جمعرات، 16 جنوری، 2020

ناگویا کوچین ،۔


ناگویا  کوچین !،۔
ناگویا کوچین  مرغ کی ایک مخصوص نسل ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے ،۔
ککڑ کڑاہیاں  ، اور مرغے کے پکوان  کی لگژری ؟
جو ہماری زبان میں بولی جاتی تھی وہ ساری لگژری فارمی مرغ کے آنے سے ہوا ہو چکی ہے ،۔
جہان جہاں فارمی مرغی کا گوشت بہتات میں ہے ، لیکن یہاں بھی خوش ذوق لوگ دیسی  مرغ کا گوشت پسند کرتے ہیں ،۔
دیسی مرغی یعنی وہ پرندہ جو کم از کم سو دن میں کھانے کے قابل ہوتا ہے ،۔
فارمی مرغی  اپنئ پیدائش سے بیس دن کے اندر  ذبح ہو کر اپ کی ہانڈی میں  پہنچ چکی ہوتی ہے ،،۔
کہاں کسی مہمان کے انے پر مہینوں میں تیار ہوا مرغا جو ہز روز انکھون کے سامنے  جوان ہوا ہو  ذبح کر کے کسی  ہانڈی بنانا اور کہاں 
چند سو روپے سے فارمی مرغی کا گوشے لے آنا ،۔

ہمارے گھر میں  ماں کو گوشت کھانے کا شوق تھا ، لیکن ہم غریب لوگ تھے اس لئے  اس زمانے میں یعنی ستر اور اسی کی دہائی میں  سری پائے ، کلیجی ،اور پھیپھڑے سستے مل جاتے تھے ،۔
اج جب یہ چیزیں لگژری بن چکی ہیں ، ہم اپنے پچپن میں یہ کھایا کرتے تھے ،۔
پکھی واس (خانہ بدوشوں کی ایک شاخ ) لوگ   پرندون کا شکار کر کے لایا کرتے تھے ،  ان بے چاروں کا شکار گاؤں میں گھوم گھوم کر آوازیں لگانے سے بھی بہت کم بکا کرتا تھا ،۔
میری ماں ان سے شکار کئے پرندے خرید لیا کرتی تھی ،۔
گندم کے پودوں  پر آنے والی بڑی چڑی ، شارق ، تلئیر ، بٹیرے ، تیتر ،فاختہ 
اور بہت ہی کم  بلکہ شائد ایک کہ دو دفعہ ہی کھایا ہے ،۔
ایک پرندہ ہوتا تھا  جس کو ہریل کہا کرتے تھے ، طوطے کے رنگ کی فاختہ کہہ لیں  ، فاختہ سے تھوڑے جسامت میں بڑے اس پرندے کا گوشت بہت ہی لذیذ ہوا کرتا تھا ،۔
گوشت کھانے والے جانتے ہیں کہ گوشت میں ایک ریشہ ہوتا ہے جو دانتوں میں پھنس جاتا ہے ،۔
فاختہ کے سینے کے گوشت میں یہ ریشہ بہت کم ہوتا ہے ،۔
اور ہریل کے گوشت میں تو بلکل بھی نہیں ہوا کرتا تھا ، 
اب شاید پاکستان میں نئی نسل نے ہریل  کا نام بھی نہ سنا ہوا ۔
گھر کی مرغی دال برابر ؟
 یہ محاورہ تو سنا ہی ہوگا 
کہ گھر کی پلی ہوئی مرغیاں یا مرغے  دال سے بھی سستے ہوتے تھے ،۔
یا پھر گوشت کے لئے ہمارے گھر میں بطخیں پالی جاتی تھیں ،۔
بطخ کا انڈہ بھی بڑا ہوتا ہے اور مرغی کی نسبت گوشت بھی زیادہ ہوتا ہے ،۔
یہ علحیدہ بات ہے کہ 
میرا چھوٹا بھائی  بطخ کا گوشت نہیں کھاتا تھا 
اس کے کہیں بطخ کو بول براز کھاتے دیکھ لیا تھا ،۔
اس لئے ہم نے بطخیں پالنی بھی چھوڑ دی تھیں ،۔
شائد سن  اکیاسی کی بات ہے ،۔
ماں نے کہیں سے فارمی مرغی کا سنا تھا ؟
مجھے پیسے دے کر شہر بھیجا کہ فارمی مرغی کا گوشت لے کر آؤں ،۔
ان دنوں  پونڈاں والے اڈے(گوجرانوالہ) پر تانبے کی دیگیں اور دیچکیاں کوٹ کوٹ کر بنانے والے  سڑک کے جنوبی طرف ہوتے تھے اور شمالی طرف دیس مرغوں کو پنجرے میں لئے مرغی کا گوشت بیچنے والوں کی دو تین دوکانیں تھیں ،۔
میں ان سے فارمی مرغی کا پوچھا تو انہوں نے مجھے ایک ریڑہی والے کی طرف اشارہ کیا تھا ، جہاں سے میں کوئی ادھ کلو گوشت لے کر آیا تھا ،۔
اس چکن کو ماں نے  روسٹ کر دیا تھا ،۔
مجھے تو ذائقہ یاد نہیں لیکن ، مان کے الفاظ یاد ہیں ،۔
نہ مزھ نہ سواد ! ایہہ کی اے ؟
ان الفاظ کی معونیت صرف وہی جانتا ہے جس نے دیسی مرغ کھایا ہو،۔

تو جی بات ہو رہی تھی جاپان میں ملنے والے  مرغی کے گوشت  ناگویا کوچین کی !،۔
جاپان کا  ناگویا کوچین ، بلکل اپنے یہاں کے دیسی مرغ کی طرح کا پرندہ ہوتا ہے ، جس کی کلغی لال ہوتی ہے اور نر بڑا رنگین پرندہ ہوتا ہے ،۔
یہاں ایتا کورا میں ایک دوست ہے جس کا تعلق لاؤس سے ہے اور اس نے جاپان میں شادی کی ہوئی ہے اس کی بیوی کے میکے مرغیان پالا کرتے تھے اس لئے اس سسر کے مرغون کی پرورش اور انڈوں کی رسد کا کام چھوڑ دینے کے بعد بھی ، کچھ مرغیاں پالی ہوئی ہیں ،۔
لاوؤ کا یہ دوست خود بھی خوش ذوق بندہ ہے اور میرے ذوق سے بھی واقف ہے تو اس نے کل تین پرندے ، دو مرغ اور ایک مرغی لا کر دی ہے ۔
میں  آج ان پرندوں کو حلال کر کے گوشت بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں ،۔
جاپان میں ناگویا کوچین ایک برانڈ کا نام ہے ، ۔
دیسی مرغ کا گوشت یہان جاپان میں میں دفعتاً فوقتاً کھاتا رہتا ہون ،۔
لیکن ناگویا  کوچین  کھانے کا اتفاق پہلی بار ہو گا ،۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts