جمعرات، 12 اکتوبر، 2006

ٹیکسی ڈرائیور

یه پاکستان هے ـ گیاره اکتوبر بروز بده دن کے ایک بجے میں لاهور کے انٹرنیشنل ائر پورٹ پر پہنچا ـ
ایمیگریشن کسٹم کے معاملات تو ٹهیک هي تهے ـ
مگر لاہور ایئرپورٹ کے ٹیکسی ڈرائیور!ـ هو سکتا هے که آپ میں سے کسي کو ان سے واسطه نه پڑا هو؟
که اگرآپ یه بلاگ پڑه رہے ہیں تو اس کا مطلب هے که آپ کمپیوٹر رکهنے کی اسطاعت والے پاکستانی هیں اور آپ کی آپنی سواری بهی هو گي ـ
لیکن میں آپنی سواری نہیں رکهتا اس لئیے لاہور ائیرپورٹ سے عموماًٹیکسی پرگهر آنا پڑتا هےـ پہلے پرانے ائیرپورٹ سے میں اسطرح کیا کرتا تها که رکشه لے لیا کرتا تها ـ
رکشے پر یادگار چوک تک اور وهاں سے اور یادگار چوک سے سیالکوٹ والي ویگن یاکوئی سواری لے کر گوجرانواله میں چهچهر والی نہر کے پل پر اتر جایاکرتا تها ـ
چهچهروالی نہر سے همارا گاؤں قریب ہي ہے اس نہر کے پل سے کوئی سی بهی عوامی سواری یعنی کهٹارا ویگن یا بس وغیره میں بیٹھ کر تلونڈی آجایاکرتا تها ـ مگر اب والے نئے ائیرپورٹ سے ٹیکسی هی لینی پڑتی هےـ
یه لاہور کے ٹیکسی ڈرائیور بڑے هی چوّل (کمینے)لوگ هیں ـ
عجیب منگتے بهکاری لوگوں والا رویه هے ـ
مجهے معلوم تها که منزل پر پہنچ کر یه ٹیکسی ڈرائیور کرایه کے علاوه کا تقاضا کرنے لگتے هیں ـ بلکه دوران سفر هي اپنی پرانی سواریوں کی سخاوت کا ذکر شروع کردیتے هیں تاکه آپ بهی سخی هونے کا مظاہره کریں ـ
اس لئے اس دفعه میں نے کیا کیا که ان ے پہلے هي وعده لے لیا که بهیک کا تقاضا نہیں هو گا ـ
ٹیکسیوں کے کاؤنٹر والے نے تلونڈی تک کے باره سو روبے مانگے تهے ـ میں نے بغیر کسی اعتراض کے اس کا تقاضا مان لیا مگر آپني شرط بتا دي که میں اس کرایے علاوه مجھ سے انعام کے نام پر بهیک کا تقاضا نہین هونا چاهئیے ـ
مگر میرے ذہن میں تها که میں ڈرائیور کو کرایے کے علاوه دو سو روپےدے دوں گا ـ
مگر منزل پر پہنچ کر یعنی گهر کے سامنے جب میں نے اس کو دوسو روبے دیئے تو جناب ڈرائیور صاحب تو آکڑ گئیے که اتنے تهوڑے ـ عجیب حیرت زده سا منه بنالیا جس پز لکها لگتا تها که صرف دوسو میں نے اس کو کہا که میں نے لاہور ائیرپورٹ پر تم سے اور تمہارے مالکان سے وعده لیا تها که مقرره کرایه سےایک روپیه بهی ذیاده نہیں دوں گا ـ
کیا ایسا هي هوا تها ناں ؟؟
ڈرائیور کا جواب تها که ایساهی هوا تها ـ
تو پهر آگرمیں دوسو روپے دے رها هوں تو کیا یه میري مہربانی نہیں هے کیا ؟
ڈرائیور کہنو لگا که
جی اتنی تهوڑی مہربانی ـ چار سو تو کریں ناں جي ـ
قصّه مختصر میں نے اس کو چار سو هي دے کر جان چهڑوائی تهي ـ
دوران سفر اس ڈرئیور نے آپنا نام محمد عباس بتایا ـ
محمد عباس کا تعلق تها گوجرانواله جناح روڈ سے ـ
محمد عباس مجھ سے پوچهتا هے که کس ملک میں ہوتے هیں ؟
میں نے بتایا که فرانس ـ
تو محمد عباس تو پوچها که کیا فرانس اٹلی کا شہر هے ؟
مجهے آپنے بیوقوف بنائے جانے کا احساس ہوا مگر پهر بهی میں نے محمد عباس کو بتایا که فرانس آپني جگه ایک ملک ہے اور دنیا کے معتبر ملکوں میں سے هے ـ
تو محمد عباس پوچهتا هے که
فرانس میں کرنسي کون سي چلتی هے؟
آپ میں اندر سے تو تپ گیا مگر میں نے تحمّل سے پوچها که یا آپ کو پیرس کا پته هے ؟
محمدعباس کو پیرس کا پته تها ـ
میں نے اس کو بتایا که پیرس فرانس نام کے ایک بڑے ملک کا صرف ایک شہر هے ـ
کیسے کیسے کهوچل لوگوں سے پاکستان بهرا پڑا ہے؟
کیا آپ کو نہیں لگتا که یه بنده مجهے بنا رها تها؟؟
http://urdu.noosblog.fr/urdu/
پاکستان سے کمنٹ کے لئیے اوپر والے لنک په کریں ـ

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts