جمعرات، 31 مارچ، 2011

بدلتے زمانے

جاپان کے شہنشاھ جناب آکی ہیتو اور ان کی ملکہ میچیکو ساما ، بدہ کے روز یہاں ٹوکیو میں نیہون بدوکان میں ۱۱ مارچ کے زلزلے کر متاثرین کو ملنے کے لیے گئے جو کہ یہاں پناہ گزین ہیں شہنشاہ اور ملکہ نے کوئی ڈیڑہ گھنٹا ان لوگوں میں گزارا لیکن اس تصویر نے مجھے مضطرب کردیا کہ جاپان جہاں اپنے سے بڑے کے سامنے دوزانو ہو کے بیٹھنے کا کلچر ہے عہدے میں بڑا یا کہ رشتے میں بڑا ہر دو کے سامنے دوزانو ہو کے بیٹھتے ہیں جب تک کہ بڑے والا خود سے ناں کہ دے کہ آرام سے بیٹھو جاپان کی زمین پانیوں کے آئینی مالک شہنشاہ آکی ہیتوکے سامنے لیکن یہ جوان چوکڑی مارے بیٹھے ہیں گمان غالب ہے کہ شہنشاہ معظم نے خود کہا ہو کہ آرام سے بیٹھو یاد رہے جاپان میں زمانوں کی ترتیب شہنشاہوں کے زمانوں سے کی جاتی ہے اور اج کا دور شہنشاہ آکی ہیتو کا دور ہے جس دور کا نام ہے حے سے اور جاپان میں کم لوگ ہی شہنشاہ کا نام یا ولی عہد کا نام جانتے ہیں جب شہنشاہ تخت نشین ہو گا تو وقت کا وزیر اعظم اعلان کرے کا شہنشاہ کی طرف سے کہ اس زمانے کا نام ہو گا۰۰۰۰۰۰۰۰

4 تبصرے:

shanwari کہا...

Kaash hm khud bhi badal jaaein to kaafi bari tabdeeli aa jaaey.
Haakimon ki bari zimmadari hai lekin hm khud bhi to kisi na kisi k liye qabil-e-taqleed hote hain,
arshad.

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

فوکو شیما میں پلوٹینم تابکاری ۔
Fukushima میں ری ایکٹر نمبر ایک اور نمبر دو کو زلزلے اور سونامی کی وجہ سے نقصان پہنچنے اور بجلی کی سپلائی منقطع ہونے کی صورت میں خودکار نظام جوہری ایندھن کو ٹھنڈا کرنے کے لئیے ناکام ہونے کی وجہ سے ری ایکٹر نمبر ایک اور نمبر دو کے جوہری ایندھن یورینیم کو ٹھنڈا نہ رکھے جانے کی وجہ سے تابکاری اور تابکاری کے انسانی جان اور بہ حیثیت مجموعی زندگی پہ خطرناک اثرات اور خدشات کے بارے میں آپ اس پہلے مضمون میں پڑھ چکے ہیں، اس مضمون میں آپ پڑھ چکے ہیں ری ایکٹر نمبر ایک اور نمبر دو کے جوہری ایندھن یورینیم کو ٹھنڈا نہ رکھے جانے کے نقصان کی وجہ سے تشویش ابھی تک اپنی جگہ برقرار ہے جاپان کی ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق یورنیم ایندھن اور فضلے کی صورتحال کسی حد تک قابو میں ہے ۔لیکن ساتھ ہی اب جوہری ریکٹر نمبر تین کی صورتحال خراب ہو گئی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس ری ایکٹر میں توانائی حاصل کرنے کے لئیے جن عناصر کو بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے وہ عناصر پلوٹونیم مرکب آکسائڈ (MOX) بطور ایندھن استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی ہے ۔ اس سے نسبتا کم خرچ پہ زیادہ توانائی حاصل کی جاتی ہے ۔ پلوٹونیم مرکب آکسائیڈ سے یورنیم کی بہ نسبت زیادہ توانائی تو حاصل ہوتی ہے مگر حفاظتی نکتہ نظر سے اور کسی حادثے کی صورت میں اسکے برے اثرات بھی اسی طور زیادہ ہوتے ہیں۔

یہ نیا مسئلہ سوالات کی ایک بڑی تعداد اٹھاتا ہے. پہلا تو یہ ہے کہ ری ایکٹر اصل میں ایسا ایندھن استعمال کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھایا بعد میں آکسائڈ مرکب کا فائدہ اٹھانےکے لئیے اسے استعمال کیا گیا؟۔ کیونکہ اسطرح آکسائیڈ مرکب سے مالی فوائد تو بڑھ جاتے ہیں مگرسیکورٹی مارجن میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ روائئتی جوہری ایندھن جیسے ہلکے پانی کے لو انرئچمنٹ (کم ترقی یافتہ ) یورونئیم استعمال کرنے والے ری ایکٹر ، بھاری پانی کے نیچرل یورنئیم استعمال کرنے والے ری ایکٹرز ، اگر لو انرئچمنٹ (کم ترقی یافتہ ) یورونئیم اور نیچرل یورنئیم کے مرکب آکسائیڈ کے ساتھ پلوٹونیم مرکب آکسائیڈ (موکس) کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ کیونکہ پلوٹونیم مرکب آکسائیڈاپنی ھئیت میں مذکورہ بالا سےزیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موکس (MOX) یعنی پلوٹونیم مرکب آکسائیڈ ایندھن کے تجرباتی یا حادثاتی طور پہ نقصان کی شدت کے بارے میں بہت کم معلومات پائی جاتی ہیں۔ اور نیوکلئیر حادثے کی صورت میں پلوٹونیم مرکب آکسائیڈ سے روائیتی جوہری ایندھن کے طور پہ نہیں نمٹا جاسکتا۔ پلوٹونیم کی موجودگی کی وجہ سے جوہری اندھن کو پانی سے ٹھنڈا رکھنا نہائت مشکل ہوجاتا ہے۔اسلئیے نان پرو لیفیرایشن نیوکلیر ویپن ٹریٹی ( nonproliferation of nuclear weapons) میں پلوٹونیم مر کب آکسائیڈ کے سے لیس جوہری ہتیار جو کہ بنایدی طور پہ برطانیہ اور فرانسکے پاس ہیں انھوں ایسے ہتیاروں کو ختم کرنے اور نہ بنانا nonproliferation of nuclear weapons معائدہ شامل ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یہاں یہ واضح کردینا مناسب رہے گا کہ فوکوشیما ری ایکٹر نمبر تین میں چالیس ایسے دوسرے عناصر جو ایندھن میں استعمال ہوتے ہیں انکے ساتھ پانچ سو کلو گرام پلوٹونیم اٹیمی ری ایکٹر میں موجود ہوسکتا ہے ۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجینسی اسے " کیٹیگری نمبر ون " ہائی گریڈ شمار کرتی ہے۔ ان پانچ سو کوگرام پلوٹونیم کی تابکاری اور شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مقدار کم از کم ساٹھ نیوکلئر بموں کے برابر ہے۔
فوکوشیما کے جوہری بجلی گھر کے ارد گرد کی زمین کے پانچ مختلف نمونوں میں پلوٹونیم پایا گیا ہے۔جس سے جاپانی حکومت میں تفکرات پائے جاتے ہیں۔
پلوٹونیم کے انسانی جسم پہ نقصانات ۔
پلوٹونیم سے نسبتا کم طاقت کی "الفا" اور " ایکس رے"شعائیں نکلتی ہیں جنہیں انسانی جسم کے جذب کرنے سے تابکاری نقصان ہوتا ہے مگر انسانی جسم کی جلد اسے آرپار نہیں جانے دیتی۔ اسلئیے خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ریڈیم کے ذرات یا مرکب آکسائیڈ یعنی پلوٹونیم کی گیس وغیرہ سے بچا جاسکے تو یعنی یہ کسی بھی صورت میں انسانی جسم میں سانس وغیرہ کے یا خوراک کے ذریعے ڈاخل نہ ہو تو اسکے مضر اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ شروع میں بتایا گیا ہے کہ پلوٹونیم مرکب آکسائیڈ انتائی خطرناک ہوتی ہے اگر یہ ہوا میں شامل ہو ہوجائے تو سانس کے ذرئعیے پھیُھڑوں میں چلی جاتی ہے اور وہاں سے انسانی گوشت میں نہائت تیزی سے سرایت کرتے ہوئے اندرونی طور پہ تابکاری کا عمل جاری رکھتی ہے۔پھیپھڑوں سے خون اور آنتوں میں پلوتونیم مرکب آکسائیڈ میں تابکاری کرتی ہے۔خون میں شامل ہونے کے بعد اسی فیصد پلوٹونیم جگر، ہڈیوں ، ہڈیوں کا گودا ، حرام مغز ، میں کئی سالوں تک جمع ہو کر ریشوں ، اور پٹھوں کو نقصان پہچاتی ہے جو کینسر کی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کینسر جو تابکاری یا نیوکلئر حادثے کے کئی سالوں بعد بھی نمودار ہوسکتا ہے۔ اسکے دیگر اثرات بانجھ پن یعنی خواتین و مرد حضرات کی قوت تولید متاثر ہونے سے بچے پیدا نہ کرسکنا۔پلوٹونیم تابکاری انسانی جسم کو طرح طرح کی بیماریوں سے محفوظ رکھنے والے مدافعتی نظام کو کمزور کردیتی ہے۔زیادہ مقدار میں پلوٹونیم مرکب آسائیڈ میں سانس لینے سے یہ زہریلا مادہ انسانی زندگی یا کسی قسم کی حیات کو موت کی ننید سلا دیتا ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

http://www.youtube.com/watch?v=AWscK2fFM80&feature=related