بدھ، 17 اگست، 2011

سہاروں کے متلاشی

ایک سیانے نے بتایا تھا که
رن (عورت) اور بدمعاش سهارے تلاش کرتے هیں
رن کا تو اب نے دیکھا هی هو گا که کیسے پہلے شادی کی صورت سهارا بناتی هے اور پھر ساری عمر اس کو کوسنے دے دے کر کمزور کرتی ہے
یا
مار کھاتی هے
اور بد معاش؟؟
کسی ناں کسی کے سهرے پر هی چلتا هے
که اس کی ذہنیت میں چمچه نامی کوڈ ڈال دیا هوتا هے بنانے والے نے
اس نے کچھ لوگوں کو چمچه بنا کر رکھنا هوتا هے اور کچھ کا چمچه بن کے رهنا هوتا هے
رن بھی هو اور بدمعاش بھی تو؟؟
او سر جی کچھ ممالک کی سیاسی پارٹیوں کا معامله هوتا هے که
ان کی طبیت بد معاش رن کی طرح کی هوتی هے
هر پارٹی
که ایسے ممالک کی فوج بھی ایک پارٹی هوتی هے
جوکه
حکومت میں هوں که باهر
ان کو امریکه کے سهارے کی ضرورت هوتی هے
یا چین کے کی
یا روس کی
ایک خصم جائے دوجا آئے
سیٹ خالی ناں هو
تعلیم کی یه پوزیشن ہے که مغالطے هی مغالطے پڑھ پڑھ کر
سوچ یه هے که
لیاقت علی خاں کو امریکه نهیں جانا چاہیے تھا
روس یا چین چلے جانا چاهیے تھا
که ان کے اُس دورے کی وجه سے اج امریکه
بد معاش رنوں كا خصم بنا بیٹھا ہے
اگر جی لیاقت علی خان
روس یا کهیں اور چلے جاتے تو ؟؟
اس خصم کو کوسنے دینے تھے
کس نے اپنے پیروں پر کھڑے هونے کی بات
سوچنی هی نهیں هے
که
سوچ کے پر جل جاتے هیں جی
اتنی اونچائی کی بات سوچتے هوئے
امریکه بد معاش نهیں هے ورنه
وه ملک بھی ایک سہارے کی تلاش میں هوتا

امریکه ایک معتبر ملک هے جس نے سہارے کے نام پر داشته بننے کی خواهش مند
اقوام کو سهارا دیا هوا هے
اور اپنی قوم کی بھلائی کے لیے هر کام کرتا هے
اگرچه که اپنی قوم کی بھلائی کے کام کے دوران داشته ممالک کے لوگ مر مرا بھی جاتے هیں تو؟؟
ہُو کئیر؟؟؟
یه پاکستان ميں کیا رویه ہے که
پاکستان کا ایک خصم هونا چاهیے
امریکه اگر جھولی میں جگه ناں دے تو چین کی طرف دیکھو
یه کیا رنڈی کے جیسے رویه هے که
سهارا هونا چاهیے
قوم کو جھوٹ کی افیم کھلا دی گئی هے که
همارا اسلام دنیا کا سب سے اچھا اسلام ہے

هماری فوج دنیا کی سب سے بهادر فوج هے
هم دنیا کی پاک ترین قوم هیں
کیونکه هم
استنجا کرتے هیں
اور جب
حقائق کی تلخی سے اگر کبھی هوش ایا بھی تو
لیس دار هو جانے والی تشریف کو محسوس کرکے کہیں گے که
لسوڑا گر گیا تھا
فیر مغالطه!!!ـ

2 تبصرے:

مطلوب کہا...

السلام اعلیکم
آپ کی باتوں میں تلخی ہے لیکن بات سولہ آنے ہے میں نے آپ کے بلاگ کی تحاریر کا جائرہ لیا ہے اور محسوس کیا ہے کہ آپ بندے بڑے تلخ ہو لیکن اس تلخی میں سچائی جھانکتی دکھائی دیتی ہے

محمد سلیم کہا...

خاور بھائی، قلم تیز چلتا ہے تلوار سے، اس مقولے کی صداقت صرف آپ کے مضامین پڑھ کر سامنے آتی ہے۔ سچ پوچھیئے تو آپ کے بلاگ کو نا کسی تھیم کی ضرورت ہے اور کسی فونٹ کی، آپ جس طرح بھی لکھیں ویسا ہی قابل قبول ہے۔
آپ کے مضامین سنڈیکیشن میں پڑھ لیئے جاتے ہیں اور تبصروں تک کی نوبت ہنہیں آتی، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ کسی نے داد نہیں دی، لکھتے رہیئے، تاکہ تاریخ یہ نا کہے کہ کسی نے جبر اور طاغوت کے خلاف لب کشائی نہیں کی تھی۔

Popular Posts