جمعرات, اگست 13, 2009

بقلم خود صحافی

اپنے ایک پروفیسر صاحب تھے یونورسٹی میں ریاضی پڑھایا کرتے تھے ، ان کے پروفیسر هونے کا سن کر پاکستان میں لوگ ان کے اگے ھاتھ کردیا کرتے تھے قسمت کا حال پوچھنے کے لیے تو جی اپنے اصلی پروفیسر صاحب کو بڑا غصه ایا کرتا تھا

لیکن یه غصه قسمت کا حال پوچھنے والوں پر نهیں ان لوگوں پر اتا تھا جو ایک طوطا خرید کر اس کے اگے لفافے ڈال دیتے هیں اور بورڈ لکھ کر لگا دیتے هیں پروفیسر فلاں فلاں ـ

ایک پروفسر کو پروفیسر بننے تک کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ؟ کتنی تعلیم حاصل کرنی پڑتی هے ؟ تھیسیس لکھنے کے لیے کتنی کتابوں سے سر کھپانا پڑتا ہے اور کتنی لائبریریوں کی راهوں کی خاک چھاننی پڑتی هے ؟

اصل میں تقسیم کے بعد پاکستان میں تین کاف کسان ، کاریگر ، اور کمی لوگ جمع هو گئے تھے ان میں پڑھا لکھا طبقه ناں هونے کے برابر تھا اس لیے کسانوں نے سن رکھا تھا که جی چوھدری لوگ پڑے پردھان لوگ هوا کرتے تھے تو جی انہوں نے چوھدری کہلوانا شروع کردیا اردگرد مين کسی کو معلوم هی نهیں تھا که اصلی چوھدری هوتا کیا ہے اس لیے لوگ بھالے ان کو هی چوھدری سمجھنے لگے اور کسان لوگ بھی بعزم خود چوھدری هو گئے

کاریگر لوگوں نے سن رکھا تھا که انجنئر لوگ پڑے پردھاں هوا کرتے هیں انہوں نے اگر ایک خراد بھی لگا لیا تو بورڈ لکھ کر لگا لیا

کھوکھر انجنئرنگ

خراد کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے

انجنئربننے کے لیے کیا کیا کرنا پڑتا ہے اس کا معلوم هی نهیں

وھاں فرانس میں ایک دن کوئین لانڈری پر کپڑے دھونے کے لیے گیا تو جی ایک بندھ انگریزی میں مجھے پوچھنے لگا که اپ کے پاس ریزگاری هو گی ؟

مجھے لہجے سے هی معلوم هو کيا که پاک لوگ ہے اور تعلیم بھی نهیں هے

میں نے انگریزی میں هو پوچھا کی کون سا نوٹ ہے اپ کے پاس؟ تو جی ان کو سمجھ هی نهیں لگی تو پھر میں نے پنجابی میں پوچھا نوٹ کیڑا جے ؟

تو جواب تھا نوٹ بڑے !ـ بڑے سے بڑا نوٹ سو کا بھی ہے اور یه صاحب نوٹ نکال کر دیکھانے لگے ـ

میں نے کہا جی میں تو ماڑا بندھ هوں میں نے پوچھا تھا كه اپ كے پا س چھوٹے سے چھوٹا کون سا نوٹ ہے تاکه اس کی ریزگاری کردوں تو جی تب ان کے پاس سے پانچ کا نوٹ نکلا تھا

تو یه ان صاحب کا نام تھا قذافی صاحب

میں نے پوچھا آؤ جی کافی پیتے هیں جب تک مشین کپڑے دھوتی هے

کافی میں میرے ساتھ ایک سکھ بھی تھا جس کا نام تھا پہلوان

قذافی صاحب اس پر گرم هی هو گئے اوئے یه کیا نام ہے ؟؟

میں نے ان کو ٹھنڈا کیا که جی بس جب لوگ اس کو پهلوان کہتے هیں تو جی اس کا نام پہلوان هی ہے

اپ بتائیں که اب کام کیا کرتے هیں

تو جی قذافی صاحب فرمانے لگے

میں سیٹلائیٹ انجنئیر هوں ـ

میرا تو جی تراھ هی نکل گیا

تفصیل سے پوچھنے پر معلوم هوا که جی قذافی صاحب لوگوں کو ٹی وی کے انٹینا لگا كردیتے هیں جس میں ڈش انٹینا بھی شامل ہے اس لیے قذافی صاحب خود کو سیٹلائیٹ انجنئیر کهلواتے تھے

باقی رھ گئی جی تیسری کاف کمی !ـ

میرے لوگ میرے اپنے لوگ جن میں سے میں هوں ، جن میں سے هونے پر مجھے فخر ہے اس لیے بھی که میں چینج نهیں کرسکتا اور اس لیے بھی که یہی میری اصلیت هیں

یه کاف کیا کرتی هے میں نہیں لکھوں کا یا پھر کبھی سہی

خبریں کا ایک رپوٹر فرانس میں صحافی لکھا کرتا تھا اپنے نام کے ساتھ ـ

میں نےاس کو بتایا که صحافی کیا هوتا ہے تو اس نے بجائے شرمندھ هونے کے کہنے لگا کی تم کیوں بلاگر کہلواتے هو؟؟

جوتشیوں کے پروفیسر هو جانے اور خرادیه کے انجنئیر هو جانے کی طرح وھاں همارے پنڈ (گاؤں) ميں همارا ایک کلاس فیلو جس نے میٹرک اکنامک کے ساتھ کیا تھا کچھ دوستوں کی شفارش سے ویکسینیٹر(پولیو کے ٹیکے لگانے والے) هو گیا تھا

تو جی ان کی اماں جی جب مسجد میں روپیه بھیجتی تھیں تی اعلان هوا کرتا تھا ڈاکٹر ریاض نے روپیه بھیجا ہے

جاپان میں كچھ لوگ جاپان انٹرنیشنل پریس کلب بنانے جارهے هیں

جس مں شمولیت کے لیے جاپان میں مقیم صحافیوں كو رابطے كے لیے كہا گیا ہے

یه بات جاپان میں مقیم پاکستانیوں مين سب سے زیادھ پڑھی جانے والی سائیٹ پاک جاپان نیوز پر لگی هے جس کے ایڈمن هیں جی شاھد چوھدری صاحب اس تحریر کے نیچے ان کی تحریر کا عکس دیا گیا ہے میں نے اس کی سائیٹ كا لنک اس لیے نهیں دیا كه ان كی سائیٹ تکنیکی طور پر بہت قدیم هے اور اس سائیٹ پر اکیسویں صدی کی ایک دھائی گزرنے کے قریب هونے کے باوجود ابھی تک جے پیگ کے عکس میں پبلش هوتی ہے ـ

اور اگر بعد میں ان کی کسی تحریر کو حوالے لے لیے تلاش كریں تو ملتی هی نهیں هے

انہوں نے خود کو اس تحریر میں صحافی لکھا ہے ،

ان کی یه بات پڑھ کر بڑی خوشی هوئی که جی ایک صحافی نے دوسرے صحافیوں کو اکٹھا کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے

لیکن جاپان میں جہان تک میں جانتا هوں اتنا تعلیم یافته طبقه پاکستان سے ایا هی نهیں که جنہوں نے جرنلزم میں ماسٹر کیا هو اور جاپان میں کام کے لیے آئے هیں

جی هاں جس طرح ایک پروفیسر ، ڈاکٹر ،یا انجنئیر کی ایک ڈگری هوتی هے اسی طرح صحافت کی بھی ایک ڈگری هوتی هے

اور جاپان میں بغیر ڈگری کے خود کو وکیل کہلوانے والا ایک بندھ پچھلے دنوں اباراکی کین شہر یوکی میں گرفتار هوا تھا جسکا نام تھا سوزوکی ـ

