ہفتہ، 14 مارچ، 2020

بابے رحمے کی پریشانی ،۔


بابے رحمے کی پریشانی ،۔
بابا رحما  کوئی ایک سو دس سال کا ہو گیا تھا ، اب بابے کے پوتوں کے بھی پوتے پیدا ہوگئے تھے ،۔
اپنا گاؤں تو کیا  آس پاس کے گاؤں میں بھی اس سے بزرگ کوئی بابا نہیں تھا ،۔
خوش باش ، سدا کا زندہ دل بابا رحما  کچھ دن سے بہت پریشان رہنے لگا تھا ،۔
مسجد میں بھی پیچھے گم سم سا بیٹھا رہتا تھا ، کوئی تین چار دن تو  مولوی صاحب دیکھتے  رہے ایک دن نماز کے بعد مولوی صاحب اس کے پاس جا بیٹھے کہ  آخر بابا رحما سارے گاؤں کا بزرگ تھا ،۔
مولوی صاحب بابے رحمے سے پوچھتے ہیں   بابا  کس چیز کی پریشانی ہے ؟
کیا پوتے پوتیاں تنگ کرتے ہیں ،۔
بابا : نہیں تو !،۔
بہوئیں کھانا نہیں دیتی ؟
بابا : نہیں تو !،۔
کہیں جسم میں کوئی درد ہے ؟
نہیں تو !،۔
شادی کرنے کو جی چاہتا ہے ؟
بابا پھٹ پڑا 
نئیں اوئے نئیں ۔
مولوی صاحب بھی تلخ ہو کر پوچھتے ہیں تو پھر پریشانی کیا ہے ؟ یہ منہ بنائے کیوں بیٹھے ہو !،۔
بابا ، روہنسا ہو کر شروع ہو جاتا ہے ،۔
اوئے چراغ دین وی مر گیا !،۔
مولوی : اس بات کو تو پچیس سال ہو گئے ہیں !،۔
وہ اللہ دتہ بھی مر گیا  !،۔
مولوی اس کو بیس سال ہو گئے ہیں !،۔
اوئے وہ رکھا مہر بھی مر گیا !،۔
مولوی : سالوں ہو گئے ہیں  اسکو مرئے ہوئے بھی  اب کیوں انکی باتیں کرتے ہو ؟
اوئے وہ ماسٹر فضل دین بھی مر گیا ، وہ چوہدری رب نواز بھی مر گیا ، اوئے سارے مر گئے نے ،۔
مولوی : ہاں اپنی آئی پہ سب مر گئے ،   اب یہ سب تمہیں کیوں یاد آ رہے ہیں ،۔

مجھے کئی دن سے نیند نہیں آ رہی کہ یہ سارے جنت میں بیٹھے ہوں گے ، اور اپس میں باتیں کر رہے ہوں گے کہ 
رحما کمہار کہاں رہ  گیا ہے ؟
سارے سڑیل لوگ وہاں جنت میں بیٹھے کہیں یہ ناں سوچ رہے ہوں کہ رحما کمہار جہنم میں چلا گیا ہے ،۔
اس بات کو سوچ سوچ کر کئی دن سے نیند نہیں رہی ،۔
اور مجے پتہ نئیں کہ کتنے سال اور لگ جانے ہیں وہاں پہنچ کر ان سب کا منہ بند کرنے میں ؟

مولوی صاحب یہ سن کر اٹھ کر چل دئے  اور منہ میں بڑابڑا رہے تھے ،۔
جنے وڈے سر اونہیاں وڈیاں پیڑاں !،۔

ہفتہ، 25 جنوری، 2020

چینی کلینڈر کہانی


چینی کلینڈر کی کہانی

سوشل میڈیا پر آج کل چین کے قمری نئے سال کا بہت چرچا ہے
چینی کلنڈر کا یہ سال چوہے کا سال ہو گا ،۔
جاوروں سے منسوب سالوں کے اس کلینڈر کے لئے مشرق بعد میں ایک دلچسپ کہانی روایت کی جاتی ہے ۔ْ
اردو کے قارئین کے لئے  اس کہانی کا ترجمعہ 
پیش خدمت  ہے ،۔

ایک دن ، مہاتما بودھا نے تمام جانوروں کو ایک اجلاس کے لئے بلایا۔
 اس نےاعلان کروایا کہ اس نے 13 انتہائی قابل اعتماد جانوروں کو چننے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، اور اس اجلاس میں ہر کسی کے نام کا ایک سال نام کیا جائے گا،۔

یہ  یہ اعلان سنتے ہی جانوروں نے آپس میں بحث مباحثہ کرنا شروع کردیا کہ پہلے سال ، دوسرے ، تیسرے ، اور اس جیسے اعزاز کس کو ملنا چاہئے۔
جانوروں کے اس سوشل میڈیائی  مباحثوں کی وجہ سے 
مہاتما بدھ نے جانوروں میں دریا کو تیر کر پار کرنے کا مقابلہ کروا کر  اس جھگڑے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔

 اس نے 13 جانوروں کو ندی نالے کے کنارے جمع ہونے کا کہا اور بتایا کہ انہیں لازمی طور پر دوسری طرف سے تیر کر پانی کو پار کرنا ہو گا۔

 سب سے پہلے پہنچنے والے کو پہلے سال کا اعزاز حاصل ہو گا ، اور دوسرے آنے والے کو دوسرے سال کا اعزاز حاصل ہو گا ، اور اس طرح ، تمام سالوں کی ترتیب کا فیصلہ کر کے رائج کیا جائے گا۔

مقابلہ سے ایک رات قبل ، چوہا اپنی بہترین دوست بلی سے ریس پر گفتگو کرنے گیا۔ وہ دونوں اس بات پر متفق تھے کہ مقابلہ ان کے ساتھ غیر منصفانہ تھا ، کیونکہ دونوں کو پانی سے نفرت تھی ، اور نہ ہی تیرنا جانتے ہیں ۔

تو یہ جوڑا بیل سے ملنے  کے لئے گیا جو بہت بڑا اور ایک مضبوط تیراک تھا۔

 ان دونوں نے بیل سے مدد کی اپیل کی  ، اور بیل چوہے اور بلی کو اپنی پیٹھ پر سوار کر کےلے جانے پر راضی ہوگیا۔

اگلی صبح ،مقابلے میں شامل  جانور دریا کے کنارے اکٹھے ہو گئے ،۔
بیل نے دیکھا کہ بلی اور چوہا نظر نہیں آ رہے ، جن سے اس نے اپنی پیٹھ پر سوار کر کے پانی پار کروانے کا وعدہ کیا تھا ،۔
لیکن چالاک جانور بلی اور چوہا وہاں سرکنڈوں میں چھپے ہوئے تھے ، جیسے ہی بیل نے پانی میں چھلانگ لگائی  ہر دو جانور بلی اور چوہا ان کی پیٹھ پر سوار ہو گئے  ،۔
بیل جو کہ ایک مضبوط جسیم اور اچھا تیراک تھا جیسے ہی کنارے کے قریب پہنچتا ہے تو چوہا دیکھتا ہے کہ بلی اپنی دم کھڑی کئے ، بیل سے پہلے چھلانگ لگا کر کنارے پر اترنے کو تیار ہے  ، تو ؟
چوہا اس کی ٹانگوں کے نیچے سے نکل کر بیل کے سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے ، بلی بدک کر اپنا توازن کھو بیٹتی ہے اور دریا میں گر جاتی ہے ،۔

بیل کے سینگوں کے درمیان بیٹھا ہوا چوہا  چھلانگ لگا کر بیل سے پہلے خشکی پر اترتا ہے 
اس لئے پہلا سال چوہے کے نام  کا ہو جاتا ہے ،۔
ٹھیک اس کے بعد بیل اترتا ہے اور دوسرا سال بیل کے نام کا ہوتا ہے  ،۔

 ٹائیگر ایک بڑی بلی کی طرح ، اور پانی کو ناپسند بھی نہیں کرتا ہے ، اس کے پاس طاقتور مسل اور بڑا جسم ہوتا ہے  اس لئے ٹائگر  تیسرے نمبر پر آنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔
تیسرا سال ٹائگر کا سال قرار پاتا ہے ،۔

 ان کے پیچھے خرگوش جو کہ تیرنا نہیں جانتا تھا وہ ڈریگون پر سوار دریا پار کرتا ہے لیکن ڈریگون کو اپنے منہ سے نکلنے والی آگ  کا خیال ہوتا ہے ، اور ڈریگون آگ لگا کر مہاتما بدہ کی نظر میں گرنا نہیں چاہتا تھا اس لئے اپنا منہ پانی میں ڈال کر ٹھنڈا کرتا ہے
اسی اثنا میں  چوتھا نمبر خرگوش کو حاصل کرتا ہے اور چوتھا سال خرگوش کا سال کہلواتا ہے ،۔
اس کے بعد پانچواں ڈریگون کا سال قرار پاتا ہے ،۔

گھوڑا چھٹے نمبر پر آنے والا تھا ، لیکن اس سامنے سانپ آ گیا رحم دل گھوڑے نے سانپ کو بچانے کے لئے پنترا بدلا ،  اس پینترا بدلنے میں گھوڑا سانپ سے پیچھے رہ گیا 
اور چھٹا سال سانپ کا اور ساتواں سال گھوڑے کا قرار پایا ،۔

اس کے بعد بھیڑ ، بندر اور مرغ لکڑی کی بڑی لٹھ پر سوار آتے ہیں  جن کے نام آٹھواں نواں دسواں سال قرار پاتے ہیں ۔

کافی دیر بعد ، کتا کنارے پر پہنچتا ہے اور اپنی جسم کو جھٹک کر پانی جھاڑتا ہے ، بڑی مشکل سے ابھی خود کو خشک کئے بیٹھے سارے جانوروں کو بھگو دیتا ہے ، گیارواں سال کتے کا قرار پاتا ہے ۔

آخر کار ، بہت دیر بعد  ، سور پہنچتا ہے جو کہ کہیں سو گیا تھا اور آنکھ کھلنے پر پانی میں تیرتا ہوا جب پہنچتا ہے تو چینی کلینڈر میں بارہواں سال سور کا قرار پاتا ہے  ۔

اور بلی کا کیا بن گیا؟ 
بھنور میں پھنسی ہوئی بلی جب نکلتی ہے تو واپس دریا کے اسی کنارے پر پہنچ جاتی ہے 
جہان سے ریس شروع ہوئی تھی ،۔
اس لئے بلی کے نام  کا کوئی سال نہیں ہے ،۔
ناں کوئی تیرہواں کوئی جانور ہوتا ہے اس لئے چینی کلینڈر میں بارہ سال  قرار پاتے ہیں ،۔

بلی کے سال کے کلینڈر میں نہ ہونے کے متعلق جاپان میں دوسری بات روایت کی جاتی ہے ،۔
جاپان میں روایت کیا جاتا ہے کہ  چوہا اور بلی جو کہ دوست ہوتے ہیں  ہیں لیکن ہر دو اپنے دل میں چالاکی بھی رکھتے ہیں ، اس لئے چوہے نے جھوٹ بول کر بلی بتایا تھا کہ مقابلہ پرسوں ہو گا ، اور خود بیل کے سینگوں پر سوار پھدک کر بیل سے بھی آگے پہلا نمبر لے جاتا ہے ،۔
اگلے دن جب بلی دریا کنارے پہنچتے ہے تو اس کو بتایا جاتا ہے کہ مقابل گزرے کل ہو چکا ہے اور تم کہجن بھی شامل نہیں ہو 
اس لئے بلی کے نام کا کوئی سال نہیں ہے 
اور بلی چوہے کی نفرت کی وجہ بھی یہی بتائی جاتی ہے ،۔
خاور کھوکھر




جمعرات، 16 جنوری، 2020

ناگویا کوچین ،۔


ناگویا  کوچین !،۔
ناگویا کوچین  مرغ کی ایک مخصوص نسل ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے ،۔
ککڑ کڑاہیاں  ، اور مرغے کے پکوان  کی لگژری ؟
جو ہماری زبان میں بولی جاتی تھی وہ ساری لگژری فارمی مرغ کے آنے سے ہوا ہو چکی ہے ،۔
جہان جہاں فارمی مرغی کا گوشت بہتات میں ہے ، لیکن یہاں بھی خوش ذوق لوگ دیسی  مرغ کا گوشت پسند کرتے ہیں ،۔
دیسی مرغی یعنی وہ پرندہ جو کم از کم سو دن میں کھانے کے قابل ہوتا ہے ،۔
فارمی مرغی  اپنئ پیدائش سے بیس دن کے اندر  ذبح ہو کر اپ کی ہانڈی میں  پہنچ چکی ہوتی ہے ،،۔
کہاں کسی مہمان کے انے پر مہینوں میں تیار ہوا مرغا جو ہز روز انکھون کے سامنے  جوان ہوا ہو  ذبح کر کے کسی  ہانڈی بنانا اور کہاں 
چند سو روپے سے فارمی مرغی کا گوشے لے آنا ،۔

ہمارے گھر میں  ماں کو گوشت کھانے کا شوق تھا ، لیکن ہم غریب لوگ تھے اس لئے  اس زمانے میں یعنی ستر اور اسی کی دہائی میں  سری پائے ، کلیجی ،اور پھیپھڑے سستے مل جاتے تھے ،۔
اج جب یہ چیزیں لگژری بن چکی ہیں ، ہم اپنے پچپن میں یہ کھایا کرتے تھے ،۔
پکھی واس (خانہ بدوشوں کی ایک شاخ ) لوگ   پرندون کا شکار کر کے لایا کرتے تھے ،  ان بے چاروں کا شکار گاؤں میں گھوم گھوم کر آوازیں لگانے سے بھی بہت کم بکا کرتا تھا ،۔
میری ماں ان سے شکار کئے پرندے خرید لیا کرتی تھی ،۔
گندم کے پودوں  پر آنے والی بڑی چڑی ، شارق ، تلئیر ، بٹیرے ، تیتر ،فاختہ 
اور بہت ہی کم  بلکہ شائد ایک کہ دو دفعہ ہی کھایا ہے ،۔
ایک پرندہ ہوتا تھا  جس کو ہریل کہا کرتے تھے ، طوطے کے رنگ کی فاختہ کہہ لیں  ، فاختہ سے تھوڑے جسامت میں بڑے اس پرندے کا گوشت بہت ہی لذیذ ہوا کرتا تھا ،۔
گوشت کھانے والے جانتے ہیں کہ گوشت میں ایک ریشہ ہوتا ہے جو دانتوں میں پھنس جاتا ہے ،۔
فاختہ کے سینے کے گوشت میں یہ ریشہ بہت کم ہوتا ہے ،۔
اور ہریل کے گوشت میں تو بلکل بھی نہیں ہوا کرتا تھا ، 
اب شاید پاکستان میں نئی نسل نے ہریل  کا نام بھی نہ سنا ہوا ۔
گھر کی مرغی دال برابر ؟
 یہ محاورہ تو سنا ہی ہوگا 
کہ گھر کی پلی ہوئی مرغیاں یا مرغے  دال سے بھی سستے ہوتے تھے ،۔
یا پھر گوشت کے لئے ہمارے گھر میں بطخیں پالی جاتی تھیں ،۔
بطخ کا انڈہ بھی بڑا ہوتا ہے اور مرغی کی نسبت گوشت بھی زیادہ ہوتا ہے ،۔
یہ علحیدہ بات ہے کہ 
میرا چھوٹا بھائی  بطخ کا گوشت نہیں کھاتا تھا 
اس کے کہیں بطخ کو بول براز کھاتے دیکھ لیا تھا ،۔
اس لئے ہم نے بطخیں پالنی بھی چھوڑ دی تھیں ،۔
شائد سن  اکیاسی کی بات ہے ،۔
ماں نے کہیں سے فارمی مرغی کا سنا تھا ؟
مجھے پیسے دے کر شہر بھیجا کہ فارمی مرغی کا گوشت لے کر آؤں ،۔
ان دنوں  پونڈاں والے اڈے(گوجرانوالہ) پر تانبے کی دیگیں اور دیچکیاں کوٹ کوٹ کر بنانے والے  سڑک کے جنوبی طرف ہوتے تھے اور شمالی طرف دیس مرغوں کو پنجرے میں لئے مرغی کا گوشت بیچنے والوں کی دو تین دوکانیں تھیں ،۔
میں ان سے فارمی مرغی کا پوچھا تو انہوں نے مجھے ایک ریڑہی والے کی طرف اشارہ کیا تھا ، جہاں سے میں کوئی ادھ کلو گوشت لے کر آیا تھا ،۔
اس چکن کو ماں نے  “ روسٹ “ کر دیا تھا ،۔
مجھے تو ذائقہ یاد نہیں لیکن ، مان کے الفاظ یاد ہیں ،۔
نہ مزھ نہ سواد ! ایہہ کی اے ؟
ان الفاظ کی معونیت صرف وہی جانتا ہے جس نے دیسی مرغ کھایا ہو،۔

تو جی بات ہو رہی تھی جاپان میں ملنے والے  مرغی کے گوشت  ناگویا کوچین کی !،۔
جاپان کا  ناگویا کوچین ، بلکل اپنے یہاں کے دیسی مرغ کی طرح کا پرندہ ہوتا ہے ، جس کی کلغی لال ہوتی ہے اور نر بڑا رنگین پرندہ ہوتا ہے ،۔
یہاں ایتا کورا میں ایک دوست ہے جس کا تعلق لاؤس سے ہے اور اس نے جاپان میں شادی کی ہوئی ہے اس کی بیوی کے میکے مرغیان پالا کرتے تھے اس لئے اس سسر کے مرغون کی پرورش اور انڈوں کی رسد کا کام چھوڑ دینے کے بعد بھی ، کچھ مرغیاں پالی ہوئی ہیں ،۔
لاوؤ کا یہ دوست خود بھی خوش ذوق بندہ ہے اور میرے ذوق سے بھی واقف ہے تو اس نے کل تین پرندے ، دو مرغ اور ایک مرغی لا کر دی ہے ۔
میں  آج ان پرندوں کو حلال کر کے گوشت بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں ،۔
جاپان میں ناگویا کوچین ایک برانڈ کا نام ہے ، ۔
دیسی مرغ کا گوشت یہان جاپان میں میں دفعتاً فوقتاً کھاتا رہتا ہون ،۔
لیکن ناگویا  کوچین  کھانے کا اتفاق پہلی بار ہو گا ،۔

بدھ، 4 ستمبر، 2019

مملکت خدا داد

ایک کسان نئی زمین آباد کر رہا تھا کہ وہاں سے کسی پادری کا گزر ہوا ، پادری نے پوچھا کیا کر رہے ہو ؟
زمین کی جھاڑ جنگاڑ اور بنجر نکال کر آباد کر رہا ہوں ،۔
پادری نے دعا دی ،۔
رب تمہاری مدد کرئے !،۔
کچھ سال بعد جب پادری کا وہاں سے گزر ہوا تو کسان کا بہترین گھر ، گھر کے سامنے کارپٹ گھاس کا لان ، پھلوں کے درخت لگے تھے اور کھیتوں میں فصلیں لہلہا رہی تھیں ،۔
کسان نے پادری کو سلام کیا ،۔
پادری نے فرمایا ، تم نے اپنے رب کی مدد سے اس زمین کو بہت خوبصورت بنا لیا ہے ، مبارک ہو !،۔
تو کسان نے کہاں
ہاں فادر دیکھ لیں ، جب میں نے رب کی مدد کی تو نتیجہ آپکے سامنے ہے ، جب تک رب اکیلا لگا تھا اس وقت کے حالات بھی تو آپ نے دیکھے ہی ہوئے ہیں ،۔
کیا جھاڑ جھنگاڑ تھی ؟؟

وہ کہنا یہ تھا کہ
پاکستان کو بس اللہ ہی چلا رہا ہے ،۔
کیونکہ یہ مملکت خدا داد ہے !،۔

جمعہ، 12 جولائی، 2019

آؤ حمد کریں



یہ گولا جس کو زمین کہتے ہیں پل صراط ہے ، بال سے باریک اور تلوار سے تیز ،خوارک ہی پر منحصر نہیں ہر چیز انتہائی توازن کا تقاضا کرتی ہے ،۔

ایک ٹھیک توازن سے زہر بھی دوائی ہوتا ہے اور غیر متوازن گلوکوز بھی زہر بن جاتا ہے ،۔
موسم ہوں کہ کہ رشتہ داریاں  ہر چیز ایک پل صراط ہے ،۔
انسان اس سیارے پر اجنبی ہے ،۔
 اس کو کسی سزا کے طور پر یہاں اتارا گیا ہے ،۔
انسان ایک بڑے جسم کی بنیادی اکائی کی طرح ہے جس کے جین کوڈ میں ڈالا گیا ہے کہ 
چلو ، اور چلتے چلو اس چلنے میں ویڈیو گیم کی طرح بلائیں ہوں گی جن سے نپٹنا ہو گا ، یا مر جانا ہو گا ،۔
ساتھ ساتھ جنسی ملاپ سے اپنے جسم کے اگلی نسل پیدا کرتے جاؤ ۔
اور اگر اگر نہ چلو گے تو ؟ سستی کی اخیر بھی موت ہی ہے ،۔ 
ایسے یا وہسے تمہیں اپنے حصے کے کرب جھیل کر اپنی اگلی نسل پیدا کر کے مر جانا ہے ،۔
کسی مردہ جسم پر گلتے ہوئے گوشت میں کلبلاتے کیڑے ، ہر کیڑا اپنی اپنی جگہ حرکت میں ہوتا ہے ، ان کے اپنی دنیا ہے ،۔
چند ساعتوں سے لے کر چند دن کی زندگی میں ہر ہر کیڑا اپنے اندر ایک پورا جنم  جی کر مرتا ہے ،۔
انسان اس سیارے پر اجنبی ہے ،۔
اپنی سزا بھگت کر ایک دن مکت ہو جاے گا ،  جب سارا جسم اپنی ایک ایک روئیں ایک ایک اکائی پورے کرب اور دکھوں کو بھوگ کر اس پل صراط سے گزر جائے گا تو ، اس کے بعد وہ گمگشدہ جنت ہے ،۔ 
جس سے انسان کو نکال پھینکا گیا تھا ،۔
بے شک بہے مہان ہے وہ طاقت ، جس نے یہ سارا کھیل بنایا ہے ،۔
جو بہت عقل والا ہے جو بہت بڑا ہے ، جو جانتا ہے ، دیکھتا ہے ، اور سنتا ہے ،۔
منت ترلا کرنے سے کرب اور دکھ کم کرتا ہے ،۔
بے وہ بہت مہربان ہے ،۔
بابا جی نانک سرکار اس کو  “نام “ کہا کرتے تھے ، یہودی اس کو اہورا کہتے ہیں ، ہندو اس کو بگھوان اور عیسائی اس کو  خداوند خدا کہتے ہیں ،۔
میں اسکو  “ اللہ “ کے پاک نام سے پکارتا ہوں ،۔
بے شک میرا رب بہت ہی اعلی اور طاقتور ہے ،۔
بہت مہان ہے ، بہت مہربان ہے ،۔
اک تو کہ صدیوں سے میرے ہمراھ بھی ہم راز بھی 
اک میں ترے نام سے ناآشنا ہائے بے چارگی 
آؤ حمد کریں ، اس پاک ذات کی  جس کے بہت نام ہے ،۔
کہ حمد  دعا ہے ، ذہن میں بننے والی دکھ ، کرب ، اور پریشانیوں بیماریون کی ،۔
آؤ حمد کریں ، ،۔
خاور کھوکھر

جمعہ، 28 جون، 2019

اللہ خیر کرئے


میرے حالات  بھی بہت ٹائٹ چل رہے ہیں ، پیسے کی آمد نہیں ہے اور خرچے منہ کھولے کھڑے ، سیکوڑتی پر ہونے والے خرچوں  اور ٹینسن نے حالات بہت خراب کر دئے ہیں ،۔


میرا بھی ایک امریکہ تھا ، بلکہ ہے ، جس کی مدد سے میں نے یارڈ بنائے ، کاروبار میں کمائی کے ذرائع بنائے ،۔
میں اپنے امریکہ کی آواز پر اس کے کام کرنے جایا کرتا تھا ، کبھی کہیں کسی یارڈ کی صفائی ، کبھی کسی مکان کے پودوں کی جھاڑ جھانٹ  ،اور میرا امریکہ مجھے کئ طرح سے امداد دیا کرتا تھا ، کبھی کسی گاری کی فروخت کے منافع سے کچھ دے دیتا تھا کبھی لوہے وغیره کی صورت میں منافع کمانے کا موقع مل جاتا تھا ،۔ 
مال کی خرید فروخت کے لئے کئی ملین نقدی کا قرض بھی دیا ، جو کہ سالہا سال سے میں اس کو واپس نہیں کر سکا ، میرا امریکہ ہلکا ہلکا تقاضا کرتا رہتا ہے ،۔
میں بھی واپس کرنے کے وعدے پر اس کو ٹرخاتا رہا ہوں ،۔
میرے امریکہ کے ساتھ بھی ایک کیری لوگر بل ہو گا 
کہ ایک حاقانی ٹاپب بندہ  میرے امریکہ کے قریب ہوتا چلا گیا جس نے میرے امریکہ کو پٹیاں پڑھانی شروع کر دیں کہ  خاور بہت کمائی کر رہا ہے ، خاور کی بڑی اڑان ہے ، اس کی مدد کرنا تو اپنے کو بیوقوف سا محسوس کرنا ہے 
وغیرہ وغیرہ
اس دوران میرے امریکہ جس کو میں ساچو کہتا ہوں اس کی کچھ چیزیں میرے پاس پڑی ہوئی تھیں وہ چوری ہو گئیں ،۔
اصل میں کچھ افغانی مدد مانگنے کے لئے آئے ہوئے تھے جن کی مدد کرتا تھا لیکن وہ افغانی چور تھے  جنہوں نے میری چیزیں چوری کرنا شروع کر دیں ،۔
ہر چوری کے بعد میں سیکورٹی پر خرچ شروع کر دیتا تھا ۔
کبھی دیواریں اونچی کر رہا ہوں تو کہیں دیواروں کی تعمیر  کر رہا ہوں جس پر خرچے آ رہے ہیں اور چوری ہونے والے مال کی وجہ سے سرمایہ بھی سرکتا چلا جا رہا ہے ،۔
ایک یارڈ کے پڑوسیون نے حد بندی کا مسئلہ کھڑا کردیا ہوا ہے ،۔
ان کی طرف سے پاس پڑوس (عالمی برادری) کو یہ پٹیاں پڑھائی جا رہی ہیں کہ 
یہ بندہ ہمارے پڑوس میں ہے تو کچرا وغیرہ چھوڑ کر بھاگ جائے گا ،۔
اس کے کاروبار سے رسنے والے تیل سے ہماری فصلیں اور زیر زمیں پانی خراب ہو جائے گا ،۔
جس کے لئے مجھے اپنی پروپگینڈا مشنری بھی بنانی پڑی ہے اور کچھ لوگوں کو پانی صفائی وغیری کے لئے وضحتوں کے لئے بھی ٹائم نکالنا پڑتا ہے م،
اب یہ حال ہے کہ سیکورٹی کمپنیوں کے ماہانہ بل ہیں ،۔
رات کو سونے سے پہلے قیمتی چیزوں کے سامنے روکاوٹیں گھڑی کرنے کی ٹینشن اور وقت کا ضیاں ہے ۔
سیکورٹی کی ٹینشن میں منافع بخش کام پسِ پشت چلے گئے ہیں اور سیکورٹی بڑی ٹائٹ ہو چکی ،۔
اور ساچو نے امداد بلکل بند کر دی ہوئی ہے 
اب مال خریدنے کے لئے بھی پیشے نہیں ہیں ،۔
سیکورٹی کو میں کم نہیں کر سکتا 
کہ پھر چوری ہو جائے گی ،۔
لیکن آہستہ آہستہ حال یہ ہونے کو ہے کہ 
چوری کے قابل مال فروخت کر کرکے سیکورٹی کے بل  تو بھر لوں گا 
لیکن 
جب یہ مال بھی ختم ہو گیا تو ؟
سیکورٹی کس چیز کی ؟
لیکن بل تو پھر بھی دینے ہون گے کہ سیکوڑتی کمپنیوں معاہدے کو پانچ سال سے پہلے ختم کرنے پر ہرجانے کا معاہدہ بھی لکھوایا ہوا ہے ،۔
اس لئے میں تو سنجیدگی سے کچھ ہارڈ یا کہ زمینیں بیچنے پر غور کر رہا ہوں ،۔
تاکہ نہ ہو گا مال 
نہ ہو گی سیکورٹی 
جیسا کہ ماضی قریب کی ہسٹری میں سویت یونین نے کیا تھا ،۔
سیکورٹی کی ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لئے کچھ ممالک چھوڑ دئے تھے ،۔
میری تحریر پر یہ نہ کہہ دینا 
کہ ذات دی کوڑہ کرلی تے چھتیراں نوں جپھے ،۔
اپنے چھوٹے سے کاروبار کو ملکوں کی سیاست سے  مثالیں دے کر بتا رہا ہے ،۔
بس جی دعا کرو 
اللہ خیر کرئے اور میرے کاروبار میں منافع آئے ، یا کہ چکھ اچانک کہیں سے بڑی کرنسی مل جائے مفت میں !،۔
ورنہ حالات بہت تنگ ہیں ،۔
میں بھی ہوں تو کم عقل ہی 
لیکن
کیری لوگر بل اور سیکورٹی کے خرچوں کی وجوح زیادہ بڑی ہیں  ،۔

