ہفتہ، 7 اکتوبر، 2006

آفغان لوک

ایک اصل النسل افغان کبهی بهی پاکستان کا دوست نہیں هو سکتا ـ
یه اپنی فطرت میں ایک کمینے ڈاکو کے جین لئے هوئے لوگ جب بهی بهوکے مرنے لگتے هیں تو پاکستان میں (یاتقسیم سے پہلے پاکستان والے علاقے) بهکاری بن کر آجاتے هیں ـ
اور هماری شرافت کا ناجائز فائده اٹها کر سیّد بن جاتے هیں ـ
شائد افغان لوگوں کے دیہاتوں میں ان کو بچپن سے هی یه بتایا جاتا هے که جب تم نے پنجاب جانا هے یا کسي پنجابی کو ملنا هے تو خود کو سیّد بتانا هے ـ
اس طرح بیوقوف پنجابی تمہیں کهانے کو بهی دیں گے اور ہندو سماج کے مطابق تم کو برہمن والي عزّت بهی دیں گے ـ
آپ ان سیّد لوگوں کي گهریلو رسمیں دیکهیں یه افغان لوگوں سے ملتي ہوں گي ـ
ان کے اباء کا شجره دیکهیں وه افغانستان کے کسی شہر سے پاکستان امیگرینٹ ہوئے ہوں گے اور آپنی نسل کو رسول اکرم سے ملادیں گے ـ
ذرا ان سے کوئي پوچهے که مکّے اور مدینے میں تو رسول اکرم کی نسل سے کوئي بهی روحانیت کا ٹهیکدار نہیں هے ـ
کیا رسول کي نسل کے سارے لوگ ایران اور افغانستان میں هي آ گئے تهے ؟
یه اسلام کے پرچار کے ٹهیکیدار خانقاہوں کے مالک آپنے آباء کا پیشه دیکهیں که کیا تها بهیک مانگنا اور جب داؤ لگے پنجابی لڑکوں اور لڑکیوں کو اغواء کر کے افغانستان کي غلاموں کي منڈیوں میں بیچنا ؟؟
ہمارے معاشرے میں ذات پات کا ایک سسٹم تها که هم میں برهمن کشتری ویش اور شودر هوا کرتے تهے ـ
یه افغان لوگ جب بهی پاکستان میں ایمگرینٹ هوئے انہوں نے خود کو مسلمانوں کا برہمن (یعنی سیّد) هي بن کر متعارف کروایا هے ـ
اس سے کم پر یه راضی هي نہیں ہوتے ـ
مجهے یه باتیں اس لئے لکهنی پڑیں که ان دنوں یہاں پیرس میں بہت سے افغانی نظر آتے هیں اور انہوں نے کسی طرح برطانیه میں داخل هونا هوتا هے ـ
ایجینٹوں کي تلاش اور داؤ لگنے کے انتظار میں پریشان حال ان افغانیوں سے جب بهی بات کرنے کا اتفاق هوا انہوں نے خود کو سیّد هي کہـ کر متعارف کروایا ـ
اب تو آگرکوئی میرے سامنے خود کو سیّد کہتا هے
تو میرا ہاسا نکل جاتا ہے ـ

میں ان سیّدوں سے کہنا چاہتا هوں که آگر تم واقعی رسول عربی کی نسل سے هو تو آپنے آپنے شجرے اور نسلی ثبوتوں کے ساتھ واپس عرب چلے جاؤ که اب عرب میں بهوک نہیں ہے ان عرب میں تیل نکل آیا هے اور آگر تم نسلی طور پر عربی هو تو عرب کی زمینوں پر تمہارا بهی حق هے ـ
ان زمینوں سے نکلنے والا تیل بهی تمہارا هے ـ
جاؤ اس تیل میں سے آپنا حصّه لو اور امیر ہوجاؤ
مگر
ان افغان لوگوں کا شجره نسب ساده دل پنجابیوں اور سندهیوں کو تو گمراه کر سکتا هے مگر عربوں میں جا کر خود کو عرب ثابت نہیں کر سکتا ـ
دوسری بات
آجکل کرزائی صاحب کا پاکستان کے خلاف بیانات دینا بهی ان کے اصل النسل افغان هونے کا ثبوت ہے ـ
هم نے ان افغان مہاجرین کو اکسپٹ کر کے اپنا معاشرتی ڈهانچه تباه کر لیا هےـ
کلاشنکوف کلچر ڈاکے قبصه گروپ اور ہیروئین همارے معاشرے میں یه افغان لے کر آئے هیں ـ
هم ان کے گند کو سنبهالتے سنبهالتے خود میلے میلے سے ہو گئے هیں اور یه کرزئی صاحب اب پاکستان کو برا کہـ رهے هیں ـ

