منگل، 29 مئی، 2007

ماتسواوکا کی خود کشی

ماسااوکا صاحب نے خود کشی کر لی ہے اج کے جاپان کی بڑی خبر ـ
میں نے مارچ کی آپنی ایک پوسٹ میں بهی
ماسواوکا نام کے ایک وزیر مملک آف جاپان کا ذکر کیا تها که ان صاحب کو پانی کا حساب دینا ناں آیا ـ
پرانی پوسٹ پڑهنے کے لیے
ماسااوکاصاحب نے حکومت کی طرف سے ملنے والےاپنے خرچے ميں سے پچاس ہزار ڈالر کی یه صاحب وضاحت نہیں کر سکے تهےمگر جمہوریت میں لوگ حساب کتاب کا بهی تقاضاکر لیا کرتے هیں جیسا که ماسواوکا صاحب کے ساتھ هوا اپوزیشن کے کتنے هی ممبرون نے جب اس بات کو بہت اٹهایا تو ماساوکا صاحب نے اس رقم کا پينے والے پانی پر اٹھ جانے کا بتایا تها ـ
Matsuoka

قوموں کے رویے کی بات ہے مغربی لوگ آگر غلطی کر لیں تو استعفی دے دیا کرتے هیں ـ
جاپانی آگر غلطی کر لیں تو خودکشی کر لیا کرتے هیں ـ
پاکستانی اگر غلطی (بلکه غلطان)کر لیں تو صرف بیان دے دیا کرتے هیں اور وه بهی دوسروں کو الزام دینے کا ـ
غیرت مند اور بے غیرت کیا ہے ؟
اور غیرت کا معیار ہر قوم کا آپنا آپنا هی هوتا ہے ـ
ماسواوکا صاحب نے کچھ خط بهی چهوڑے هیں اور ان کی تحریر بهی شرمندگی سے موت کا اظہار ہو مگر کس معاملے میں کا نہیں لکها ـ
اس لیے پانی هی کی وجه تو نہیں کہا جا سکتا لیکن اس کے علاوه اور کوئی معامله بهی نهیں تها ان صاحب کے ساتھـ ـ
وزیر اعظم آبے صاحب کو چاهیے تها که ماسو اوکا صاحب کو نوکری سے نکال دیتے تو شائد یه صاحب خود کشی ناں کرتے مگر ذمه داری کے ساتھ شرمندگی نے ان صاحب جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی ـ
یاد رہے جاپان میں پانچ ملین ین کوئی بڑی رقم نہیں ہے
بنتے تو اس کے پچاس ہزار ڈالر هیں
مگر یہاں کتنے هی پاکستانی سالانه اس سے زیاده رقم کا ٹیکس کادهوکه کر جاتے هیں حکومت کے ساتھ ـ
اب سارے سیاستدان ماتسواوکاصاحب کی موت پر تعزیتی پیغامات دے رہے هیں ـ لفظوں کی قلابازیاں لگائی جا رہی هیں که میرے جیسے ساده بندے کے سر سے گزر رہی هیں ـ
عام لوگوں کے خیالات کچھ اس طرح هیں که
خس کم جہاں پاک ان صاحب کو پہلے هی دن جب لوگوں کو اس کی چالاکی کا معلوم هوا تها کہنا جاهیے تها که میں سوچ کر جواب دیتا هوں اور اگر معاملات اسے تهے که چهپائے نہیں چھپ رہے تهے تو ان صاحب کو اپنی غلطی تسلیم کرتے هوئے معافی مانگ لینی چاهیے تهی ـ
اب ماتسواوکا صاحب ضد پر آڑ گئے
اور
آپوزیشن نے دهول اڑانی شروع کر دی ـ
اب تین مہینے بعد اگر معافی کی بات بهی کرتے هیں تو اور بهی بے عزتی هونی تهی ـ
ان صاحب کا اب معاشرے میں چلنا پهنا محال هوا
که
جاپانی معاشره معافی کے ساتھ ساتھ ''تلافی '' کا بهی تقاضا کرتا ہے ـ
اب ماتسو اوکا صاحب کی غلطی کی ''تلافی'' کی یہی صورت ره گئی تهی که
سامورائی ہارا کیری کرے

نوٹ:میں نے کہیں کهيں ان صاحب کا نام ماسواوکا لکها ہو اور کهيں ماتسواوکا اصل میں یه لفظ ہے ما تسُو اوکا ل
لیکن سننے میں ماسواوکا سنا جاتا ہے ـ
جاپانی میں اس کو ایسے لکهتے هیں ـ
松岡 Matsuoka

اتوار، 27 مئی، 2007

پاکستان اور تاریخ

میں جب بهی آپنے پاکستانی معاشرے پر غور کرتا هو خاص کر حکومتی لوگوں کی عادات اور سوچ پر پر تو مجهے ایسا لگتا ہے که یه ایک ایسا گهرانه ہے جس کے سارے بڑے اچانک مر گئے اور بچوں کو حکومت دے دی گئی جن کو ناں تو ابهی معاملات که سمجھ تهی اور ناں هی آپنے خاندان کی تاریخ کا علم ـ
اور آپنے خاندانی ہنر سے تو بلکل هی نابلد ـ
یه بچے کس بهی قسم کی معاشری اخلاقی اور تکنیکی تربیت سے بهی محروم رهے ـ
معاشری تربیت سے محروم ان لوگوں نے دوسروں کی بهونڈی نقالی سے جیسا معاشره بنانے کی کوشش کی وه آج کے پاکستان کی صورت میں آپ کے سامنے هے ـ
اخلاقی تربیت سے محروم ان لوگوں نے جس قسم کا اخلاق آپنایا وه بهی ہمارے سامنے هےـ
اور تکنیکی تربیت سے محرومی کی هی وجه هے که هم آج هم قوموں کی برادری میں مذاق بن کر ره گئے هیں ـ
سندهی اجرک کو ڈزائینکرنے والے جولاہےـ
کهیس (موٹا سوتی کمبل) رمٹا (پتلا سوتی کمبل)اور لوئی (اونی کمبل)بنانے والے لوگ ـ
گرمٹ (لکڑی میں سوراخ کرنے والا ورما) چوسا (ایک بہت هی کهردری ریتی لکڑی کے لیے )کا استعمال بهی همارے آباء کرتے رہے ـ
چجر(ایک قسم کا مٹی کا برتن جس میں رکها گیا پانی ٹهنڈایخ هو جاتا تها چاہے چجر دهوپ میں هی پڑی هو) کا پانی فریج کے پانی سے بہتر هوتا تها
منجی(چارپائی) کے بننےکا ہنر کیا آج کے لوگوں کی دریافت ہے اس ہنر کو ہم نے کتنا ڈویلپ کیا ہے؟
اور کتنی هی تکنیکیں ہنر کیا هوئے ؟
جنریشن گیپ غالباً اسی کو کہتے هیں ناں جی؟؟
ذہنی نابالغ یه لوگ ابهی تک یه هی فیصله نہیں کرسکے که پاکستان کی تاریخ کہاں سے شروع کریں اور پاکستان کی تاریخ کیا هو گي اور پاکستان کے ہیرو کون لوگ هوں گے ؟؟
سن سنتالیس ؟
یه تو صرف شرمندگی هوگی اور اس دوران میں ہم کوئی ہیروبهی امپورٹ نہیں کر سکے ـ
ایک هیرو امپورٹ کيے تو تهے ـ
اپنے معین قریشی صاحب ـ
یه تو دیسی تهے اور دیسی ہیرو هو هی نہیں سکتا ـ
احمد شاھ ابدالی کے انے سے شروع کر لیتے هیں ؟
نہیں مغلوں کے انے سے شروع کرتے هیں ؟
محمود غزنوی سے؟
غیاث الدین بلبن سے ؟
چلو جی محمد بن قاسم سے شروع کر لیتے هیں ـ
اور آگر کسی بچے نے پوچھ لیا که کیا اس سے پہلے اس سرزمین پر کچھ بهی نہیں هوتا تها یا راجه داهر انسان نہیں تها ؟
کیا دهبیل کسی ہوائی قلعے کا نام تها ؟
اور کیا عرب تاجر اس زمین پر احسان کرنے آتے تهے ؟
ہم موہن جوڈرو سے شروع کرلیتے هیں !ـ
لیکن تکنیکی تربیت سے محروم ہم تو ابهی تک اس معاشرے کی تحاریر بهی نہیں پڑه سکے بلکه اس درو کی اصلی چیزیں اور برتن تو ہم دوسری قوموں کو بیچ کر کها بهی چکے هیں اور اب تو موہن جوڈرو کا اثاثه محمد نواز کمہار کے فن پارے هیں ـ
پهر بهی کوئی بدتمیز(اردو کے ایک بلاگر بهی بدتمیز نام کرتے هیں) بچه پوچھ سکتا ہے که موہن جوڈرو کے بعد اور راجه داهر تک کے ہزاروں سال میں کیا هوتا رها ہے ؟
توتاریخ پاکستان کیا جواب دے گي؟

جنتر منترکرتے لوگ کیا هوئے ؟
منتر کیا ہے اور جنتر کیا ہے ؟
کلینڈر کو پنجابی میں جنتری کہتے هیں اور جنتر اسٹرونومی یا علم نجوم کو کہتے هیں ـ
منتر علم تحریر کو کہتے هیں که کسی اور کی کهینچی لکیروں کو پڑھ لینا بهی ایک اسرار هے ناں جی !؟
ناں پڑھ سکنے والے لوگوں کے لیے ـ
دنیا کے زیاده تر لوگ جب اشکال کو تحریر کی صورت دیتے تهے جیسے که مصری اور چینی
تو آواز کو تحریر کی شکل دینے والے لوگ کیا ہوئے ؟
زیرو کی دریافت کے ذمه دار لوگ کیا هوئے ؟
کپل وستو کا شہزادھ سدهارت (گوتم بده)کیا هوا؟
برصغیر میں آنے والے رسول کیا هوئے ؟
یا که امپورٹڈ دهرم کے ماننے والوں کی سوچ کی پرواز هی اتنی ہے که بنی اسرائیل کے رسولوں کے سوا کسی اور رسول کا علم هی نہیں ہے؟؟
ماہر عمرانیات چان نکیا (چانکیه)کے وجود کا کیا کریں گے ؟
یونانیوں کو واپس پلٹنے پر مجبور کرنے والے جہلمی راجے پورس کا کیا کریں گے ؟
سکها شاهی هی کہـ لیں رنجیت سنگھ کے دور کو کس خانے میں فٹ کریں گے ؟؟

اگر یه تاریخ اس طرح بهی شروع کی جائے تو کتنے سوال پیدا هوتے هیں یا یه کہـ لیں که ہمیں کچھ اس طرح کی تاریخ بتائی جارهی هے ـ
جس میں کتنے هی خلا هیں اور اگر ان خلاؤں کو پُر کرنے کی بات کی جائے تو ........ـ؟؟

ہفتہ، 26 مئی، 2007

جراثیمی ہتهیار

هو سکتا ہے که آپ کو میں ایک وہمی سا بند لگوں که سایوں سے ڈر رها هوں ـ
لیکن مجهے یه واہمے نہیں بلکه حقیقت لگتے هیں که کچھ لوگ دوسروں پر جراثیمی ہتھیار استعمال کر رہے هیں ـ
پاکستان میں کپاس پر انے والی سنڈیاں اور اناج کو لگنے والا ایک نیا کیڑا کهپرا مجهے تو بیالوجی سائنس سے بنائے گئے ہتھیار سے لگتے هیں جو پاکستان پر استعمال کیے گیے هیں ـ
پاکستان سے روس کو جانے والے چاول میں کھپرا کے هونے کی وجه سے روس نے ان چاولوں کو ملک میں داخل نه هونے دیا ـ
لوکوں کے بقول یه کیڑا پاکستان میں غیر ملکی گندم کی بوریوں میں آیا تها ـ
روس کے کسٹم والے اپنی سرحدوں کی حفاظت کر رہے هیں که اپنے گهر میں کسی غلط چیز کو داخل نہیں هونے دیتے ـ
اور ہماری سرحدوں کے محافظ جو که ہر وقت سرحدوں کے محفوظ هونے کے للکارے مارتے رهتے هیں ان کو اسلام اباد کی فتح کا نشه چور کیے هوئے هے ـ
جس وقت کھپرا پاکستانی سرحدیں پار کر رہا تها اس وقت سرحدوں کے محافظ کہاں تهے ؟؟
یا اگر انہوں نے کهپرا کو پاکستان میں داخل هونے کی اجازت دی تو کن بنیادوں پر دی ؟؟
آپنے فرائض سے غفلت کی سزا کس کو دی جائے ؟
اور کون دے گا ؟؟
جاپان میں بهی اس طرح کی ایک چیز کا مسئله بنا هوا ہے ـ
مول سیپ کی نسل کا ایک چهوٹا سا سیپ جو که جاپان میں نہیں پایا جاتا تها
اب جاپان میں گند بن رها ہے ـ
مول سیپ یا مول شیل نام کی ایک سمندری مخلوق هوتی هے جو که کهائی جاتی ہے ـیه کچھ اس طرح کی هوتی ہے ـ
Sepp2
اس سیپ کے اندر والا جانور کهایا جاتا ہے پیلے رنگ کا یه کیڑا کافی لذیذ هوتا ہے ـ
ایک ہسپانوی ڈش پائریا آگر اپ نے کبهی کهایا ہے تو آپ اس سے واقف هوں گے ـ
زعفرانی رنگ سے رنگے نمکین چاول جن میں سی فوڈ ڈال کر پكایا جاتا ہے اس کو پائریا کہتے هیں ـ
یه سیپ کچھ اس طرح سے سمندر میں چٹانوں سے چمٹی هوتی ہے ـ
Sepp
اس سیپ کی نسل کی ایک چهوٹی سی سیپ جس کو جاپانی دریائی مول سیپ کہـ رہے هیں نوے کی دهائی میں پہلی دفعه کیفو کین میں پائی گئی تهی ـ
کیفو کین جس کو سمندری سرحدیں نہیں هیں اس کین کے دریاؤں میں پہلی دفعه پائی گیی مگر اس کے بعد سینکڑوں کلو میٹر دور کی کینون میں بهی پیدا هوگئی ہے ـ
کیفو کین سے دوسری جکہوں پر یه سیپ کیسے پہنچي ؟
ماہرین کا خیال ہےکه اس کے انڈے پرندوں کے پروں سے چمٹ کر پہنچے ـ
اس قسم کی سیپ چین کے کسی علاقے میں پائی جاتی هے ـ
ایک وقت میں یه سیپ لاکهوں کی تعدامیں انڈے دیتی هے اور کجھ هی دنوں میں ان انڈوں میں زندگی پیدا هوتی ہے اور پانی کے ساتھ بہتے هوئے اپنی نسل کے دورے سیپوں کے ساتھ چمٹ کر پروش پاتی ہے ـاس کے شیل سے ایک قسم کا ماده نکلتا ہے جو که ریشے دار بن کر اس سیپ کو چٹانوں دیواروں اور مٹی سے چمٹنے میں مدد دیتا ہے ـ
ایک دوسرے کے اوپر تہـ در تہـ چمٹے جاتے هیں اور یه تہـ موٹی هوتی جاتی ہے ـ
گنماں کین میں ایک جگه پہتے پانی میں اس کی تہـ پچاسی سینٹی میٹر موٹی هوگئی تقریباً دو میٹر چوڑے اور ڈهائی میٹر گہرے نالے میں دونوں طرف پچاسی سیٹی میٹر اور تہـ میں پچاسی سینٹی میٹر اس سیپ کے جمنے سے پانی کے بہاؤ کا مسئله حل کرنے کے لیے اس سیپد کی صفائی پر اس گاؤں کی ٹاؤن کمیٹی کا خرچا آیا ہے ایک لاکھ ڈالر سے زیاده ـ
یه سیپ بہت بدبودار بهی ہے سمندری مول سیپ کی طرح یه کهائی بهی نہیں جاسکتی اور قدرتی طریقے سے یه سیپ خود بخود ختم بهی نہیں هوتی ـ
مہاجر پرندوں کے پروں سے چمٹ کر انے والی اس سیپ کو جاپان کا ماحول شائد راس آگیا ہے اور کافی پهیل رهی ہے ـ
اور اگر کسی کی بائیو شررت بهی ہو تو بهی جاپان ایک بیدارمغز اور محنتی قوم ہے اس کا کوئی ناں کوئی حل نکال هی لیں گے ـ
یاروں پریشانی هے تو پاکستان کی که ہمارا کیا بنے گا ؟؟

