جمعہ، 10 جنوری، 2014

انتہا پسندی اور لطیفے

آج کے پاکستان میں مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی کی “انتہا” ہے ۔
اور
میں ، مذہبی اور سیاسی انتہا پنسدی کے خلاف ہوں ،لیکن اس مخالفت میں ، انتہا پسند نہیں ہوں ، کہ کم علمی اور جہالت کے عذاب میں مبتلا پاکستانی لوگ بھی میرے اپنے لوگ ہیں !۔
کہ میں ان میں سے ہوں اور ان کے ساتھ ہی پہچانا جاتا ہوں ۔
میں دیکھ رہا ہوں کہ فیس بک ہو یا کہ کوئی اور پلیٹ فارم ، لوگ یا تو مذہب کی بات کرتے ہیں اور یا سیاست کی ۔
لیکن ہر دو لوگ نہ تو مذہب کا ہی علم رکھتے ہیں اور نہ ہی سیاست کی ڈیفینیشنز سے واقف ہیں ۔
اب میں اس بات کا ذمہ دار تو ہوں نہیں کہ ان لوگوں کو  “اصلی دین” کی باتیں سمجھاؤں ، یا کہ سیاسی پارٹیوں کے کارنان کو یہ سمجھاتا پھروں کہ
سر جی!!جس کو تم سیاست کہہ رہے ہو یہ شخصیت  پرستی ہے۔ اور  اپ کو اتنے زیادہ مغالطے لگ چکے ہیں کہ ، دور ہوتے ہوتے بھی ایک زمانہ لگے گا ۔
اس لئے
میں فیس بک پر ۔
اور دوسرے پلیٹ فارموں پر “ادب” کی بات کرتا ہوں ۔
شاعری ، بولیاں ، ٹپّے ،ماہئے ، غزل کی حد تک ہی ادب نہیں ہے ۔
اس ساغر میں  افسانے ، کہانیاں ، داستانیں ، لطیفے اور قہقہے بھی ہیں ،۔
سماعتوں پر بار ، سیاسی بحثیں ، روحوں کو آلودہ کرتی مذہبی محفلیں   جہان ذہنوں کو پراگندہ کر رہی ہیں ، وہیں ، ہم جیسے بھی ہیں جو ، چٹکلے چھوڑ کر محفلیں گرماتے ہیں ، اگر چہ کہ اسی محفل میں نادان وہ بھی ہوتے ہیں جو لطیفہ سن کر افسوس بھرا منہ بناتے ہیں ۔ اور مجھے “نیک” بننے کی تلقین شروع کردیتے ہیں ۔
یہاں تاتے بیاشی اور اردگرد کے کتنے ہی “مذہبی “ لوگوں کی منافقتوں ، غلاضتوں ،  کا میں  خود گواہ ہوں ، لیکن جب میں گانا سنتا ہوں تو وہی لوگ ، ناک میں ہنسی اڑاتے ہیں  ۔
جب میں لطیفہ سناتا ہوں تو ؟ ان کو ہاسا ایسے نکلتا ہے جیسے قبض کے مریض کو پاخانہ نکلتا ہے ۔
ان کو شعر سنائیں تو؟ ان کا رویہ  ہورا ہے
کہ “ مجھے وچلی بات “ تک کی سمجھ لگ گئی ہے
لیکن ان کو الفاظ کے معنی تک معلوم نہیں ہوتے۔
آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی  ٹرپ
صبح دم کوئی بالائے بام آیا تو کیا آیا
اس لفظ بسمل کی سمجھ تو ہے نہیں ۔
اور
ہنسی اڑاتے ہیں ۔
چلو جی کچھ لطئفے ہو جائیں ۔
کہ
شادی کی پہلی رات کی صبح ، صبح سویرے خاوند نے نئی نویلی دلہن کے منہ پر پانی ڈال دیا
اللہ کی بندی ہڑبڑا کر اٹھی ،اور اپنے “خصم “ سے سوال کیا کہ
بہن چودا ! اے کی کیتا ای؟؟
خاوند نے جواب دیا کہ تمہاری ماں نے کہا تھا کہ میری بچی! پھولوں کی طرح ہے ،اس کو مرجانے نہیں دینا !!۔
۔۔۔۔۔
معاشرتی امن کے لئے خطرناک حرف کون سا ہے؟؟
“ ک”
کیوں ، وہ کیسے ؟
ہو گئے ناں شروع۔
 کیوں ؟
کہاں ؟
کون؟
کیا؟
سب لڑائی کے لفظ “ ک” سے شروع ہوتے ہیں
 بلکہ
کسی کتّی کے بچے کی کدورت بھی “ک” سے ہی شروع ہوتی ہے
۔۔۔
میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ “ دھو کے” کھائے ہیں دوستوں !!!۔
، انگور ، سیب ، امرود ، آم ،اور ہاتھ!!۔
آپ بھی دھوکے کھایا کرو دوستو!!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بندے  کی بیوی بہت ہی بیمار تھی ۔
مہینوں سے ہسپتال میں داخل تھی
اخر ایک دن ڈاکٹر نے  بندے کو  ہمت  دلاتے ہوئئے کہا
کہ اللہ کی مرضی میں کس کو دخل ہے ، اب تم کو حوصلہ کرنا ہی ہو گا کہ
تمہاری بیوی بس دو ہی دن کی مہمان ہے ۔
بندے نے ڈاکٹر کے الفاظ سے ممنون ہوتے ہوئےکہا
ٹھیک ہے ڈاکٹر ساحب یہ دو دن بھی نکال ہی لیں گے جیسے تیسے کر کے ، جہاں اتنا عرصہ نکالا ہے !!!۔
۔۔۔۔
لڑکی نے اپنئ منگیتر سے کہا
کہ اب تم لڑکیوں کو دیکھنا چھوڑ دو!!۔
تم اب میرے منگیتر ہو۔
ہیں ؟؟
کیا مطلب ۔ کہ جب میرا پیٹ بھرا ہو تا میں مینیو بھی نہیں دیکھ سکتا؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نئے دور کے بچے !!۔
کنڈرگارٹن میں ایک بچے نے استانی سے پوچھا کہ میں اپ کو کیسا لگتا ہوں ؟
استانی نے مسکراتے ہوئے اس کے گال چھوئے اور کہا
کہ بہت ہی پیارے!!۔
بچے نے ساتھ بیٹھے اپنے ساتھی بچے کو کہنی ماری اور کہا۔
میں کہتا تھا ناں کہ لائین مارتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
باقی فیر سہی !!۔

اتوار، 5 جنوری، 2014

امرمالمعروف اور نہی عن المنکر

مجھے ان بزرگوں کا چہرہ یاد نہیں آ رہا کہ کون تھے
لیکن ان کی طنزیہ ہسنی ، اور ہنگورا مجھے یاد ہے کہ
جرنل ضیاع کے دور میں جب انہوں نے
امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔
پر تبصرہ کیا تھا۔
کہ اچھا ؟؟؟
اب ! امرمالمعروف اور نہی  عن المنکر ہو  گا ؟
مجھے اس وقت کی  اپنی فیلنگ یاد ہیں کہ ایسا لگا تھا کہ یہ بزرگ  ، اس ڈرامے کے مضحکہ انگیز نتائج سے بھی واقف ہیں ۔
اور ایک اسلامی روایت کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔
اج اس بات کے پینتیس سال بعد ، میں اپنی انکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے رواج کے کیا نتائج نکلے ہیں ، اور یہ نتایج کتنے ہی بھیانک ہیں ۔
امر بالمعروف یعنی نیکی کا حکم کرنا، اور نہی عن المنکر یعنی کہ برائی سے منع کرنا ۔
اج میں دیکھ رہا ہوں کہ نیکی کے حکم اور برائی سے منع کرتی ہو پروان چڑہی ، پاکستان کی یہ دوسری نسل ہے ۔
ہر بندہ “ دوسرے “ کو نیکی کا حکم کر رہا ہے
اور
ہر دوسرا بندہ اپنے دوسروں کو برائی سے منع کر رہا ہے۔
لیکن  نیکی اور بدی کی تعریفیں ہی بدل کر رہ گئی ہیں ۔
نیکی کا حکم بھی دوسرے کو ہی کرنا ہے
اور برائی سے روکنا بھی دوسرے کو ہی ہے۔
خود ! نہ نیکی کرنی ہے اور نہ برائی سے باز آنا ہے ۔
اردو کا یاک محاورہ تھا
کہ دوسروں کو نصیحت ، خود میان فضیحت ۔
پنجابی میں کہیں گے
آگا دوڑ تے پیچھا چوڑ۔
اب پاکستان  بننے کے بعد ہندو بھی نہ رہے ، سکھ بھی نہ رہے  ، اس لئے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام اب مسمانوں پر ہی کرنا باقی تھا
اور اب سبھی مسلمان دوسروں کو مسلمان کرنے میں لگے ہیں ، اور جس کو “ان” کے اسلام  کی سمجھ نہ لگے “وہ “ کافر” ہے ۔
سنی کے لئے پہلے وہابی کافر ہوا کرتا تھا
لیکن
اب سنی کے لئے سبھی کافر ہیں ۔ اور یہی حال وہابی کا ہے کہ سوائے اس کے سبھی کافر ہیں ، اور یہی حال شیعہ کا ہے ۔
کہیں سے بچھوؤں کی بارات گزر رہی تھی  ،
کسی نے پوچھا کہ تم  میں سے کون سب سے زیادہ زہریلہ ہے ؟
اس کو جواب ملا کہ
کسی کی بھی دم پر پاؤں رکھ کر دیکھ لو ، یہاں ایک سے بڑہ کر ایک ہیں ۔
یہی حال اج پاکستان کے مسلمانوں کا ہے
ایک سے بڑھ کر ایک زہریلا مسلمان ہے ۔
علم عقل کا حال یہ ہے کہ
پنجابی کے محاورے کے مطابق
جنہاں دے گھر دانے
اونہاں دے کملے وی سیانے۔
جس کا کاروبار چل نکلے ، وہ بہت ہی سیانا ہے ، عقل اور علم بے شک نہ  بھی ہو۔
یہاں جاپان میں اج کل ایک بہت ہی سیانے بندے کے علم کا یہ حال ہے کہ
وہ بندہ ایک مذہبی تنظیم میں شامل ہو گیا ، بڑی ہی منظم تنظیم کا نیا نیا رکن بنا تھا ، کہ کسی تنظیمی محفل میں مذہبی نالج بڑھانے کے لئے سوالات کیے جا رہے تھے ۔
ایک سوال تھا کہ وصال کے وقت بنی اکرم ، کس زوجہ محترمہ کے ساتھ سے ؟
ان صاحب نے بھی ہاتھ بڑہا بڑہا کر اٹھایا
محفل کے امیر نے سوچا کہ ایک تو سوال اسان ہے دوسرا ان نئے رکن کی حوصلہ افزائی ہو جائے گی
اس لئے اسی سے پوچھ لیتے ہیں ۔
تو جی
ان صاحب کا جواب تھا  “ بی بی فاطمہ” ۔
اس طرح کی کئی مثالیں ہیں کہ ان کو بقول شخصے ، استنجے کا بھی علم نہیں ہوتا اور چل پڑتے ہیں
امر بالمعروف و نہی عن المنکرکو لے کر ۔
اسلام کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے جی ان امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ٹھیکیداروں نے ۔
کسی بھی پاکستانی کے سامنے کہیں کہ  میں سادہ کھانا کھاتا ہوں ۔
وہ اپ کو تعلیم دینے لگے گا کہ
ہان ہمارا دین بھی تو ہی بتاتا ہے ۔
میں رات جلدی ہوجاتا ہوں ۔
ہاں ہمارا دین بھی تو ہی بتاتا ہے ۔
میں  روادری کا قائل ہوں ۔
ہاں ہمارا دین بھی تو ہی بتاتا ہے ۔
تو پھر انہی دیا!!۔
تمہارے دین کا بنایا ہوا کوئی بھی ملک ان روایات کا حامل کیوں نہیں ہے ؟؟
تو جواب ملتا ہے کہ اس میں دین کا کیا قصور ؟ یہ تو ماننے والوں کا قصور ہے !۔
ہاں جی پاکستان والوں کا دین وہ دین ہے جو اپنے ماننے والوں  سے بھی اپنا اپ “منوا” نہیں سکا۔
کیا خدا کا دستور بھی عبوری ہے کہ چودا سو سال میں رائج نہیں ہو سکا ۔

بدھ، 1 جنوری، 2014

لطیفے

استاد گامے سے : چاند پر پہلا قدم کس نے رکھا تھا ؟
گاما: نیل آرم سٹرانگ نے!!۔
استاد : اور دوسرا قدم کس نے رکھا تھا؟
گاما: نیل آرم سٹران کیا “لنگا” تھا ؟ دوسرا قدم بھی اسی نے رکھا ہو گا!!۔




سکول جاتے ہوئے رونے والے بچے کے باپ نے کہا
اوئے شیر بن شیر ، شیر کے بچے روتے نہیں ہیں ۔
بچے نے ترنت جواب دیا ، تو شیر کے بچے  سکول بھی تو نہیں جاتے نہ!!۔



پاکستان وہ ملک ہے جہاں فاصلہ “منٹ پر گھنٹہ” ناپا جاتا ہے ۔
اسلام اباد سے لاہور کے لئے نکلنے والا بندہ ، اپنے دوست کو فون پر کہتا ہے ۔
بس یار پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں !!!۔




ساقے کو مسخریاں سوجھ رہی تھیں کہ اس نے گامے سے پوچھا۔
اوئے گامیا ؟ اگر تم جنگل میں جا رہے ہو اور شیر نکل آئے تو کیا کرو گے؟
گاما: میں درخت پر چڑھ جاؤں گا!۔
ساقا: اور اگر شیر بھی درخت پر چڑھ گیا تو؟
گاما: میں پانی میں کود جاؤں گا!۔
ساقا: اور اگر شیر بھی پانی میں کود گیا تو؟
گامے کے ہونٹوں پر چبھتی ہوئی ہنسی پھیل گئی ،اور اس نے ساقے سے پو چھا ، اوئے ساقیا! تم نے کیا شیر کو بہن دی ہوئی ہے ؟ جو شیر کی ہی سائڈ مار رہے ہو؟؟





یہ صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہے
  
کہ
جب شیمپو ، بوتل میں سے ختم ہو جائے تو؟ پانی ڈال کر اس کو ایک دفعہ تو نہا ہی لیا جاتا ہے ۔
توتھ پیسٹ کے ختم ہونے پر ٹیوب کی تشریف پھاڑ کر اس کا اندر صاف کر کے بھی کام چلا لیا جاتا ہے ۔
سبزیاں کتنی بھی خرید لیں ، پیسے کتنے بھی ہوں ، دھنیا مفت کا ہی مانگیں گے۔
ساری قوم سونے کی قیمت پر پریشان رہے گی حالانکہ خریدنا کسی کو بھی نہیں ہوتا ہے ۔
اپنے ریموٹ کنٹرول کو مار مار کر کام چلاتے رہیں گے ، بیٹری نہیں چینج کریں گے۔
شادی کے کھانے کی دعوت والے دن ، صبح کا کھانا گول کر جائیں گے کہ اج شادی پر “لِڑ” مارنی ہے ۔
پرانی قمیض کو کام پر لگا لیں گے ، اور جب کام کے بھی کام کی نہیں رہے گی تو ؟ اس کا “پوچا” بنا لیں گے۔
گھروں میں چینی کے بہترین “ ٹی سیٹ” ہوں گے ، لیکن صرف مہمانوں کی آمد پر ہی نکلیں گے ۔
پراؤڈ آف پاکستانی!!۔





دوستوں یاد رکھنا ، فلمیں صرف تین چیزوں سے چلتی ہیں ۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
ریمورٹ ، ٹی وی اور ڈی وی ڈی پلئیر سے!۔

جمعرات، 26 دسمبر، 2013

ہند کی ذاتیں اور پاک قوم

اگرچہ کہ پرانوں میں لکھا ہے
کہ وہ بندہ جو دھرم بھاؤ والا ہو ، جس کے کھانے پینے اور پہننے میں اصول اور ضوابط ہوں ، جو پربو ( خدا) کی عبادت میں مگن رہتا ہو ،
اس کو معاشرے کا معزز ترین بندہ تسلیم کیا جانا چاہئے ۔
اس کو برہمن کا نام دیا گیا ۔
وہ جو اپنے جان کی بازی لگا کر وطن کی ،دھرتی ماں کی حفاظت کرتا ہے ،
اگرچہ کہ اس کے قول  میں کبھی جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے اور کھانے میں نشے  کی بھی احتیاط نہیں کرتا ، اس کو معاشرے میں دوسرا درجہ دیا جائے گا ۔
اور اس کو کشھتری کہیں گے۔

اسی طرح دوسری  جاتیوں کا  کا انتطام ہے کہ ان کی بھی ڈیفینیشنز بنائی گئیں ۔
تیسری کاسٹ “ویش “ کی ڈیفینیشنز ہیں
کہ وہ لوگ جو سیکھے ہوئے کام کرتے ہیں اور اپنے اولادوں کو بھی سکھاتے ہیں  ۔ یعنی کہ سیکھے اور سکھائے ہوئے کام کرنے والے لوگ ۔
کمہار ، جولاہے ، ترکھان لہار وغیرہ ، ۔
 لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسا کہ مذاہب کے ساتھ ہوتا ہے ان کی تعلیمات  میں بدعدتیں اتی جاتی ہیں  ، اسی طرح یہ ہوا کہ
برہمن کا بیٹا برہمن ہی کی طرح ٹریٹ کیا گیا ، چاہے کہ اس کی عادات نیچوں جیسی ہی کیوں نہ ہوئیں ،۔
پے در پے بیرونی حملوں نے ہند کے کشھتریوں کو اہم سے اہم درجات پر بلند کر دیا ۔
پہاڑوں سے اتر کر انے والے  اجڈ اور وحشیوں کے حملوں سے تحفظ یہی کشھتری کیا کرتے تھے  ۔
پھر بیرونی حملہ آوروں نے “ اسلام “ متعارف کروایا ، جس میں پہلی بار ہند کے لوگوں کو انسانوں کی برابری کا علم ہوا۔
ہند میں برابری کے نام پر اسلام لانے والوں نے چند ہی صدیوں میں ہند کے ذات پات کے اصولوں اور روایات کو مشرف اسلام کرلیا ۔
برہمن کی جگہ ، اسلام نے سید کو متعارف کروایا ۔ ہند کے زیادہ تر علاقوں میں  سود خور مہاجن کو “شاھ جی” کے نام سے پکارا کرتے تھے ، بادشاہ کی طرح کا بندہ جو کہ دولت مند ہوتا تھا ، اس کو شاھ جی کہتے تھے ، جب برہمن کا اسلامی ایڈیشن نکلا تو ہند کے سیانوں نے ان کو بھی شاھ جی کا نام دے دیا ، اس نام کو دینے کے پیچھے کیا رمزیں تھیں ان پر اپ خود سوچ بچار کریں کہ یہ ناقابل تحریر ہیں ،

