ہفتہ، 15 اگست، 2009

٦٢ سال

پنجابی کا ایک محاورھ هے

پلے نہیں دھیلا اور کردی پھرے میلا میلا
مفلسی اور میلے کے شوق کا بتایا هے جی اس میں . برصغیر میں فصلوں کےاٹھنے پر جشنوں کا رواج ہے پرانوں سے ، اس لیے که اناج سے گھر بھر جاتے هیں ناں
لیکن پاکستان کا جشن ؟؟؟ چه معنی دارد


2 تبصرے:

کنفیوز کامی کہا...

یار تو بھی کنفیوز تو نہیں۔ :shock:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یہ شرم صرف ہمیں آئے گی ۔ پھر بے نتیجہ رہے گی۔ اس ملک میں انسان بکتے ہیں دو وقت کی روٹی کی خاطر۔ روٹی، رزق جسکا وعدہ خدا نے کیا ہے۔ جو اناج وہ زمینوں پہ اگاتا ہے۔ جس پہ دنیا کی ذلیل ترین اشرافیہ کالے ناگ کی طرح پھن پھیلائے پہرہ دیتی ہے کہ انکی اجازت کے بغیر کوئی دو نوالے نہ لے لے۔ یہ وہ اشرافیہ ہے جو زمین پہ خدا بن کر لوگوں کو دو وقت کی روٹی کے لئیے ترساتی ہے۔ پولیس ، فوج ۔ اور ادارے محض انھیں تحفظ دینے کا کام کرتے ہیں۔ انھیں نہ ضمیر کچھ کہتا ہے ۔ نہ یہ انسانیت کےکسی اصول کسی ضابطے کو مانتے ہیں۔ یہ تبھی راضی ہوتے ہیں جب ان کی گردن پہ ہاتھ پہنچ نہ جائے۔ اور حالات جس نہج پہ چل رہے ہیں وہ انقلاب فرانس کا پتہ دیتے ہیں۔ غریب تو پھر غریب ہے ۔ اسکے پاس ہے ہی کیا جس سے محروم ہونے کا اسے اندیشہ ہو؟ ۔ مگر پاکستان کے بے ضمیر اشرافیہ کو یہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ جس دن پاکستان کے لوگوں کہہ دیا کہ اب بس۔ پھر انہیں ملک سے فرار ہونے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔

خاور کھوکھر صاحب یہ بے ضمیر لوگ کسی آئینے کو نہیں مانتے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شیطان کے پاس اپنی روحیں دنیاوی مفاد کے لئیے گروی رکھوا چکے ہیں۔ ان کے کتے اور بلیاں بھی پاکستان کے کسی عام شہری سے بہتر زندگی گزارتے ہیں۔ انھی شرم نہیں آنے والی۔ مگر دکھ اس وقت سوا ہوجاتا ہے۔ جب ہماری عوام آزادی کا بے تکا جشن مناتی ہے۔ بھائی لوگو۔ آزادی کا دن آیا اس دن کو ضرور مناؤ ۔ اپنی کوتاہیاں اور خامیاں دور کرنے کا عہد کرو۔ پاکستان پہ قابض چور ، ڈکٹیٹر ۔ اور آمروں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرتے ہوئے آئیندہ کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دینے کا عہد کرو۔ مگر یہ جشن کس بات کا۔ کیا پاکستان جن مقاصد کے لئیے حاصل کیا گیا تھا۔ کیا وہ مقاصد پورے ہو گئے ہیں یا ہم متواتر دائرے کا سفر کر رہے ہیں۔

دائرہ ۔، جو تنگ ہوتا جارہا ہے۔

Popular Posts