ہفتہ، 1 اگست، 2009

غیرت که شہوت


گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والوں کی اکثریت ان جوڑوں کی هوتی هے جن کو عشق مشوقی میں '' واردات '' ڈالنے کا موقع نهیں ملتا ہے ـ

جن کو کسی کماد میں ،ڈنگروں والی حویلی میں ٹیوب ویل والے کمرے میسر هوتے هیں وھ شجرممنوعه کو چکھ چکھ کر آدم ،حوا والی لذت اورننگے هونے کی شرمندگی سے دوچار هوتے رھتے هیں ـ گھر سے نهیں بھاگتے

متذکرھ بالا جگهیں میسر ناں هونے والے جوڑے دور دور سے بالوں کو ھاتھ لگانے کے بہانے ایک دوسرے كو سلام كرکر کے ، رقعے بھیج بھج کر اور کبھی کبھی اندھیری گلی میں ایک دوسرے کے جسم کو محسوس کرکے بقول شخصے '' پانی '' ان گو سر تک چڑھ چکا هوتا ہے ـ

موقع ناں ملنے کو یه لوگ سچی محبت کہتے هیں ـ

جن کا تو داء لگ جاتا ہو وھ لوگ بس چھپ جھپا کر مزے لیتے رھتے هیں دوسرے والے لگ مزا لینے کے لیے گھر سے بھاگ لیتے هیں عموماً لڑکی زیورات لے کر بھاگتی هے

اس گھر سے بھاگنے کے پیچھے ' کچھ '' کرلینے کا جنون هوتا ہے

کسی اور کی کیا بات کروں که میں خود لندن میں ملی لڑکیوں کے لیے لاس اینجلیس ، سیول اور سنگاپور تک کے سفر کرکے پہنچ جایا کرتا تھا ـ

ایک تجربه کار مرد جو که اپنی عمر کے چالیسویں سال تک پہنچتے پہنچتے سو کے قریب لڑکیوں سے جمسمانی تعلق رکھ چکا هو اگر سیکس کے متعلق اس کا یه حال هو تو جی دوسرے مردوں کا بھی تو یہی حال هو گا ناں جی ؟

باقی جہاں تک عورت کی بات ہو تو جی عورت بڑی ریاکار ہے

مرد کو اکساتی رهے گی اور منه سے نو نو کہتی رهے گی

لیکن اگر آپ ''وکیل '' کو کھڑا کر کے خود سونے کی حالت میں چلے جائیں تو جی دس منٹ بھی نهیں گزرتے که وکیل کے ساتھ بوس کنار کرنے لگتیں هیں ـ

اخباروں میں الزام یه لگتا ہے که لڑکے نے لڑکی کو ورغلا لیا ( همارے ایک بابا جی اس کو ورق لانا کہا کرتے تھے)سب لوگ عرت کی حمایت میں کمر کس لیتے هیں ـ

هونا بھی چاھیے که مردوں کے معاشرے میں سارے پنچایتی ھی اس سوچ کے مال هوتے هیں ، منڈا اکیلا هی مزے لوٹ گیا ـ لڑکی کے مزے کا بھی سب کو معلوم هوتا ہے اور بہت سے خود لڑکی سے اکیلے میں مل کر وھی مزا خود بھی دینا چاھتے هوتے هیں ـ

هاں تو جی گھر سے بھاگ کر سب سے پہلے تو جی یه لوگ کہيں جگه ڈھونڈتے هیں جو که عموماً کس شہر کا ھوٹل هوتا ہے

اور پھر لذّت لنے میں اتنے مگن هوجاتے هیں که دو تین دن باھر هی نهیں نکلتے


قلم دوات هوتا ہے اور ھوٹل کے سارے عملے بمع صفائی کرنے والے اور سبزی لانے والے که سب کو نظر آ رها هوتا ہے که لکھائی جاری هے

اپنے هوم ورک سے اکتائے هوئے ادھیڑ عمر بھی نئی تختی پر اپنے ھولڈر سے خوش خطی کی مشق کے خواب دیکھنے لگتے هیں ـ

لیکن یه سب هو نهیں سکتا که اس لیے پھر غیرت جاگ جاتی هے اور پولیس کو اطلاع کردی جاتی هے که جی که جوڑا گھر سے بھاگ کر آیا هے اور گلچھڑے اڑا رھا ہے ان کو اکیلے گلچھڑے اڑانے سے منع کریں اور ان کو تھانے لے جاکر قانون کو مزے کروائیں ، چاھے قانون کے اجتماعی نفاذ سے لڑکی مر هی جائے ـ

ادھر لڑکی کے گھر والے جو که جوڑے کی برامدگی کے منتظر هوتے هیں تھانے پہنچ جاتے هیں اور اپنی انکھوں سے لڑکی پر قانون کا نفاد دیکھ رهے هوتے هیں

باری باری تھانیدار سے لے کر حوالدار اور سپاهی بچے '' تفتیش ' کے لیے لڑکی سے اکیلے میں ملتے هیں اور قانون نافذ کر کے آ جاتے

اس اس قانون کا نفاذ کس نے کتنا کیا ، اس کا تو وھ لڑکی اپنی کسی سہیلی کو هی بتائیں گی که که کس کا وکیل کتنی اچھی بحث کرتا تھا

ایک لڑکے کی تھوڑی سي خوش خطی کی مشق کو برداشت ناں کرسکنے والے اب دیکھ رهے هوتے هیں که

ایک هی سلیٹ پر کنے لوگ اپنی اپنی مهارت ازمارهےهیں لیکن کچھ کر نهیں سکتے

اور یه سارا غصه لڑکی پر اترتا هے که اس نے یه کام ناں کیا هوتا تو قانون کو اپنے نفاذ کا موقع ناں ملتا ـ

اور یه بھی هوتا ہے که کبھی کبھی لڑکا بھی خوبصورت هوتا ہے تو جی قانون کے سارے رکھوالے حوروں کے هی عاشق نهیں هوتے کچھ '' غلمان '' کے بھی شوقین هوتے هیں تو جی جو واردات سوھنے منڈے پر گزر جاتی هے اس کا احوال پھر کبھی سہی ـ

جاپانی بڑی غیرت مند قوم هیں

لیکن ان کی غرت ماں بہن یا بیٹی کی اندامنہانی پر نهیں هوتی هے

صرف اس بات پر هوتی هے که اکز ان کا جھوٹ پکڑا جائے تو یه غیرت سے مر جاتے هیں

کون هے اصل غیرت مند؟؟

9 تبصرے:

Jafar کہا...

میرے بس میں اگر کبھی ہوا تو میں آپ کی تحاریر کا انتخاب اپنے خرچے پر ضرور شائع کرواؤں گا۔ چاہے فحاشی پھیلانے کے الزام میں سات سال کے لئے اندر ہوجاؤں۔

Yasir Imran Mirza کہا...

اگر معاشرے کے ایک غلط پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے تو انداز بھی بہت غیر مناسب ہے

اور کچھ مثالیں ایسی بھی ہیں جو کہ پاکستانی معاشرے کی نہیں، لندن میں یہ سب ہوتا ہو گا، ابھی ہمارے ملک میں حالات اتنے برے نہیں

بہت سے مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو گھاٹ گھاٹ کا پانی نہیں پیتے بلکہ دینی اور معاشرتی حدود میں اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ سب کو ایک ہی صف میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا

میرا پاکستان کہا...

یہ خاور صاحب کا انداز تحریر ہے جس پر اعتراض ہو سکتا ہے مگر انہوں نے جو حقیقت بیان کی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ واقعی ایسا ہوتا ہے۔

kaka belly کہا...

ہ خاور صاحب کا انداز تحریر ہے جس پر اعتراض ہو سکتا ہے مگر انہوں نے جو حقیقت بیان کی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ واقعی ایسا ہوتا ہے

laalay ki jaan کہا...

چند سکوں کے عوض بکتا ہے انسان کا ضمیر

کون کہتا ہے میرے دیس میں مہنگائی ہے

Abdullah کہا...

واہ جی واہ کھوکھر صاحب کیا اعلی تحریر ہے اپنے تو اس مضمون میں ایم اے کیا ہوا ہے :)ایسا کرین ایک تھیسیس بھی لکھ دیں پاکستان کی نہ سہی یورپ کی کوئی نہ کوئی یونیورسٹی آپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کر ہی دے گی:)
باقی جہاں تک عورت کی بات ہو تو جی عورت بڑی ریاکار ہے

مرد کو اکساتی رهے گی اور منه سے نو نو کہتی رهے گی

لیکن اگر آپ ''وکیل '' کو کھڑا کر کے خود سونے کی حالت میں چلے جائیں تو جی دس منٹ بھی نهیں گزرتے که وکیل کے ساتھ بوس کنار
کرنے لگتی ہیں،
عورتوں کی اس طرح عزت افزائی کرتے آپ شائد بھول گئے تھے کہ آپ کی والدہ محترمہ بھی ایک عورت ہیں کیا آپ کی یہی رائے خدانخواستہ ان کے بارے میں بھی ہے؟
باقی جو آپ نے لکھا اور اس پر جس طرح جعفر صاحب نے تعریف فرمائی ہے ،اب تمام لوگوں کو میرے اس سوال کی سمجھ آگئی ہوگی جو مینے افضل صاحب کی پوسٹ فحاشی کے خلاف مہم پر کیا تھا،
کیا انہی وجوہات کی بناء پر پنجاب سے سب سے زیادہ لڑ کے لڑ کیاں گھر سے بھاگتے ہیں؟
آپ کو اس کا حل بھی بتانا چاہیئے تھا مگر آپ تو خود اپنی ہی داستان مزے لے لے کر سنانے لگے جس سے محسوس یہ ہوا کہ آپ ان چیزوں کو برائی نہیں سمجھتے ہیں؟

عنیقہ ناز کہا...

