اتوار, جنوری 23, 2011

سانوں کی !!!ـ

حکم هے سچے پادشاھ الله سائیں کا
که اس کائینات میں اس کی بنائی هوئی هر چیز کا انت موت هے
اور یه کوئی نئی بات نہیں هے سبھی جانتے هیں
لیکن اس انت تک کے راستے میں اک جان پر کیا گزرتی هے اس کی وضاحت تو سیانے کرتے هی رہتے هیں
لیکن جی یه سیانے بھی تو مشاہدے کے هی غلام هوتے هیں ناں جی
اگر انکھ سے دیکھتے هیں که ستارے حرکت کررهے هیں تو ان کی سوچ یہی هوتی هے که ستارے هی حرکت کررهے هوں گے زمین نهیں
لیکن سوچ کی عادت نے ان کو ایک دن یه بھی بتادیا که زمین بھی اپنی جگه حرکت کرتی هے
هاں جی تو اک جان کو اپنے انت تک جانے کے لیے جو راستہ اس کے لیے متعین کیا گیا هے
وھ کیا ہے ؟؟
کمزور پیدا هو گی
طاقت پکڑے گی
جوان هو گی
اور
پھر؟؟؟
نقاہت ، کمزوری، بڑھاپے کی طرح گامزن هو گی اور بتدریج اپنے انت یعنی موت کو جاملے گی
هم دیکھتے هں که همارے اردگرد جانور ، درخت ،انسان سبھی کے ساتھ اسی طرح هو رها هے
حته که جن چیزوں یا انسانوں کو کچھ کم عقل لوگ میرے رب الله عالی شان کے ساتھ شریک سمجھنے کے مغالطے کا شکار هیں وھ بھی اسی راھ پر چلتے هوئے اپنے انت تک پہنچیں گے یا پہنچ چکے هیں
پھر بات اتی هے که مشاہدے کی غلامی کی
کیونکه یه سب هم دیکھ رهے هوتے هیں اس لیے هم اس کو مانتے هیں
لیکن جن چیزوں کے لیے مثال ہمارے سامنے ناں هو
اس کے لیے هم کیا سوچتے هیں ؟؟؟
مثلاً انسانی معاشرھ!!!!ـ
یهاں ایک چیز کی وضاحت که مختلف اقوام کی اپنی اپنی تاریخ سے کچھ وراء هو کر سوچیں انسانی معاشرھ
جس میں هم سب رھ رهے هیں ،
مختلف اقوام پر عروج آیا !!ـ
اس عروج سے پہلے کی جو باتیں تاریخ کم هی لکھی هوتی هیں ، وھ وهی هوتی هیں کمزور پیدائش ، طاقت پکڑنا وغیرھ وغیرھ
اور پھر بتدریج کمزور هوتی هوئی اپنيے انت کو پہنچیں ـ
لیکن اج هم یه دیکھ رهے هیں که سائینس کی ترقی هے که هوتی هی چلی جارهی هے
میرے همر عمر اور مجھ سے بڑے جو لوگ زندھ هیں وھ جانتے هیں که
ابھی همارے پجپن ميں جن چیزوں کا تصور بھی محال تھا ، وھ جادو ہمارے استعمال میں هے
یعنی که سائینس جو که همارے پجپن تک ایک کمزور سی چیز تھی
اپنی جوانی کی طرف مائیل هے
اور هر جوان کی طرح اس مغالطے کا شکار هے که
وھ مسلسل زور هی پکڑتا جائے گا
اس پر کبھی کمزوری نہیں آئے گی
اپنے دادے کی طرح بوڑھا هونے میں ابھی صدیاں بڑی هیں
حالانکه دادا سامنے هوتا ہے
لیکن سائنس کی جوانی هے که اس کے سامنے کوئی دادا یا بابا نهیں هے
اس کے سامنے اس جیسی کوئی مثال نهیں هے
اس لیے میں بھی یه اندازھ لگانے سے قاصر هوں که کب
اور کون سے وقت کو اس سائینس کی جوانی کا زمانه کہیں گے؟؟
کون سا وھ نقطه هو گا جہاں سے اس کی ڈھلوان شروع هو گی ؟
که جهاں سے یه کمزور هوتی هوئی بتدریج اپنے انت کو پہنچے گي؟؟
هاں جی ایک بات اور بھی تو هے!ـ
حادثاتی موت!!!!ـ
بھری جوانی میں قتل ، حادثہ ، یا کچھ اور ؟
اور یه کچھ اور کسی درخت کے ساتھ هو که کسی چرند یا پرند کے ساتھ یا کسی پہاڑ کے ساتھ که دریا کے ساتھ یا کسی انسان کے ساتھ هو که سلیمان تاثیر کے ساتھ !!!ـ
یه کچھ اور تو نهیں هونے والا اس سائینس کے ساتھ
کوئی ایٹمی جنگ ؟؟
یا وباء یا
کچھ اور ؟
اس ایٹمی جنک سے یاد ایا که هماری پیاری اور نسلی ایلیٹ نے امریکه کو یه باور کرایا هوا هے که همارے مولویوں کو ایٹم بم چلانے کا بڑا شوق ہے
اور پاكستان کے جوانوں کا یه حال هے که
وھ چاہتے هیں که دو تین مزائیل نیفے میں اڑس کر چلیں اور جیب میں دو تین دانے ایٹم بموں کے بھی پڑے هوئے هوں
لیکن جی اکر سائینس کےساتھ کوئی اور حادثہ نهیں هوجاتا اور کائینات کے افاقی قانون کے مطابق بتدریج کمزور هوتی چلی جاتی هے تو ایسا کیسے هو گا
اور پھر اس کے بعد کے انسانوں کے کیا حالات زندگی هوں کے ؟
اور وھ کیا سوچ کر ان سب سائینسی چیزوں کے استعمال کے فائدے پر صبر کرلیں گے؟؟؟
میرے خیال ميں وھ پاکستانی سوچ کے مالک بن جائیں گے
اور هر چیز کے نقصان پر کندہے اچکا کر کہا کریں گے
سانوں کی!!!!ـ

5 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

آپ نے اس تحریر میں خیال افروز اور اچھوتی باتیں کی ہیں۔

سانوں کی! بہت عمدہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بہت زبردست۔
میرے خیال میں صرف علم ہی ایسی جاندار چیز ہے جو ہیمشہ جوان رہتی ہے۔اس کائنات میں جسے موت بھی نہیں آتی۔جب تک انسان زندہ ہے علم بھی جوان اور ہشاش بشاش رہے گا۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آپ نے زندگی کے ايک رُخ کو بہت اچھی طرح پيش کيا ہے

کہا جاتا ہے کہ باقی جانداروں اور آدمی ميں فرق يہ ہے کہ اللہ نے آدمی کو مشاہدہ رکھنے والا جاندار بتايا ہے اور کچھ عوامل اس کے اختيار ميں دے ديئے ہيں جن کی بناء پر وہ اچھا يا بُرا بنتا ہے

ہسپانوں بابا فرام وائین فارم بآرسیلونا کہا...

سانوں کی! بہت عمدہ

افتخار راجہ کہا...

لکھا تو بہت عمدہ ہے مگر چونکہ ہم سب پاکستانی ہیں لہذا سانوں کی

Popular Posts