزےنکالنےشروع کیےاوراہلسنت والجماعت کےعلماء کوشہیدکیاتومجبوراانہوں نےیہ اقدام کیےہیں۔ اللہ تعالی ہم کودین کی صحیح سمجھ بوجھ عطاء فرمائیں۔ آمین ثم آمین
باقی یہ طالبان یہ توکچھ کررہےہیں کیونکہ دہشت گردکاکوئی مذہب نہیں ہوتااوروہ انسانیت کےدشمن ہیں ان کوقرارواقعی سزاملنی چاہیے۔لیکن وہ اصل طالبان کوبدنام کرنےکی کوشش کررہےہیں کیونکہ یہ دونمبرطالبان بنےہوئےہیں اورمسلمانوں کوایکدوسرےسےلڑاناچاہتےہیں۔

جعفر کہا...

خاور صاحب
اوپر والا تبصرہ میرا نہیں ہے
صاحب تبصرہ سے گذارش ہے کہ اگر ماں باپ کا دیا گیا نام پسند نہیں ہے تو اپنی پسند کا نام ضرور رکھیں
لیکن لنک بھی اپنا ہی بنا لیں
میرے چھابے میں ہاتھ نہ ماریں

Naeem Akram Malik کہا...

dost there is not baba in afghanistan, but why are they still fighting???

محمد احمد کہا...

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ بر صغیر پاک و ہند میں اسلام علما کرام ہی نے پھیلایا اور اس کے لئے انتھک محنت بھی کی، لیکن ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ اُن کے مزارات بنائے جائیں ، ان پر عرس منعقد کئے جائیں، ان مزاروں پر چڑھاوے چڑہائے جائیں اور منتیں مانی جائیں، لیکن آج ان مزاروں پر یہی سب کچھ ہوتا نظر آتا ہے۔

اس سب کے باوجود خود کش حملے کرنے والوں کو یا کسی اور کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ مزارات پر یا اور کسی جگہ پر یہ خونی کھیل کھیلیں۔ البتہ ہمیں چاہیے کہ اپنی تمام تر حاجات اور خواہشات کے لئے اللہ کی طرف دیکھیں کہ اللہ ہی سب کو سب کچھ دینے والا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بہت خوب

Abdullah کہا...

روشن خیال اسلام کی اصل روح کی ایک جھلک!!!!
http://www.voanews.com/urdu/news/American-Muslims-Gathering-08Oct10-104581059.html
مردوں کی پرستش کرنا چھوڑیں اور زندوں کی طرح جینا سیکھیں!!!!!

Abdullah کہا...

مزارات کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان،منع فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نےقبر کو پحتہ کرنے اس پر بیٹھنےاور اس پر عمارات تعمیر کرنے سے،
مسلم،ابو داؤد،ترمزی(باب الجنائز)
حکم ہے کہ قبر کچی ہونا چاہیئے اور زمین سے زیادہ سے زیادہ ایک فٹ اونچی ہونا چاہیئے قبر پر کتبہ لگانا یا عمارت بنانا سختی سے ممنوع ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کرتی ہیں اور ان لوگوں پر جو قبروں پر چراغ جلاتے ہیں اور مسجدیں بناتے ہیں
ابو داؤد(کتاب الجنائز)،مسند احمد(3118-2603)

کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کی مثال پیش کرتے ہیں،آپ کی قبر مبارک عبدالملک بن مروان کی حکومت سے پہلے تک سادی تھی اور مسجد نبوی سے ملحق تھی جسے اس نے اپنے دور میں مسجد نبوی میں شامل کردیااور اس پر عمارت تعمیر کروادی۔

Abdullah کہا...

میری ناقص رائے یہ کہ جتنے مزارات ہیں ان میں جو قبریں موجود ہیں انہیں کچی کر کے ان کے گردایک سادی چاردیواری کھینچ دی جائے اور ان بڑی بڑی عمارتوں کو فلاحی اور تعلیمی اداروں کی شکل دے دی جائے!!!

Abdullah کہا...

میں نے اوپر کیا تبصرہ الف نظامی کی پوسٹ پر بھی کیا تھا مگر انہوں نے اسے شائع کرنا مناسب نہیں سمجھا حالانکہ اس میں احادیث کے علاوہ کچھ نہیں تھا،
یہ حال ہے احادیث کو ماننے کا دعوہ کرنے والوں کا،
:(
یہی قول و فعل کا تضاد ہی ہمیں لے ڈوبا ہے!!!

ایک قاری کہا...

اللہ کے بندے۔میں نے اس سنسر شپ کی وجہ سے کبھی کسی کی پوسٹ پر تبصرہ نہیں کیا کہ یہ لوگ خودچاھے کچھ بھی لکھیں اس پر کوئی قینچی نہیں چلتی۔تبصرہ انہی کی مر ضی کے مطابق ھونا چاھیے ورنہ قینچی تو چلے گی بابو۔ خاور جانی زندہ باد ھے اس معاملے میں۔اسلۓ اسی کو کبھی کبھی تنگ کرنے چلے آتے ھیں۔باقی تو سارے بلاگ کی دنیا کے جنرل مشر ف ھیں۔

کامی کہا...

کافر کافر شیعہ کافر واجب القتل
جعفر شیعہ کافر

Popular Posts