جمعہ, جولائی 17, 2015

منصوبے ای منصوبے

 مشن ملکی ترقی  و  بی ڈی ممبر ۔ مشن نظام مصطفے  اور بلدیاتی جمہوریت ، مشن  روشن خیالی اور احتساب  !!۔
ان مشنوں کے ساتھ ساتھ  سیاستدانوں کی فارمنگ  کاکام بھی جاری و ساری  تھا  ،۔
مشن کشمیر کی آزادی  تو ملکی تاریخ کا سب سے لمبا مشن بن چکا ہے ۔
اس صدی کی دوسری دہائی میں  میں ملک کے کرپٹ ترین ، بدنام ترین  حادثاتی سیاستدان   نے  مندرجہ بالا سب مشنوں کے مقابلے میں  ایک مشن شروع کیا تھا
مشن جمہوریت  !  اس کرپٹ ، اور بد نام بندے نے چالاکی سے اپنے مخالفوں اور  اور فارمی سیاستدانوں کو بھی ساتھ ملا لیا ،  اپنے مخالفوں کو جو گیڈر سنگھی اس نے سنگھائی  ، گمان غالب ہے کہ اس گیڈرسنگی کا نام بھی جمہوریت  ہی ہے  ۔
مشنوں اور منصوبوں کے ماہرین  ، بد نام بندے کے اس مشن ، مشن جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے لئے سخت جدوجہد کر رہے ہیں ۔
فوج کو اقتدار میں انے سے روکنے کے منصوبے کو جمہوریت کا نام دیا گیا ہے ۔
جس کے خلاف " تبدیلی" اور " انقلاب " میدان میں اتارے کئے ہیں ۔
اگر کرپٹ اور بدنام  کا منصوبہ ، جمہوریت سبوتاژ ہوئے بغیر پندرہ سال چل گیا تو ، ملک ایک ایسی پٹری پر چڑھ جائے گا جو روشن مستقبل کی طرف جاتا ہے ۔
لیکن " وہ " بھی اپنے منصوبہ جات میدان میں اتار رہے ہیں ۔ تبدیلی ، انقلاب ، !!۔
احتساب ، نامی منصوبہ اس دفعہ تبدیلی اور انقلاب کے اثرات کو دیکھ کر چلائے جانے کا نظر آ رہا ہے ۔
دہائیوں کے گزرنے سے منصوبہ سازوں کی کوالٹی میں بھی فرق پڑا ہے اور کچھ عدالتیں بھی خلاف ہو چکی ہیں ۔
اس لئے “ اپنی عدالت “ کا منصوبہ کامیاب کروا لینے کے باوجود جمہوریت کی بد نامی اور ججوں کی بے عزتی کے منصوبہ جات اس سطح تک نہیں پہنچ سکے کی جمہوریت پر شب خون مارا جا سکے
پنجابی کا ایک محاورہ ہے
سنڈہیاں ( سانڈ) دی لڑائی وچ ، کٹیاں ( بچھڑوں) دا برا حال ہوندا اے
اللہ خیر کرئے ان ساندوں کی لڑائی میں کوئی عوام کے بھلے کا راستہ نکل آئے کہ
میرا وطن بھی ایک ملک بن کر ابھرے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts