جمعرات، 12 اکتوبر، 2006

تاشقند سے

جی هاں یه تاشقند هے ـ
اس وقت میں تاشقند کے انٹرنیشنل ائرپورٹ پر لاہور کي فلائت کا انتظار کر رها هوں ـ
ائرپورٹ کی شاندار عمارت عالی شان ماضی کی نشاندهی کرتي هے مگرٹوٹے ہوئے سیڑهیوں کے کنارے غربت کا اظہار بهی کر رہے هیں ـ
لیکن ہر چیز ٹوٹی هوئی اورپرانی ہونے کے باوجود صاف ستهری اور دهلی هوئی هے ـ
بہت هی پرانے ماڈلوں ٹرک هیں مگر رنگے هوئے هیں ـ
عجیب سے ٹریکٹر کے پیچهے بس کی باڈی کو ٹانگے کی طرح جوتا هوا هے ـ
بہت سے پرانے هوائی جہاز گرؤنڈیڈ کر دئیے گئے ہیں ان جہازوں کو دیکھ مجهے خیال آیا که اگر آج زرداری صاحب کی حکومت هوتی تو انہوں نے یه جہاز بهی پاکستان کے کهاتے میں ڈال دینے تهے ـ
جب یه وسطی ایشاء کے ممالک آزاد هوئے تهے تو ہمارا رویه ان کے ساتھ بڑے بهائی کی طرح تها اور ان کو چهوٹے بهائی سمجهتے تهے ـ
مگر اس وقت بهی یه ممالک هماری نسبت آرگنائز تهے اور آج تو بہت بہتر هیں ـ
اسلئے یة ممالک پاکستان کو بڑا بهائی نہیں سمجهتےـ
باقی باتاں هوں گی جی آپ سے پاکستان پہنچ کر ـ
اللّه سوہنے دے حوالے ـ

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts