بدھ، 20 نومبر، 2013

جبلتیں

ایک محاورہ ہوا کرتا تھا
سفید پوش ، سیاہ کار!۔
اپ نے کبھی سنا ہے ؟
یا کہ ایسے بندے دیکھے ہیں ؟
خوبصورت اور اجلے لباسوں میں ، منافق؟
۔
۔
سوہنے بابے اور بڈہیاں بھی دیکھی ہوں گی؟
حسن صرف جوانی سے ہی نہیں ، بندے کے خوبصورت خیالات سے بھی بنتا ہے ۔
عموماً خوبصورت خیالات ،اپنے رکھنے والے بندے کے چہرے اور بدن کو بھی خوبصورت بنائے رکھتے ہیں ۔
۔
۔
۔ کتے ہو عموماً اور کئی دوسرے جانوروں میں ، ایک جبلت پائی جاتی ہے
کہ
چیزوں کو اکھٹا کرتے جاتے ہیں ، اور کتے کو تو یہ بھی یاد نہیں رکھتا کہ اس نے ، ہڈی دبائی کہاں کہاں ہے زمین میں !!۔
انسان جس میں طرح طرح کی جبلتیں پائی جاتی ہیں ۔ اگر کسی ادمی میں جانوروں کی مال کو اکھٹا کرنے کی جبلت اوج کر آئے تو
عموماً ایسا ادمی خود کو ہی انسان سمجھ لینے اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔
اور مغالطہ بھی ایسا کہ
خالص انسانوں والی جبلت جو کہ کسی بھی جانور میں نہیں پائی جاتی ، اس جبلت کے انسانوں کو تو بہت ہی حقیر جاننے لگتا ہے ۔
یعنی کہ "لکھنے "والوں کو بھی حقیر سمجھتا ہے ۔

ہفتہ، 16 نومبر، 2013

ایک الف تینوں درکار

 بابے بلھے نے کہا تھا
اک الف تینوں درکار۔
پاکستان میں آگ لگی ہوئی ہے ، ہر طرف ، ہرجگہ ، بلکہ ہر دل میں ۔
کم علمی کی بٹھی میں جلنے والے اس آگ کا نام ہے ، مذہب !!۔ اور اس کا ایندھن ہے ، مغالطے اور مبالغے۔
وہاں امریکہ میں ، ہر الیکشن میں تین "جی" استعمال ہوتے ہیں ۔
 جی فار "گاڈ" جی فار "گن" اور جی فار " گے" ( ہم جنس پرست) ۔
پاکستان میں الیکشن ہو یاکہ سلیکشن ! جرگہ ہو کہ پنچایت ، مسجد ہو کہ دارا یہان ایک ہی لفظ  جو کہ الف سے شروع ہوتا ہے ۔
ب پ ت ٹ  کے حروف بھی ہیں اور ان کا استعمال بھی ہوتا ہی رہا ہوگا ، لیکن ہم نے ایک ہی لفظ دیکھا ہے الف  اسلام !!۔
اسلام کا الف ، ساری قوم کی بغل میں گیا ہوا ہے  ۔ ساری قوم نے ہاتھوں میں پکڑ رکھا ہے ، دوسروں کی بغل میں دینے کے لئے ۔
اپنا اپنا الف ہے سب کا ہر بندہ اپنے الف کی باتیں کر رہا ہے ،
ایک ہاتھ سے اپنا الف دوسرے کی بغل میں گھسیٹنے کی کوشش ہے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی بغل میں “کسی اور” کے الف  کی زیادتی کا ظلم کا واویلا ہے ۔
ایک الف اسلام کی ہاتھوں ملک کا یہ حال ہے کہ
سڑکیں ،عمارتیں ، ابادیاں تو بد حال ہیں ہی ۔
کسی کو اپنے حقوق کا یا فرائض کا گمان تک نہیں ہے ۔
کوئی کسی سے پیسے چھین لے ، اس کے پیسے واپس لینے میں مدد کا کوئی انتظام نہیں ہے
ہاں اس کوئی یہ بتانے والا آ جائے گا ، اسلام تو ایسا نہیں بتاتا ! ، فیر الف اسلام۔
کوئ کسی کی بغل میں تیر دے کر چلا جائے ، اس کو بھی کوئی باتنے والا آ جائے گا کہ ، بغل میں تیر دینا انتہائی غیر اسلامی ہے ، فیر الف اسلام ۔
کسی کے گھر چوری ہو جائے ، اس کے مال کی واپسی  کی کوئی دادا فریاد نہیں
لیکن اس بھی کوئی بتانے والا آ جائے کا کہ اگر یہاں اسلام ہوتا نہ  ، تو ! ۔
فیر الف اسلام ۔
اور اگر کوئی بندہ ان الف اسلام والوں کی بغل سے الف نکانے کو کوشش کرئے تو ؟
اس ہاتھ پکڑ لیں گے کہ اسے نہ نکالو، اس میں اسلام کا کیا قصور ہے ؟
یار تم تکلیف میں ہو ! اس لئے میں تمہارا الف نکالنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
تو اس کو کہتے ہیں ۔
اس میں اسلام کا کیا قصور ؟ کوئی اسلام پر عمل تو کرئے !!!۔
تو بندہ ان احمقوں سے پوچھے کہ
کیا
چودہ سو سال میں نافذ نہ ہو سکا
کیا
خدا کا آئین بھی “عبوری “ ہے کیا ؟؟

ایک ہمالیہ سے بڑا سوال
پاکستانی قوم سے
تمہارے تعلیم یافتہ لوگوں مں سے بھی کتنے فیصد کو علم ہے کہ

حضور نبی پاک ﷺ نے مکے میں جن لوگوں کو تبلیغ کرکے تکلیفیں اٹھائی تھیں ۔
ان لوگوں کا مذہب کیا تھا؟
کس یقین کی طاقت تھی کہ جس نے وقت کے نبی ﷺ کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
یاد رکھو جب تم لوگوں کو “ان “ کے مذہب کا علم ہو جائے گا
تو؟
تم لوگوں کی “بغل” سے اسلام کا .الف” نکل جائے گا
اور تم لوگ دنیا کی اقوام میں اپنا ایک مقام رکھو گے ۔

دوسری بات
اگر انگریزی اتی ہوتو
یہ الفاظ سرچ انجن میں ڈالکر
The Campaign to Stop Killer Robots

دیکھو کہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اگر اسلحہ بنانے کی تکنیک میں ایڈوانس ہیں تو
اخلاقیات میں بھی کم نہیں ہیں ۔
Killer Robots
میں ڈرون بھی شامل ہیں ۔
چلو جی غیروں کی کوشش سے ہی سہی ، اگر ڈرون سے ہونے والی پاکستانیوں کی موتیں کچھ کم ہو جائیں تو دل کے دکھ کچھ کم ہو جائیں گے
ورنہ
پاکستان کے “محافظوں “ نے جو کام کئے ہیں ڈرون کے حملوں میں ، وہ انے والے زمانوں کا تاریخ دان جب لکھے گا
تو
پڑھنے والے حیران ہوا کریں گے کہ
اس زمانے کے لوگ اتنے ہی احمق تھے کہ ان کو محافظوں کے کردار کا علم ہی نہیں ہو سکا تھا ۔
لیکن کچھ لکنھے والے یہ بھی لکھیں گے کہ
محافظوں نے اس دور کے لوگوں کے ہاتھوں میں اسلام کا “ الف “ پکڑا دیا تھا  ، جس کو ایک دوسرے کی بغل میں دینے کی کوشش میں ان لوگون کو محافظوں کے کردار پر سوچنے کی فرصت ہی نہیں تھی ۔

اتوار، 3 نومبر، 2013

جاپان ایک رائے

جاپان، چڑھتے سورج کی سرزمین کے لوگوں کے متعلق کسی رائے کی تشکیل کے لئے میں دس الفاظ کا انتخاب کروں گا۔

شائستگی!۔
شائیستگی یا کہ جس کو انگریزی میں پولائٹ کہتے ہیں ۔
اس کو جاپانی زبان میں “رییگی تاداشی” کہتے ہیں ۔ جاپان کے متعلق اپ نے پڑھا سنا ہی ہوگا کہ جاپانی لوگ ایک دوسرے کو جھک کر سلام کرتے ہیں ۔
اب جب کہ اس زمانے میں جاپان میں مغربی لوگوں اور دیگر غیر جاپانیوں کو عام دیکھ سکتے ہیں ، مصاحفے کا بھی رواج ہے ،
لیکن صرف غیر جاپانیوں کے ساتھ ہی ایسا کیا جاتا ہے ۔
جھک کر سلام کرنے کو جاپانی زبان میں “اوجیکی” کہتے ہیں ، اوجیکی ، ہاتھ ملانے کی نسبت کہیں زیادہ شائستہ محسوس ہوتی ہے ۔
وقت کی پابندی!۔
جاپانی لوگ وقت کی پابندی کے معاملے میں اتنے سنجیدہ ہوتے ہیں کہ اپ ان کو انتہا پسندی کا الزام بھی دے سکتے ہیں ۔
جاپان کا ریلوے کا سسٹم اتنا زیادہ منظم ہے کہ اس میں ایک منٹ کی لیٹ کا بھی تصور نہیں ہے ۔
جے آر ( جاپان ریلوے) اور اس سے منسلک دوسرے ریلوے نیٹ ورک ، بسوں ، بحری اور ہوائی جہازوں کا ظان اتنا منظم ہے کہ
کسی ایک لائین پر ٹرین کی ایک منٹ کی لیٹ ، کسی کے سارے ہفتے یا مہینے کا ٹائم ٹیبل درہم برہم کر کے رکھ دے۔
اس لئے ٹوکیو میں کسی نیٹ ورک پر ٹرین کے ایک یا چند منٹ لیٹ ہوجانے پر ریلوے والے مسافروں کو وضاحتی ٹکٹ جاری کرتے ہیں تاکہ مسافر اپنے کام والی جگہ پر دیکھا کر اپنے لیٹ ہونے کا جواز فراہم کر سکے ۔
کام پر لیٹ پہنچنا یا کہ کسی وعدے پر لیٹ پہنچنا جاپان میں اپ کی ریپوٹیشن کو بہت نقصان پہنچاتا ہے ۔
روادری!۔
روادری ، جس کو انگریزی میں “کائنڈ” کہہ سکتے ہیں ، اس کو جاپانی میں “یاساشی” کہتے ہیں ۔
دوسرا لفظ جو عام بولا جاتا ہے وہ ہے “ اوموئی یاری” جس کا اردو میں معنی بنیں گے “دوسروں کے فائدے کی سوچ رکھنے والا”۔
یہاں جاپان میں کسی دوست کو ملنے کے لئے جاتے ہوئے کوئی کھانے کی چیز لے کر جانا ایک عام سی بات ہے ۔
جیسا کہ ہمارے ہاں بھی رشتے داروں کے گھر جاتے ہوئے کھانے کی چیزیں لے کر جانے کا رواج پرانوں سے پایا جاتا ہے ۔
 محنتی!۔
جاپانی لوگ بہت محنتی ہوتے ہیں ۔ محنتی کے لئے جاپانی میں لفظ استعمال ہوتا ہے “ ہاتاراکی مونو” جس کو انگریزی میں یارڈ ورکر کہیں گے ۔ لیکن جاپانیوں کی محنت صرف ان کے کام تک ہی نہیں ہے ، جاپانی اپنی گھریلو زندگی میں بھی بہت محنتی لوگ ہیں ۔
اگر اپ جاپان میں کنٹریکٹ ورکر نہیں ہیں ، بلکہ کل وقتی ملازم ہیں تو اپ کو ایکسٹرا کام پر اوّر ٹائم کی اجرت نہیں ملے گی ۔
ان دنوں جاپان میں ایک لفظ “کارواوشی “ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں کہ کام کی مشقت سے موت!۔
یہ موت کوئی محاوراتی موت نہیں بلکہ حقیقت میں کئی لوگ کام کی مشقت سے مر جاتے ہیں ۔

باہمی احترام!۔
جاپان میں باہمی احترام کا ایک ایسا کلچر پایا جاتا ہے کہ جس کا ذات پات اور طبقاتی فرق والے معاشروں میں تصور بھی محال ہے ۔
یہاں ہر شخص کو “سان” کے لاحقے کے ساتھ پکارا جاتا ہے ۔ “ میں “ ایک قابل احترام شخص ہوں ، اسی طرح معاشرے کے سبھی لوگ محترم ہیں ۔
یہاں جاپان میں بڑی عمر کے لوگ بھی اپنے سے چھوٹی عمر کے لوگون کو عزت سے پکارتے ہیں ۔ اور کم عمر لوگ بڑی عمر کے لوگوں کو احترام سے پکارتے ہیں ۔
اپنے سے بڑی عمر کے بزرگوں کو عامیانہ زبان سے پکارنے یا بات کرنے کو یہاں بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔
جاپانی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ “ شتاشی ناکا نی مو رئیگی آری” یعنی کہ بے تکلفی میں بھی اخلاق ہونا چاہئے!!۔
یہاں بے تکلف دوست بھی انتہائی بے تکلفی میں بھی دوست کی عزت نفس پر حرف نہیں انے دیتے ۔
 اکلمیت پسندی!۔
جس کو بعض اوقات گیر جاپانی لوگ جاپانیوں کی جھجک یا شرم سمجھتے ہیں یہ بات ان کی اکلمیت پسندی ہوتی ہے
کہ
اگر اپ کو کوئی جاپانی جاپان سے باہر مل جاتا ہے اور بہت کم بات کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مکمل ترین انگریزی نہین بول سکتا اس لئے کم بات کر رہا ہے ۔
حالنکہ اس کو اچھی خاصی انگریزی کی سمجھ ہو گی لیکن اکلمیت پسندی کی وجہ سے کم بات کر رہا ہوگا ۔
جاانی مصنوعات میں بھی ان کی اکلمیت پسندی نظر اتی ہے ۔ جاپانی جب بھی کو چیز تیار کرتے ہیں تو اس کی وضاحت یہ ہوتی ہے کہ اس دور میں اس سے بہتر چیز بنانی ممکن نہیں تھی ۔ اور انے والے دور میں اس چیز سے بہتر چیز بنانے کی کوشش ہی ہوتی ہے  جس نے جاپان کو اج اس مقام پر کھڑا کیا ہوا ہے کہ
کوئی جھوٹ میں بھی “ میڈ ان جاپان “ کا لیبل لگا دے مال بک جاتا ہے ْ۔
 دور اندیشی!۔
جاپانی لوگ بہت دور اندیش ہوتے ہیں ، ان کو انے والے کل ہی کی نہیں بلکہ اس سے اگے کے انے والے کلوں کی بھی فکر اور سوچ ہوتی ہے ۔
جاپانی زبان میں دور اندیش کے لئے لفظ بولا جاتا ہے “ کھش کوئی” جس کے متبادل انگریزی کا لفظ انٹیلیجنٹ ہو گا ،۔ انگریزی کے لفظ سمارٹ کو یہاں جاپان میں “ سماتو” بولا جاتا ہے اور اس کو کسی کی اچھی جسمانی فگر کے لئے بولا جاتا ہے۔
یعنی کہ جاپان میں اگر اپ کسی کو سمارٹ کہتے ہیں تو اس کا مطلب اپ اس کی ذہانت کی بجائے اس کی جسمانی ساخت کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں ۔
جاپان کا باہمی امداد کے لئے بیمہ کا نظام ، سونامی ، زلزلوں اور دیگر اسمانی افات سے بچاؤ اور اگاہی کا نظام ان کی دور اندیشی کی بہترین مثالیں ہیں ۔
اجتماعی زندگی کا شعور۔
جاپان کی اس کوالٹی کو اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہونا چاہئے تھا ، کہ جاپان میں اجتاعی زندگی کا شعور بہت ہی میچور ہے ۔
ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا بنیادی ستون اجتماعی زندگی کا شعور ہی ہوتا ہے۔
لیکن جاپان ان ترقی یافتہ اقوام میں سے بھی اس بات میں اعلی ترین مقام پر ہے
غیر ملکی سیاحت کے لئے نکلے ہوئے جاپانی سیاحوں کے گروپ ، جاپان کی اجتماعی زندگی کی ایک عملی مثال ہے۔
ملک کر کام کرنا ، ایک دوسرے سے مشاورت کرنا معاملات میں ایک دوسرے کی معاونت کرنا جاپان کے لوگوں کی رسم سے زیادہ ان لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔

صفائی!۔
کیا اپ یقین کریں گے کہ جاپان کے سکولوں میں صفائی والے چپراسی کا تصور بھی نہیں ہے؟
جاپان میں طالب علم خود سکول کی صفائی کرتے ہیں ۔
ہر روز گیلے کپڑے سے تیس منٹ !۔ کسی بھی عمارت کو بترین صاف رکھنے کے لئے کافی ہے ۔
اپ نے شائد انٹر نیٹ پر یو ٹیوب وغیرہ میں دیکھا ہو کہ  کیسے جاپانی لوگ اپنا کوڑا بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔
جی ہاں جب جاپانی کسی کام کو نکلتے ہیں اور کرنے واکی چیزوں کی لسٹ میں “ صفائی “ بھی شامل ہوتی ہے ۔
جاپان میں دوکان دار اپنی دوکان کے سامنے کی گلی یا سڑک کو بھی اتنا ہی صاف رکھتے ہیں جتنی کہ ان کی دوکان ۔
ان کے خیال میں یہ کام بھی ان کے کاروبار کی ضرورت ہے ۔
عمومیت!!۔
ہمارے یہاں عامیانہ پن ، ایک گالی سی بن کر رہ گئی ہے ۔ کیونکہ عمومیت کے معنوں سے لاعلمی ہے
ورنہ جاپان میں یہ ساری باتیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں ، عام سی چیز بن کر رہ گئی ہیں
بلکہ اس چیزوں کو ہی عمومیت جانا جاتا ہے۔
سکول کی تعلیم کے بعد سپوٹس کی کی گھنٹوں کی روزانہ مشقت طالب علموں کے لئے عام سی بات ہے ۔
کام پر سونپی گئی ذمہ داریوں کو پورا کرنا عام سی بات ہے ۔
اپنے معاشرتی فرائض کی ادائیگی عام سے بات ہے۔
خوش اخلاقی ، روادری ، خندہ پیشانی ، یہ سب “ خاص” باتیں یہاں جاپان میں عام سی باتیں ہیں ۔
اس لئے اپ جاپان کو عمومیت پسند بھی کہ سکتے ہیں ۔
جاپانیوں کے ساتھ زندگی گزار کر لگتا  ہے کہ
زندگی جاپانیوں کے نزدیک ایک مشن ہے ۔ زندگی کو کوالٹی کے ساتھ گزارنے کا مشن !!۔ اور سبھی لوگ اس مشن میں جتے ہوئے ہیں ۔

اتوار، 27 اکتوبر، 2013

فیس بک کے سٹیٹس

فیس بک پر مختصر باتوں کو شئیر کرتا رہتا ہوں ۔ اج ان میں سے کچھ کو یہاں بلاگ پر جمع کرکے پوسٹ کر رہا ہوں ۔
فیس بک پر میرے فرینڈز اور فالور ، پہلے ہی ان پوسٹوں  کو پڑھ چکے ہیں  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس بک ، کچھ زیادہ ہی مسلمان ہے ۔

جن کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ، جھوٹے ہیں ۔
وہ سچ کا پرچار کرتے ہیں ۔
منافق ،اصولوں کی بات کرتے ہیں ، اور مشرک ! مورتوں کو شئیر کرتے چلے جا رہے ہیں ۔
میں کہوں گا
کہ
مجھے مسلمان کرنے کی بجائے ، تسی ، آپی مسلمان بنو!!۔
تے
نئیں بن سکدے تے ؟ بندے دے پتر ای بنو!۔
خود سے جھوٹ نہ بولو!۔

پنج رکن اسلام دے ، تے چھیواں دساں ، روٹیاں !!۔
ٹڈ ناں پئیاں روٹیاں تے ، سبھے گلاں کھوٹیاں !!۔

اسلام کے پانچ رکن ہیں لیکن میں اپ کو بتاؤں کہ چھٹا رکن رزق کی تلاش بھی ہے
اگر پیٹ میں کچھ نہیں ہے تو پانچ رکن پورے کرنے بھی محال ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندو، سکھ ، پارسی اپنی جگہ!۔
لیکن
یہودی ، عیسائی اور مسلمان اپنی اپنی جگہ بڑی "کراری . قسم کی جنت کی ٹکٹ جیب میں لئے پھرتے ہیں ۔

………….


میں اپنے جاننے والوں میں ، گھسنے کی  کوشش نہیں کیا کرتا۔
ان کے دلوں میں ، معاملات ، یا گھروں میں !!!۔
لیکن
جو لوگ مجھے جاننے لگتے ہیں ۔
وہ لوگ کوشش کرکے ،میرے لئے اپنے دلوں میں جگہ نکال کر ہی لیتے ہیں ۔
خاور کھو کر

…………….

بھکی کے بھٹیوں کی بے بے ، نے گامے سے پوچھا
کہ
گامیا! یہ تو بتا کہ وہ کون سی چیز کے جو " مج" (بھنس) کے پاس چار کی تعداد میں اور میرے پاس دو ہیں ؟؟
گاما : ٹانگیں !!۔
اچھا اب بتا کہ وہ کیا چیز ہے جو تیری شلوار میں تو ہے لیکن میری شلوار میں نہیں ہے ؟؟
گاما: جیب!!!۔
بھٹیوں کی بے بے کچھ اور بھی بے تکلف ہوکر پوچھتی ہے
وے گامیا! وہ کیا چیز ہے جو لوگ ، دن میں کرنے کی بجائے رات کو کرتے ہیں اور بستر پر کرتے ہیں ؟؟
گاما: نیند پوری کرتے ہیں ۔
اچھا اب اخری سوال کہ
وہ کیا ہے جو ایک لڑکی زندگی میں پہلی دفعہ کرواتے ہوئے درد کی زیادتی کی وجہ سے روتی ہے ۔
گاما: کانوں میں بالیوں کے چھید کرواتے ہوئے !!!۔

حاصل مطالعہ
آپ بھی اپنے خیالات اور نیت کو گامے کی طرح نیک رکھیں !!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کی سب سے بہترین دوا
ہے
پیار اور محبت !!۔
 کسی نے پوچھا کہ اگر اثر نہ کرئے تو؟۔
 بتایا گیا کہ"
پھر ! " ڈوز" بڑھا دو!!!۔

خاور کھوکھر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سّور ( خنزیر) ، گینس بک اف ریکارڈ کے دفتر گیا
یہ دیکھنے کے لئے
کہ
دنیا کی پلید ترین چیز ہونے کا ریکاڈ اب بھی میرے پاس ہی ہے کہ نہیں ۔
جب وہ  باہر نکلا تو بہت غصے میں تھا
اور بڑبڑا رہا تھا
یہ سالا ساقا ب ۔ ۔ ۔  کون ہے اوئے ؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تار پر چھ پرندے بیٹھے تھے
ایک شکاری نے ان پر غلیلہ چلایا۔
نشانہ خطا گیا
پانچ پرندے اڑ گئے
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
 ایک پرندہ بیٹھا رہا !۔
کیوں؟؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