جمعہ، 25 مئی، 2007

نام

کہتے هیں که
نام میں کیا رکها ہے؟
گوبهی کے پهول کو آگر آپ گلاب بهی کہـ لیں تو اس کا سالن بن هی جاتا ہے ـ
اور گلاب کو گو
بهی کہنے سے بهی اس کا گل قند بن هی جاتا ہے ـ اور اس کی خوشبو اور نزاکت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ـ
لیکن یه تهیوری کوئی فارمولا نہیں ہے ـ
مسلمان بچوں کے نام رکهنے میں ایک فارمولا مد نظر رکهنا پڑتا ہےـ
یه نام ایسا هونا چاهیے که اس سے کسی غیر اللّه سے نسبت کا تاثر نه ملے ـ
لیکن کاسه سر میں مغز کی زیادتی کے مغالطے میں مبتلا لوگ مسلمانوں کے نام عربی لوگوں جسے هونے کو بتاتے هیں ـ
اسلام کے ظہور سے پہلے اگر ایک شخص کا نام عمر تها تو اسلام قبول کرنے کے بعد بهی یه شخص عمر هی کہلوائے گا مگرکوئی اور شخص اسلام کی قبولیت سے پہلے اگر دهرم داس کہلواتا تها تو اس کو نام بدلنا پڑے گا ـ
مائی سکهاں اسلام قبول کرکے بهی مسلمان نہیں هو سکتی اگر وه اپنا نام نه بدلے ـ
لیکن آمنه خدیجه فاطمه کو نام بدلنے کی ضرورت نہیں هے ـ
بیچارے لوگ ہر چیز امپورٹ کی گئی هی پسند کرتے هیں چلو اسلام تو امپورٹ کر لیا اس کے بعد هی کوئی دیسی چیز استعمال کر لیا کریں ـ

جاپان میں آگر کوئی جاپانی اسلام قبول کر لے تو سارے هی نیم عقلمند اس کا نام بدلنے کا تقاضا شروع کر دیتے هیں ـ
کوئی بهی اس بات کا شعور نہیں رکهتا که اس ادمی نے جاپانی معاشرے میں پرورش پائی ہے اس کے دوست اور رشتے دار بهی هیں جو اس کو اس کے نام سے کتنی دهائیوں سے بلا رہے هیں اور یه نام اس کی پہچان ہے اور اگر اس کا نام کسی غیر اللّه کی بندگی کی طرف اشاره نہیں کر رها تو اس کو اس نام کے استعمال کی اجازت دے دیں که اس نو مسلم کو اسلام قبول کر کے شرمندگی نه هو ـ

جاپانیوں کے نام بڑے دلچسپ هیں ہر نام کا کوئی معنی هوتا ہے ـ
جاپانیوں کے خاندانی ناموں پر بات کرتے هیں ـ
ہر جاپانی کا نام کچھ اس طرح هوتا ہے که پہلے خاندانی نام اور اس کے بعد ذاتی نام بے تکلف دوست ذاتی نام سے بلاتے هیں اور باتکلف لوگ خاندانی نام سے ـ
ایشی کاوا کا معنی هوتے هیں پتهریلا دریاـ
کی مورا کے معنی هیں چوبی گاؤں
او شیما کا معنی هیں بڑا جزیره
اسی طرح چهوٹا کهیت بڑا کهیت
اوپر والا باغیچه اونچا پل
وغیره وغیره قسم کے نام هوتے هیں خاندانی نام ـ
یه نام ان لوگوں کو عجیب لگتے هیں جو آپنے کلچر سے ناواقف هیں مگر دیسی معاشرے کا علم رکهنے والے کو معلوم ہے که پنجاب میں بهی اس طرح کے نام هیں اور ان لوگوں کے خاندانی نام کی حثیت رکهتے هیں اور ان کی پہچان هیں ـ
کهوه یعنی کنواں هوا کرتے تهے پرانے زمانے میں اور ہر کھوه کا ایک نام هوا کرتا تها ـ
نام کچھ اس طرح هوا کرتے تهے
ککڑاں والا کهوه
روپے والا کهوه
کیکر والا
ککهاں والا
ڈینگاں والا
سنیار والا
رانجهیاں والا
بیری والا
بهرو والا
ہمارے گاؤں میں یه سارے کهوه هوا کرتے تهے مگر پهر اشتعمال هوئی اور ان کے وجود بدل گئے مگر ان کنوؤں پر کاشت کرنے والے خاندانوں کے نام اب بهی ایسے هی پکارے جاتے هیں ـ
گاؤں کے مشرق کی طرف رانجهیاں والا تها جہاں هماری فیملی کی کاشت کاری تهی
اسکے علاوه تهے روپے والا بهرو والا اور چنبے والا ـ
شمال میں تهے
ان جگہوں کے نام سے اب ان خاندانوں کی پہچان ہے جو اس رقبے پر کاشت کیا کرتے تهے ـ
جاٹ چیمه هونے کے بعد اب یه لوگ اپنے کهوه کے نام سے پہچانے جاتے هیں ـ
ککڑاں والیے
بیری والیے
روپے والیے
آپنے نام کے ساتھ کہلواتے هیں ـ
ان خاندانوں کی اپنی آپنی عادات اور روایات هیں اور علاقے کے لوگ ان سے ان روایات کی روشنی میں معامله کرتے هیں اور اگر آپ ان روایات سے ناواقف هیں تو آپ کو دکھ بهی اٹهانے پڑ سکتے هیں ـ
میں ان خاندانوں کی عادات اور روایات پر بهی لکهنا چاهتا تها
مگر
یه بات پهر کبهی سہی
لیکن مختصر یه که زیاده تر خاندان مہمان نواز اور دیالو لوگ هیں
پرانی والیے مہمان نواز تو هیں مگر دهیالو نہیں هیں ـ
ڈینگاں والیے صرف ایک خاندان ہے که جن کی کوئی بهی تعریف نہیں کرتا ـ
بہرحال جاپانی نام اور ہمارے نام بهی ایک جیسے هوسکتے هیں بلکه تهے ـ