لیکن جو بھی دھرم ہوا کہ مذہب ،اس نے ہند کے ذات پات اور چھوت چھات کو برقرار رکھا۔ پھر انگریز آ گیا ، جس نے برابری کا نظام متعارف کروایا ، بلکہ  اپنے ملک میں تو اس کو رائج کرکے دے دیا ،
انگریز کو برابری کا یہ  نظام دینے کی وجہ سے قدرت نے جو عروج دیا ہوا ہے اس کی  نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی ۔
لیکن اس انگریز کے گماشتوں نے بھی  ہند میں ہندو کو اسی ذات پات میں مبتلا رکھا اور مسلمان نے پیری مریدی کے نظام میں مبتلا کرکے اسی ذات پات کے نظام کو برقرار رکھا ۔
لیکن انگریز کے سو سالہ نظام کی وجہ سے کچھ تعلیم اور روشنی تھی کہ قدرت کا نظام کہ
تیسری جاتی (ویش) کے لوگوں کو اپنی وقعت کا احساس ہونے لگا۔
کہ ہم بھی انسان ہیں ۔
اور کچھ یہ ہوا کہ ہند کی تقسیم ہو گئی
اور کمیوں ، کسانوں اور کاریگروں کو پاکستان مل گیا ۔
یہاں اب ان لوگوں نے اپنی صدیوں کی بے وقعتی احساس مٹانے کی کوششیں شروع کر دیں ۔
پیشے ، شرمناک چیز بن کے رہ گئے ،ہر کسی کو اپنے دادے کے پیشے پہ شرمندگی ہونے لگی ۔
اکثریت کی سوچ کہ ،پیشے کو چھپانے کی کوشش میں کیا کیا جائے کہ لوگ مجھے نیچ نہ سمجھیں ؟
لیکن اس بات کا احساس نہ ہوا کہ کون نیچ اور کون اٗچار؟
جب میں کمہار ہوں تو پڑوسی جولاہا نہ ہوا تو لوہار ہو گا۔
ہر حال میں خود کو چھپانے کی کوشش کی گئی ۔ جن کے داوں کی آئل ملیں تھیں ان کو تیلی کی بجائے ملک کہلوانے میں پناھ ملی ۔
سرامک انڈسٹری والوں کی اولادیں کمہار کہلوانے کی بجائے “رحمانی” کہلوانے لگیں  ۔
http://khawarking.blogspot.jp/2006/10/blog-post_26.html
لیکن ہر کسی کے اپنے نام کے لاحقے یا سابقے میں اس بات کا خیال رکھا کہ
میں ایک بے پیشہ بندہ ہوں ،۔
ملک صاحب ، شیخ صاحب ، سید صاحب  ، چوہدری صاحب  ، ان کے نام سن کر بندہ کسی پیشے کا اندازہ نہیں لگا سکتا ۔
وہ لوگ جو اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتے تھے ، انہوں نے اپنے نام کے ساتھ اپنی گوت کا اضافہ کرکے ، اپنے پیشے کو چھپانے کی کوشش کی ۔ جیسا کہ کھوکھر ، بھٹی ، رانا وغیرہ ۔
کچھ یہ بھی ہوا کہ زمانے کی ہوائیں بدلنے لگیں ، پیشوں میں بھی ایک تنوع پیدا ہوا ،۔
اب باٹا والوں کو موچی تو کہنے سے رہے ۔ یا کہ فونڈری کے کام والے کو لوہار !!۔
حالانکہ مسواکیں بیچنے والا بھی تو ایک قسم کا ٹمبر مرچنٹ ہی ہوتا ہے ۔
یہ ساری چیزیں دیکھ کر مجھے
جاپان کے شہنشاہ میجی ، ( 1852to  1912) کا ایک تاریخی کام یاد آ گیا
کہ
شہنشاہ نے اپنے دور میں ایک حکم کے ذریعے سب لوگوں کو ایک خاندانی نام چننے کا کہا،۔
اس حکم کے تحت ہر جاپانی کا ایک نام ہو گا  اور ایک اس کا خاندانی نام ہو گا ۔
یعنی ہر بندے کا نام کے دو حصے ہوں گے،
نام ، اور فیملی نام !۔
فیملی نام نسل در نسل چلے گا
اور نام وہ ہو گا جو والدین کسی بھی بچے کا رکھیں گے ۔
اور یہ خاندانی نام چننے کا حق لوگوں کو دے دیا گیا ، یا یہ کہہ لیں کہ ان لوگوں کو جس نام چیز سے یا بات سے ان کے قریبی لگ پہچانتے تھے ، وہ الفاظ ان کا خاندانی نام ہوں گے۔
حکومتی اہلکارا، سارے ملک میں پھیل گئے ۔
اس کام کے لئے کہ مردم شماری اور لوگوں کے نام رجسٹر میں چڑھانے کے لئے۔
لوگوں  کا فیمل نام چننے کا طریقہ کچھ اس طرح تھا کہ
اپنے گاؤں محلے میں جو خاندان پہلے ہی کسی نام سے پہچناے جاتے تھے ، ان کا فیملی نام بھی وہی لکھ دیا گیا ۔
جس کی مثال اگر میں پنجاب کے دیہاتی ماحول سے دوں تو کچھ اس طرخ کی بنتی ہے ۔
ٹاہلی والئے ، بیری والئے ، سارنگی، وغیرہ۔
شہنشاہ کے اہلکار جب کسی دیہات میں پہنچتے تو  ایسا بھی ہوا کہ
ایک گاؤں کے مشرق کے لووں کو “مشرقی” مغرب کی طرف کے لوگوں کو “مغربی” اور اسی طرح شمال اور جنوب والے  کا نام دے دیا ، اور گاؤں کے درمیان والوں کو “ وچکارلے “ کا نام دے دیا۔

بہت سے دیہاتی علاقوں میں اس حکم کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ایک وقتی ابال ہے جو کہ جلدی  ہی بیٹھ جائے گا اور معاملات اسی طرح چلتے رہیں گے جیس کہ اب تک چل رہے تھے ۔
اس لئے جب کچھ دیہات میں حکومتی اہلکار پہنچے تو ، لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے ۔
جب ان سے اپنے نام چننے کا کہا گیا تو ، جس کے ہاتھ میں مولی تھی اس نے کہا کہ چلو میرا نام مولی رکھ دو، ستم  ظریف اہلکاروں نے اسی طرح سے ان کے نام رجسٹر کر دئے ۔
بہت کم ہی سہی لیکن اج بھی ایسے جاپانی مل جائیں گے جن کے نام مولی ، بینگن بھی ہوسکتے ہیں ،
بہت ہی عام ناموں میں کی مصال اگر پنجابی میں دیں تو کچھ اس طرح بنتے ہیں ،۔
چھوٹا کھیت ، بڑا کھیت ، درمیانہ کھیت ، کالی لکڑی ، درخت کے نیچے ، لکڑی کا گاؤں  ، مغربی گاؤں  ، کنکر ، پتھریلا کنواں ، چھوٹا ٹیلا ، بڑا ٹیلا، ۔
تو اب پھر موضوع کی طرف پلٹتے ہیں کہ
پاکستان ، میں بھی لوگون کو اپنے اپنے پیشے سے سے اتنی الرجی ہے کہ کسی اور نے کسی ہنر مند کو نیچ کیا سمجھنا ہے ،
یہ لوگ خود ہی خود کو نیچ جان کر خود کو چھپاتے پھر رہے ہیں ۔
تو کیوں نہ جی پاکستانی قوم کو بھی اس شرمندگی سے بچانے کے لئے ، شہنشاہ میجی کا طریقہ اپنایا جائے
اور لوگوں کو اپنے اپنے پسندیدہ نام چن لئے جانے دئے جائیں ۔
لیکن جو میں دیکھ رہا ہوں تو
اج کے پاکستان میں تعلیم کی کمی اور جھوٹ کی پرورش سے یہ حال ہو چکا ہے کہ “لوغ” انسانوں کی بجائے جانور بننے کو ترجیع دیں گے۔کمہار کہلوانے کی نسبت ایک جانور “شیر” کہلوانا پسند کریں گے ۔ جولاہا کہلوانے کی نسبت “باز” کہلوانا پسند کریں گے ۔
اپ کا کیا خیال ہے ؟ اپ اپنا نام کیا رکھنا پسند کریں گے ؟
یاد رہے کہ یہ نام اپ کی نسلوں کو اپنانا پڑے گا ، صدیوں پر محیط اور نسلوں کی امانت ، کیا اپ ایسا نام رکھنا پسند کریں گے جو کہ اپ کے جذباتی فیصلے کا نتیجہ ہو
اور اپنانا پڑے انے والی نسلوں کو ۔

ہفتہ، 14 دسمبر، 2013

پاک مودودی ستان



پاکستان کو بنانے والوں نے اپنے علاقے کو علیحدہ کرکے اس کا نام بنگلا دیش رکھا لیا۔
اور بنے بنائے پاکستان کے نام سے محبت کرنے والوں کو منافقوں کی طرح ٹریٹ کرکے ذلیل کرکے رکھ دیا ۔
جس کی سب سے بڑی مثال بنگال کے بہاریوں کی ہے اور اس کے بعد ، جماعت اسلامی کی
کہ جس جماعت نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اور پھر بنگال دیش کی بھی مخالفت کی تھی۔
اور اپنی ان سب مخالفتوں کانام “اسلام “ رکھ کردیا ہے
تو
جماعت اسلامی کو بھی شہید مبارک ہوں ۔
پاکستان کے معماروں کو اکہتر میں شہیدوں کی لاشیں اتنی وافر ملی تھیں کہ ان کو بھولتی ہی نہیں ہیں ۔
عمرانیات کے ماہر کہتے ہں کہ انسانوں کی ایک نسل پندرہ سال میں تیار ہوتی ہے ۔
سن انیس سو چہتر میں سرمے والی سرکار جرنل ضیاع  کے دور میں جس اسلام کا “نزول” شروع ہوا تھا ۔
وہ مودودی صاحب کی تفہیم القران نامی کتاب سے شروع ہوا تھا۔
لاہور کے شاہی قلعے میں جن “ منکرین “ کو ڈالا جاتا تھا ان کے ہاتھ میں تفہیم القران پکڑا دی جاتی تھی ۔
اور میڈیا پر اسلام اسلام کا پرچار تھا
نہی ان المنکر اور امر بالمعروف کا بتایا گیا
یعنی کہ دوسروں کو نیکی کی تلقین اور دوسروں کو بدی سے منع کرنے کی تعلیم
لیکن خود کو بدی سے باز رہنے یا نیکی کرنے کی بات کو ایسی بری طرح پیچھے ڈالا گیا کہ
پاکستان کی دو نسلیں اس تعلیم سے تیار ہو چکی ہیں
اور ہر بندہ دوسرے کو نیکی کی تلقین کر رہا ہے اور بزور بازو ہر دوسرے کو بدی سے روک رہا ہے
لیکن اس بات کا علم کسی کو بھی نہیں ہے کہ نیکی کیا ہوتی ہے اور بدی کی کیا تعریف ہے ۔
اج کا پاکستان ، جو کہ انتہائی اسلامی روجحان کا ملک ہے
اس ملک میں جو حالات اج سے تین دہائیاں پہلے تھے
کیا وہ اچھے تھے یا کہ اج کے حالات ؟
یقیناً ہر ذی الشعور تین دہایاں پہلے کے حالات کو  ہی بہتر کہے گا ۔
بنگالی جو کہ سیاسی طور پر برصغیر کی باشعور ترین قوم ہیں
انہوں نے سب سے پہلے اس بات کا اندازہ لگا لیا کہ مودودی صاحب کی تعلیمات  معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتی ہیں ۔
جرنل ضیاع  کے دور میں اور اس کے بعد ، جماعت اسلامی کو پاکستان میں “اپنا اسلام “ پھلانے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
اگر کوئی تھی تو ؟ کوئی مجھے بھی بتائے؟
اور اس دور میں یعنی چھتیس سال  میں جو حال اسلام کا پاکستان میں ہے ۔ کیا یہ کوئی قابل رشک حال ہے ؟
اس لئے اب اگر پاکستان والے “اسلامی” ماحول سے بچنے کی کوشش میں کوئی مودودی کی کتابوں پر پابندی لگاتا ہے تو؟
میں تو اسے دور اندیش کہوں گا۔
بنگالی لوگ ، مودودی صاحب کی تعلیمات اور  معلم حضرات کے ساتھ جو بھی کر رہے ہیں
میرے خیال میں اپنے ملک اور قوم کے لئے ٹھیک کررہے ہیں ۔
اگر چہ کہ یہ کام جماعت اسلامی کے لئے غلط ہو !!۔
جماعت کا کیا ہے
ان کے نزدیک تو پاکستان کا اسلام بھی غلط تھا
جس کو ٹھیک کرتے کرتے انہوں نے پاکستان کا یہ حال کر دیا ہے کہ
جس کے جواب میں جماعت کا کوئی جماتیا کہہ سکتا ہے کہ
کیا ہوا ہے پاکستان کو ؟
کچھ بھی تو نہیں ہوا
بس
 پاکستان بہت ہی پاک ہو گیا ہے کہ
لوگ یہاں سے بھاگنے کے لئے ویزوں کے لئے دھکے کھا رہے ہیں ۔
مودودی صاحب کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، مجھے اس خبر کی سرخی ابھی تک یاد ہے
اور پھر؟
پتہ نہیں کیا ہوا کہ وہ سزا کینسل ہو گئی تھی۔
اس کے بعد مودودی صاحب کی تعلیمات کے اسلام والا پاکستان ہے
جس کے متعلق میرا خیال ہے کہ
میرا تو جی پاکستان ہی “گواچ” گیا ۔
کہ میں گم کردہ پاکستان کی تلاش میں ہوں ۔
پاکستان کو بنانے والے اصلی لوگ بنگالی ھے
اکہتر میں اگر بنگالی اس بات کا دعوہ کردیتے کہ
ہمارا ملک پاکستان ہے
اور
تم لوگ اپنے ملک کا کوئی اور نام رکھ لو
تو؟
تو یہ بھی کوئی غلط مطالبہ نہ ہوتا ۔
اج کے پاکستانیوں کو ، پاکستان بنا کر دینے والے بنگالیوں نے مودودی صاحب کی تعلمات کی مخالفت شروع کر دی ہے ۔
اب دیکھیں بات کہاں تک جاتی ہے
کاش کہ میرے وطن تک آ جائے ۔ کہ جو اسلام پچھلے پینتیس سال سے مودودی صاحب کے ماننے والے ، فوج کے تعاون سے میری قوم کی “بغل “ میں دئے جا رہے ہیں ، ۔
اس کی وحشت سے میرے اپنوں کو نجات ملے ۔

جمعرات، 5 دسمبر، 2013

پانی کی شرمندگی

پانی!۔
پانی جو حیات افرین ہے ، حیات کی نشانی  ہے حیات بخش ہے ۔
جہاں پانی ہو گا وہاں زندگی ہو گی ۔ دنیا کی سبھی قدیم تہذیبیں  پانی کے کناروں پر پروان چڑھیں ۔
سائینس دان لوگوں کا یقین ہے کہ اگر کسی سیارے پر پانی مل جائے تو وہاں زندگی بھی ہو گی ، وہاں زندگی پنپ  سکے گی وہاں زندگی گزاری جاسکے گی ۔
پانی ہے تو حیات ہے ، پانی جہان زندگی کو بقا عطاکرتا ہے وہیں ، حیات کو پاکیزگی بھی عطا کرتا ہے ۔
یہ پانی ہی ہے جو ہر پلیدی کو خود میں سمو کر ، پلید کو پاک کرتا ہے ۔
پلید کو پاک کرکے ، اس کی پلیدی کو لے کر جب پانی چلتا ہے تو ، پانی بھی اس پلیدی سے شرمندہ ہوتا ہے ۔
شرمندہ غیرت مند منہ چھپاتے ہیں ، اندہیرے میں راہ ڈھوبڈتے ہیں ، کہیں نکل جانے کی راہ ، کہیں خود کو پاء لینے کی جاہ کہ  خود کو پاک کر لینے کی جگہ!!۔
پانی جو کہ سب پلیدوں کو پاک کرتا ہے
اگر خود پلید ہو جائے تو اس کو کون پاک کرے گا ؟؟
اس کو دھرتی ماں  ، مٹی پاک کرتی ہے ۔
پانی جب بندے کی  غلاظتیں ، میل ، اور داغ دھو کر “ گندا” ہو جاتا ہے تو؟ منہ چھپا کر نکل جانا چاہتا ہے ، دھرتی ماں کی اغوش میں چھپ جانے کے لئے ، ماں کی کھوکھ سے دوبارہ جنم لینے کے لئے ، اپنی پلیدیوں کو طہارتوں میں بدلنے کے لئے ۔
شرمسار پانی کو گزرنے کے لئے ایک تاریک راہ چاہئے ہوتی ہے ، ایک راستہ چاہیے ہوتا ہے ، جو اس کو پلید کرنے والی ابادیوں سے اس کو باہر لے جائے ، ابادیوں سے باہر جا کر ہی پانی ماں کی اغوش میں گم ہوتا ہے یا پھر دھرتی کی حدّت کی ملامت اس کو بھاپ بنا کر ہواؤں میں بکھیر دیتی ہے۔
 کہ  بارش بن کر ایک بار پھر اپنی ماں دھرتی ماں کی آغوش میں اتر کر جذب ہو جائے  ۔
پانی کا یہی مقدر ہے  ، اور قدرت کا دستور بھی کہ اسی میں پانی کی حیات  ہے ۔
حیات بخشنے والے رب کا فرمان ہے کہ اس نے پانی کی ایک مقرر مقدار زمین پر نازل کی ہے !!۔
اور پھر عقل والوں نے دیکھا کہ اس مقرر مقدار کی حیات کا ایک دائرہ بنا کر دیا ،
 کہ پانی انسانوں اور جانوروں کی حیات کا ضامن ہو گا اور ان کی طہارت کا بھی ذمہ دار ہو گا۔
پانی بھاپ بن کر اڑے کا ، پہاڑوں  اور میدانوں میں سمندروں میں برسے گا ۔ میدانوں کی بارش ، زمین اور زمین کے باسیوں کی فوری زندگی بنے گی ، پہاڑوں  پر پانی برف کی شکل میں قیام کرئے گا ، اور اہستہ آہستہ پگھل کر دریاوں میں بہتا ہوا بہت سی زندگیوں کو سہارا دیتا چلتا رہے گا ۔
لیکن!۔
اور جو قومیں ، جانور اور لوگ پانی کو پلید کر کےے اس کو بے عزت کر دیں گے
پلید کر کے اس شرمندہ پانی کو نکلنے کے راستے دینے کی بجائے  اس کے راستے بند کرئیں گے ۔
جن لوگوں کو اپنی زندگیوں میں شرمندگی کا ہی علم نہ ہو  وہ کسی غیرت مند شرمندہ کی کیفیت کو سمجھنے کی بجائے ، اس کو اور بھی پلید کرکے بے عزت کر کے گھر سے نکال کر دروازہ بند کر لیں
تو؟؟
بجائے اس کے کہ شرمندہ پانی کو ڈھکی ہوئی تاریک نالیاں  کی صورت  “نکل جانے “ کا راستہ دیں ،
اس کو گلیوں میں ٹھوکروں میں رکھ لیں ، اس شرمندہ غیرت مند کو روندھتے  ہوئے چلیں ۔
اور اس کو طعنے بھی دیں ، “گندا پانی” ، غلیظ ، کیچڑ ۔
تو بے چارہ پھر کیا کرئے ؟
پھر پانی وہ کرے گا
جو
 وہ
پاکستان میں کر رہا ہے ۔
پانی غصہ کرئے گا
اور بے غیرت ہو جائے گا
اور غلیظ حیاتوں کی پرورش کرئے گا
یہ غلیظ حیاتیں ، گندگیاں ، پلٹ کر پانی کو پلید کر کے پانی کی بے عزتی کرنے والے  لوگوں کے گھروں میں بیماریاں بن کر داخل ہو کر!۔
ان لوگوں کو بیماریوں میں مبتلا کرکے رکھ دیں گی ۔
زمین کو حیات بخشنے والا پانی  ، ان لوگوں کی حیات کو عذاب بنا کر دکھ دے گا۔
عذاب ، بیماریوں سے ، غربت سے کرب سے !۔
یہ دستور ہے فظرت کا  اور فطرت کے آئین میں ترامیم نہیں ہوا کرتی ۔

بدھ، 20 نومبر، 2013

جبلتیں

ایک محاورہ ہوا کرتا تھا
سفید پوش ، سیاہ کار!۔
اپ نے کبھی سنا ہے ؟
یا کہ ایسے بندے دیکھے ہیں ؟
خوبصورت اور اجلے لباسوں میں ، منافق؟
۔
۔
سوہنے بابے اور بڈہیاں بھی دیکھی ہوں گی؟
حسن صرف جوانی سے ہی نہیں ، بندے کے خوبصورت خیالات سے بھی بنتا ہے ۔
عموماً خوبصورت خیالات ،اپنے رکھنے والے بندے کے چہرے اور بدن کو بھی خوبصورت بنائے رکھتے ہیں ۔
۔
۔
۔ کتے ہو عموماً اور کئی دوسرے جانوروں میں ، ایک جبلت پائی جاتی ہے
کہ
چیزوں کو اکھٹا کرتے جاتے ہیں ، اور کتے کو تو یہ بھی یاد نہیں رکھتا کہ اس نے ، ہڈی دبائی کہاں کہاں ہے زمین میں !!۔
انسان جس میں طرح طرح کی جبلتیں پائی جاتی ہیں ۔ اگر کسی ادمی میں جانوروں کی مال کو اکھٹا کرنے کی جبلت اوج کر آئے تو
عموماً ایسا ادمی خود کو ہی انسان سمجھ لینے اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔
اور مغالطہ بھی ایسا کہ
خالص انسانوں والی جبلت جو کہ کسی بھی جانور میں نہیں پائی جاتی ، اس جبلت کے انسانوں کو تو بہت ہی حقیر جاننے لگتا ہے ۔
یعنی کہ "لکھنے "والوں کو بھی حقیر سمجھتا ہے ۔

ہفتہ، 16 نومبر، 2013

ایک الف تینوں درکار

 بابے بلھے نے کہا تھا
اک الف تینوں درکار۔
پاکستان میں آگ لگی ہوئی ہے ، ہر طرف ، ہرجگہ ، بلکہ ہر دل میں ۔
کم علمی کی بٹھی میں جلنے والے اس آگ کا نام ہے ، مذہب !!۔ اور اس کا ایندھن ہے ، مغالطے اور مبالغے۔
وہاں امریکہ میں ، ہر الیکشن میں تین "جی" استعمال ہوتے ہیں ۔
 جی فار "گاڈ" جی فار "گن" اور جی فار " گے" ( ہم جنس پرست) ۔
پاکستان میں الیکشن ہو یاکہ سلیکشن ! جرگہ ہو کہ پنچایت ، مسجد ہو کہ دارا یہان ایک ہی لفظ  جو کہ الف سے شروع ہوتا ہے ۔
ب پ ت ٹ  کے حروف بھی ہیں اور ان کا استعمال بھی ہوتا ہی رہا ہوگا ، لیکن ہم نے ایک ہی لفظ دیکھا ہے الف  اسلام !!۔
اسلام کا الف ، ساری قوم کی بغل میں گیا ہوا ہے  ۔ ساری قوم نے ہاتھوں میں پکڑ رکھا ہے ، دوسروں کی بغل میں دینے کے لئے ۔
اپنا اپنا الف ہے سب کا ہر بندہ اپنے الف کی باتیں کر رہا ہے ،
ایک ہاتھ سے اپنا الف دوسرے کی بغل میں گھسیٹنے کی کوشش ہے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی بغل میں “کسی اور” کے الف  کی زیادتی کا ظلم کا واویلا ہے ۔
ایک الف اسلام کی ہاتھوں ملک کا یہ حال ہے کہ
سڑکیں ،عمارتیں ، ابادیاں تو بد حال ہیں ہی ۔
کسی کو اپنے حقوق کا یا فرائض کا گمان تک نہیں ہے ۔
کوئی کسی سے پیسے چھین لے ، اس کے پیسے واپس لینے میں مدد کا کوئی انتظام نہیں ہے
ہاں اس کوئی یہ بتانے والا آ جائے گا ، اسلام تو ایسا نہیں بتاتا ! ، فیر الف اسلام۔
کوئ کسی کی بغل میں تیر دے کر چلا جائے ، اس کو بھی کوئی باتنے والا آ جائے گا کہ ، بغل میں تیر دینا انتہائی غیر اسلامی ہے ، فیر الف اسلام ۔
کسی کے گھر چوری ہو جائے ، اس کے مال کی واپسی  کی کوئی دادا فریاد نہیں
لیکن اس بھی کوئی بتانے والا آ جائے کا کہ اگر یہاں اسلام ہوتا نہ  ، تو ! ۔
فیر الف اسلام ۔
اور اگر کوئی بندہ ان الف اسلام والوں کی بغل سے الف نکانے کو کوشش کرئے تو ؟
اس ہاتھ پکڑ لیں گے کہ اسے نہ نکالو، اس میں اسلام کا کیا قصور ہے ؟
یار تم تکلیف میں ہو ! اس لئے میں تمہارا الف نکالنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
تو اس کو کہتے ہیں ۔
اس میں اسلام کا کیا قصور ؟ کوئی اسلام پر عمل تو کرئے !!!۔
تو بندہ ان احمقوں سے پوچھے کہ
کیا
چودہ سو سال میں نافذ نہ ہو سکا
کیا
خدا کا آئین بھی “عبوری “ ہے کیا ؟؟

ایک ہمالیہ سے بڑا سوال
پاکستانی قوم سے
تمہارے تعلیم یافتہ لوگوں مں سے بھی کتنے فیصد کو علم ہے کہ

حضور نبی پاک ﷺ نے مکے میں جن لوگوں کو تبلیغ کرکے تکلیفیں اٹھائی تھیں ۔
ان لوگوں کا مذہب کیا تھا؟
کس یقین کی طاقت تھی کہ جس نے وقت کے نبی ﷺ کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
یاد رکھو جب تم لوگوں کو “ان “ کے مذہب کا علم ہو جائے گا
تو؟
تم لوگوں کی “بغل” سے اسلام کا .الف” نکل جائے گا
اور تم لوگ دنیا کی اقوام میں اپنا ایک مقام رکھو گے ۔

دوسری بات
اگر انگریزی اتی ہوتو
یہ الفاظ سرچ انجن میں ڈالکر
The Campaign to Stop Killer Robots

دیکھو کہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اگر اسلحہ بنانے کی تکنیک میں ایڈوانس ہیں تو
اخلاقیات میں بھی کم نہیں ہیں ۔
Killer Robots
میں ڈرون بھی شامل ہیں ۔
چلو جی غیروں کی کوشش سے ہی سہی ، اگر ڈرون سے ہونے والی پاکستانیوں کی موتیں کچھ کم ہو جائیں تو دل کے دکھ کچھ کم ہو جائیں گے
ورنہ
پاکستان کے “محافظوں “ نے جو کام کئے ہیں ڈرون کے حملوں میں ، وہ انے والے زمانوں کا تاریخ دان جب لکھے گا
تو
پڑھنے والے حیران ہوا کریں گے کہ
اس زمانے کے لوگ اتنے ہی احمق تھے کہ ان کو محافظوں کے کردار کا علم ہی نہیں ہو سکا تھا ۔
لیکن کچھ لکنھے والے یہ بھی لکھیں گے کہ
محافظوں نے اس دور کے لوگوں کے ہاتھوں میں اسلام کا “ الف “ پکڑا دیا تھا  ، جس کو ایک دوسرے کی بغل میں دینے کی کوشش میں ان لوگون کو محافظوں کے کردار پر سوچنے کی فرصت ہی نہیں تھی ۔

اتوار، 3 نومبر، 2013

جاپان ایک رائے

جاپان، چڑھتے سورج کی سرزمین کے لوگوں کے متعلق کسی رائے کی تشکیل کے لئے میں دس الفاظ کا انتخاب کروں گا۔

شائستگی!۔
شائیستگی یا کہ جس کو انگریزی میں پولائٹ کہتے ہیں ۔
اس کو جاپانی زبان میں “رییگی تاداشی” کہتے ہیں ۔ جاپان کے متعلق اپ نے پڑھا سنا ہی ہوگا کہ جاپانی لوگ ایک دوسرے کو جھک کر سلام کرتے ہیں ۔
اب جب کہ اس زمانے میں جاپان میں مغربی لوگوں اور دیگر غیر جاپانیوں کو عام دیکھ سکتے ہیں ، مصاحفے کا بھی رواج ہے ،
لیکن صرف غیر جاپانیوں کے ساتھ ہی ایسا کیا جاتا ہے ۔
جھک کر سلام کرنے کو جاپانی زبان میں “اوجیکی” کہتے ہیں ، اوجیکی ، ہاتھ ملانے کی نسبت کہیں زیادہ شائستہ محسوس ہوتی ہے ۔
وقت کی پابندی!۔
جاپانی لوگ وقت کی پابندی کے معاملے میں اتنے سنجیدہ ہوتے ہیں کہ اپ ان کو انتہا پسندی کا الزام بھی دے سکتے ہیں ۔
جاپان کا ریلوے کا سسٹم اتنا زیادہ منظم ہے کہ اس میں ایک منٹ کی لیٹ کا بھی تصور نہیں ہے ۔
جے آر ( جاپان ریلوے) اور اس سے منسلک دوسرے ریلوے نیٹ ورک ، بسوں ، بحری اور ہوائی جہازوں کا ظان اتنا منظم ہے کہ
کسی ایک لائین پر ٹرین کی ایک منٹ کی لیٹ ، کسی کے سارے ہفتے یا مہینے کا ٹائم ٹیبل درہم برہم کر کے رکھ دے۔
اس لئے ٹوکیو میں کسی نیٹ ورک پر ٹرین کے ایک یا چند منٹ لیٹ ہوجانے پر ریلوے والے مسافروں کو وضاحتی ٹکٹ جاری کرتے ہیں تاکہ مسافر اپنے کام والی جگہ پر دیکھا کر اپنے لیٹ ہونے کا جواز فراہم کر سکے ۔
کام پر لیٹ پہنچنا یا کہ کسی وعدے پر لیٹ پہنچنا جاپان میں اپ کی ریپوٹیشن کو بہت نقصان پہنچاتا ہے ۔
روادری!۔
روادری ، جس کو انگریزی میں “کائنڈ” کہہ سکتے ہیں ، اس کو جاپانی میں “یاساشی” کہتے ہیں ۔
دوسرا لفظ جو عام بولا جاتا ہے وہ ہے “ اوموئی یاری” جس کا اردو میں معنی بنیں گے “دوسروں کے فائدے کی سوچ رکھنے والا”۔
یہاں جاپان میں کسی دوست کو ملنے کے لئے جاتے ہوئے کوئی کھانے کی چیز لے کر جانا ایک عام سی بات ہے ۔
جیسا کہ ہمارے ہاں بھی رشتے داروں کے گھر جاتے ہوئے کھانے کی چیزیں لے کر جانے کا رواج پرانوں سے پایا جاتا ہے ۔
 محنتی!۔
جاپانی لوگ بہت محنتی ہوتے ہیں ۔ محنتی کے لئے جاپانی میں لفظ استعمال ہوتا ہے “ ہاتاراکی مونو” جس کو انگریزی میں یارڈ ورکر کہیں گے ۔ لیکن جاپانیوں کی محنت صرف ان کے کام تک ہی نہیں ہے ، جاپانی اپنی گھریلو زندگی میں بھی بہت محنتی لوگ ہیں ۔
اگر اپ جاپان میں کنٹریکٹ ورکر نہیں ہیں ، بلکہ کل وقتی ملازم ہیں تو اپ کو ایکسٹرا کام پر اوّر ٹائم کی اجرت نہیں ملے گی ۔
ان دنوں جاپان میں ایک لفظ “کارواوشی “ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں کہ کام کی مشقت سے موت!۔
یہ موت کوئی محاوراتی موت نہیں بلکہ حقیقت میں کئی لوگ کام کی مشقت سے مر جاتے ہیں ۔

باہمی احترام!۔
جاپان میں باہمی احترام کا ایک ایسا کلچر پایا جاتا ہے کہ جس کا ذات پات اور طبقاتی فرق والے معاشروں میں تصور بھی محال ہے ۔
یہاں ہر شخص کو “سان” کے لاحقے کے ساتھ پکارا جاتا ہے ۔ “ میں “ ایک قابل احترام شخص ہوں ، اسی طرح معاشرے کے سبھی لوگ محترم ہیں ۔
یہاں جاپان میں بڑی عمر کے لوگ بھی اپنے سے چھوٹی عمر کے لوگون کو عزت سے پکارتے ہیں ۔ اور کم عمر لوگ بڑی عمر کے لوگوں کو احترام سے پکارتے ہیں ۔
اپنے سے بڑی عمر کے بزرگوں کو عامیانہ زبان سے پکارنے یا بات کرنے کو یہاں بہت ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔
جاپانی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ “ شتاشی ناکا نی مو رئیگی آری” یعنی کہ بے تکلفی میں بھی اخلاق ہونا چاہئے!!۔
یہاں بے تکلف دوست بھی انتہائی بے تکلفی میں بھی دوست کی عزت نفس پر حرف نہیں انے دیتے ۔
 اکلمیت پسندی!۔
جس کو بعض اوقات گیر جاپانی لوگ جاپانیوں کی جھجک یا شرم سمجھتے ہیں یہ بات ان کی اکلمیت پسندی ہوتی ہے
کہ
اگر اپ کو کوئی جاپانی جاپان سے باہر مل جاتا ہے اور بہت کم بات کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مکمل ترین انگریزی نہین بول سکتا اس لئے کم بات کر رہا ہے ۔
حالنکہ اس کو اچھی خاصی انگریزی کی سمجھ ہو گی لیکن اکلمیت پسندی کی وجہ سے کم بات کر رہا ہوگا ۔
جاانی مصنوعات میں بھی ان کی اکلمیت پسندی نظر اتی ہے ۔ جاپانی جب بھی کو چیز تیار کرتے ہیں تو اس کی وضاحت یہ ہوتی ہے کہ اس دور میں اس سے بہتر چیز بنانی ممکن نہیں تھی ۔ اور انے والے دور میں اس چیز سے بہتر چیز بنانے کی کوشش ہی ہوتی ہے  جس نے جاپان کو اج اس مقام پر کھڑا کیا ہوا ہے کہ
کوئی جھوٹ میں بھی “ میڈ ان جاپان “ کا لیبل لگا دے مال بک جاتا ہے ْ۔
 دور اندیشی!۔
جاپانی لوگ بہت دور اندیش ہوتے ہیں ، ان کو انے والے کل ہی کی نہیں بلکہ اس سے اگے کے انے والے کلوں کی بھی فکر اور سوچ ہوتی ہے ۔
جاپانی زبان میں دور اندیش کے لئے لفظ بولا جاتا ہے “ کھش کوئی” جس کے متبادل انگریزی کا لفظ انٹیلیجنٹ ہو گا ،۔ انگریزی کے لفظ سمارٹ کو یہاں جاپان میں “ سماتو” بولا جاتا ہے اور اس کو کسی کی اچھی جسمانی فگر کے لئے بولا جاتا ہے۔
یعنی کہ جاپان میں اگر اپ کسی کو سمارٹ کہتے ہیں تو اس کا مطلب اپ اس کی ذہانت کی بجائے اس کی جسمانی ساخت کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں ۔
جاپان کا باہمی امداد کے لئے بیمہ کا نظام ، سونامی ، زلزلوں اور دیگر اسمانی افات سے بچاؤ اور اگاہی کا نظام ان کی دور اندیشی کی بہترین مثالیں ہیں ۔
اجتماعی زندگی کا شعور۔
جاپان کی اس کوالٹی کو اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہونا چاہئے تھا ، کہ جاپان میں اجتاعی زندگی کا شعور بہت ہی میچور ہے ۔
ترقی یافتہ اقوام کی ترقی کا بنیادی ستون اجتماعی زندگی کا شعور ہی ہوتا ہے۔
لیکن جاپان ان ترقی یافتہ اقوام میں سے بھی اس بات میں اعلی ترین مقام پر ہے
غیر ملکی سیاحت کے لئے نکلے ہوئے جاپانی سیاحوں کے گروپ ، جاپان کی اجتماعی زندگی کی ایک عملی مثال ہے۔
ملک کر کام کرنا ، ایک دوسرے سے مشاورت کرنا معاملات میں ایک دوسرے کی معاونت کرنا جاپان کے لوگوں کی رسم سے زیادہ ان لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔

صفائی!۔
کیا اپ یقین کریں گے کہ جاپان کے سکولوں میں صفائی والے چپراسی کا تصور بھی نہیں ہے؟
جاپان میں طالب علم خود سکول کی صفائی کرتے ہیں ۔
ہر روز گیلے کپڑے سے تیس منٹ !۔ کسی بھی عمارت کو بترین صاف رکھنے کے لئے کافی ہے ۔
اپ نے شائد انٹر نیٹ پر یو ٹیوب وغیرہ میں دیکھا ہو کہ  کیسے جاپانی لوگ اپنا کوڑا بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔
جی ہاں جب جاپانی کسی کام کو نکلتے ہیں اور کرنے واکی چیزوں کی لسٹ میں “ صفائی “ بھی شامل ہوتی ہے ۔
جاپان میں دوکان دار اپنی دوکان کے سامنے کی گلی یا سڑک کو بھی اتنا ہی صاف رکھتے ہیں جتنی کہ ان کی دوکان ۔
ان کے خیال میں یہ کام بھی ان کے کاروبار کی ضرورت ہے ۔
عمومیت!!۔
ہمارے یہاں عامیانہ پن ، ایک گالی سی بن کر رہ گئی ہے ۔ کیونکہ عمومیت کے معنوں سے لاعلمی ہے
ورنہ جاپان میں یہ ساری باتیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں ، عام سی چیز بن کر رہ گئی ہیں
بلکہ اس چیزوں کو ہی عمومیت جانا جاتا ہے۔
سکول کی تعلیم کے بعد سپوٹس کی کی گھنٹوں کی روزانہ مشقت طالب علموں کے لئے عام سی بات ہے ۔
کام پر سونپی گئی ذمہ داریوں کو پورا کرنا عام سی بات ہے ۔
اپنے معاشرتی فرائض کی ادائیگی عام سے بات ہے۔
خوش اخلاقی ، روادری ، خندہ پیشانی ، یہ سب “ خاص” باتیں یہاں جاپان میں عام سی باتیں ہیں ۔
اس لئے اپ جاپان کو عمومیت پسند بھی کہ سکتے ہیں ۔
جاپانیوں کے ساتھ زندگی گزار کر لگتا  ہے کہ
زندگی جاپانیوں کے نزدیک ایک مشن ہے ۔ زندگی کو کوالٹی کے ساتھ گزارنے کا مشن !!۔ اور سبھی لوگ اس مشن میں جتے ہوئے ہیں ۔

اتوار، 27 اکتوبر، 2013

فیس بک کے سٹیٹس

فیس بک پر مختصر باتوں کو شئیر کرتا رہتا ہوں ۔ اج ان میں سے کچھ کو یہاں بلاگ پر جمع کرکے پوسٹ کر رہا ہوں ۔
فیس بک پر میرے فرینڈز اور فالور ، پہلے ہی ان پوسٹوں  کو پڑھ چکے ہیں  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس بک ، کچھ زیادہ ہی مسلمان ہے ۔

جن کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ، جھوٹے ہیں ۔
وہ سچ کا پرچار کرتے ہیں ۔
منافق ،اصولوں کی بات کرتے ہیں ، اور مشرک ! مورتوں کو شئیر کرتے چلے جا رہے ہیں ۔
میں کہوں گا
کہ
مجھے مسلمان کرنے کی بجائے ، تسی ، آپی مسلمان بنو!!۔
تے
نئیں بن سکدے تے ؟ بندے دے پتر ای بنو!۔
خود سے جھوٹ نہ بولو!۔

پنج رکن اسلام دے ، تے چھیواں دساں ، روٹیاں !!۔
ٹڈ ناں پئیاں روٹیاں تے ، سبھے گلاں کھوٹیاں !!۔

اسلام کے پانچ رکن ہیں لیکن میں اپ کو بتاؤں کہ چھٹا رکن رزق کی تلاش بھی ہے
اگر پیٹ میں کچھ نہیں ہے تو پانچ رکن پورے کرنے بھی محال ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندو، سکھ ، پارسی اپنی جگہ!۔
لیکن
یہودی ، عیسائی اور مسلمان اپنی اپنی جگہ بڑی "کراری . قسم کی جنت کی ٹکٹ جیب میں لئے پھرتے ہیں ۔

………….


میں اپنے جاننے والوں میں ، گھسنے کی  کوشش نہیں کیا کرتا۔
ان کے دلوں میں ، معاملات ، یا گھروں میں !!!۔
لیکن
جو لوگ مجھے جاننے لگتے ہیں ۔
وہ لوگ کوشش کرکے ،میرے لئے اپنے دلوں میں جگہ نکال کر ہی لیتے ہیں ۔
خاور کھو کر

…………….

بھکی کے بھٹیوں کی بے بے ، نے گامے سے پوچھا
کہ
گامیا! یہ تو بتا کہ وہ کون سی چیز کے جو " مج" (بھنس) کے پاس چار کی تعداد میں اور میرے پاس دو ہیں ؟؟
گاما : ٹانگیں !!۔
اچھا اب بتا کہ وہ کیا چیز ہے جو تیری شلوار میں تو ہے لیکن میری شلوار میں نہیں ہے ؟؟
گاما: جیب!!!۔
بھٹیوں کی بے بے کچھ اور بھی بے تکلف ہوکر پوچھتی ہے
وے گامیا! وہ کیا چیز ہے جو لوگ ، دن میں کرنے کی بجائے رات کو کرتے ہیں اور بستر پر کرتے ہیں ؟؟
گاما: نیند پوری کرتے ہیں ۔
اچھا اب اخری سوال کہ
وہ کیا ہے جو ایک لڑکی زندگی میں پہلی دفعہ کرواتے ہوئے درد کی زیادتی کی وجہ سے روتی ہے ۔
گاما: کانوں میں بالیوں کے چھید کرواتے ہوئے !!!۔

حاصل مطالعہ
آپ بھی اپنے خیالات اور نیت کو گامے کی طرح نیک رکھیں !!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کی سب سے بہترین دوا
ہے
پیار اور محبت !!۔
 کسی نے پوچھا کہ اگر اثر نہ کرئے تو؟۔
 بتایا گیا کہ"
پھر ! " ڈوز" بڑھا دو!!!۔

خاور کھوکھر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سّور ( خنزیر) ، گینس بک اف ریکارڈ کے دفتر گیا
یہ دیکھنے کے لئے
کہ
دنیا کی پلید ترین چیز ہونے کا ریکاڈ اب بھی میرے پاس ہی ہے کہ نہیں ۔
جب وہ  باہر نکلا تو بہت غصے میں تھا
اور بڑبڑا رہا تھا
یہ سالا ساقا ب ۔ ۔ ۔  کون ہے اوئے ؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تار پر چھ پرندے بیٹھے تھے
ایک شکاری نے ان پر غلیلہ چلایا۔
نشانہ خطا گیا
پانچ پرندے اڑ گئے
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
 ایک پرندہ بیٹھا رہا !۔
کیوں؟؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

۔ بس ! ایسے ہی ، نخرے !!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سرکاری دفتر میں بورڈ لگا تھا جس پر لکھا تھا
براہ مہربانی یہاں شور نہ کریں
کسی ستم ظریف نے نیچے لکھ دیا
کہ ، ہمارے افسران کی نیند خراب ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیدو ڈنگر جیولری کی دوکان پر
اردو بولنے کی کوشش میں مار کھا بیٹھا۔
حالکہ جیدو ، واقعی  زیور خریدنے گیا تھا
جیدو ڈنگر کے شوکیس میں سجے زیور دیکھے اور سیلز گرل کی طرف پر شوق نگاہوں سے دیکھ کر کہنے لگا
بی بی جی ! آپ کا ایک ایک ائٹم غضب کا ہے ، بس اب آپ یہ بتائیں کہ سونے کا کیا ریٹ لگے گا؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنس کے مضمون میں جیدو ڈنگر نے سب کو حیران کر دیا
اس وقت جب سوال تھا کہ
وہ کون سا مائع ہے جو حرارت سے سخت ہوجاتا ہے ؟؟
جیدو کا جواب تھا
بیسن کے پکوڑے!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب لفظ ختم ہو جائیں
تو
انکھیں بولتی ہیں ۔
جب انکھوں کی بولتی بند ہوتی ہے تو
دل بولتا ہے۔
لیکن یارو
جب
دل بولنا چھوڑتا ہے
تو
پھر ؟

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
 پھر کچھ نہیں بولتا
لوگ ناک میں روئی دے کر دفن کرنے کو لے چلتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا اپ کو لڑکیاں بہت ہی پسند ہیں ؟
کیا اپ لڑکیوں ہی کی باتیں سننا چاہتے ہیں ؟
کیا اپ پر وقت لڑکیوں میں گھرا رہنا چاہتے ہیں ؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
تو
فیس بک کی مشکوک شنانہ ائی ڈیز پر وقت ضائع کرنے کی 
بجائے
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
گول گّپے کا ٹھیلا لگا تو !!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامیابی کا راز کیا ہے؟؟
صحیع اور بروقت فیصلہ!!!۔
لیکن
صحیع فیصلے کے لئے قوّت فیصلہ کیسے حاصل ہوتی ہے؟
تلخ تجربات کے ساتھ!!۔
اور
تلح تجربات کیسے حاصل ہوتے ہیں ؟؟
غلط اور بے وقت فیصلوں سے!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پچھلی صدی ( نوے کی دہائی ) کی لڑکی ۔
اگر تم مل جاؤ ، زمانہ چھوڑ دیں گے ہم!۔
اکیسویں صدی کی لڑکی۔
اگر تم مل جاؤ ، "پرانا" چھوڑ دیں گے ہم!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک مکالمہ
 میں تمہارے پیار میں  ، برباد ہو گئی ، لٹ گئی ،میری دنیا رسوا ہو گئی ۔
۔
تو میں کون سا پڑھ پڑھ کر بنک مینجر لگ کیا ہوں  ؟ بد بختے!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیسی فیملی ، یورپ منتقل ہوئی ۔
ایک دن ماں ، اپنے بچے سکول سے لے کر گھر آ رہی تھی کہ انہوں نے جوان جوڑے کو  " بوس کنار" کرتے دیکھا۔
ماں نے نے نظر چرانے کی بہت کوشش کی لیکن
بچے کی نظر ان پر  ، پڑ ہی گئی
اور چلا کر اپنی ماں سے بولا
اماں دیکھو یہ لوگ ایک دوسرے سے " چیونگم " کی چھینا جھپٹی کر رہے ہیں  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر اپ یہ سمجھتے ہو کہ
اپ کا باس ( ساچو) بیوقوف ہے ۔
تو  ، اپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ
اگر اپ کا باس سیانا ہوتا تو ؟
آپ  جیسے کو ملازم ہی کیوں رکھتا ؟
 خاور کھوکھر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی بیویوں سے وفادار  " مرد " سیدھے جنت میں جائیں گے!!!۔
۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
اور بے وفا مرد؟؟
۔
۔
۔
۔
۔وہ اس دنیا کو ہی جنت بنائے بیٹھے ہیں  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں منگنی اور شادی کے دوران لمبا عرسہ حائل ہو جائے؟
وہاں ،  فائدہ کون اٹھاتا ہے ؟؟؟؟۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔لڑکا؟

نہیں !!۔
۔
۔
۔
۔

۔
۔۔
لڑکی ؟
نہیں !!!۔
۔
۔
۔
۔

۔
موبائیل فون کمپنی!!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انا کی جنگ  میں ہم ، جیت تو گئےلیکن
پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بندے دی وڈیائی دا آخر، قبر! تے فیدا کیہہ؟
پچھے، دو سطراں دی خبر! تے فیدا کیہہ؟
اس لئے میں کہوں گا
کہ
دنیا دے وچ بندیا، ر کھ ایسا بہن کھلون
کول ہون تے ہسن لوکی ، مرجاویں تے رون

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیادہ تر نسلی لوگوں کو اس بات کا تو علم ہوتا ہے کہ
سینکڑوں سال پہلے ان کے اباء  و اجداد کس علاقے میں ، کیا کارنامے انجام دے رہے تھے۔
لیکن
اس بات کا ان لوگوں کو کم ہی علم ہوتا ہے کہ
ان کی اولاد گزری رات کو کس کے ساتھ کیا کارنامے انجام دے رہی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاما ، ٹرین میں چڑہنے لگا کہ
اس کے کانوں میں آواز آئی ، یہ ٹرین پٹری سے اتر جائے گی، کاما ٹرین میں سوار نہیں ہوا اور وقعی ٹرین پٹریسے اتر گئی۔
گاما بس میں بیٹھنے لگا کہ اواز آئی یہ بس کھائی میں گر جائے گی، اور ایسا ہی ہوا۔
گاما جہاز میں بیٹھنے لگا کہ
اس کے کانوں میں اواز آئی کہ یہ جہاز کریش ہو جائے گا!!۔
۔
۔
۔
۔
گامے نے پوچھا تم کون ہو ؟
آواز آئی ۔ تمہارے مقدر کا فرشتہ!!!۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔گامے کی کراہ نکل گئی ہو پوچھنے لگا،
جس دن میری شادی تھی
اور میں سہرا باندہ کر گھوڑی پر چڑھنے لگا تھا!۔
تو
کیا

تمہارا گلا بیٹھ گیا ؟؟بد بختا!!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میجر نے گھر فون کیا کہ
 میں تو چھٹی پر نکلنے ہی والا تھا کہ
بیرکوں میں
کچھ گندے میگزین ملے ہیں !، جس کے ذمہ دار سپاہیوں کو ڈسپلن سکھانے کی سزا دے کر ہی گھر آ سکوں گا۔
بیوی نے بڑے تاسف سے کہا کہ
اب کیا سجیلے جوانوں پر تصویریں دیکھنے کی بھی پابندی ہے کیا؟؟
میجر نے بیوی سے بھی زیادہ تاسف سے کہا
بھلیے لوکے
میں رائفلوں کے میگزین کی بات کر رہا ہوں ، جن کی صفائی کی ذمہ داری تھی ،سپاہیوں پر!!ْ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن ، جنت میں سائینس دانوں کی ایک ٹیم نے "خدا" سے کہا کہ
حضور اپ اپ کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے
اپ اب رٹائیر منٹ لے لیں!!۔
اچھا؟ وہ کیوں ؟ زرا اپنا موقف تفصیل سے بیان کرو!۔
ٹیم نے خدا کو بتایا کہ
ہم نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ انسان بنا کر اس میں جان ڈال سکیں ، جیسا کہ اپ نے اس دنیا کی ابتدا میں کیا تھا!۔
اچھا؟ زرا کر رکے دیکھاؤ!۔
سائینس دانوں نے مٹی کو کمہاروں کی طرح گوندہ کر جب اس کا پتلا بنانا ہی شروع کیا تھا
تو
خدا نے
ان کو کہا
نہیں نہیں ، پہلے مٹی بنا کر دیکھاؤ !!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا!۔
دنیا میں کچھ ملے نہ ملے
دو چیزیں کبھی نہ چھوڑنا۔
ایک ۔
۔
۔
۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
سموسے کے ساتھ ایکسٹرا"چٹنی" اور
دوسرا
گول گپّے کھانے کے بعد اس کا پانی!!۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھو ، بڑا ایکسائٹیڈ ہو کر اپنے ابے سے کہتا ہے
ابا جی ، مجھے بلیک بیری یا پھر ایپل لے کر دو!!۔
او کاکا ! انگلش میڈیم
میں سنگھاڑے لے کر ایا ہوں ، گھر جا کر پہلے وہ ختم کرو
،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماسٹر جی انگریزی کے پیریڈ میں پڑھا رہے تھے
اے فار ، ایپل
بی فار ، بڑا ایپل
سی فار ، چھوٹا ایپل
ڈی فار ، دوسرا ایپل
ای فار ، ایک اور ایپل
ایف فار ، فیر ایک ایپل
ہیارے بچو اب تم بتاؤ کہ
جی فار ، کیا ہوگا؟؟
گامے نے جو جواب دیا تھا وہ قابل تحریر نہیں ہے
میسج کر کے مجھ سے پوچھ لیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوی اور گرل فرینڈ میں کتنا فرق ہوتا ہے ؟؟
یہی کوئی
پنتالیس کلو گرام وزن کا !!!!۔

Popular Posts