جمعرات، 20 جون، 2019

پنجاب کی جاتیاں


دادے کی زمین داری تھی ، چوہڑا لوگ  سیپی کر کے زمینوں پر رکھے ہوئے تھے ،۔
چوہڑا لوگوں کا کھانا پینا علیحدہ ہوتا تھا ،۔
مجھے یاد ہے کہ ہمارے شادی بیاھ پر چوہڑوں کے خاندان کے بچے بوڑھے اور خواتین کھانا کھانے آتے تھے ، ان کو بھی انہی برتنوں میں کھانا دیا جاتا تھا ، جیسا کہ سب لوگوں کو ،۔
میں نے دادی سے پوچھا کہ ان کے برتن علیحدہ کیوں نہیں ہیں  ؟
 تو مجھے بتایا گیا کہ کرائے کے برتن ہیں سب کے سانجھے ہیں !،۔
دلچسپ سوال اس دن پیدا ہوا جس دن  ایلس اور یونس مسیح کے بیٹے کی شادی تھی 
اور اگلے دن ولیمے پر دادا جی کو بھی بمعہ اہل عیال بلایا ہوا تھا  ،۔
میں نے پوچھا کہ 
ہم چوہڑوں کے گھر کا کھانا کھائیں گے ؟
تو مجھے بتایا گیا کہ رسم پوری کرنے کے لئے دادا جی چوہڑوں کے گھر میں جائیں گے ، اور وہاں سے کچا کھانا ملے گا جو ہم خود پکا کر کھائیں گے 
کہ
پنجاب کی یہی رسم ہے ،۔
اپنی جاتی سے اعلی جاتی کے گھر جا کر کھایا جا سکتا ہے لیکن اپنے سے کمتر جاتی سے تعلق تو رکھنا ہے اس لئے کمتر جاتی کے گھر سے کچا کھانا سوجی گھی چینی وغیرہ آ جائے گا م،۔
پنجاب میں  سکھ جاٹوں کے کئی ایسے گاؤں تھے جو تقسیم سے پہلے ایک ہی برادری کے لوگ سکھ دھرم کے بھی تھے اور مسلمان بھی تھے ،۔
تحصیل ڈسکہ کے دو مشہور گاؤں آدمکے چیمہ اور آدمکے ناگرہ 
ہر دو گاؤں میں چیمے اور ناگرے سکھ بھی تھے اور مسلمان بھی ، ان کے کھروں میں شادی بیاھ پر نیوندرے کا بھی لین دین ہوتا تھا ، کھانے کی دعوتیں بھی ،۔
ایک ہی گوت کے جاٹوں میں سکھ جاٹ اعلی جاتی کے ہوتے تھے اور مسلمان ، نیچ جاتی کے ۔
اس لئے مسلمان چیمے ناگرے تو سکھ چیمے ناگروں کے شادی بیاھ پر کھانا کھانے چلے جاتے تھے 
لیکن 
خود ان کے گھروں میں ہونے والی شادیوں میں سکھ چیمے اور ناگروں کے گھر کچا اناج بھیجا جایا کرتا تھا،۔
پاکستان بننے کے بعد عظمت اسلام کے شور میں پاکستان کی پچھلی چار نسلوں کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ پاکستان بننے سے پہلے ہماری معاشرتی حثیت کیا تھا ؟


مہاراجہ رنجیت سنگھ اور مغل شہزادے  ؟
پاکستان میں تعلیم دی جاتی ہے کہ انگریزوں نے  مغلوں سے ہندوستان  چھین لیا تھا ،۔
لیکن
ستائیس جون  1839ء  کا دن مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مرن دن ہے !،۔
رنجیت سنگھ  کہ حکومت  ملتان کشمیر  سے لے کر توخم تک پبھیلی ہوئی تھی ، یعنی کہ تقریباً  اج کا پاکستان  اور ہندوستان کا پنجاب اور ہریانہ  راجہ رنجیت سنگھ کی قلم رو تھا ،۔

سن 1857ء کا غدر المعروف جنگ آزادی   سے کوئی اٹھارہ سال پہلے موجودہ پاکستان پر کا حکمران حکومت کر کے گزر بھی چکا تھا ،۔
تو اس کا مطلب ہوا کہ موجودہ پاکستان کا علاقہ انگریز نے راجہ رنجیت سنگھ سے  یا کہ اس کی اولاد سے سازشیں کر کے حاصل کیا تھا ؟
تو یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے 
کہ
پاکستان میں رہنے والے مغل شہزادے  المروف لوہاراں ترکھاناں دے منڈے   سکھا شاہی کے دور کو بائی پاس کر کے اپنا شجرہ بہادر شاھ ظفر سے کس طرح ملاتے ہیں ؟
موجودہ پاکستان کے مغلوں کی سلطنت مغلیہ کے دور کی جاگیریں کیا ہوئیں ؟
شیر سوری نے تھوڈل مل سے مل کر پٹوار کا نظام بنایا تھا ، اس نظام کے تحت مغلوں کی زمینوں کی ملکیت کی طرح کا شجرہ ہونا چاہئے ہے جیسا کہ جاٹوں کا ہوتا ہے ،۔

ہفتہ، 15 جون، 2019

ایک کا خرچا دوسرے کی کمائی



ایک تحریر ، ان کے لئے جو تھوڑی سی عقل ، تھوڑا سا درد دل  رکھتے ہیں یا کہ کم از کم بے عقل نہیں ہیں ،۔
کہ
پاکستان میں رویہ بن چکا ہے کہ ایوان صدر کے خرچے ہوں کہ وزیر اعظم ہاؤس کے خرچے  ! سوشل میڈیا پر لوگ لٹھ لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ،۔
عید ہو کہ شبِ برات  ، کوئی میلا ہو کہ بسنت ، بلکہ اب تو لوگ کسی کی شادی پر کے بھی خرچوں پر کوسنے دے دے کر  کوس رہے ہوتے ہیں ،۔
میں جانتا ہوں یہ فلسفہ کہاں سے آیا 
لیکن اس کی نشاندہی نہیں کروں گا کہ بات کسی  اور طرف چلی جائے گی اور جو بات میں کہنا چاہتا ہو پسِ پشت چلے جائے گی ،۔
یہ جو خرچے ہوتے ہیں 
مثال کے طور پر  ایوان صدر کے لئے طوطے کا پنجرہ بنوانا ہے م،۔
اس پر جو بھی رقم مختص ہو گی ، وہ کہاں جائے گی ؟
وہ پاکستان کے کسی شہری ٹھیکدار کی اکاؤنٹ میں جائے گی ،  وہ ٹھیکدار اس رقم میں سے کچھ رقم کسی مستری کو دے گا کہ پنجرہ بنوا دو ، وہ مستری بھی پاکستان کا شہری ہے ،۔
مستری اس پنجرے کے لئے بازار سے لوہا خریدے گا ، جس پر لوہے کا دوکان دار منافع کمائے گا ، وہ دوکاندار بھی پاکستانی شہری ہے ،۔
ہر بندہ ایوان صدر سے ملنے والی اس رقم میں سے کچھ نہ کچھ منافع کما رہا ہے ،۔
یہ منافع وہ بندہ کسی ریسٹورینٹ میں جا کر خرچ کرئے گا ، اس ریسٹورینٹ میں کام کرنے والے کک اور بیرے  بھی ایوان صدر سے ملنے والی رقم سے مستفید ہوں گے  ؟
اس طرح ایک سلسلہ چلے کا جو دولت کو گراس روٹ لیول تک لے کر جائے گا م،۔
اور یہ سارے فائدے عام پاکستانی اٹھا رہے ہوں گے ،۔
اسی طرح ٹھیکدار نے ایوان صدر سے ملنے والی رقم سے لمبی ہی دیہاڑی لگائی ہو گی ؟
اس بکر عید پر وہ ٹھیکیدار منڈی سے بیس لاکھ کا بیل خرید کر قربانی کرئے گا ،۔
وہ بیل کہاں سے آیا ہو گا ؟
چیچوکی ملیاں کے کسی آرائیں نے پالا ہو گا ،۔
گوجرانوالہ کے کسی مہر  کے گھر کا بچھڑا ہو ؟
ایک سال کی محنت سے پال پوس کر  بیس لکھ کا بیل بیچنے والا بھی ایک پاکستانی ہی ہو گا ،۔
جب بیس لاکھ اس مہر یا آرائیں کے گھر پنچے کا تو َ
ہو سکتا ہے اس نے بیٹی کی شادی کرنی ہو  ؟
مہر کی بیٹی بھی پاکستانی ہے اور اس کی شادی پر ہونے والے خرچے ، کپڑوں کی خرید داری ، زیور بنوانے ، کھانا پکوانا ، یہ سب خرچے جو ہو رہے ہیں وہ سب خرچے کسی نہ کسی کی کمائی کا باعث بن رہے ہیں  ؟
اور میری نظر میں یہ ساری کمائی کرنے والے میرے اپنے لوگ ہیں پاکستانی  !،۔
اے اے عقل رکھنے والو !۔
یہ ایک طریقہ کار ہے،  اکنامک کا، دولت کو معاشرے میں بانٹنے کا ،۔
لیکن  پسماندہ ممالک میں دولت بانٹنے کے اس طرقہ کار کو سب سے بڑی روکاٹ لگاتی ہیں ان ممالک کی فوجیں ،۔
اگر فوج کی وردیاں ، فوج کے بوٹ ، فوج کا دلیہ ، فوج کی بالٹیاں ، بیلچے  بیلٹس اور دیگر سامان ، ٹھیکے پر سول سوسائیٹی سے بنوایا جائے ، جیسا کہ امریکہ فرانس  جرمنی برطانیہ وغیرہ کرتے ہیں تو  ؟
اوپر دی گئی ایوان صدر کے پنجرے کی مثال کی طرح دولت  معاشرے میں بکھر کر اپنے ثمرات بانٹتی ہے ،۔
لیکن پس ماندہ ممالک کی افواج یہ سارے ٹھیکے  اپنے ہی جنریلوں کو دے کر ڈیفینس کے علاقوں میں فیکٹریاں اور گودام بنا کر دولت کو ڈفینس تک محدود کر دیتے ہیں جس سے ڈیفینس کی زندگی اور سول معاشرے کی زندگیوں میں طبقاتی فرق در آتا ہے ،۔
جاپان میں کاروباری لوگ ٹیکس بچانے کے لئے ایک ٹیکٹ استعمال کر تے ہیں ،۔
دو سو ملین کی انکم پر چالیس فیصد (اندازاً ) انکم ٹیکس دینا پڑتا ہے ،۔
لیکن 
ایک سو ملین کی انکم پر دس فیصد(اندازاً ) ٹیکس ہوتا ہے ،۔
کاروباری لوگ جب دیکھتے ہیں کہ اس سال انکم دوسو ملین سے تجاوز کر رہی ہے تو ؟
جاپانی   لوگ ٹیکٹ استعمال کرتے ہیں کہ
نئی مشینیں خرید کر ، اور اپنے ورکروں کو بونس کے نام پر  نقد رقم دے پر ایک ڈیڑھ سو ملین خرچ کر کے دیکھا دیتے ہیں ،۔
جس سے انکم ٹیکس صرف دس فیصد رہ جاتا ہے ،۔
جاپان کی حکومت کی نظر میں ان کا یہ ٹیکٹ کوئی جرم نہیں ہے 
کیونکہ بونس کی مد میں دی گئی رقم جاپانی شہریوں کی انکم بنے گی اور نئی مشنری خریدی گئی رقم جاپان کی صنعت  کی کمائی بنے گی ،۔
بونس میں ملنے والی رقم ایوان صدر کے پنجرے والی مثال کی طرح ،  قوم کے پاس بکھر کر ایک کا خرچا دوسرے کی کمائی بنے گی ،۔
تحریر خاور کھوکھر

منگل، 21 مئی، 2019

پاء منّو


آج مجھے  اسّی کی دہائی کا گوجرانوالہ کا ایک کردار یاد آ گیا ،۔
کیا دلچسپ انسان تھا  ،۔
پاء منّو !،۔
اصلی نام مجھے یاد نہیں ، اس کی بسیں چلتی تھی  گجرات سے لاہور ،۔
گوجرانوالہ کے لاری اڈے پر سارا دن سفید کپڑے پہنے مختلف مکینکوں کے پاس پھرتا رہتا تھا ،۔
پہس مکھ ، یار باش  اور حاضر جواب ،۔
 پا منّو نے گوجرانوالہ کے ریجنٹ سیمنا میں منور ظریف کی فلم چکر باز لگا لی ،۔
سارے لاری اڈے پر مشہور ہو گیا کہ پاء منّو نے فلم لگائی ہے اور اج کل پاء منو سیمنا میں ہی ہوتا ہے ،۔
گوجرانوالہ کے لاری اڈے  کے مکینکوں کے سارے شاگرد لوگ  پاء منو کے پاس فلم دیکھنے کے لئے گئے ، کئی تو کئی کئی دفعہ گئے ،۔
ہر دفعہ مفت فلم اور  کھانا کھا کر واپس آتے تھے ،۔
مجھے خود تو جانے کا اتفاق نہیں ہوا ۔
لیکن آس پاس کے سارے منڈے پا منو سے کھانا کھا کر آئے تھے ،۔
تین ہفتے بعد جب فلم اتری تو پاء منو  پھر لاری اڈے پر نظر آیا ،۔
مجھے پوچھتا ہے ،۔
اوئے توں نئیں آیا فلم ویکھن ؟
تو میں نے اس سے پوچھا 
پاء منو فلم لگانے پر کمائی تو بہت ہوتی ہو گی ؟
کتنے پیسے کمائے ہیں تین ہفتے میں ؟
پاء منو نے  بڑے فخر سے بتایا : پچہتر روپے (تقریباً دس امریکی ڈالر)!،۔
میں نے بڑی حیرانی سے پوچھا صرف پچہتر روپے ؟ کیا یہ بہت کم نہیں ہیں ؟
پاء منو نے تاریخی جواب دیا ، ان الفاظ کی بازکشت اج بھی میرے ذہن میں  گھونجتی ہے ،۔
لے ، سارے شہر دے یار خوش کر کے فیر وی کجھ پیسے بچ گئے نے ، تینوں اے تھوڑے لغدے نے پئے !!،۔
یعنی سارے شہر کے دوستوں کو خوشیاں دے کر پیسے بھی بچ گئے ہیں یہ تھوڑی بات ہے م۔
اس سوچ کے اس بندے سے وابستہ کچھ اور یادیں بھی ہیں کہ
لاری اڈے پر برقعہ پہنے بچہ اٹھائے بھیک مانگنے والی جب آتی تھیں تو سب کو بھائی کہہ کر پکارتی تھیں ،۔
تاش کھیلتے ہوئے  پاء منو کو جب ایک بی بی نے بھائی کہہ کر مخاطب کر بھیک کا سوال کیا تو پاء منو بدک گیا 
اور اس بی بی کو کہتا ہے ،۔
بیٹھ جا پہن میری ، اور بتا کہاں ہے میرا بہنوئی  پئین چ۰۰ !، کیا کرتا ہے وہ کتی کا ب۰ ۰، جس نے میری بہن کو بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ رکھا ہے،۔
ابھی بتا یا پھر مجھے ساتھ لے کر چل کہیں اس کو نوکری دیتا ہوں ، اگر معذور ہے تو اس کا علاج کرواتا ہوں ۔
مجھے اس عورت کا جان چھڑا کر بھاگنا اب تک یاد ہے ،۔
اُس زمانے میں سفید پوش بھکاری ہوتے تھے جو ٹولے میں ہوتے تھے ایک عورت ایک بزرگ اور ایک جوان کے ساتھ ایک بچہ !،۔
ان کا کہنا ہوتا تھا کہ فیصل آباد سے آئے ہیں 
یہان گوجرانوالہ میں جیب کٹ گئی ہے ،۔
واپسی کا کرایہ نہیں ہے ،۔
مستعار پیسوں کے نام پر بھیک نما کام کرتے تھے ،۔
ان لوگون کا کہنا ہوتا تھا کہ اپ ہمیں مستعار پیسے دیں ہم گھر پہنچ کر آپ کے پیسے اپ کو منی آڈر کر دیں گے ،۔
ایک دن  پاء منو اس خاندان کو ٹانگے پر بٹھا کر لاری اڈے لے آیا 
اور فیصل آباد جانے والی  بس کے پاس جا کر کنڈکٹر اور ڈائیور سے پوچھتا ہے کیا تم مجھے جانتے ہو ؟
ڈائیور اور کلینڈر نے بیک زبان کہا  ، ہاں پاء منو  کیوں نہیں !،۔
تو پھر یہ میرے عزیز ہیں ان کو فیصل آباد تک لے کر جانا ہے ،۔
اور خبردار اگر ان سے کرایہ لیا یا کہ ان کو فیصل آباد سے پہلے کہیں اترنے دیا ،۔
اب پتہ نہیں کہ اس خاندان پر کیا بیتی لیکن پاء منو نے ان کو فیصل آباد روانہ کر دیا تھا ،۔
اور مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ یہیں کہیں گوجرانوالہ کے نوحی گاؤں کے تھے 
اور بس کے عملے نے بڑی ذمہ داری سے ان کو فیصل آباد پہنچا دیا ہو گا ،۔
اب واپسی کا کرایہ فصل آبادیوں سے مانگیں گے ،۔