ایک اور بات بهی پاکستان اور جاپان میں تعلق بنا سکتی هے اگر ہمارے حکومتی لوگوں کو علم احساس اور عقل هو تو ـ
جاپان میں کهیلوں سے دولت کمانے والے لوگ هیں فٹ بال اور بیس بال کے پروفیشنل کهلاڑی لوگ
اور
ان هی کی طرح دولت مند هوتے هیں جاپان کے سومو پہلوان ـ
سومو نام کی کشتی کبهی آپ نے دیکهی هے ؟ بہت هی موٹے موٹے سے پہلوان جنہوں نے ایسا لنگوٹ پہنا هوتا ہو جس سے ان کے جوتڑ باہر نکلے هوتے هیں ـ
خالص جاپان کی اس کشتی میں بهی اب جب سے جاپان نے معاشی ترقی کی ہے غیر ملکی پہلوان در آئے هیں اور خاصی دولت کما رهے هیں ـ
ہمارے پاکستان میں سندھ کے علاقے میں ایک کشتی هوتی هو جس کو ملاکھڑا کہتے هیں ـ
اور اس کے پہلوان کو ملاکهو کہتے هیں ـ
ملاکهو پہلوان بهی سومو پہلوانوں کی طرح کا پٹکا یا بیلٹ کہـ لیں کمر سے باندھ کر ایک دوسرے سے زور آزمائی کرتے هیں ـ
تهوڑی سی کوشش سـے جاپانی سومو اور مکهو کی کشتی کروائی جاسکتی هے اور اس سے جاپان اور پاکستان کے تعلقات بہتر بنائے جاسکتے هیں ـ
لیکن پہلے ہم پاکستانیوں کو تو معلوم هو که ملاکهڑا هوتا کیا ہے اور کہاں هوتا ہے ـ
ہم پاکستانی آپنی دیسی باتوں کا تو علم نہیں رکهتے اور تهوڑی سی انگریزی سیکھ کر دنیا جہان کی باتوں کا علم بکهارنے لگتے هیں ـ

یاد رہے پاکستان کو سب سے زیاده قرضه دینے والا ملک ہے جاپان ناں که امریکه
ہاں جاپان کا یه قرضه امریکه کی گارنٹی پر دیا جاتا ہے ـ

جمعہ، 18 مئی، 2007

قانون یا انصاف

قانوں کی حکمرانی ـ
یه فقره اچها تو بہت لگتا ہے اور ہے بهی اچها هی ـ
لیکن یارو قانون بهی تو لوگوں هی کے لیے بنائے جاتے هیں که کمزور کو طاقت ور کے ظلم یا زیادتی سے بچانے کے لیے ـ
اب یه تو ناممکن ہے که قانون کے استعمال کے لیےلوگ گهڑنے لگیں ـ
قانون معاشرے کے لیے هونا جائے ناں که معاشره قانون کے لیے ـ
مجهے بجلی کے ایک استاد کی بات یاد هے که
بجلی انسان کےاستعمال کے لیے ہے ناں که انسان بجلی کےاستعمال کے لیے ـ
بے قانون ملکوں کے اپنے دیسی بهائیوں کے تو هاسے بهی نکل سکتے هیں که یه کیا بونگیاں ماری جارہی هیں ـ
یهاں جاپان میں اس دفعه جب سـے میں آیا ہوں ٹی وی دیکھ دیکھ کر بہت خوف زده هوں ـ
چهوٹی چهوٹی باتوں کو بهی اجاگر کیا جاتا ہے اور اتنا اچهالا جاتا هے که ایک شرارتی بچه بهی ٹیرورسٹ سا لگنے لگتا ہے ـ
آج کی خبر تهی که ایک ادمی غلیل سے گولیاں مار کر شیشے توڑنے کے جرم میں گرفتارـ
قانون اتنا سخت ہے که ایک لوٹا(پنجابی میں واڑی) چوری کرنے کے جرم میں بهی دو سال اندر گزر سکتے هیں ـ
اور جاپانی پولیس ایسا کرتی بهی ہے ـ
خود قانون کی کیا پوزیشن ہے که پچهلے مہینے ایمگریشن افسروں کے ناجائز کمائی کرنے کی خبر تهی ـ یه افسر اس طرح کرتے تهے که جاپان آنے والے غیر ملکی جو جاپان میں سٹے کے حق دار نہیں هوتے ان کو واپس ملک بهیجنے کے لیے مہنگی ٹکٹ لے کر دیتے تهے اور ائر لائن سے کمیشن لیتے تهے ـ
یه بڑا جرم ہو رشوت کی طرح ـ
لیکن ان افسروں کو صرف وارنگ دے کر گونگلوں سے مٹی جهاڑ دی گئی کیونکه ایمگریشن اصل میں منسٹری اف جسٹس هی هے ـ
میرے خیال میں معاشرے میں قانون کی حکمرانی سے زیاده انصاف کی حکمرانی ضروری هے ـ
جب آپ قانون کی حکمرانی کی بات کریں گے تو قانون کے ٹهیکیدار خود قانون بن بیٹهتے هیں مگر انصاف کی حکمرانی میں حکمران کو بهی انصاف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ـ
یه آپ کو پته هی هے که اگر پولیس آپنی آئی پر آ جائے تو بندے کو گرفتار کرنے کا کوئی ناں کوئی بہانه نکل هی آتا ہے ـ
معاشرے سادگی سے شروع هوتے هیں اور پچیدگی کی طرف بڑهتے هیں اور پهر پچیدگیاں بڑهنے سے زوال پذیر هوا کرتے هیں ـ
اس کی ایک مثال کچھ اس طرح ہے ایک دهرم تها یا اب بهی ہے
که اس کی تعلیمات انتہائی ساده تهیں ـ
رب اور رسول کی اطاعت
اور اس ساده سے اصول پر معاشره بنا کر اس دهرم کے ماننے والوں نے دنیا پر حکمرانی کی تهی پهر یه دهرم بهی پچیدکیوں کا شکار هوا اس میں شخصیات کی اطاعت بهی فرض هوئی اور پهر ان شخصیات کی اولاد کی پرستش بهی فرض هوئی او ر پچیدکیاں بڑهتی گئیں اور زوال کی ایسی ذلت اس دهرم پر سوار هوئی که
اللّه کی پناھ ـ