۔ بس ! ایسے ہی ، نخرے !!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سرکاری دفتر میں بورڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا
براہ مہربانی یہاں شور نہ کریں
کسی ستم ظریف نے نیچے لکھ دیا
کہ ، ہمارے افسران کی نیند خراب ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیدو ڈنگر جیولری کی دوکان پر
اردو بولنے کی کوشش میں مار کھا بیٹھا۔
حالکہ جیدو ، واقعی  زیور خریدنے گیا تھا
جیدو ڈنگر کے شوکیس میں سجے زیور دیکھے اور سیلز گرل کی طرف پر شوق نگاہوں سے دیکھ کر کہنے لگا
بی بی جی ! آپ کا ایک ایک ائٹم غضب کا ہے ، بس اب آپ یہ بتائیں کہ سونے کا کیا ریٹ لگے گا؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنس کے مضمون میں جیدو ڈنگر نے سب کو حیران کر دیا
اس وقت جب سوال تھا کہ
وہ کون سا مائع ہے جو حرارت سے سخت ہوجاتا ہے ؟؟
جیدو کا جواب تھا
بیسن کے پکوڑے!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب لفظ ختم ہو جائیں
تو
انکھیں بولتی ہیں ۔
جب انکھوں کی بولتی بند ہوتی ہے تو
دل بولتا ہے۔
لیکن یارو
جب
دل بولنا چھوڑتا ہے
تو
پھر ؟

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
 پھر کچھ نہیں بولتا
لوگ ناک میں روئی دے کر دفن کرنے کو لے چلتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا اپ کو لڑکیاں بہت ہی پسند ہیں ؟
کیا اپ لڑکیوں ہی کی باتیں سننا چاہتے ہیں ؟
کیا اپ پر وقت لڑکیوں میں گھرا رہنا چاہتے ہیں ؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
تو
فیس بک کی مشکوک شنانہ ائی ڈیز پر وقت ضائع کرنے کی 
بجائے
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
گول گّپے کا ٹھیلا لگا تو !!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامیابی کا راز کیا ہے؟؟
صحیع اور بروقت فیصلہ!!!۔
لیکن
صحیع فیصلے کے لئے قوّت فیصلہ کیسے حاصل ہوتی ہے؟
تلخ تجربات کے ساتھ!!۔
اور
تلح تجربات کیسے حاصل ہوتے ہیں ؟؟
غلط اور بے وقت فیصلوں سے!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پچھلی صدی ( نوے کی دہائی ) کی لڑکی ۔
اگر تم مل جاؤ ، زمانہ چھوڑ دیں گے ہم!۔
اکیسویں صدی کی لڑکی۔
اگر تم مل جاؤ ، "پرانا" چھوڑ دیں گے ہم!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک مکالمہ
 میں تمہارے پیار میں  ، برباد ہو گئی ، لٹ گئی ،میری دنیا رسوا ہو گئی ۔
۔
تو میں کون سا پڑھ پڑھ کر بنک مینجر لگ کیا ہوں  ؟ بد بختے!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیسی فیملی ، یورپ منتقل ہوئی ۔
ایک دن ماں ، اپنے بچے سکول سے لے کر گھر آ رہی تھی کہ انہوں نے جوان جوڑے کو  " بوس کنار" کرتے دیکھا۔
ماں نے نے نظر چرانے کی بہت کوشش کی لیکن
بچے کی نظر ان پر  ، پڑ ہی گئی
اور چلا کر اپنی ماں سے بولا
اماں دیکھو یہ لوگ ایک دوسرے سے " چیونگم " کی چھینا جھپٹی کر رہے ہیں  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر اپ یہ سمجھتے ہو کہ
اپ کا باس ( ساچو) بیوقوف ہے ۔
تو  ، اپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ
اگر اپ کا باس سیانا ہوتا تو ؟
آپ  جیسے کو ملازم ہی کیوں رکھتا ؟
 خاور کھوکھر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی بیویوں سے وفادار  " مرد " سیدھے جنت میں جائیں گے!!!۔
۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
اور بے وفا مرد؟؟
۔
۔
۔
۔
۔وہ اس دنیا کو ہی جنت بنائے بیٹھے ہیں  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں منگنی اور شادی کے دوران لمبا عرسہ حائل ہو جائے؟
وہاں ،  فائدہ کون اٹھاتا ہے ؟؟؟؟۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔لڑکا؟

نہیں !!۔
۔
۔
۔
۔

۔
۔۔
لڑکی ؟
نہیں !!!۔
۔
۔
۔
۔

۔
موبائیل فون کمپنی!!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انا کی جنگ  میں ہم ، جیت تو گئےلیکن
پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بندے دی وڈیائی دا آخر، قبر! تے فیدا کیہہ؟
پچھے، دو سطراں دی خبر! تے فیدا کیہہ؟
اس لئے میں کہوں گا
کہ
دنیا دے وچ بندیا، ر کھ ایسا بہن کھلون
کول ہون تے ہسن لوکی ، مرجاویں تے رون

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیادہ تر نسلی لوگوں کو اس بات کا تو علم ہوتا ہے کہ
سینکڑوں سال پہلے ان کے اباء  و اجداد کس علاقے میں ، کیا کارنامے انجام دے رہے تھے۔
لیکن
اس بات کا ان لوگوں کو کم ہی علم ہوتا ہے کہ
ان کی اولاد گزری رات کو کس کے ساتھ کیا کارنامے انجام دے رہی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاما ، ٹرین میں چڑہنے لگا کہ
اس کے کانوں میں آواز آئی ، یہ ٹرین پٹری سے اتر جائے گی، کاما ٹرین میں سوار نہیں ہوا اور وقعی ٹرین پٹریسے اتر گئی۔
گاما بس میں بیٹھنے لگا کہ اواز آئی یہ بس کھائی میں گر جائے گی، اور ایسا ہی ہوا۔
گاما جہاز میں بیٹھنے لگا کہ
اس کے کانوں میں اواز آئی کہ یہ جہاز کریش ہو جائے گا!!۔
۔
۔
۔
۔
گامے نے پوچھا تم کون ہو ؟
آواز آئی ۔ تمہارے مقدر کا فرشتہ!!!۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔گامے کی کراہ نکل گئی ہو پوچھنے لگا،
جس دن میری شادی تھی
اور میں سہرا باندہ کر گھوڑی پر چڑھنے لگا تھا!۔
تو
کیا

تمہارا گلا بیٹھ گیا ؟؟بد بختا!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میجر نے گھر فون کیا کہ
 میں تو چھٹی پر نکلنے ہی والا تھا کہ
بیرکوں میں
کچھ گندے میگزین ملے ہیں !، جس کے ذمہ دار سپاہیوں کو ڈسپلن سکھانے کی سزا دے کر ہی گھر آ سکوں گا۔
بیوی نے بڑے تاسف سے کہا کہ
اب کیا سجیلے جوانوں پر تصویریں دیکھنے کی بھی پابندی ہے کیا؟؟
میجر نے بیوی سے بھی زیادہ تاسف سے کہا
بھلیے لوکے
میں رائفلوں کے میگزین کی بات کر رہا ہوں ، جن کی صفائی کی ذمہ داری تھی ،سپاہیوں پر!!ْ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن ، جنت میں سائینس دانوں کی ایک ٹیم نے "خدا" سے کہا کہ
حضور اپ اپ کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے
اپ اب رٹائیر منٹ لے لیں!!۔
اچھا؟ وہ کیوں ؟ زرا اپنا موقف تفصیل سے بیان کرو!۔
ٹیم نے خدا کو بتایا کہ
ہم نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ انسان بنا کر اس میں جان ڈال سکیں ، جیسا کہ اپ نے اس دنیا کی ابتدا میں کیا تھا!۔
اچھا؟ زرا کر رکے دیکھاؤ!۔
سائینس دانوں نے مٹی کو کمہاروں کی طرح گوندہ کر جب اس کا پتلا بنانا ہی شروع کیا تھا
تو
خدا نے
ان کو کہا
نہیں نہیں ، پہلے مٹی بنا کر دیکھاؤ !!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا!۔
دنیا میں کچھ ملے نہ ملے
دو چیزیں کبھی نہ چھوڑنا۔
ایک ۔
۔
۔
۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
سموسے کے ساتھ ایکسٹرا"چٹنی" اور
دوسرا
گول گپّے کھانے کے بعد اس کا پانی!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھو ، بڑا ایکسائٹیڈ ہو کر اپنے ابے سے کہتا ہے
ابا جی ، مجھے بلیک بیری یا پھر ایپل لے کر دو!!۔
او کاکا ! انگلش میڈیم
میں سنگھاڑے لے کر ایا ہوں ، گھر جا کر پہلے وہ ختم کرو
،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماسٹر جی انگریزی کے پیریڈ میں پڑھا رہے تھے
اے فار ، ایپل
بی فار ، بڑا ایپل
سی فار ، چھوٹا ایپل
ڈی فار ، دوسرا ایپل
ای فار ، ایک اور ایپل
ایف فار ، فیر ایک ایپل
ہیارے بچو اب تم بتاؤ کہ
جی فار ، کیا ہوگا؟؟
گامے نے جو جواب دیا تھا وہ قابل تحریر نہیں ہے
میسج کر کے مجھ سے پوچھ لیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوی اور گرل فرینڈ میں کتنا فرق ہوتا ہے ؟؟
یہی کوئی
پنتالیس کلو گرام وزن کا !!!!۔

اتوار، 29 ستمبر، 2013

الفاظ کی ساخت

اگر بات کریں سکول میں گزارے تعلیی سالوں کی تو؟ اس وقت اردو میں بلاگ لکھنے والوں میں سب سے کم سال میں نے سکول میں گزارے هیں ـ
یه نہیں که میں بڑا ذهین تھا اور ایک ایک سال میں پٹوسیاں مارتا دو دو جماعتیں پاس کرتا گیا تھا۔ اس لئے کم سالوں میں زیادہ جماعتیں پاس کر لیں۔

 حقیقت یہ ہے که تکینک کی ترقی نے مجھے بھی اھل قلم میں شامل کر هی دیا ہے
کمپیوٹر کی تکنیک نے انٹر نیٹ کی تکنیک نے!۔
ورنہ میرے لکھے کو کس نے شائع کرنا تھا؟

اھل قلم جو زمانے کو الفاظ دیتے هیں ، الفاط رائج کرتے هیں
منو بھائی نے اپنے ایک ڈرامےسونا چاندی میں ایک لفظ دیا تھا '' بے فضول '' منو بھائی کا مقصد ایک لطیفه تھا
لطیفه نکلا ہے لطیف سے ، لطیف سی هوا
که نظر نهیں آتا اور دل کو چھو کرگزر جاتا ہے
یا کثیف سمجھ والوں کا نهیں لطیف سمجھ والوں کا کام ہے لطیفے کو سمجھنا
بے فضول جو که فضول ناں هو
اردو میں یه لفظ هی نهیں بنتا
لیکن بعد میں کسی انٹرویو میں منو بھائی نے اس تاسف کا اظہار کیا تھا که انہوں نے تو ایک لطیف سا مذاق کیاتھا لیکن معاشرے میں یه لفظ رائج هو گیا ہے
اردو مين بلاگ لکھنے والے یا وکی پیڈیا پر علمی کام کرنے والے لوگ بھی اب اس پوزیشن میں هیں که الفاظ کو رائج کرسکیں
لیکن سب سے پہلے تو ان لکھنے والوں کو احساس هونا چاھیے که یه کر کیا رہے هیں
ایک بلاگ لکھنے والے کا مقصد کومنٹ کا انتظار نهیں هونا چاھیے
بلکه یه سوج هونی چاھیے که انے والے زمانوں کے لوگ اپ کی تحریر پڑھ کر کیا سوچیں گے
جیسے که یه لوگ کیا کھاتے تھے کیا پہنتے تھے
ان کے عمرانی رویے کیا ھے
کن چیزوں پر ھنستےتھے اور کن پر مذمت یا پھر کڑتے تھے
وغیرھ وغیرھ
اگر کومنٹ کا حصول هی هو تو متنازعه موضوعات پر لکھيں
بدنام جو هوں گے تو کیا نام ناں هو گا
بد بن کے نام پیدا کرنا اسانی پسند لوگوںکا کام ہے اور مزے کی بات ہے که ان کو جب اس بات کا احساس هوتا ہے که یه راھ تو کانٹوں بھری ہے تو اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا هوتا ہے
میںاس دفعه جب دوبارھ جاپان ایا هوں تو دیکھا که لوگوں نے اکروں کو سکریپ کرنے کے کارخانے لگا لیے هیں جس کو سب لوگ کھائیتائی کہتے هیں کیونکه جاپانی میں یه لفظ رائج هے
اور یا پھر یارڈ کا لفظ رائج ہے
اور جو لوگ صرف گاڑیوں کی خرید فروخت کرتے هیں وه اپنی جگه کے لیے لفظ استعمال کرتے هیں پارکنگ
جاپان میں پاکستانی لوگ امیر تو هیں لیکن اھل علم نهیں هیں
لیکن زیادھ تر خود کو عقل کل سمجھتے هیں
سمجھیں بھی کیوں ناں جی که ایک بندھ ڈکریاں لے کر سالهاسال سکول جا کر ایم بی اے کرکے بزنس میں آتاهے اور یہان جاپان میں میری طرح کا ایک بندھ انڈر میٹرک گاڑیوں کے کام میں آتا ہے
نوے کی دھائی میں گاڑی مفت مل جاتی تھی جو که افریقه یا لاطینی امریکه جا کر دس هزار ڈالر کی هوتی تھی
هر مہنیے پندرھ بیس گاڑیاں ایکسپوٹ کرنے والا
اور کچھ هی سالوں میں انٹرنیشنل لیول کا بزنس میں بن جاتا هے تو جی
ایسا بندھ هوا ناں جی عقل کل ؟
اب ایسا بندھ ایم بی اے کیے هوئے ڈگری هولڈر کو ملازم رکھ سکتا ہے
تو ایسے عقل کل لوگوں کو ڈیل کرنا بھی بڑا مشکل ہے
خاص طور پر اگر آپ امیر نهیں هیں تو
پچھلے سال میں نے بھی کوئی ادھا ایکڑ زمین کرائے پر لے کر اس میں ورکشاپ سی بنائی اور جس نے بھی پوچھا که کیا کررهے هیں تو میں نے بتایا که ورکشاپ بنا رهاهوں
تو ایک دفعه تو اس نے چونک کر دیکھا اور بہت سے نے دھرایا
ورک شاپ
ان دنوں میں کتنے هی لوگوں سے اپنی اپنی جگه کھائی تائی هو که یارڈ کو ورکشاپ کہنے کا سن رها هوں
بارپی کیو کو هماری بولی میں تکه پارٹی کہا کرتے تھي لیکن میرو جاپان کے پچھلے زمانے میں کیونکه همیں بھی انگریزی کا شوق تھا اس لیے تکه پارٹی کو باربی کیو هی کہا اور یه لفظ کیونکه جاپانی زبان میں بھی رائیج تھا اس لیے سب نے اس کو باربی کیو هی کها
اس دفعه جاپان انے کے بعد بہت سے لوگوں کو تکه پارٹی کرتے دیکھا
اور میں نے تکه پارٹی کا لفظ بولا تو پہلے پہلے تو لوگوں کو اجنبی لگا لیکن اب کچھ دوست باربیکیو کو تکه پارٹی کہنے لگے هیں
جاپان زبان میں بھی کئی الفاط هیں که ان کو پنجابی میں مثال دے کر لوکوں کو اکر بتایا تو وهی ان کی زبان پر چڑھ گیا
میں ان الفاظ کی تفصیل نهیں لکھوں گا کیوں که جاپانی ناں جاننے والوں کے لیے ایسی بات بے مقصد سی هو جائے گي
اس تحریر کا مقصد یه نہیں ہے که میں بہت سیانا هوں بلکه اس کا مقصد یه بتانا ہے که هماری قوم کا اپنی زبانوں کا زخیرھ الفاظ بھی کم هوتا جارها ہے
اکر کوئی شخص خوش قسمتی سے ایسے ماحول میں پلا بڑھا ہے که جہاں پشتو پنجابی ،سندھی سرائیکی یا بلوچی کے الفاظکو سمجھنے کا موقع ملا ہے تو ایسے بندے کو باھر نکل کر احساس هوتا ہے که پاکستان کے لوگوں کا زخیرھ الفاظ گھٹتا جارها هے

ہفتہ، 28 ستمبر، 2013

میرے ہم جنس


کند ہم جنس باہم جنس پرواز ۔ چڑی بہ چڑی باز بہ باز۔
فارسی کے اس مقولہ کا سوا ستیاناس کیا ہے جی
ورنہ دوسرا حصہ ہے
کبوتر بہ کبوتر ، باز بہ باز
جنس " کا لفظ میں نے پہلی بار اپنے بچپن میں ، اپنے دادا جی کے منہ سے سنا تھا۔"
انہوں نے یہ لفظ گندم کی جنس کے متعلق کہا تھا۔
وڈانک نام کی گندم کی زندگی کے اخری سالوں کی بات ہے جب امریکی گندم نئی نئی پاکستان میں آئی تھی۔
وڈانک کے پودے اتنے بڑے ہوتے تھے کہ کھڑا ہوا آدمی ان میں نظر نہیں اتا تھا
وڈانک سے بھوسا زیادہ اور دانے کم نکلتے تھے۔
اور امریکی گندم کا بوٹا چھوٹے قد کا ہوتا ہے
یعنی کہ بھوسا کم اور دانے زیادہ۔
بھوسا کم ہو ا تو جانوروں کا کھانا کم ہوا اور انسانوں کا کھانا زیادہ ہوا۔
اگر کوئی لائی مخلوق یا عمارے جانور بولنے کے قابل ہو تا ہم انسانوں کو انسانوں کا ہم جنس کہیں گے
کہ جیسا ہم ان جانوروں کو ان کی جس کی وجہ سے ہم جنس کہتے ہیں ،۔
کبوتر بہ کبوتر باز بہ باز
گندم کی جنسوں کا دادا جی سے بچپن میں سنا ہوا ہے کہ
میں جنس کے لفظ کو کسی چیز کی " قسم" کے طور پر ہی لیتا ہوں۔
جسن کا انگریزی ترجمعہ سیکس ، تو لفظوں  کی معونیت ہی بدل دیتا ہے
ایک لطیفہ
کہ
سکول سے واپس آئی چھ سات سالہ بچی نے ماں سے پوچھا کہ
ماما وٹ از دا سیکس؟
ترقی یافتہ قوم کی ماں نے سوچا کہ بچی سکول جاتی ہے اس کو ان باتوں کا علم ہو ہی جانا ہے اس لئے بچی کو حقیت بتا دینی چاہیے اس لئے ماں نے اس کو بتایا کہ
وہ عمل جو میں نے اور تمہارے پاپا نے کیا تھا تو تمہاری ولادت ہوئی تھی!!!۔
بچی کا منہ بن گیا اور روہنسائی سی ہو کر اس نے ایک فارم ماں کو دیکھایا کہ تیچر نے یہ فل کرکے لانے کا کہا تھا
اس میں ایک چھوٹا سا خانہ سیکس کا بھی ہے
اب اتنی لمبی بات میں اس چھوٹے سے خانے میں کیسے لکھوں گی؟
اس لئے
جسن کے لفظ کو اگر جنس کے ہی معنوں میں لیا جائے تو جی ہو چیز کی کوئی جنس ہوتی ہے
انسان انسان کے ہم جنس ہوتے ہیں تو کبوتر کبوتر کے ہم جنس!!۔
میں جو کہ اردو کا ایک بلاگر ہوں !!!۔
میرے ہم عصر دوسرے اردو بلاگر میرے م جنس بھی ہوئے
اور میں ان سب کو پسند بھی کرتا ہوں ۔
لیکن اس کا مطلب وہ والی ہم جنس پرستی نہیں ہو گا۔
جس کو انگریزی سے ترجمعہ کرتے ہیں ۔
قارئین اگر اپ میرے ہم جنسی کی ڈیفینیشنز کو قبول کر لیں تو؟
خاور بھی ایک ہم جنس پسند بندہ ہے جو کہ اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل جل کر رہتا  ہے
اردو کی بلاگنک کیا ہے ؟
کیا اپ کو علم ہے کہ اردو کی انٹر نیٹ کی دنیا میں بہت سے لوگ ایک نیا ادب لکھ رہے ہیں ۔
اور بغیر کسی لالچ کے لکھ رہے ہیں ۔
ان کے لکھے کو اپ اخباروں میں لکھنے والے پیشہ وروں میں سے کسی بھی تقابل کر کے دیکھ لیں
کوئی فرق نظر نہیں ائے گا
اگر کوئی فرق نظر بھی ائے گا تو یہ
کہ
ایک بندہ پیسے لے کر لکھتا ہے اور پیسے کی گرمی سے پر اعتماد ہے اور دوسرا بندہ ( بلاگر) بے لاگ لکھ رہا ہے
اس لئے بلاگر کے لکھے میں ہمکار نہیں ہے
 مندجہ ذیل لنک پر کلک کر کے دیکھیں کہ
http://urdu.gmkhawar.net/
اردو میں بلاگ لکھنے والے کیسا لکھ رہے ہیں ؟
میں فرداً فرداً سب کے نام لکھ کر اپ کا وقت برباد نہیں کروں گا لیکن خود سے دیکھیں کہ اردو کی ایک عجب دنیا بسائی ہوئے ہے انہون نے!!۔
کیا اپ اس دنیا سے واقف ہیں ؟
تو پھر اپ میڈیا کے ذہنی غلام بنتے چلے جائیں گے۔
میڈیا کی ذہنی غلامی سے بچنا ہے تو
ان ازاد لکھنے والوں کو بھی پڑھیں
اپ اردو کے سب رنگ کی لسٹ پر نظر روڑاہیں
اور پھر ساتھ میں اجاگر تحاریر کو پڑہیں ۔
اپ کو ایکٹو بلاگر اور سست بلاگر نظر آئیں گے۔
اپ نے خود اس بات کا اندازہ کرنا ہے کہ کس کے علم سے اپ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟
اردو کے سب رنگ کوئی ایک سائیٹ نہیں ہے بلکہ ڈیڑھ سو بلاگروں کے ڈیڑہ سو سائیٹوں کا مجموعہ ہے، جہاں سے اپ ان سب کی سائٹوں ایکسس کرتے ہیں ۔
یہاں اپ کو بلاگ بنانے کی مدد کرنے والے بھی مل جائیں گے اور ان بلاگروں کی محفلیں جمانے والے بھی مل جائیں گے
آئیں
اگر اپ اس بلاگ تک پہنچ ہی گئے ہیں تو
اج سے
اردو کے بلاگورں سے تعارف حاصل کریں ۔
کہ انتر نیٹ صرف چند اخباروں کی سائیٹوں کا ہی نام نہیں ہے
بلکہ
سوشل میڈیا تو ہیں ہی یہ بلاگر!!۔
http://khawarking.blogspot.jp/2012/10/blog-post_21.html
یہ ہے سوشل میڈیا۔