پاء منو کا ایک بہنوئی بھی تھا حاجی بشیر ،۔
یہ بندہ بھی اپنی  جگہ ایک کریکٹر تھا ،۔
اس پر پھر کبھی لکھوں گا ،۔
بس اتنا سمجھ لیں کہ حاجی بشیر پاء منو کے بچوں کا پھپھڑ تھا ،۔

منگل، 30 اپریل، 2019

بزدل لوگ



وہ بندہ جو فوراً کسی کی بھی مدد کرنے کو تیار ہو جائے ، ہر کسی کی مدد کرئے  یا کہ خود سے لوگوں کو تعاون کی  مدد کی پیشکش کرئے !!،۔
ایسے بندے کے متعلق سائیکی کے ماہرین بتاتے ہیں کہ
ایسا بندہ بزدل ہوتا ہے !!،۔
اس کے ذہن میں یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر میں کہیں کمزور پڑ گیا تو ؟ لوگ میری بھی مدد کریں گے !،۔
سائیکی کے ماہرین کا یہ تجزیہ سن کر جب میں نے اپنے اندر جھانکا ، تو ؟
مجھے بڑی شدّت سے احسا ہوا کہ
ہاں میں ایک بزدل ہوں !!،۔
مجھے اپنے بزدل ہونے کا علم بڑی دیر بعد ہوا  تھا ، ورنہ  میرے اردگرد کے لوگ تو بہت پہلے سے جانتے تھے ،۔

اب یہاں مزے کی بات یہ کہ 
ایسے بزدل لوگوں کے ساتھ زندگی ایک بڑا دلچسپ مذاق کر جاتی ہے ،۔
وہ مذاق کیا ہے ؟
اس کا تب لکھوں گا جب لوگ تقاضا کریں گے ،۔
کومنٹ کریں ، اگر اپ جاننا چاہتے ہیں ،۔

خاور کھوکھر


گزشتہ سے پیوستہ 

سائیکی کے ماہرین کے مطابق جو بزدل بندہ فوراً دوسروں کی مدد کرتا ہے ،۔
اس کے ساتھ زندگی ایک دلچسپ مذاق کرتی ہے ،۔
ہوتا یہ ہے کہ اپنی کمزروی کے احساس سے بندہ دوسروں کی مدد کرتا ہے ، زندگی کی تگ ودو میں پورا زور لگا لگا کر کوشش کرتا رہتا ہے ،۔
تو مذاق یہ ہو جاتا ہے 
کہ
اس بندے کو کبھی دوسروں کی مدد کی ضرورت ہی پڑتی ،۔

اپ نے شائد دیکھا ہو کہ  جب چڑیا اپنے بچوں کے لئے  چوگا لے کر آتی ہے تو ؟
وہ سب سے  پہلے چوگا اس بچے کے منہ میں ڈالتی ہے جس نے زیادہ منہ کھولا ہو ۔
جس کے منہ کے والی پیلی لکیر گہری ہو ،۔
کوئے جیسے چالاک جانور کے ساتھ بھی کوئل  ہینڈ کر جاتی ہے کہ اپنے انڈے اس کے گھونسلے میں دے جاتی ہے ،۔
کوئل کے بچوں کے منہ پر  باچھوں کی پیلی لکیر ، جو کہ ہر پرندے کے بچوں کے منہ پر ہوتی ہے ،۔
اس کا رنگ کوئے کے بچوں  کی نسبت گہرا ہوتا ہے ،۔
کوئل کے بچے کا منہ کوئے کی اپنے بچوں کے منہ سے بڑا نظر آتا ہے 
اور کوّی بی بی کوئل کے بچوں کو زیادہ چوگا  دیتی ہے ،۔
اور کوئے کو رب نے لمبی عمر اور اولاد میں وسعت دی ہے ،۔ کوئل کے مقابلے میں!،۔

بڑا سا منہ کھولے مدد کے طلب گار یا کہ ہاتھ پھلائے مانگنے والے  جس بندے کے پاس جتنے زیادہ آتے ہیں ،۔
وہ بندہ اتنی ہی زیادہ تگ و دو کر کے زیادہ کماتا ہے زیادہ اوزار ، استعمال کی چیزیں بناتا ہے 
کہ 
پتہ نئیں کب کون آئے اور کون سی چیز مستعار مانگ لے !،۔
اخری عمر میں جا کر جب ایسا بندہ پلٹ کر دیکھتا ہے ، تو  ؟
اس کا ہاسا نکل جاتا ہے کہ 
یہ زندگی کیا مذاق کر گئی ،۔
مال کے ، دولت کے ڈھیر لگے ہیں ،۔
رزق کی فراوانی ہے ، مشقت کر کرکے صحت بھی ٹحیک ٹھاک ہے ،۔
اور مدد مانگتے  کمزور لوگ   کچھ مر کھپ گئے کچھ اب  بھی سسکٹی سانسیں جی رہے ہیں م،۔
اور  زندگی کے دلچسپ مذاق سے لطف لینے والے ایسے  لوگ ایک اور بیاھ کھڑکا کر  زندگی کے اور بھی مزے لیتے ہیں ،۔
میں اپنے گاؤں میں چار گھروں  کی تاریخ کا شاہد ہوں ،۔
دو گھورں کے پانچ پانچ بیٹے  تھے اور ایک گھر کے ساتھ بیٹے ،۔
چوتھا گھر 
کہ
جس کے بڑے بیٹے پر پانچ بہنوں کا بوجھ تھا ، اور چھوٹے بھائیوں کا بھی ،۔
مندرجہ بالا تین گھروں کے ٹوٹل پندرہ  مردوں کی ٹوٹل کمائی  اور بنائے ہوئے  مکانات زمییں  اور اثر رسوخ ، پانچ بہنوں کے  بھائی  کی کمائی کا تین فیصد بھی نہیں بنتا ہے ،۔
ہاں جی !۔
یہ بات ہے بڑی باریک  اور سمجھ رکھنے والی 
کہ 
برکت اور خدا کے فضل کو انجوائے کرتے ہیں وہ لوگ ، جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں ،۔
ہاں کچھ ایسے کم قسمت لوگ بھی ہوتے ہیں ، جن پر ان کے اپنے ، آکاس بیل کی طرح چڑھ کر ان کی ساری توانائیاں چوس کر رکھ دیتے ہیں ،۔
لیکن 
فرق ہے انسان اور درخت کا کہ 
آکاس بیلوں جیسے لوگوں کے نچوڑے ہوئے انسان بوڑھے وقت میں بڑے چمک دار چہرے اور مسکراہٹ سے سرفراز ہوتے ہیں ،۔
حاصل مطالعہ 
کہ جس کنوئیں سے لوگ پانی نکالتے رہیں وہ خشک نہیں ہوتے اور جو انسان برتے جاتے ہیں استعمال ہو جاتے ہیں ،
 انکو رب سائیں  کچھ اور ہی لذتوں سے سرفراز کرتا ہے ،۔
bz

Popular Posts