بدھ، 16 مئی، 2007

یوم مادر یعنی مدر ڈے

آج کی بڑی خبر( جاپان سے ) ہے که ایک لڑگے نے آپنی ماں کو قتل کر دیا اور ماں کا سر کاٹ کر بیگ میں ڈال کر تهانے پہنچ گیا ـ
ہائی سکول کے سٹوڈنٹ ستره سال اس لڑکے نے آپنی ماں کو گهر پر قتل کیا ، ماں کا کٹا ہوا سر لے کر بیگ میں ڈالا اور انٹرنیٹ کافے  گیا  ، کچھ مخصوص ویب سائٹس دیکهنے کے بعد تهانے پہنچ گیا ـ
تھانے پہنچ کر لڑکے نے پولیس کو بتایا!۔
میں نے ماں کو مار دیا هے اور میں ماں کا سر لے آیا ہوں ـ

آپنے بڑے بهائی اور ماں کے ساتھ  یہ تین افراد  کا کنبہ ایک ہی مکان میں رہتے تهے ـ
اس لڑکے کے دهدیال کے پڑوسی اور اس کے سکول کے استاد ! اس واردات پر حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں ـ
که یہ لڑکا تو سکینگ جمپ کا کھلاڑی بھی تها اور سنجیده رویہ رکهتا تها ، یہ اس نے کیا کر دیا؟ ـ
مگرجرائم اور نفسیات پر بات کرنے والے اس کو کچھ اس طرح بیان کر رہے ہیں کہ
دوسروں سے منفرد بننے کی خواہش میں قاتل بننے کی کوشش یا قتل کر کے آپنے آپ کو منوانے کی خواہش ، کوئی زیاده عجیب بات نہیں ہے ـ
اور پهر اس لڑکے کا اپنی ماں کا کٹا ہوا سر لے کر پولیس سٹیشن پہنچ جانا بهی اس بات کا ثبوت ہے کہ جیسا دعوا کر ہو !!۔
 دیکهو میں نے یہ کارنامه کیا ہے ـ
میں ذاتی طور پر اس قسم کی نفسیات والے لوگوں سے واقف ہوں !۔ بلکه وکٹم ہوں ـ
دشمن دار کہلوانے کے شوقین ، ایک چیمه صاحب نے میرے ساتھ الله واسطے  کا بیر بنا لیا تها آپنے اردگرد کے لوگوں  دکهانے کے لیے مجهے فون پر دھمکیاں اور گالیاں دیتے تھے ۔ کتنے  ہی سال اس طرح کے روئیے اور میری خاموشی  سے یہ صاحب ! اس یقین کی منزل پر پہنچ چکے تھے که خاور ایک ڈپوک شخص ہے اور میرے تھلے لگ چکا ہے ـ
پهر ایک دن ملاقات هو گئی ـ
اور ان صاحب نے صرف ایک ہی گهونسا کهایا تها کہ ناک اور منہ سے لہو اور کرلے کی طرح لمبے ـ
،
آج کل جاپان میں اس بات کو محسوس کیا جارہا ہے کہ جاپانی لوگوں کا جاپانی زبان کا زخیره الفاظ کم ہوتا جا رہا ہے ـ
یارو! یہ ترقی یافتہ قومیں کن کن باتوں پر غور کرتی هیں ؟ ـ
ہماری سوچ کے جہاں پر جل جاتے ہیں اس سے آگے کا سوچتے ہیں یه لوگ ـ
کسی محفل میں اچها شعر سناتے هوئے ڈر لگتا ہے کہ کتنے ہی لوگوں کو اس کی سمجھ ہی نہیں لگے گی مگر الفاظ کے معنی بهی نہیں پوچهیں گے ـ
اور آپنی ناسمجهی کو شعر سنانے والے کا کهسکا ہوا سمجهیں گے ـ
میں نے یہ بات پندرہ سال پہلے محسوس کی تهی کہ آپنے گاؤں سے باہر لوگوں کا زخیره الفاظ بہت کم ہے ۔
 مجهے آپنی بات سمجهانے کے لیے اسان الفاظ ڈهونڈنے پڑتے تهے پهر یہ ہوا کہ
 اسان الفاظ ڈهونڈتے ڈهونڈتے اسان الفاظ  بولنے کی عادت ہو گئی ، جس کی وجہ سے  آپنا بهی زخیره الفاظ  بھی کم ہونا شروع ہے ۔
 اور اب آپنے گاؤں میں بهی احساس ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ بهی زخیره الفاظ کی کمی کا شکار ہیں ـ
ایک وقت تها کہ ہمارے گاؤں میں آلو چهولے بیچنے والے حاجی صاحب بهی ایسے شعر سنایا کرتے تهے که جن میں جام جمشید اور جام صفال کا تقابل ہوتا تها ـ
اسرار اور اصرار کی بارکیوں کو سمجهنے والے پُراسرار فقرے ہوتے تهے۔
 اچهے شعر ہوتے تهے ۔
 اور ان شعروں کی تشریح ہوتی تهی ـ
یه ہوتا تها ہمارا گاؤں
یا
ہمارا پاکستان
اب ہم کیا هیں ؟؟
مسلسل انحطاط کا شکار ایک ذہنی بیمار قوم ۔

منگل، 15 مئی، 2007

گنوار

میں نےیه دیکها ہے که جب بهی اور جہاں بهی کوئی بحث چل رہی هو تو ان میں ایک سے ایک آدمی دلائل اور مثالیں دے دے کر آپنی باتیں کر رها هو گا ـ اور کچھ لوگ اس دلائل سے باتیں کرنے والے کو حجتیں اور مذاق کر رہے هوں گے ـ
مثال کے طور پر ایک دفعه گاڑی پر میں کام سے واپس آرها تها اور پسنجر سیٹ پر ایک سکھ بیٹها تها فرانس کی کرائی نام کی آبادی سے گزر رہے تهے ـ ٹریفک بلکل سست تهی ـ سڑک کے ساتھ گزرنے والے نالے سے ایک مرغابی نے اڑان بهری ـ
میں نے اس سکھ سے پوچها که اس پرندے کو آپ کے علاقے میں کیا کہتے هیں ؟
میرے خیال میں یه تها که کچھ لوگ مرغابی کو جل ککڑی بهی کہتے هیں شائد یه سکھ بهی اس کو جل ککڑی بتائے ـ
مگر سکھ کا جواب تها ـ
ساڈے پاسے اس کو گالڑ کہتے هیں (هماری طرف اس کو گلہری کہتے هیں ) ـ
میں تو یه سن کر چپ هی هوگيا تها که اب کیا جواب دوں یا کیا بات کروں ـ
بس کچھ لوگ کچھ اس هی طرح کی باتیں کرتے هیں که علم عقل کے کسی ترازو پر تولی نہیں جاسکتی ـ
اور اس بات پر فخر کرتے هیں که ایک اہل علم کو لاجواب کر دیا ـ
توپهر شیخ سعدی کی وه بات یاد آجاتی هے که کسی گنوار کا کسی عالم کو لاجواب کردینا اس عالم کی بي وقتی نہیں ہے که ایک کانٹے کا کهلے هوئے کلاب کے پهول میں چبھ جانے کو گلاب کی نزاکت پر الزام نہیں ہے ـ
ایک کوّا کوی پر رعب ڈالنے کے لیے اونچی اونچی اوڑانیں پهر کر دکها رها تها ـ
اور هر اوڑان پر پوچهتا تها که ہو کوئی مجھ سے اونچا اڑنے والا ؟
شرماتی هوئی کوّی نے پاس سے گزرنے والے ہوائی جہاز کی طرف اشاره کر کے کہا که وه دیکهو وه کیا هے وه تو تم سو اونچا اڑ رهاہے ـ
تو کوے نے کہا که اس کی گانڈ میں آگ بهی تو لگی هوئی هے ناں ـ

یارو نودولتیے کسے کہتے هیں ؟؟ـ
میں سمجها کرتا تها که امیر لوگوں کی حسد بهری باتیں هیں کسی کو نودولتیے کہـ دیتے هیں حالنکه اس آدمی کی منت کو سراہا جانا چاهیے که غریب گهر کا هوتے هوئے آپنی محنت سے ایک مقام پر پہنچا ہے ـ
لیکن جاپان میں مں نے نودولتیوں کی عادات دیکهں هیں تو مجهے اس بات کرنے میں کوئی عار نہیں که کچھ لوگ واقعی آسانی سے آنے والی دولت سے کمینے سے هو جاتے هیں ـ
خود کو عقل سمجهنے لگتے هیں اور پهر جاپانی لوگوں کو بهی بیوقوف سمجهنے لگتے هیں ـ
جب ان کو بتایا جائے که جاپان نے اتنی ترقی جاپانی لوگوں کی محنت سے کی ہے ناں که پاکستانوں کی محنت سے ـ
تو پهر بهی نہیں مانتے اور کوّی کی طرح کہتے هیں که
او جی یه ساری امریکه کی مہربانی ہے که جاپان ترقی کر گيا ـ
اوئے یارو کسی کی محنت کا اعترف کروگے تو کسی دن خود بهی محنتی هو جاؤ گے ـ
میں نه مانوں کا کلچر چهوڑ کر اگر هم رشک کا کلچر متعارف کرواییں تو شائد کبهی خود بهی رشک کروانے کے قابل هوجائیں ـ
ان دنوں پاکستانی حالات کے متعلق لکهنا تو چاهتا هوں مگر
یارو میں ماڑا بنده هوں اور ڈر لگتا ہےکه کہیں ہماری مجهیں (بهینسیں) هی چوری نه کروا دیں ـ
آپنے حاکم لوگ ـ

اتوار، 13 مئی، 2007

جاپانی آم

پیرس میں ایک دفعه کام کی مصریفیت سے پاکستانیوں کی مارکیٹ میں کتنے هی دن جانے کا موقع نه ملا لیکن ان دنوں آموں کا سیزن شروع هو چکا تها ـ
آم جو مجهے بہت پسند هیں ـ
اس لیے آم خریدنے کے لیے وقت نکالنا هی پڑا

جب میں مارکیٹ یعنی پاکستانیوں کی دوکانوں والی اس گلی میں پہنچا تو کئی دنوں سے میری غیر موجودگی کو محسوس کرنے والے دوستوں نے پوچهنا شروع کردیا ـ
آج کیسے آنا هوا ؟؟
آمب لین آئییاں !!ـ
سب کا هاسا هی نکل گیا ـ
یعنی آمب لینے آئے ہو
آمب لینا خالص پنجابی ٹرم ہے اور خاصی بالغ ٹرم ہے ـ
آج جاپان میں ٹیلی ویژن پر بتا رہے تهے که مشرق وسطی کا ایک بادشاه جاپان امب لینے آتا ہے اور کنٹینرون کے حساب سے لے کر جاتا ہے ـ
يارو هم پاکستانیوں کا ایک فخر تها که پاکستان دنیا کا بہترین آم پیدا کرتا ہے ـ
لیکن جاپان اس بات میں بهی بازی لے گیا ـ
جاپان جو که آم پیدا کرنے والا ملک نہیں تها
جاپان کی میازاکی کین میں اب آم بهی پیدا کیا جاتا هےـ
تحقیق کی روایت رکهنے والی جاپانی قوم کے با عمل عالموں نے دنیا کا بہترین آم بهی پیدا کر لیا ہے ـ
جاپان کا موسم آم کی پیداوار والا موسم نہیں ہے مگر محنتی لوگ حالات کو الزام دے کر گهر نہیں بیٹھ جایا کرتے ـ
اس لیے جاپانی عالموں نے مسلسل عمل کرکر کے ایسا عمل دریافت کر لیا ہے که آپنی مرضی کے موسمی حالات پیدا کر لیے جائیں ـ
گرین ہاوسیز (مومی لفافے کا بناهوا ایک بڑا مکان) ایک ایسی چیز ہے که اس میں آپنی مرضی کے مطابق گرمی پیدا کی جاستی هے ـ
اس طرح خالص گرم ملکوں کی پیدا وار آم بهی جاپان میں پیدا کرنا ممکن هو سکا ـ
اور یه آم بہت مہنگا ہے سستا ترین بهی ایک دانه ساٹھ ڈالر امریکن کا ہے اور آچهے والا ایک دانه ڈیڑه سو ڈالر کا ہے ـ
ایسے لوگوں کے متعلق کسی نے کہا تها
اک وه هیں که جنہیں تصویر بنا آتی ہے

ایک اور بات یہاں جاپان میں حیران کرنے والی میری نظر سے گزری که موسم کا حال بتانے کے ساتھ ساتھ موسم کی تبدیلی سے انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کی بات بهی بتائی جاتی ہے ـ
مثلاً آج جوڑوں کا درد کسی علاقے میں کم هو گا اور کس علاقے میں زیاده ـ
گرمی سے سوئیاں چبهنے کی بیماری میں مبتلا افراد کو کس علاقے میں زیاده اور کسی میں کم تکلیف آٹهانی پڑے گي ـ
جن مہینوں میں پهولوں کا برادا اڑتا ہے ان مہینوں میں برادا اڑنے کی مقدار بهی بتائی جاتي هےـ

یاد رہے که کچھ لوگ پهولوں کے اس برادے کی الرجی کا شکار هوتے هیں ان لوگوں کے ناک بند هو جاتے یا چهینکوں سے بدحال هوئے جاتے هیں یا پهرآشوب چشم هو جاتا ہے ـ
جاپانی میں پهولوں کے اس برادے کو ،،کافون شو ،،کہتے هیں

