ہفتہ, اگست 13, 2011

خون کا عطیه کریں


بچبن ميں لوگوں سے سنا كه فلاں ادمى جوانى ميں پچهـ لگوا كر پاء پكا خون نكلوايا كرتا تها ـ
كتنے هى بوڑهے لوگوں كى پنڈليوں پر كٹ لگے كے نشان بهى ديكهے هيں كه جوانى ميں پچهـ لگوا كر خون نكلوايا كرتے تهے ـ
ميں سمجها كرتا تها كه ايسا كر كے يه لوگ اپنى جوانى ميں دوسروں پر اپنى بەادرى كى دهاكـ بٹهانا چاهتے هوں گے ـ مگر بقول ان لوگوں كے ميرے جسم ميں خون ذياده هوتا تها اور اگر ميں پچهـ نەيں لگواتا تو مجهے گرميوں ميں چنكاں(سوئياں چبهناں) پڑتى تهيں ـ
بەت بعد ميں جا كر سمجهـ آئى كه سرد ممالكـ كے لوگوں كے جسم ميں گرم ممالكـ كے لوگوں كى نسبت خون ذياده هوتا هے ـ
اور پنجاب ميں سرديوں ميں سخت سردى اور گرميوں ميں سخت گرمى هوتى هے اس لئے سرديوں ميں جوان ادميوں كے جسم ميں خون كے بڑه جانے كى بات سجهـ ميں اتى هے اور گرميوں ميں اگر يه جب تكـ كه قدرتى طريقے سے كم هو گا اس وقت تكـ چنكاں توں پڑيں گى ـ اس لئے پرانے زمانے ميں لوگ پچهـ لگوا كر خون كى مقدار كو متوازن كر ليا كرتے تهے ـ
نقطے كى بات
اگر هم لوگ اپنے پنجاب كى اس روايت كو اج كے دور ميں لوگوں كو اچهى طرح وضاحت كر ديں اور اس پچهـ لگوانے كو خون كا عطيه دے كر اپنے خون كى مقدار كو متوازن كرنے كا طريقه بتائيں تو ايكـ تو خون كا عطيه دينے كا رواج پڑے گا اور خون كے ذيادتى سے پيدا هونے والے بيماريوں كے روكـ تهام بهى هو گى ـ

یهاں جاپان میں خون ایک انمول چیز هے
انمول ؟
جس کا مول ناں هو
جی هان جاپان میں اپ ناں خون خرید سکتے هیں اور ناں هی بیچ سکتے هیں
هاں بلڈ بنک میں خون جمع کروا سکتے هیں جهاں سے ضرورت پڑنے پر اپ کو یا اپ کے خاندان کو واپس کیا جائے گا
لیکن اکر اپ نے بلڈ بنک میں خون جمع هی نهیں کروایا تو؟
اپ کو حادثے کی صورت میں دوسروں کے اکاؤنٹ سے خون کا قرضه دیا جائے گا
تاکه اپ کی جان بچ جائے
لیکن اپ پر اس بات کی معاشرتی ذمی داری بن جائے گی که اپ یا اپ کے خاندان کے افراد اس خون کی مقدار بن میں جمع کروائیں
ایک بهت هی اچھے تعلیمی نظام سے بننے والے جاپانی معاشرے میں خون کا عطیه دینا عام سی بات ہے
ریڈ کراس والوں کی بس کہیں بھی کھڑی هو گی اور لوگ اس ميں بے تکلفی سے آ جا رهے هوں گے
جیسے که
گزرتے هوئے یاد سا آ جائے
هاں یه کام بھی کرنا تھا چلو کرتے چلتے هیں
میں ایسے لوگوں کو ذاتی طور پر جانتا هوں که
هر چار مہینے بعد
چار سو ملی لیٹر خون دیتے هیں اور بیس بیس سال سے تیس تیس سال سے ایسا کرتے هی چلے جارهے هیں
لیکن جاپان میں خون لینے والوں نے بھی ایک معیار بنایا هوا هے که
جو لوگ یورپ میں یا امریکه میں مقیم رهے هیں
ان کا خون قبول نهیں کیا جائے گا
کیوں که
گائے کی منه کھر کی بیماری کو بہانا بنایا جاتا هے
کچھ سالوں میں تو اگر اب نے برطانیه میں ایک رات بھی گزاری ہو تو اب کا خون قبول نهیں کیا جائے گا
پاکستان ميں خون کا عطیه دینے والوں میں ایک تاثر پایا جاتا هے که اس سے کمزوری آ جاتی هے
لیکن یه بات ایک مغالطه هے
جس کو که اپنی پنجاب کی روایات کی روشنی میں بھی اجاگر کیا جاسکتا هے

Popular Posts