ہفتہ، 8 اگست، 2009

تین کاف ، ک

ماسٹر جی کہلواتے تو ماسٹر جی تھے لیکن جی کاروبار ان تھا برتن بنانے کا

کتابیں پڑھنے اور سوچنے کی عادت نے ان کو اپنے اردگرد گو لوگوں ميں اھل علم " والا " بنا دیا تھا

چاک کے گرد لوگ بیٹھ جاتے تھی ماسٹر کے ھاتھ برسوں کی روٹین میں مٹی کو ساخت بخشتے جاتے تھے اور زبان چلتی رهی تھی ـ

گاؤں کے بڑے بڑے سیانے ڈنگر لوگ یہاں بیٹھک کرتے تھے

اس بیٹھک کا ایک دن کا حال

که ماسٹر صاحب نے بات شروع کی

اوئے جب پاکستان بنا نان تو هوا اس طرح کی پاکستان گے حصے ميں ائی تین " ک " (کاف)

ک کسان

ک کاریگر

اور

ک کمی لوگ

اور ایک کاف پاکستان کو خواھ مخواھ ميں مل گئی

ک کشمیری

ھیرا بٹ تڑف کر بولا اور پانچویں کاف

ک کمیار بھی شامل کرو جی اس میں

طافو کہنے لگا اوئے پھر چھٹا کاف

کاف کھوتے (گدھے)بھی شامل کروـ

صاحب موچی نے سب کو دبکایا

اور تمہاری بہن کی بغل میں تیر !ـ ماسٹر پاگل کو بات پوری کرنے دو ـ

ھیرا بٹ کہنے لگا چلو جی کاف کمیار نکال دو لیکن کاف کھوتے نهیں نکالنے هیں

اوئے ڈنگرو کھوتے سارے اسمبلیوں میں پہنچ چکے هیں کمیاروں کے بس سے نکل کر ان کے خلاف بات کی تو سائیبر آرڈینینس حرکت میں آجائے گا اور تم سب کی بمع میرے گند والا سوراخ بند کردے گا ، ماسٹر نے کہا

تو هوا یه که تین کاف کسان کاریگر اور کمی لوگ پاکستان کے حصے میں آئے ، جتنے پڑھے لکھے لوگ تھے وھ تو یا تو ھندو تھے یا سکھ وه سارے ھندوستان چلے گئے مسلمانوں میں جو پڑھے بھی تھے ان کا یه حال تھا که قدرت الله شہاب جو کتاب کسی نے لکھ کردی تھی شہاب نامه اس میں لکھا ہے مجھے جب اقتصادیات کا سیکرٹری بنایا گیا تو میں نے میٹرک کے نصاب کی کتابیں دو تین راتیں پڑھ کر اکنامکس کا علم حاصل کیا تھا

یعنی که ایک کتاب لکھنے والے سے بھی کم علم کو مملکت خدا داد کا منشی مالیات بنا دیا گیا تھا

کاف کھوتے کاف کھوتے !ـ ھیرابٹ پھر مچلنے لگا

اوئے بی یو ڈبل ٹی بندھ بن کے بات سن بی یو ڈبل ٹی ناں بن کوئی هومو انگریز چڑھ دوڑے گا تم پر ، بی یو ڈبل ٹی!!!!!ـ

نہیں ماسٹر اگر کاف کشمیری ڈالنے هیں تو کمیاروں کے کھوتے بھی ڈالو ـ

یار ھیرے جیسی چمک دار بی یو ڈبل ٹی اصل بات تو یه ہے که اب کے کھوتے اب کمیاروں کے اثر سے نکل کر جب سے اسمبلیوں میں پہنچ گئے هیں ان پر کاف کنجروں کا اثر هو گیا هے اور کاف کنجروں سے ان کی رشته داری بھی ہے ـ ان کی بات ناں کر !!ـ

نہیں کھوتے کھوتے

اوئے میں تم جاھلوں کو بتانا چاھتا تھا که پاکستان کے ترقی ناں کرنے اور مسلسل فوجوں کی حکمرانی اور بیوروکریٹوں کی بُرا کریسی کے پیچھے کیا محرکات تھے لیکن تم هو که کتے کی دم کی طرح سیدھے هو هی نهین سکتے اسی لیے میں نے تین کاف کے ساتھ تم کشمیریوں کو چوتھی کاف خواھ مخواھ کی کہاتھا

اس لیے میں اب تم لوگوں کو بتاتا هی نهیں

چلو پھٹاں کھاؤ

3 تبصرے:

Jafar کہا...

جاگیرداروں کا ٹولہ مضبوط کرنا تھا جی انگریزوں کو اس خطے میں
ان کے ساتھ مُلا کو ملا کر اتحاد بنانا تھا
جس نے روس کے خلاف لڑنا تھا
ایک صدی پہلے سوچتے ہیں جی گورے
اگر ہمیں پڑھے لکھے بندے مل جاتے
تو پھر ہمارا یہ کرائے کے غنڈوں والا حال نہ ہوتا

Billu کہا...

Buhat zabardast likha jee aap ne maza agaya

DuFFeR - ڈفر کہا...

عمدہ تحریر ہے جی
:D :D :D :D بی یو ڈبل ٹی ۔
جعفر صاحب غنڈوں کی تو تھوڑی بہت دہشت گردی ہوتی ہے کرائے کے بدمعاش صحیح رہے گا

Popular Posts