خسره اور اکڑا لاکڑادو بیماریاں ہیں بچوں کی ـ
بچپن میں میں بهی ان کو بهکت چکا هوں مگر آب سنا ہے که ان میں سے ایک بیماری آکڑا لاکڑا ان دنوں بالغوں کو بهی لگ رہی ہے ـ
جاپانی میں آکڑا لاکڑا کو ،، آشیکا ،، کہتے هیں ـ
میرے بهی پیٹ پر آکڑه لاکڑہ کی طرح کے دانے نکل آئے هیں اب پته نہیں که یه آکڑه لاکڑہ ہے یا کچھ اور ؟
بحرحال ایک ہفته انتظار کرکے دیکهتے هیں آکر خود سے ٹهیک نه هوا تو پهر ڈاکٹر کو دکهالیں گے ـ

ہفتہ، 12 مئی، 2007

پهسکے دیاں گلاں

نقشه بنانے کی بات میں نے اس لیے کی ہے که اس طرح هم ساری دیواروں کو جوڑ کر بناسکتے کیونکه ہمیں معلوم هو گا که کون کون سی دیواریں بنانی هیں ـ
آگر هم ایک ایک دیوار بناتے هیں تو اس طرح کونے بر جوڑ ره جائے گا ـ
سانچه اس طرح بنایا جائے گا که
ایک هی وقت میں کئی کمروں کی دوواریں کهڑی کی جاسکیں ـ
کئی منزله مکان تیار کرنے کے لیے پہلی منزل کی دیواریں موٹی بنانی هوں گی اور بتدریج منزل به منزل ان کو پتلا کرتے جائے گے ـ
ان دیواروں کا سانچے میں بنانے کا یه آئڈیا میرا اوریجنل نہیں هے ـ
سانچوں سے دیواریں اس وقت ترقی یافته ممالک میں عام سی بات ہے مگر یه دیواریں سیمنٹ اور کنکریٹ سے بنائے جاتی هیں ـ
هم اکر صرف یه کریں که اس ساری تکنیک کی کاپی هی کر لیں اور کنکریٹ کی بجائے گارے اور سریے کی بجائے کانے (سرکنڈ)کا استعمال کرلیں تو بهٹوں پر جلنے والے کوئلے کا سالانه کروڑوں ڈالر زرمبادله بچا سکتے هیں ـ
ایک مکان کو بنانے میں جتنی اینٹ لگتی هے اس اینٹ کو بناکر پکانے اور ٹرانسپورٹ کرنے میں جتنا خرچ آتا ہے اس سے کم میں یه پهسکے کے مکان تیار کیے جاسکتے هیں ـ
صرف اینٹوں کی قیمت سے کم میں !ـ
اس کے علاوه جو جو خرچ مزدورں اور دوسرے کاریگروں پر آتا ہے اس کی بچت اس کے علاوه هو گي ـ
گارے کے فارمولے پر ایک بحث کی ضرورت ہے کیونکه یه ایک خالصتاً دیسی تکنیک هو گی کاپی کرنے میں بهی نکمے ہم پاکستانی لوگوں کے لیے ایک نئی چیز بنانا تو بہت هی مشکل کام هوگا ـ
میرے خیال میں مونج (ایک ریشے دار گهاس جس سے چارپائیاں بنی جاتی هیں)کو کتر کر ملایا جاسکتا ہے یا پهر توڑي ملائی جاسکتی هے پرالی سے بهی کام چلایا جسکتا ہے ـ
مگر توڑي اور پرالی جانوروں کے چاره ہے اور اس کی پہلے هی کمی ہے جب سے یه کمبائن آئی ہے پاکستان میں اس کسان دانے تو لے لیتا ہے مگر پرالی اور توڑي وهیں کهیت میں جلا دیتا ہے یا پهر غرق کردیتا ہے ـ
یورپ میں تو کمبائین کے بعد توڑی کو اکٹها کرنے والی ایک مشین هوتی هے بیلار جو توڑی کے گٹهے بنا دیتی هے آپ نے یوپی ممالک کی دیہاتی تصاویر میں شائد یه گٹهے دیکهے هوں ؟؟
ہماری بد اندیشی کا یه ایک اور نوحه ہے اس پر پهر کبهی رو لیں گےـ
مونج ملانے کی ایک وجه یه بهی ہے که میں مکان کی بیرونی دیواروں کو لپائی والی قباحت سے بهی بچانا چاهتا هوں ـ
آپ نے تنور تو بنتے دیکها هو گا؟
تنور بنانے میں جو گارا استعمال کیا جاتا ہے اس میں مونج استعمال کی جاتی ہےتنور کو مکمل هونے کے بعد اس کو جلایا جاتا هے که اس کی اندرونی سطح اچهی طرح پک جائے ـ
تنور کو بکانے والی یه تکینک اگر هم گارے کے مکان میں استعمال کر کےمکان کو بیرونی سطح کو جلا کر اگر ایک ملی میٹر بهی پکا لیتے هیں تو یه دیوار بارش میں گهل کر گرے گی نہیں ـ

ایک طریقه یه بهی هو سکتا ہے که ہم اس دیوار کی بیرونی سطح پر لکڑی کی لمبی پهٹیاں تہـ در تہـ نیچے سے اوپر کی طرف لگاتے جائیں جس سے بارش کا پانی پهسل کر نیچے چلا جایا کرے گا اور دیوار کو نقصان نہیں هو گا ـ
یا پهر کوئی ایسا مساله بنانا پڑے گا جو که مٹی کی دیوار کے ساتھ بهی چپک جائے اور بارش کے پانی سے بهی گهل نه جائے ـ
سیمنٹ ملی مٹی یا پوچا نام کی ایک سفید مٹی هوتی ہو کچھ لوگ اس کو گجراتی مٹی بهی کہتے هیں اس میں سیمنٹ ملا کر اس کی ایک تہـ بچها دی جائے ـ
یا پهر بلکل هی نئی چیز بنائی جائے جه که مقامی طور پر تیار کی جاسکے اور کم خرچ بهی هوـ

چهت کے متعلق میں اس وقت پاکستان میں چل رهی تیار چهتیں نام کی چیز کو ترجیح دوں گا که چهت کی لپائی اور بارش کے پانی سے گهلنے والی مٹی سے اسی طرح بچا جا سکتا ہے ـ
فرش کے متعلق بهی میرے خیال میں اس وقت مروج طریقه هی بہتر ہے ـ
که پوچے سے جان چهوٹی رہے گی ہماری خواتین کی اور بارش میں کیچڑ بهی نہیں هوگا ـ

میری یه تحریر بہت حد تک اس زمانے کے لوگوں کی طبیت سے میل نہیں کهاتی مگر کچھ دهائیاں بعد لوگ اس نتوجے پر پہنچیں گے که پاکستانی لوگوں کا طریقه تعمیر بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے شروع میں انتہائی بچگانه رہا تها ـ
اس مضمون کے پہلے ده حصے
پهسکے دی کند
پهسکے دے مکان

جمعرات، 10 مئی، 2007

پهسکے دے مکان

ایک پوسٹ پهسکے سی کند کے متعلق اجمل صاحب نے یه تبصره کیا ہےیاکہـ لیں که مشوره دیا ہے
لکهتے هیں
میرے ذہن میں دو حل آئے ہیں ۔ [1] ۔ توڑی کی بجائے اگر پولیتھیِن کا جال استعمال کیا جائے تو بارش سے دیوار یا چھت بہت کم بہے گی ۔ اس لپائی
کرنا تو پڑے گی مگر بہت کم محنت کے ساتھ ۔ [2] ۔ پھسکے کی دیوار کے ستھ باہر کی طرف ساڑھے چار انچ کی پکی اینٹوں کی دیوار بنا دی جائے اور چھت پر پکّے چوکے [دس انچ لمبی پانچ چوڑی اور ڈیڑھ انچ موٹی اینٹ] لگا دیئے جائیں ۔
لیکن میرے خیال میں جو بات ہے یا تکنیک ہے وه تهوڑی مختلف ہے ـ
اجمل صاحب کے مشورے نے مجهے حوصله دیا ہے که کم از کم کسی کو تو میری بات دیوانے کا خواب نہیں لگی ـ
اصل میں کوئی تکنیکی ذہن کا آدمی هی اس بات کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہےانرجی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے آج پهر گارے کے مکان کتنے ضروری هیں لیکن ان کی تعمیر کا طریقه کار اور خام مال میں کچھ تبدلیاں لانی پڑییں گی ـ
آئیں کارے سے ایک دو منزله مکان بنانے کے طریقے پر بات کرتے هیں ایک ایسا مکان جو دیکهنے میں کسی کو بهی گارے کا نه لگے ـ
لیکن میرے خیال میں اس سے پہلے ضروری بات یه بتانا ہے که گارے کے مکان کا فائده گیا ہے؟ ـ
سب سے بڑا فائده تو یه ہے که یه سستا پڑے گا ـ
اس کے بعد اس مکان میں رہنے کے لیے بجلی کا خرچ کم آئے گا ـ
اینٹوں کے مکان کے مقابلے میں گارے کا مکان زلزلے کا مقابله کرنے کی زیاده قوت رکهتا ہے ـ

اس مکان کو بنانے کے لیے سب سے پہلے تو ضروری تو یه ہے که اس مکان کا ایک نقشه ضرور بنا لیا جائے ـ
پاکستانی عادت کے مطابق بغیر پلان کے شروع کرکے ایک کمره یہاں ایک وہاں والی بات اس مکان کو انتہائی بدصورت بنا دے گی ـ
پنجابیوں کی عادت ہے که نالے نالے کردے جاؤ تے نالے نالے سوچدے جاؤ ـ
اس فارمولے سے جو چیز تیار هوتی ہے وه هوتی ہے چون چون کا مربه ـ
مکان کی بنیادیں
کهدائی کرکے بنیادیں بهرنے کے دو طریقے کیے جا سکتے هیں ـ
ایک تو اینٹوں سے بهرنے کا اور دوسرا
مونج ملے گارے سے بهرنے کا
پورے مکان کی دیواریں بشمول بنیادیں کهڑی کرنے کے لیے ہمیں قالب کرنے کے طریقه کار کو سمجھنا پڑے گا ـ
انگریزی میں اس کو شٹرنگ کہتے هیں ـ لینٹر ڈالنے سے پہلے راج لوگ جو ایک عارضی سی چهت بناتے هیں پهٹوں سے سیمنٹ ملی بجری کو خشک هونے تک کهڑا کرنے کے لیے اس کو قالب یا کالب کہتے هیں ـ
ترقی یافته ممالک میں شٹرنگ کی تکنیک بہت ترقی کر چکي ہے که پاکستان میں اس کا تصوّر بهی محال ہے ـ
ہمیں اس تکنیک کی کاپی کرنی پڑے گی ـ جاپانی اس تکنیک کے ماہر هیں مگر ان کے طریقے میں خرچا بہت آتا ہے جاپانی لوگ سانچے بنانے میں پلائی ووڈ استعمال کرتے هیں جو که پاکستان میں بہت مہنگی ہے ـ
اور فرانسیسی لوگ لوہے کے سانچے استعمال کرتے هیں جو که کئی دفعه استعمال کیے جاسکتے هیں ـ
فرانسیسی لوگ ان سانچوں سے صرف دیواریں کهڑی کرتے هیں اور چهت اس کے بعد بناتے هیں ـ
لیکن جاپانی طریقے میں ایسا سانچا بنایا جاتا ہے که اس میں دیواریں دیواروں میں کهڑکیاں اور چهت ایک ساتھ هی تیار هو جاتے هیں ـ
ہمیں پاکستان میں فرانسیسی طریقه بہتر رہے گا یا پهر
آپنا هی دیسی طریقه نکالنا پڑے گا که پهٹوں کو کهڑا کرکے اور ان کے ساتھ ٹیک لگا کر اس کو مضبوط کرکے ان کا سانچا بنا لیا جائےـ
قالب سانچے یا شٹرنگ کارپنٹنگ کی تکنیک کو بروئے کار لانا پڑے گا ـ
اس کا طریقه کچھ اس طرح هو گا که مثال کے طور پر بنیادوں کی ایک میٹر اونچی اور ساٹھ سینٹی میٹر چوڑی دیوار بنانے کا کے لیے کیسا سانچه بنائیں ؟
جہاں ہم دیوار بنائیں گے اس کے سنٹر سے تیس سینٹی میٹر اندورنی طرف ایک لوہے کی پتری کهڑی کر لیں گے اس پتری کو ٹهیک نوّے درجے پر کهڑا کریں گے اور اس کو مضبوطی سے اس طرح سیٹ کر لیں گیں که کسی دباؤ سے گِر نه جائے ـ
دیوار کی جگه پر اب ہم سرکنڈ سے ایک جال بنائیں گے جیسا که لینٹر میں لوہے کے سریے کا بنایا جاتا ہے ـ
اس کے بعد دیوار بنانے کی جگه کے سینٹر سے تیس سنٹی میٹر دوسری طرف بهی ایک پتری کهڑی کر لیں گے ـ
اس لوہے کو بهی نوّے درجے پر مضبوطی سے باندھ لیں گے ـ
اب ہم نے گارا تیار کرنا ہے ـ
گارا چکنی مٹی سے پتلا تیار کیا جائے گا اور اس میں مونج جس کی چارپائیاں بنی جاتی هیں کو کاٹ کر ملا دیا جائےگا ـ
اس مونج ملے گارے کو لوہے کی پتری سے بنائے گئے سانچے میں ڈال دیا جائے گا جس کے درمیان میں ہم پہلے هی سرکنڈے کا جال بچها چکے هیں ـ
دو دن بعد اس گارے کے خشک هونے پر لوہے کی پتری کا سانچه اکهیڑ دیا جائے تو یه ایک دیوار بن چکی هو گي ـ

اب ہم اس بنیاد پر اوپر دیواریں کهڑي کر سکتے هیں ـ ساٹھ سنٹی میٹر کی بنیادوں پر هم زیاده سے زیاده پچاس سینٹی میٹر کی دیوار کهڑی کر سکتے هیں سانچه بنانے کا طریقه آگر آ جائے تو اس دیوار کو کهڑکیاں دروازے اور الماریوں کے ساتھ ایک هی دن میں کهڑا کیا جاسکتا ہے ـ
عمارت کی وسعت پر منحصرکام کا وقت مختلف ہو سکتا ہے ـ
اس کے بعد بات کریں گے که چهت کیسی هونی چاهیے اور دیواروں کی بیرونی اطرف کو کیسے محفوظ کیا جائے

Popular Posts