آپ نے تصویر کا ایک رخ نہایت جانبداری سے اور مزے لیکر دکھایا ہے۔ میں اگرمرد ہوتی اور اس نظام جیسی ہوتی جیسا کہ آپ نے اس تحریر میں بیان کئے ہیں تو یقینی طور پر اسکا مزہ لینے بار بار اس پوسٹ پر آتی۔ شراب تلخ ہوتی، گلا جلاتی ہے مگر جو سرور اسکے پینے کے بعد آتا ہے وہ یہ سب چیزیں بھلا دیتا ہے۔
پاکستان دنیا کے اتنے عجیب مملک میں سے ہے جہاں ایک مرد ایک عورت کو چاہتا ہے اور اسکے مرنے کے بعد اس سے پیدا ہونےوالے اپنے بچوں کی زندگی سنوارنے کے لئے پھر دوبارہ کبھی شادی نہیں کرتا۔ یہاں ایسے مرد بھی ملتے ہیں جو کسی عشق میں ہارنے کے بعد اپنی زندگی ہی تج دیتے ہیں۔ ایسی عورتیں بھی ملیں گی جو شادی کے مہینے بھر بعد بیوہ گئیں عین جوانی کے عالم میں لیکن اپنی باقی کی زندگی کسی مرد اور اس سے وابستہ تعلقات کے بغیر گذاردی۔ لیکن آپ زندگی کو شاید گاءوں کے ٹیوب ویل سے باہر نہیں دیکھنا چاہتے۔ بند کمروں میں بہائے جانیوالے آنسءووں اور گریہ کی شدت ابھی آپکے دل تک نہیں پہنچی۔ کیونکہ ابھی آپکی نظریں صرف وہاں سجی سیجوں کو تلاش کرتی ہیں۔ آپ شاید منٹو کے انداز میں لکھنا چاہتے ہیں۔ مگر ایسا لکھنے کے لئے لکھنے والوں کو اپنے آپ کو درمیان سے ہٹا لینا چاہئے۔ ورنہ یہ چیز محض ان چیزوں کو بڑھاوا دیتی ہے اور کسی کو اسے پڑھ کر احساس ندامت نہیں ہوگا۔ البتہ ایکس ریٹڈ فلموں کے لئے بہتر خیالات ضرور ملیں گے۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

میں تو جی وارے جاوں تحریر پہ
اور یہ پنجاب پنجاب کرتے کاکے پتا نہیں پوسٹ کے کونسے سوراخ میں گھس جاتے ہیں
ہمیں تو نظر نہیں آتے وہ
؂تحریر کی تعریف نا کر کے اوروں کی طرح بخیلی تو نہیں کروں گا
می تو جی "ڈے اول" سے آپ کا فین ہوں یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے
اور سچ پر مبنی تحریریں پڑھ کر "ڈے لاسٹ" تک فین رہ سکتا ہوں
شراب کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے اور وہ کیا کام کرتی ہے یہ بھی مجھے اس پوسٹ کے طفیل پتا چل گیا
اور مجھے یہ بھی پتا چل گیا کہ صرف مرد حضرات ہی منٹو کو پسند نہیں کرتے
اور ہاں اس علم کا اندازہ بھی مجھے اسی پوسٹ کے تبصروں سے ہوا ہے کہ کراچی میں ٹیوب ویل نہیں ہوتے
لوگوں کو یہ تحریر اتنی نا پسند آئی ہے کہ اس کے کاپی پیسٹ کر کر کے تبصرے میں دوبارہ مزے لئے ہیں

سید ضیاء الحسن واسطی کہا...

اچھا ہے ایك معاشرتی بیماری كی تشخیص كی ہے جناب نے یعنی انصاف كرنے والے ادارے بھی اسی لعنت كے شكار ہیں ان كو روكنے والا كوئی نہیں اور وہ جو برائی كر رہے ہیں سو كر رہے ہیں اور جب بات پولیس عدالت یا پنچائت میں جاتی ہے تو وہ بے چارے ان كی حوس كا بھی نشانہ بنتے ہیں

Popular Posts