ہفتہ, اگست 22, 2009

کچن کارنر

سب سے پہلے تو جی بات یه ہے که جب نام لکھ کر کسی کے متعلق بات لکھی جاتی ہے تو اس کا مطلب هوتا ہے که
اس شخص پر اعتماد کرتے هیں که اسے اپنا سمجھتے هیں ـ جیسا که پچھلی پوسٹ میں کچھ بلاگروں کے قلمی ناموں کو لکھ کر بات کی تھی ـ
ھفته بلاگراں منانے کے پيچھے اپنی کچھ بہنوں کا بھی ھاتھ تھا اس لیے کچن کارنر بھی شامل هو گيا جی ـ
اس کی وجه سے کچھ سیکرٹ لوز هونے کا امکان هے جی ـ
جیسے که میں خود کو بڑی مردانه سوچ کا مالک بڑے مردانه شخصیت کا مالک بندھ شو کرنے کی کوششکرتا هوں لیکن جی گھر میں میری بیوی میری شوھر ہے کیونکه وھ مجھ سے زیادھ کماتی هے اس کی تعلیم زیادھ ہے امیر باپ کی بیٹی هے اور سب سے بڑی بات که هر بات میں چُر چُر کرتی رهے گی مار کھا لے گی ضد نهیں چھوڑے گی ـ
اس لیے کھانا بھی عموماً مجھے هی بنانا پڑتا ہے
دنیا میں آمن قائم کرنےکے لے ـ
ایک ترکیب لکھی تھی ھند کے عظیم شاعر بھگت کبیر داس نے ـ
تن مٹکی ، من دھی ، سُرت بلوھن ھار
کبیرا ماکھن کھا گئیو ، چھاچھ پئے سنسار

جسم کے مٹکے میں خواھشوں کا دھی ہے که اکر اس کو عقل کی مدھانی سے بلو کر رکھ دو تو مکھن بھی نکلے گا اور لسی بھی ، مکھن بندھ خود کھا جاتا ہے اور لسی عام لوگوں کو مل جاتی هے ـ
امیر خسرو نے کھیر بنانے کی ترکیب میں ایک جگه چرخه جلا دینے کا نسخه بھی لکھا تھا
اور کھیر کے استعمال کے متعلق اپنے میان محمد بخش نے لکھا تھا
خاصاں دی گل عاماں اگے تے نئیں مناسب کرنی ـ
دودھ دی کھیر پکا محمد کتیاں آگے دھرنی ـ
اس شعر کا مطلب ہے که کچھ باتاں عام لوگوں کے سامنے کرنے کا مطلب ہے که آپ کے دودھ سے بنی کھیر کتے کے آگے رکھ دی ـ
کچھ کم پڑھے لکھے پنجابی لوگ اس شعر میں دودھ کی بجائے میٹھی کھیر کا کہتے هیں جو که غلط ہے
ایک دفعه کسی محفل میں میں نے جب یه شعر سنایا تو ایک نیم عقلمد نے کہا که جی آپ شعر غلط کہـ رهے هیں ـ
دودھ کی کھیر سے کیا مراد ہے ؟ کھیر تو دودھ کے علاوھ بنتی هی نهیں هے
تو میں نے اس کو بتایا که جی کھیر گنے کے رس کی بھی بنتی ہے جس کو پینڈو لوگ رو دی کھیر کهتے هں اور کھیر باجرے کی بھی بنتی ہے جو بھینسوں کو کھلائی جاتی هے اور بنولے کی بھی بنا کرتی تھی بھینسوں کو کھلانے کے لیے ، بنولے کے تیل کو ڈالڈے ميں استعمال کرکے بنولے کے نایاب هونے سے پهلے کے زمانے میں ـ
تو بات هو جائے مطلب کی
یه ڈش خاص میرے اپنی ایجاد کردھ ہے
مصیبت کے دنوں میں دریافت کی تھی
نام ہے اس کا
چُک چُوکا
سامان
دو عدد پیاز (گھنڈے)ـ
دوعدد ٹماٹر (گوئے فرنگی)ـ
چھ عدد انڈے
تھوڑا سا کھانے کا تیل ، نمک ، کالی مرچ
تو اس طرح کریں که گنڈے(پیاز) کو پتلا پتلا سا کاٹ لیں اور اس کو فرائی پین میں گرم کریں که سرخی مائل هو جائے
اس ميں ٹماٹر کاٹ کر ڈال لیں ، ٹماٹر پانی چھوڑ دے گا اس ميں تھوڑا نمک ڈال لیں اور مکس کرکے ساتھ هی اس پر چھ عدد انڈے باری باری توڑ کر ڈال دیں
اب اس کو مکس نهیں کرنا ہے اور تھوڑا پکا لیں انڈے کی زردی ابھی کچی هو گی کے سفیدی پک جائے گی
بس جی اس کچے پکے کے اوپر تھوڑی کالی مرچ چھڑک لیں
کھانے کے بعد اب کی تحقیق میں اس ڈش گے سائیڈ افکٹس نهیں پائے گئے هیں ـ

1 تبصرہ:

DuFFeR - ڈفر کہا...

"اس طرح کریں که انڈے کو پتلا پتلا سا کاٹ لیں۔۔۔"؟؟؟؟
ہفتہ بلاگراں منانے کے پیچھو کچھ نہیں خالصتا بہنوں کا ہی ہاتھ تھا

Popular Posts