ہفتہ، 14 جنوری، 2012

ذہنی بد کاری


پنجابی میں کہتے هیں ذات دی کوڑھ کرلی تے چهتیراں نوں جپھےـ
کچھ کم عقل یه بات کسی غریب گهرانے کے کسی فرد کے کسی بات میں ترقی کرجانے پر طنزیه بهی کہتے هیں ـ
لیکن اصل میں بات اپنی طاقت کے مغالطے میں مبتلا کسی کے متعلق کہا جاتا ہے ـ
ایسے سماج جو افلاس اور جہالت کے دردناک عذاب میں مبتلا هوں ان کے اپنی ترقی کے ڈهنڈورے پیٹنے کو بهی کہتے هیں ـ
ہم پاکستانی یه نہیں سوچتے که تعمیر ترقی کی باتیں اس قوم کو زیب دیتی هیں جو تعلیمی ترقی کے ایک خاص نقطے تک پہنچ چکی هو ـ
هم قومی حثیت سے افلاس اور جہالت کے جس نقطے پر کهڑے هیں
وہاں سے تعمیر ترقی کی باتیں دماغی عیاشی اور ذہنی بدکاری کے علاوه کچھ نهیں ـ
پهر پنجابی کا ایک محاوره
بُنڈ وچ گهوں نہیں تے کاواں نوں سینتراں ـ
هم اپنی اس پسماندگی کے سلسلے میں قابل ملامت بهی هیں اور قابل رحم بهی
لیکن قابل معافی بلکل بهی نہیں ـ
کچھ عقلمند دوست جن کو میں واقعی عقلمند سمجهتا هوں
آپنی قوم کے قابل معافی هونے کا کہتے هیں اور اس کے لیے دلیل ان کی هوتی هے ـ
که
ہماری تعلیمی پسماندگی اور جہالت کے پس منظر ميں صرف غلامی کی هی ایک صدی نہیں سماجی ، اخلاقی، معاشی اور تعلیمی انحطاط کی بهی کئی صدیاں شامل هیں
اور ہمں ماضی کے اس زبردست نقصان کی تلافی کے لیے جو مہلت ملی ہے وه بڑی مختصر ہے اور اس مختصر مہلت میں ہم صدیوں کے قرضے چکانے سے قاصر هیں ـ
لیکن
اس معقول عذر کے باوجود میں اپنی قوم کو قابل معافی نہیں سمجهتا

اور ہم اپنی تعلیمی پسماندگی میں اخلاقی طور پر دیوالیه هو چکے هیں ـ
اب ہمیں معافی نہیں تلافی کرنی هو گی ـ
جی ہاں تلافی !!ـ
تلافی کیسے کریں ؟؟
کہاں سے شروع کریں ؟
یارو میں بهی اسی ذہنی پسماندگی کے شکار معاشرے کا ایک فرد هوں میری سوچ کی پرواز بهی محدود ہے
کیا کریں کہاں جائیں ؟
ضیاء صاحب جب جاپان آئے تهے تو انہوں نے جاپانی قوم سے نقد خیرات کی بجائے تکنیک کی بهیک مانگي تهی
تو
معاشی ،اخلاقی ، تکنیکی ، تعلیمی اور معاشرتی طور پر امیر تر اس جاپانی قوم نے پوچهاتها که پاکستان کے پاس ہماری تکنیک وصول کر ''جوگے '' هاتھ کتنے هیں ؟؟
اور ضیاء صاحب کا منه بند هو گیاتها
پهر ضیاع صاحب نے اس کی کیا تلافی کی؟؟

اُجڑیاں مسیتاں دے گالڑ امام
انہیاں وچ کانے راجے
ضیاع صاحب بهی تو اس قوم کے تعلیمی انحطاط کے ذمه داروں میں سے ایک تهے
صدیوں سے ہمیں تعلیم سے دور رکها گیا ہے ـ
ایک کرب ہے که سونے نہیں دیتا
علاج کیا هو ؟
پهر بات وهیں آ جاتی ہے
که میری اوقات کیا ہے اور حثیت کیا ہے اور باتیں کیا کررها هوں
شائد اسی کو کہتے هیں ذات دی کوڑھ کرلی تے چهتیراں نوں جپھےـ
لیکن ایک نسخه ہے اس بیماری کے علاج کو شروع کرنے کا میں نہیں کہتا که یه علاج ہے
هاں علاج کی شروعات کا یقین ہے مجهے اس نسخے سے ـ
چهوٹا منه تے بڑي بات
یارو آؤ قرآن کے ترجمعے کو عام کریں
لوگوں کو دعوت دیں که قران کا ترجمعه پڑها کریں ـ
تفسیر کو بهی بعد میں پڑھ لیں گے
ابهی صرف ترجمعه اور اس پر غور ـ

انداز بیاں گر چه که میرا شوخ نہیں
شائد که تیرے دل میں اُتر جائے میری بات

3 تبصرے:

Editor کہا...

مشورہ ، تجویز اور حل آپ نے پیش کیا ہے اسلامی یعنی قرآن کو پڑھنے کا اور اسپر عمل کرنے کا۔ظاہر ہے حل تب ہی ہو گا جب عمل ہو گا۔مگر اتنے مکمل ، بہترین حل پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا۔
تبصرہ تب ہوتا جب عنوان کے حساب سے آپ ننگی باتیں پیش کرتے وہ آپ نے پیش نہیں کیں
پردیسی

مکی کہا...

چونکہ اختلاف کرنا میرا حق ہے اور اس میں ناراضگی والی کوئی بات نہیں کہ الخلاف فی وجہات النظر لا یفسد للود قضیہ چنانچہ مجھے کہنے دیجیے کہ آپ نے مرض کو ہی علاج بتا دیا، دوسروں کی ترقی سے اگر ہم نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے تو پھر سال میں تین محرم ہونے چاہئیں..

گمنام کہا...

اوے مکی کسے کتے دی ولاد، تو مجهے مل جاءے تو تیری گانڈ مین سو گولیان مارو

Popular Posts