منگل، 5 اکتوبر، 2010

عمل سے زندگی

ہمارے گاؤں میں دو بھائی هوا کرتے تھے
نوری نائی اور
جھوری نائی
بڑے مشہور کردار تھے جی اس لیے ان کو سارے هی لوگ جانتے تھے
مجھی سنیارا
ایک شعر سنایا کرتا تھا

عمل سے زندگی بنتی هے، جنت بھی جہنم بھی
یه خاکی اپنی فطرت میں نه نوری نائی هے نه جھوری نائی ہے
اج کل چین سے محمد سلیم شانتو چائینہ والے اردو میں میلیں کر رهے هیں
اب تک ان کی دو میلیں چل چکی هیں
ایک وه والی جس میں عمر دی گریٹ کے دور کا واقعه ہے
جو واقعه هماری عمر کے لوگوں نے پرائمری میں پڑھا تھا
اور دوسری میل یه هے که اپنا ڈیرا والے منیر صاحب نے بھی اپنے بلاگ پر لگائی ہے
مینر صاحب نے تو سلیم صاحب کا نام لکھ دیا ہے که جس کی تحریر هے اسی کی رهے لیکن کچھ لوگ ایسی تحاریر کو کچھ اس طرح سے کاپی پیسٹ کرتے هیں که
بھولے لوکاں کو لگے که جیسے ان صاحب نے هی لکھی هے
حالانکه
ایسی تحاریر کہیں اور سے اتی هیں
جی هاں
کہیں اور سے
ان میں ایک خاص ذہن بنانے کی کوشش کی جاتی ہے
خاص ذہن ؟؟
جی هاں کچھ اس طرح کے ذہن که
بس جی ایک رب ہے دیوتا ہے ، دیوی ہے ، پیر ہے خانقاھ ہے
جو بھی هے بس کچھ ایسا کرو که وھ خوش هو جائے
اور " اُس " کی ذہنیت بس یه هے که ایک پرانے زمانے والے بادشاھ کی طرح کسی بھی بات سے خوش هو کر منه موتیوں سے پھر دے گا اور ناراض هو کر کولہو میں پلوا دے گا
کچھ اس طرح کا ذہن که عبادتیں کرو جی
شب بیداریاں کرو جی
وظیفے کرو جی
لیکن نہیں کرنا تو وھ ہے معاشرتی علوم کا عکم اور عمل نهیں کرنا هے
الله نے فرمایا که دن رب کے فضل کی تلاش کے لیے هے اور رات آرام کرنے کے لیے
لیکن خاص ذہن تیار کرنے والوں نے
قوم کو شب بیدریوں کا بتایا
کیا یه واضع طور پر الله کے فرمان کی نافرمانی نهیں هے ؟؟
اور اس طرح کی کئی مثالیں دی جاسکتی هیں لیکن ایک تو میں اپنے بلاگ کا مزاج مذہبی نهیں بنانا چاھتا اور دوسرا لایعنی بحثوں میں نهیں پڑنا چاھتا
کاپی پیسٹ
جس میں لکھنے الے کا حواله ناں هو
چوری هے
اور پوری هی تحریر کسی اور کی لگا دینا ؟؟
یارو
کسی پیرے کا حواله تو ٹھیک ہے
لیکن پوری کی پوری
تحریر هی
اور وھ بھی اپنے نام سے
یہاں دیکھ لیں
http://paknetjapan.net/?p=7334
اور اخر میں اپنا نام بھی لکھ دیا ہے

سر جی !!!!!
عمل سے یعنی کام کرنے سے زندگی بنتی ہے
اگر اپ صاف بننا چاہتے هیں تو ؟
اپ کو هر روز صفائی کرنا پڑے گی
اگر اپ کامیاب بننا چاہتے هیں تو ؟
اپ کو هر روز محنت کرنا پڑے گی
جی هاں ہر روز محنت کرنی پڑے گی
دھلے کپڑے پہن کے سفید پوش کہلوانا ہے تو
بھی ہر روز کپڑےدھونے پڑیں گے
ورنه
ایک دن کی بھی سستی
اپ کو ان اعزازات سے محروم کردے گی
جی هاں
ورنہ پھر جی
بقول مجھی سنیارے کے
یه خاکی اپنی فطرت میں نه نوری نائی هے نه جھوری نائی ہے

6 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خاور جی۔
کسی بندے دے پتر کے پتر کی شکایت کرتے۔
یہ پاک نیٹ تو اصلی اخبار ھے۔
اور مدیر اعلی صاحب تو
جناب کیا کہنے۔
احساس ذمہ داری یا کسی کا حق ؟
کس چڑیا کا نام ھے!!۔
lol
پلے نہی دھلہ تے کر دی میلہ میلہ

میرا پاکستان کہا...

آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہیں اور خاص کر شعر سے۔

Saad کہا...

شرمناک حرکت کی انھوں نے!

کاشف نصیر کہا...

مست رکھو ذکر و فکر صبح گا ہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے
اصل میں مذہب اور دین میں ایک بنیادی فرق ہے جسے عام طور پر نطر انداز کردیا جاتا ہے، دنیا میں مذہب سے مراد چند مخصوص عقائد اور عبادات اور روحانیت کے طور پر معروف ہیں جبکہ اسلام ایک مکمل دین اور نظام حیات ہے جس میں افراد سے لیکر معاشرت تک تمام نوعیت کے معاملات شامل بحث ہیں. اصل میں تو معاشی، معاشرتی، اخلاقی، سیاسی، علمی اور قانونی، معاملات بھی ہمارے دین کا لازمی جز ہیں.
لیکن کچھ لوگ دین کی ایک محدود تعبیر کرکے اس سمندر کو روحانیت کی مٹھی مین بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ ڈرتے ہیں کہ کہیں پورے کہ پورے دین پر عمل شروع ہوجانے کیونکہ
بے ید بیضا ہے پیران حرم کی آستیں
عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں

ڈاکٹر افتخار راجہ کہا...

صاحب آپ نے میرے منہ کی بات چھین لی ہے۔ وللہ یہاں پر بلکہ ہر طرف یہی احوال ہے۔ اللہ کرے کہ آپ جیسے لوگ لکھتے ہی رہیں

mussa کہا...

muslimbaloch22@yahoo.com
www.daljan.blogspot.com

Popular Posts