میں مشرف صاحب کے حکومت پر ناجائز قبضے کو کبهی بهی جائز نہیں کہوں گا ـ
مگر
بین الاقوامی معاملات میں مجهے ان کی بہت سی باتیں اچهی لگنے لگی هیں ـ
آرمنٹیج کي پاکستان کو پتهر کے زمانے میں دکهیلنے والي دهمکی کو بهی مشرف صاحب جس طرح ڈیل کر رہے هیں آگر مشرف صاحب اس میں کامیاب ہو جاتے هیں تو آرمنٹیج صاحب کا ملک پتهر کے زمانے ميں واپس تو نہیں جائے گا مگر سپر پاور بهی نہیں رہے گا ـ

http://urdu.noosblog.fr/
اگر میرا یه بلاگ سپاٹ والا بلاگ آپ کے نیٹ ورک په نہیں گهل رها تواُپر دئیے لنک سے کهول لیں ـ

5 تبصرے:

Mehar Afshan Tirmizi کہا...

Aapnay to syedon ki aisi khatia khari ki kay hamain to syed likhtay howay sharam anay lagi:(
waisay gusay say qataay nazar bohat si bataian aap ki durust hain laikin Afganistan ki jang main kodna Pakistan ki majbori thi ab yeh alag baat hay kay us ka koi faaida naheen howa Russia naheen to America humain gulam bananay aa hi pohnchay hain,
yon bhi haqeeqtan dekha jaay to hum aazad hi kab howay thay bas aaqa badal gaay,angraizon ki qaid say chotay to jageerdar wadairon or Foj ki qaid main aagay or ta haal qaid hi hain,Arabi main Syed ka matlab Mr hota hay is liay yahan sab hi Syed hain,Nabi e Paak say to har musalman ka taluq olad or baap jaisa hi hay,to yon aap hum sab Syed hi howay laikin agar aamal Syedon walay(yani Nabi e Paak ki pairwi)na hoi to yeh naam ka Syed ya musalman hona hargiz bakhshwaay ga naheen,
Karzai ki kahani bhi aisi hi hay jaisai India ki, Pakistan ki baynathi hokomat ko nakail dalnay ka America ka purana nuskha,
bilkul waisay hi jaisay Japan ko nakail dalay rakhnay kay liay Shumali Korea,
Aap kay mashwaray kay bamojab hum yahan pahlay hi say mojod hain laikin yeh saudi baray khroos hain Bakistani Bakistani kah kar humain ghass hi naheen daltay,yahan bhi gori chamri hi poji jati hay:)

iabhopal کہا...

آپ کا کہنا اپنی جگہ درست اور مہر افشاں صاحبہ کا تبصرہ اپنی جگہ درست ۔ بات يہ ہے کہ ہر شخص کسی بھی معاملے کو اپنی معلومات اور تجربہ کی بناء پر پرکھتا اور اظہارِ خيال کرتا ہے ۔ اس کی ايک ادنٰی مثال ميں اپنی ہی دونگا ۔ ميں نے ايک شخص کے خلاف کچھ لکھا ۔ اس نے وہ پڑھا اور مجھے يا ميرے متعلق کچھ نہ کہا ليکن کسی دوسرے قاری نے اسے پڑھ کر مجھے لعن طعن کی اور منافق کا خطاب بھی ديا ۔ ايسا اسلئے ہوا کہ دونوں نے اپنے علم تجربہ اور عادت کے مطابق ردِعمل ظاہر کيا ۔ ميں کسی کی بات کا برا اسلئے نہيں مناتا کہ ميں کسی کی زبان بندی نہيں کر سکتا اور مجھے جو کچھ لينا ہے وہ پيدا کرنے والے سے لينا ہے ۔ اللہ کی مرضی نہ ہو تو کون مجھے کچھ دے سکتا ہے ؟

اب آئيے افغانوں کی طرف ۔ باقی ملکوں کی طرح افغانستان ميں بھی اچھے اور بُرے دونوں طرح کے لوگ ہيں ۔ مجھے ذاتی طور پر دونوں قسموں سے واسطہ پڑا ہے ۔ جن کی بات آپ کر رہے ہيں حقيقت ہے وہ زيادہ تر اپنے آپ کو سيّد يا شاہ ہی کہتے ہيں اور اول درجہ کے لالچی اور جھوٹے لوگ ہيں ۔ جب افغانستان ميں روس کے خلاف کاروائی شروع ہوئی تو يہ لوگ پاکستان ميں آ گئے اور خوب فائدہ اُٹھايا ۔ ان ميں سے بہت سے ابھی تک يہاں موجود ہيں اور ان ميں سے کئی نے کسی طرح پاکستان کے شناختی کارڈ بھی حاصل کر لئے ہيں ۔ ان لوگوں نے اسلام آباد اور دوسرے شہروں ميں بزنس سنبھالا ہوا ہے ہمارے ناعاقبت انديش پاکستانی بھئيوں کی مہربانی سے

دوسری قسم کے لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہيں اور ہم پاکستانيوں کی نسبت بہت زيادہ اللہ پر توکل کرتے ہيں ۔ اُن کا رہبر آجکل محض اتفاق سے يا يوں کہيئے کہ ايک حادثہ کے نتيجہ ميں ملا محمد عمر بن گيا ہوا ہے ۔ ہماری موجودہ حکومت نے امريکہ کی ايماء پر ان درويش صفت لوگوں کے ساتھ بہت ظلم کيا ہے ۔ اور نتيجہ ميں پاکستان يا پاکستانی قوم کو کوئی فائدہ نہيں ہوا بلکہ بہت نقصان ہوا ہے ۔

urdudaaN کہا...

جہاں آپ نے "نقارخانے میں توتی" والے مضمون میں بڑی بیدار مغزی کی باتیں کیں ہیں،
وہیں آپ کی چند دیگر تحاریر مثلاً صفائی والوں اور افغانوں سے متعلّق اچّھی نہیں لگیں۔
معاف کریں خاور بھائی لیکن ؛
بدقسمتی سے بھارت میں ایک لیڈر ہے، بنگلہ دیشیوں کے تئیں جسکے خیالات آپ کے افغانوں کے تئیں خیالات سے میل کھاتے ہیں۔
اتّفاق سے دوسری ریاست یعنی یو-پی سے آئے لوگوں کے بارے میں اس کے خیالات آپ کے صفائی والوں اور افغانوں کے تئیں خیالات سے بھی میل کھاتے ہیں۔

خرابی یہ ہے کہ وہ بھارت کو اپنی جاگیر، ریاستِ مہاراشٹر کو اپنا قلعہ اور بمبئی کو اپنا محل سمجھتا ہے۔ نام اسکا بال ٹھاکرے ہے۔

Noumaan کہا...

مجھے آپ کی اس پوسٹ پر شدید اختلافات ہیں۔ یہ ایک روایتی، دیہاتی پنجابی کے ذہن میں بھرے بغض اور تعصب کا پرتو ہے۔ اور یہ ایک افسوسناک مگر کوئی نئی بات نہیں۔ یہ بات کم علمی کے سبب وہاں عام پائی جاتی ہے۔ اور حقیقتا آپ کی اس پوسٹ میں استعمال ہونے والی تحقیر آمیز زبان اور غیر منطقی گفتگو کا رویہ بھی ہندو کلچر سے مشابہت رکھتا ہے۔ جیسے اردو دان صاحب نے نشاندہی کی ہے۔

میرے خیال میں اور ہوسکتا ہے میں غلط ہوں، جتنے افغان کراچی میں مقیم ہیں اتنے شاید کابل میں بھی نہ ہوں۔ اور مجھے تو آج تک کوئی افغان نہیں دکھا جس نے خود کو سید کہلوایا ہو۔ ان میں سے اکثر لوگ ہماری معیشت کو دن رات استحکام فراہم کرتے ہیں۔ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ کراچی میں ہزاروں افغان یتیم بچے ہیں جو جنگ کا شکار ہوئے اور اب بڑے ہوگئے ہیں۔ ان کا اپنا ایک کلچر ہے جس کا احترام کرنا بطور انسان ہمارا فرض ہے۔ کراچی میں وفاقی اداروں نے سندھ پولیس کے تعاون سے افغانوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے اور انہیں زبردستی افغانستان جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان سے رشوتیں وصول کی جاتی ہیں اور انہیں نہ ویزے دئیے جاتے ہیں اور نہ عارضی قیام کا اجازت نامہ۔ ان کے پاس ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ شناختی کارڈ ہی حاصل کریں۔

کلاشنکوف کلچر، ہیروئن کلچر اور دہشت گردی جنگوں کی پیداوار ہیں۔ پاکستان انٹیلیجنس ایجنسیوں نے افغان جنگ کے دوران اسلحہ اور ہیروئن کھلے بندوں فروخت کی ہے، حیرت ہے آپ اس کا ملزم بھی افغان مہاجرین کو ٹہراتے ہیں۔

جب کسی ملک کے پڑوس میں کوئی ملک ایک طویل عرصے تک خانہ جنگی کا شکار رہے تو اسطرح کی چیزیں در آتی ہیں۔ اس میں افغانوں کو قصور وار ٹہرانا زیادتی ہے۔ آپ کے ملک کے لوگوں کی افغانستان میں مداخلت ایک کھلی حقیقت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں کی وجہ سے افغانی سوویت فوجوں کی واپسی سے اب تک استحکام نہیں حاصل کرسکے۔

افغان مہاجرین میں سے اگر کچھ لوگ یہاں کاروبار جما چکے ہیں تو دوسری طرف ان کی بڑی اکثریت نہایت کسمپرسی سے گذارا کرتی ہے۔ مجھے افغانوں کے ساتھ کاروبار کرنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے انہیں ایماندار پایا ہے۔

آپ کسی افغان کو سید مانیں یا نہ مانیں مگر اسطرح کسی قوم کا مذاق اڑانا نہایت غیر انسانی حرکت ہے۔

Mehar Afshan saeed کہا...

Amazing Nouman aap nay to humain heran kardala:o,

Popular Posts