پیر, ستمبر 17, 2007

پیشه کرنی فوج

سیاچن گلیشئر کے متعلق آج ایک بات پڑھ کر بڑا دکھ هوا که ایک اور فوجی حکومت میں ایک اور پاکستانی علاقے میں پاک فوج نے شکست کھا کر علاقه دشمن کے حوالے کر دیا ـ
دهلی سے بی بی سی کے لکھاری شکیل اختر صاحب نے لکها ہے که
ہندوستان نے سیاچن گلیشیئر کوہ پیمائی اور مہم جوئی کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ ہندوستان نے دنیا کے سب سے اونچے برفیلے جنگی محاذ پر اپنے مکمل کنٹرول کا اظہار کے لیے کیا ہے۔
اس وقت فوج کی ایک بڑی ٹیم اس علاقے میں کوہ پمیائی کے مہم پر ہے۔ ایک اور ٹیم 6 ستمبر کو رائمو پیک سر کرنے نکلی ہے۔ یہ خطہ کچھ برس پہلے تک پاکستان کے کنٹرول میں تھا۔
پاکستان بنتے هی اس وقت کے فوج کے سربراھ کی مہربانی سے ہم نے کشمیر گنوا دیا
عیوب صاحب نے سندھ طاس معاهدے ميں پاکستان کے دریا گنوا دے تربیلا کے ڈایم کی تعمیر کی آڑ میں پاکستان کی آزادی گنوا دی اور پاکستان کو قرض کے نیچے لگا دیا
یحیی نے مشرقی پاکستان هی کو گنوا دیا
ضیاع صاحب نے پاکستان کے کلچر کو هی گنوا دیا غربت کی وه دهول اٹهائی که اللّه کی پناھ ، پیسے کی دوڑ میں لگا دیا ساری قوم کو ـ
سید ناں مشرف صاحب کے دور میں سیاچن پر دشمن کا قبضه پورا هوگیا
کارگل کا ہیرو بننے کے شوق میں مبتلا سید ناں مشرف صاحب اگر کسی نے پوچها که یه کیا هے تو فرمائیں گے
وهاں گلیشیر پر کچھ بهی نہیں اگتا تها اس کے هونے ناں هونے سے کوئی فرق نهیں پڑتا ـ
ہر دور میں فوج نے شکست کهائی اور اس کو اپنی فتح کا نام دیا ـ عیوب صاحب نے امریکی قرضے کو امداد کا نام دیا ـ
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو ایک غیر منافع بخش علاقے سے جان چهوٹنے کا بتایا گیا ـ نوے هزار کے جنگی قیدیوں کو اپنوں کی غداری کا نام دیا گیاـ
آگر بنگالی آپنے تهے تو ان کی بہنوں بیٹیوں کو ریپ کرنے کی کیا ضرورت تهی؟ انپر فائرنگ کرکے پاکفوج نے کیا آپنے هونے کا ثبوت دیا تها؟
لوجی پاکستان کا ایک اور علاقه گیا ـ سرحدوں کے محافظ ایوان صدر میں اپنے تحفظ کی فکر میں هیں ـ
میں افواج پاکستان سے پوچهتا هوں که کیا سرحدوں کا تحفظ اسی کانام ہے که سرحدیں سکرتی چلی جائیں ؟
پاک فوج کیا پاکستان کی محافظ فوج هے یا که پاکستان کی دشمن فوج؟
پاکستان کے اندر پاکستانوں کو قتل پر قتل کیے جارهی ہے اور جہاں کوئی امریکی ہندی یا کوئی اور غیر ملکی پاکستان پر حمله کرتا ہے تو یه پاک فوج کی ٹانگیں کانپنے لگتی هیں ـ
امریکی فوج کی آمد پر فوج کے سربراھ نے فرمایا تها که اگر هم ان کو اپنے اڈے ناں دیتے تو انہوں نے خود لے لینے تهےـ
تے فیر تسی امب لین دے پیشه ور فوجی او؟

2 تبصرے:

Afzal کہا...

آج کل صرف ھم ھی نھیں سنا ھے سارے پاکستانی فوج کی قصر صدارت میں موجودگی کو اچہی نظروں سے نھیں دیکہ رھے۔ ھوسکتا ھے ھماری زبان تلخ ھو مگر فوج کو اب اپنی پیشھ وارانھ زندگی کی طرف لوٹنا ھی ھوگا۔

لفنگا کہا...

خاور بھائی لفنگے پر پردہ ہی رہنے دیں۔

Popular Posts