جاپان کے اخبار ڈیلی یومی اوری پر اس کی خبر ائی تھی ٣٠ جون ٢٠٠٩ کو ـ

تو میں خود تو جی جرنلسٹ هوں نهیں اس لیے اس انٹرنیشنل پریس کلب کی رکنیت حاصل هی نهیں کرسکتا

چوھدری صاحب کی سائیٹ پر انٹرنیشنل پریس کلب بننے کا پڑھ کر اپنی کم مائیگی کا احساس هوا

حالانکه انہوں نے جاپان سے سائٹیں چلانے والے سب لوگوں کو دعوت دی ہے لیکن جی کہاں راجه بھوج اور کہاں گنگو تیلی؟؟

جرنلسٹ لوگوں کےساتھ مل کراپنی کم مائیگی کا احساس اور بھی بڑھ جائے گا

که همارا ایک بنگالی دوست کہا کرتا تھا ڈاکٹر ٹیسٹ ریپورٹیں پڑھ کر بیماری کا بتاتا ہے لیکن ایک جرنلسٹ هوا کو سونگ کر ملک کے انے والے حالات کی پشین کوئی کرتا ہے

هم ایسے باصلاحت کہاں ؟ جرنلزم میں ڈگری تو دور کی بات ہے هم نے تو جی کوئی ڈگری لی هی نهیں هے

میں نے دیکھا ہے که ایک جرنلسٹ کا مطالعه بهت زیادھ هوا ہے ، اس کو ادب کا بھی علم هوتا ہے اور سائینس کی بھی سوج رکھتا ہے اس کی فقرھ بنانے کی صلاحیت بھی بہت هوتی ہے اور زخیرھ الفاظ بھی بہت هوتا ہے

یه نہیں که نقطه اور نکته کے فرق کو بھی ناں سمجھتا هو مرحوم اور محروم کا فرق ، اسرار اور اصرار کا فرق ، اصل اور عصل کا فرق ، مِلک ، مُلک ، مَلک کا فرق


تہذیبوں کے ارتقاء کا مطالعه اور اور انحطاط کی وجوھات کا مطالعه تو هوتا هی هے

اس کو آمریت اور استعمار کا فرق بھی معلوم هوتا ہے اس کو معاشرے میں عهدوں کی حثیت اور ان کے حقوق فرائض کا بھی معلوم هوتا ہے

یه نہیں هوتا که ایک صحافی هو اور پبلک کے اجتماع میں پبلک سرونٹ کو بلا کر مہمان خصوصی بنا کر دے

مجھے قسم کروا لیں چوھدری صاحب کی تحریر میں لکھا هوا ایک لفظ اعلامئیے کے اگر معنی اتے هوں یقین کریں میں نے یه لفظ هی پہلی بار پڑھا ہے

جرنلسٹ نان هوتے هوئے جاپان میں جرنلسٹ کہلوا کر میں غیر قانونی قدم نهیں اٹھانا چاھتا

حالانکه چوھدری صاحب نے لکھا ہے که جو بھی اپنے آپ کو صحافی سمجھتا ہے

بات یہیں ختم هو جانی چاھیے که میں ناں تو صحافت کی ڈکری رکھتا هوں ان لیے میں ناں تو صحافی هوں اور ناں خود کو صحافی سمجھتا هوں

لین یاروں رشک تو آتا ہے ناں جی که هم بھی اس ملک میں رھتے هں ، خبروں کی مترجم سائیٹ بھی چلا رهے هیں لیکن اپنی کم علمی کی وجه سے انٹرنیشنل پریس کلب جاپان کی ممبر شپ کے لیے بزم خود هی خود کو نااھل پاتے هیں ـ

اگر پاکستان میں هوتے تو جی جوتشیوں ، پامسٹروں ، بنگالی بابوں ، طوطے فالوں والوں کی طرح پروفیسر بن جاتے یا ورڈ پریس کی انسٹالیشن کا طریقه آگیا ہے ڈاکٹر اف ورڈ پریس هی بن جاتے ، یا پھر آٹو الیکٹریشن تو تھے هی انجنئیر هی بن جاتے لیکن جی یه جاپان ہے یہاں ایک تو جی قانون کا ڈر ہے اور دوسرا اپنا ظمیر بھی بڑا تگڑا کن ٹٹا هے تنگ بہت کرتا ہے ، اگر کچھ کرنے لگوں تو ـ

لیکن ایک بات ہے که جاپان ميں بھی اگر کچھ صحافی اکٹھے هو جائیں گے تو هم جیسے کم علموں کا بھی بھلا هو جائے گا

ان سے پوچھ لیا کریں گے ـ




7 تبصرے:

کنفیوز کامی کہا...

یار کبھی چوھدریوں کے سحر سے نکلو اور باقی لوگ بھی پاکستان بننے کے بعد سے پاکستان میں ہیں انکا بھی ذکر کیا کرو کھوکھر صاحب باقی ھیڈنگ کو ذھن میں رکھ کر لکھا کرو کیوں کہ لکھا ہوا ھیڈنگ کے زیر سایہ آتا ہے ۔

خاور کھوکھر کہا...

یه ھیڈنگ کیا بلا ہے اپنے کامی صاحب زرا تفصیل سے بتائیں

کنفیوز کامی کہا...

اچھا جی بڑی تیز سروس ہے بلاگ کی پیندے پیری جواب :cool:

کنفیوز کامی کہا...

بسم اللہ الرحمن الرحیم

Jafar کہا...

اپنی قوم(؟) کے لاشعور کو ٹٹولیں تو ایک ہی لفظ سامنے آتا ہے
شارٹ کٹ

راشد کامران کہا...

جناب عالی ڈگری لینے پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا لوگ کہتے ہیں کمپیوٹر کا کام کرتا ہے۔۔ یہ تو خیر جملہ متعرضہ تھا لیکن آپ خاطر جمع رکھیں اور اخبارات میں کالمز پڑھیں‌تو کافی سارے ڈگری ہولڈر صحافی بھی بقلم خود صحافی ہی ہیں۔ ایک ڈگری ہولڈر صحافی کا کہنا تھا کہ گرم ملکوں کی آب و ہوا انہیں ایجادات کرنے سے روکتی ہے۔ اور ایک ڈگری ہولڈ صحافی کا حالیہ دعوی ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور مشرق بعید میں‌ دس سال میں‌ کوئی ریپ کیس نہیں‌ ہوا یہ تو جناب جعلی ڈگری ہوئی نہ پھر۔۔ سر ڈگری نے بھی تو کچھ نہیں بگاڑا نا جناب۔ لگا لینے دیں جی انجینیر نام کے ساتھ۔۔ اپنے تو صدور کے نام جرنل سے شروع ہوتے ہیں جی۔۔ تو جب اوپر سے نیچے تک ہر بندہ وہ کام کررہا ہے جو اس کے کرنے کا نہیں‌ تو پروفیسروں نے ہاتھ ہی دیکھنے ہیں۔۔ کیوں جی ؟

DuFFeR - ڈفر کہا...

دو دہائیاں تعلیم میں گزارنے کے بعد بھی آج کوئی پوچھتا ہے کہ کیا کرتے ہو تو سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے کہ کنسلٹنٹ کی تعریف کیسے کروں
ایک بابا جی کہتے ہیں لے اتنا پڑھ کے بھی کوئی کام کا کام نہیں کرتا اس سے اچھا تو ڈاکٹر یا انجنئیر بن جاتا
لوگوں میں عزت تو ہوتی
تیری بھی اور ہماری بھی
اب ہم کسی کو یہ بتانے جوگے بھی نہیں کہ تو نے ساری عمر ضائع کر دی
تیرے سے اچھا تو راجہ ہے
اسکو یہ تو پتہ ہے کہ وہ درزی کا کام کرتا ہے

Popular Posts