جمعہ، 27 ستمبر، 2013

ہم جنس لوگ اور مذاہب

قدیم یونانیوں میں سے کسی نے لکھا تھا کہ
انسانی جسم کی ساحت اس طرح نہیں تھی جیسی کہ اج ہے
بلکہ انسان ایک گول بیضوی شکل کی کوئی چیز تھے ۔
جو کہ اپنی جگہ  مکمل جنس تھے
دیوتاؤں نے ان کو علیحدہ کر دیا ، جو کی وجہ سے یہ دو جسم  ، عورت اور مرد  بن گئے ۔
لیکن کچھ جسم ایسے بھی تھے جو دو ہو کر بھی جنس مخالف نہیں بلکہ  اپنی ہی جنس میں رہے ۔
کہ  مرد سے مرد اور عورت سے عورت۔
انسان کو جو جنس کی اشتہا ہوتی ہے یہ چیز اصل میں اپنے جسم کے دوسرے حصے کی تلاش ہوتی ہے ۔
کہ وصل کے دوران انسان بار بار اپنی اسی ساخت کی تکرار کرتا ہے جس میں دیوتاؤں  کے علیحدہ کرنے سے پہلے تھا ۔
دوسری قسم کے لوگوں میں بہت زیادہ ذہانت اور فن کاری بھی ذکر ملتا ہے ۔
دنیا کی کسی بھی معاشرت میں ہم جنس پرستی موجود ہوتی ہے جو کہ قدیم یونانیون کی اس  ناقابل ہضم فلسفے سے میل کھاتی ہے۔
لیکن دوسری طرف ،دنیا کے سبھی مذاہب ہم جنس پرستی کی مخالفت کرتے ہیں ۔
کیوں؟
کیونکہ مذاہب ، معاشرت میں سدہار اور استوار چاہتے ہیں ،
موجود انتشار کو جائز طریقے سے استوار کی شکل دیتے ہیں ۔
نسل انسانی کی بقا کی ہم سب کی بقا ہے اور اس بقا کا کوڈ اس بات میں ہے کہ انسان اپنے جیسے انسان پیدا کریں ۔
جو کہ جس مخالف کے ملاپ سے ہی ممکن ہے۔
قدیم مذاہب میں ترک دینا کا رواج پایا جاتا ہے
جو کہ جدید مزہب میں بھی سرایت کرتا چلا گیا
لیکن مجموعی طور پر معاشروں نے ایسے لوگوں جس بھی روپ میں عزت دی اس کے پیچھے جذبہ ترحم ضرور رہا ۔
لیکن ہم جنس پرستی کی کسی بھی مذہب نے تائد نہیں کی۔
لیکن کیا مذاہب کی مخالفت سے یا کہ پاکستان کے زیادہ ہی مذہبی معاشرے میں ہم جنس پرستی نہیں پائی جاتی؟
میرے خیال میں پاکستان میں تعلیم کی ضرورت ہے، تعلیم کی ، نہ کہ تعلیم کے نام پر مغالطوں اور مبالغوں کی!!۔
میں اپنی ایک پرانی پوسٹ کا لنک دیتا ہوں کہ
http://khawarking.blogspot.jp/2009/10/blog-post_05.html
یہاں دیکھیں  کہ چار سال پہلے لکھی اس پوسٹ میں میرا لہجہ کچھ زیادہ ہی تلخ اور اجڈ ہے لیکن امید ہے اپ لوگ پرداشت کرئیں گے

اور سات سال پہلے لکھی گئی یہ تحریر
http://khawarking.blogspot.jp/2006/12/blog-post_15.html

پیر، 23 ستمبر، 2013

دانش علم اور عقل

جاپان میں ایک سیاسی جماعت کے عہدے دار ہیں جی اعجاز رفیق صاحب ۔
ایک دن انہوں نے سوال جڑ دیا کہ
خاور صاحب دانش ور ، اور ادیب میں کیا فرق ہے؟
اعجاز رفیق کو تو میں نے اس جواب پر ٹرخا دیا کہ
دانش ور وہ ہوتا ہے  ، جس کے پاس دانش ہو
اور ادیب وہ ہوتا ہے ہے جو ادب لکھے۔
لیکن اج بات کرتے ہیں کچھ
دانش پر ، عقل پر اور علم پر
کہ
عقل مند وہ ہوتا ہے جو
موجود اور رائج کی سمجھ رکھتا ہو اور اس علم سمجھ سے فائدے اٹھاتا ہو ۔
 عقل مند اپنی زندگی کو مطمعن بناتا ہے ، موجود اور رائج  کاروباری معاملات معاشرتی معاملات کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرکے۔

دانش ور وہ ہوتا ہے 
جو موجود اور رائج کی کی سمجھ بھی رکھتا ہو اور اس موجود اور رائج سے مطعمن بھی نہ ہو۔
دانش ور کی سوچ میں ایک اضطراب ہوتا ہے ۔
دانش ور کا یہ اضطراب اس کو مسلسل ، موجود اور رائج چیزوں میں بہتری لانے پر مضطرب رکھتا ہے!۔
حتی کہ دانش مند ایک عقل مند کی عقل کو بھی بدلنا چاہتا ہے۔
عالم علم رکھتا ہے
اس کی مثال اس طرح دیتے ہیں کہ
عالم علم رکھتا ہے کہ
سچ ، معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لئے ایک ضروری چیز ہے
اور جھوٹ ، معاشرے کے لئے زہر ہے۔
عالم صرف اس چیز کا علم رکھتا ہے
لیکن عقل مند اس چیز کو سمجھتا ہے اور سچ کو اپنا لیتا ہے
اور جھوٹ کو چھوڑ دیتا ہے
لیکن دانش ور
اس بات کا بھی ادراک رکھتا ہے کہ  سچ اور جھوٹ کی سرحدیں کہاں ملتی ہیں ۔
سچ کہاں تک سچ ہے اور اس سچ اس سے بھی زیادہ کیسے خالص کیا جائے کہ سچ کا  امرت معاشرے کی جڑوں تک اتر جائے کہ سچ کا ثمر نسلوں تک جائے
اور جھوٹ کے زہر کو کیا کیا جائے کہ جھوٹ کو کونے میں لگا دیا جائے۔
جھوٹ سے نفرت پیدا کی جائے کہ جھوٹ کے نقصانات سے اگاہی ؟
اسی اضطراب کا نام ہے دانش!!۔
زندگی کی حقیقتوں اور صداقتوں کے ساتھ ساتھ زندگی کی قباحتوں اور کراہتوں کی سمجھ رکھنا ہی عقل مندی  نہیں ، بلکہ ان چیزوں کو اور اپنی ضرورتوں کو سمجھ کر، مفید کو اپنانا اور مضر کو چھوڑنا عقل مندی ہے۔
لیکن دانش ان سے بھی اوپر کی چیز ہے کہ مضر سے اجتناب تو کرتی ہی ہے لیکن مفید سے بھی اضطراب مں مبتلا ہوتی ہے کہ ، مفید کو مفید تر کیسے بنایا جائے ۔
عقل اور آگاہی زندگانی کے بند دروازے کھولتی ہے
اور عقل ؟
مال بنانے اور املاک پر قبضہ کرنے کو تنہائی کا علاج بتاتی ہے یا پھر دوسروں سے تعلق کو !۔
لیکن لوگوں کی صحبت ایک حد کے بعد ناقابل اعتبار ہو جاتی ہے اس لئے لوگ مال اور جائیداتوں کی صحبت میں جا بیٹھتے ہیں ،
یا پھر کتابوں کی دوستی میں غرق ہو جاتے ہیں
اور کچھ ناقص عقل والے میکدے کا رخ کرتے ہیں  ۔
لیکن دانش
زندگانی کے وہ راگ بھی سناتی ہے کہ جو عقل کی پرواز سے بہت وراء ہوتے ہیں ۔
دھوپ کی تپش میں سورج کا دیپک راگ، محسوس کرتے ہیں توپھولوں کی مہک اور رنگوں میں درختوں کو ملہار گاتے دیکھتے ہیں ۔
چٹانوں کے چٹکنے اور بجنے میں تلنک راگ اور جھیل کی لہروں میں کیدار کو سنتے بھی ہیں ، پہاڑوں کا پہاڑی راگ سننے دیکھنے اور محسوس کرنےکو دانش درکار ہوتی ہے
اور دانش ، آتی ہے اضطراب سے!!!۔
کہ
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ ترے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

جمعہ، 13 ستمبر، 2013

فیس بک اور خاور کھوکھر

میں فیس بک پر کیوں ہوں ؟؟
اس لئے کہ فیس بک نے میرا اکاؤنٹ بنا کر مجھے میل کرنا شروع کر دیا تھا!!!۔
جب فیس بک نئی نئی آئی تو ، میں اس کو جوائین کرنے سے ہچکچتا رہا
لیکن پھر میلیں انی شروع ہو گئیں کہ فلاں بندہ اپ کا فیس بک پر انتظار کر رہا ہے
فلاں بندہ یہ کر رہا ہے فلاں وہ کر رہا ہے
حالنکہ میں نے فیس بک کا اکاؤنٹ بنایا ہی نہی تھا
اس لئے میں ایسی میلوں کو "سپام" میلیں سمجھتا رہا ۔
اس لئے میں  نے ان میلوں کو اگنور کرتے ہوئے اپنا اکاؤنٹ بنانا چاہا تو؟
فیس بک نے بتایا کہ اپ کے اس ای میل ایڈریس پر اکاؤنٹ بن چکا ہے ۔
"لوسٹ پاسورڈ" پر جا کر  پاسورڈ منگوایا
تو
علم ہوا کہ ای میل سے ملتا جلتا کسی فی میل کا اکاؤنٹ بن چکا ہے
جس کی انفارمیشن کا  کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے میرا نام " مصطفٰے خاور" بن گیا۔
جس کو بدلنے کی کئی کوششیں کی لیکن میں اپنی سی کوشش کے باوجود بھی اس نام کو خاور کھوکھر نہیں کر سکا۔
قصہ مختصر کہ فیس بک کے اکاؤنٹ بنا بنا کر بانٹنے  کی اس ادا نے فیس بک کو گھر گھر پہنچا دیا ہے
ورنہ فیس بک سے پہلے کی کسی بھی سائٹ پر اکاؤنٹ بنانا  ، ایک پروجیکٹ ہوا کرتا تھا، اسان یا مشکل ، لیکن یہ کام خود ہی کرنا پڑتا تھا ۔
اب جب اکاؤنٹ بن ہی گیا تو میں نے بھی پہلے پہلے کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ اور اب کھل کر فیس بک  کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بات یہان تک پہنچ چکی ہے کہ
دھڑا دھڑ پیج بن رہے ہیں ، جس بندے کو تھوڑی سی بھی سمجھ بوجھ ہے وہ ایک نیا پیج بنا دیا ہے
لیکن
اس بات کی سمجھ بوجھ والے لوگ کم ہی ہیں کہ
جس پیج کے ممبر ہیں اس پیج پر دوسروں کے ساتھ مل کر چل سکیں ۔
پاکستانی قوم کی سب سے بڑی خامی جو کہ میری نظر میں ہے
وہ ہے
اجتماعی زندگی کا شعور نہ ہونا۔
ہمیں تعلیم ہی یہ دی گئی ہے ، میں اور تو، میرا اور تیرا، میں اور میرے دشمن، اونچ اور نیچ۔
 عمل کے ردعمل کی تعلیم ہے
اور عمل  ہم نہیں دوسرے کرتے ہیں
ہم صرف ردعمل کرتے ہیں ۔
اور پھر ہم اس پیج کو چھوڑ دیتے ہیں اور اسی وقت دوسرار پیج بنا کر اس کے ایڈمن بن جاتے ہیں ۔
لیکن
جس طرح مجھے اجتماعی زندگی کا شعور نہیں ہے اسی طرح میرے اردگرد کے لوگوں کو بھی اجتماعی زندگی کا شعور نہیں
تو
جب میں کسی کے ساتھ مل کر نہیں چل سکا تو " کوئی " میرے ساتھ کیسے چلے گا؟
یہاں جاپان میں ، راشد صمد خان نے  ایک پیج بنایا ہے جس کا نام ہے ۔
Pakistani in Japan.
راشد نے اس پیج میں مجھے بھی شامل کیا۔
میں جو کہ اپنی ہی وال پر لکھتا ہوں ، کمیونٹی میں اپنی پہچان کے لئے اس پیج کی وال پر بھی اپنی لکھی ہوئی چیزوں کو " شئیر" کرنے لگا۔
اپنے بڑے محترم دوست ہیں شاہد رضا چوہدری صاحب !جو کہ ہمارے پریس کلب کے صدر بھی ہیں ، انہوں نے گروپ کو جوائین کیا
اور بقول شخصے اس کو پوسٹوں کے جلاب لگ گئے ۔
راشد نے اس کو گروپ سے بین کر دیا
چوہدری صاحب نے اسی دن دوسرا گروپ بنا  لیا
اور گروپ کا نام بھی وہی رکھ لیا۔
یہ ایک مثال ہے
اسی طرح کے کام دوسرے بھی کریں گے
اور کچھ لوگوں نے سٹارٹ بھی  لے لیا ہے ۔
جہاں تک میرا تعلق ہے
میں اس گروپ کے ساتھ اس وقت تک چلوں گا
جب تک کہ اس گروپ میرے علاوہ کوئی بھی دیگر افراد شامل ہیں ۔
نہ تو مجھے کوئی اور گروپ بنانے کی ضرورت ہے
اور نہ ہی ایسا کرنا ضروری ہے۔
میں نے کمیونٹی کے لئے مثالیں قائم کرنی ہیں ۔
جیسے کہ روز نامہ اخبار جاپان کا قیام ۔
http://gmkhawar.net/
یہاں میں  بغیر اشتہاروں کے لالچ کے ایک مثال قائم کی ہے کہ
اس وقت جاپان سے متعلق خبروں کی اردو زبان میں اس سائٹ سے بڑی سائٹ انٹرنیٹ کی دنیا میں نہیں ہے ۔
دوسری مثال  پاکستانی ان جاپان میں رواداری اور برد باری ، اور غیر جانبداری کے ساتھ باہمی دلچسپی کی باتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش ۔
اس گروپ میں شامل دوست لوگوں کو میں کہوں گا
کہ
اجتماعی زندگی کا شعور حاصل کریں ، ہم جاپان میں ہیں اور جاپانی قوم میں اجتماعی زندگی کا شعور دنیا کی کی بھی قوم سے زیادہ ہے۔
تو کیوں نہ اس قوم سے یہ چیز بھی حاصل کر لیں ، جہاں ہم نے اس قوم سے دولت اور مال حاصل کیا ہے ۔
یاد رکھیں کہ اگر اپ ایک گرپ کو ، انجمن کو ، محفل کو چھوڑکر چلے جاتے ہیں
تو یہ اپ کی ہار ہے
کہ اب آپ " اِن" کے لئے مر چکے ہیں ۔
باقی  جہاں تک بات ہے خود نمائی کرنے والوں کی!۔
تو سر جی اس کا ایک ہی حل ہے
کیا
نرگیست کے ماروں کو نظر انداز کرنا ان کی سب سے بڑی سزا ہوتی ہے۔
ایک لطیفہ سناؤں آپ کو ؟؟
۔
۔
۔
 وال پر نظر رکھیں !۔
لطیفے بہت ، بلکہ میں تو شعر بھی لکھوں  گا۔

جمعہ، 23 اگست، 2013

مامور فرشتے

وہ جو میرے حفاظت پر مامور ہے
وہ
دہشت  گردوں پر صرف نظر رکھتا ہے ۔
وہ جو میری سرحدوں کا محافظ ہے
وہ
ڈورون حملہ آوروں کا سٹریجک پارٹنر ہے ۔
جی ہاں میں اسی کی بات کر رہا ہوں جو
خود نمائی میں یکتا ہے
اور میرے لوگوں کو غائب کر کے ان کو مار دیتا ہے
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130822_karachi_dead_bodies_rh.shtml
وہ جو میری حفاظت پر مامور ہے ۔
دشمن کے حملے میں تباھ ہوجانے والے کسی شہر  کی کسی  گر نہ سکنے والی چمنی پر بیٹھے
اس چیل کی طرح میری حفاظت کا فریضہ انجام دے رہا ہے
جس کی نظر مردار پر ہے کہ
رقبوں اور پلاٹوں پر ؟
وہ جو میری عزتوں کے تحفظ کے دعوے کرتا ہے
وہ
شہوت کی سپلائی میں مصروف ہے۔
ہاں جی ہاں وہ فرشتہ ہے
میں ہی "کملا " ہوئے جا رہا ہوں ۔
وہ جو میری حفاظت پر مامور ہے
وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!۔

Popular Posts