سوموار، 10 جنوری، 2011

لفظوں کی پستی اور بازیگری

لفظوں نے بھلا یهاں کون سے گڑھے بھرے هیں ، اور سطروں نے کون سے محل کھڑے کیے هیں؟
لیکن لکھنے والوں کی عادت ہی یه ہوتی ہے که لکھتے چلے جائیں ، اور اپنے لکھے هوئے کی بے اثری کے گواھ بن کے کچھ اور بھی کرب لکھیں ـ
میرے خیال ميں بہرحال ان شہروں کا مرتبہ ان شہروں سے کہیں بلند ہے جن شہروں میں لکھنے والے نہیں ہیں
 ۔اور ان شہروں میں رہنے والے بھی بلند ہیں که جن میں لکھنے والے رہتے هوں،
حالاں که همارے شہروں كی زندگی اکتائے هوئے دلوں کی زندگی هے جس میں ولولے بھی ترسے هوئے هیں،
ان ترستے هوئے ولولوں کی حقیقت کو ان شہروں کی گلیاں توچھپاتی هیں لیکن ان کے بازار؟؟
جھوٹ بولتے هیں !!!ـ
ہمارے ہاں بصیرتیں کڑہتی هیں ، ایک کرب در کرب کا تسلسل هے
لیکن
 حماقت ان پر ٹھٹھے کرتی هے، بے دانشی ان کا مذاق اڑاتی هے
یه بے دانش لوگ اپنی محرومیوں کے جواز میں بھونڈی دلیلیں رکھتے هیں
اور اس کوتاھ دستی کے جواز میں تلخ اور تند بحثیں کرتے هیں،
لنگڑے اپنے لنگڑے پن کو سڑکوں کی بچت کا کہتے هیں ۔
اور جن کی انکھیں پھوڑ دی گئیں هیں وھ اس بات پر شکرگرازی کی دلیلیں دیتے هیں که چمکاروں سے جان چھوٹی هوئی هے
لکھنے والوں کے لکھے کی بے قدری کا ماجرا کچھ اس طرح ہے که
حکیم محنتوں سے دوائی بنائے اور مریض اس دوائی کا قدح حکیم صاحب کے منه پر دے مارے میں تو اس بیماری میں شکرگزار هوں
لیکن اج کے ہم لکھنے والے ، لکھنے والوں کے اس گروھ سے هیں جو پست اور حقیر ترین هے
کیونکه هم لفظوں کے بازی گر بن کے رھ گئے هیں که
تماشہ دکھا کر ایک بھیڑ اکٹھی کرنا همارا پیشه ہے
اور کچھ خوش باش لوگوں کی فرصتوں کو بہلانا همارا ہنر هے
ان خوش باش لوگوں کی فرصتوں کو جن کے بے دانشی کے ڈھیر هیں اور اہم اس بے دانشی کے گواہ بھی ہیں ـ
جو عقل کو حقیر جانتے هیں ، جو دولت کو عقل کہتے هیں ـ
همارا اپنے لکھے کا یه استعمال ہماری بے ضمیری هی تو هے؟۔
 که ہمارے معاشرے میں چہروں کی چمک کے لے تارکول کی چمک بھی چپکا لینا ہنر کی بات هے
میں سمجھو ں گا که ہمارے پرانے لکھنے والوں کا خستہ ماضی ، همارے اس پر مایہ حال سے بہتر تھا
کیونکه ان کو اس بات کا فیصلہ کرنے حق تھا که کیا لکھنا ہے
لیکن اج کے ہم لکھنے والوں کو ان لوگوں کے لیے لکھنا هے جو
الف کو توبہرحال الف هی پڑھتے هیں اور ب کو بہرحال ب هی پڑھتے هیں
لیکن ۔۔۔۔۔!۔

دانش سے محروم
لوگ جب سزا دیتے هیں تو ان کی سزا حکومتوں کی سزاؤں سے درشت هوتی هے
میرے لوگوں کا للکارا یه هے که خبردار !!!ـ
ہمارے حق میں قلم نهیں اٹھانا
جو ہمیں گڑھے ميں گرنے سے باز کرنے کی کوشش کرے گا
هم اسے زمین میں گاڑ دیں گے٠
خبردار ہمارے حق میں زبان ناں کھولنا!!!۔
یهاں کہنے والے سننے والوں سے خوف زدھ هیں اور لکھنے والے پڑھنے والوں سے
سچ بولنا اور حق لکھنا
شائد کبھی ہمارے لوگوں کو راس اجائے

4 تبصرے:

عنیقہ ناز کہا...

یہ تو لگا کہ آپ نے خون دل میں ڈبو کر لکھ ڈالا۔ میں تو آپ کی اس تحریر سے مرعوب ہو گئ۔

عثمان کہا...

استاد جی !
آپ کے ہاتھ بھی اب بعیت کرنا ہی پڑے گی۔

خرم کہا...

سر جی خیر ہے؟ یہ تو آپ نے کمال کا لکھ ڈالا۔ ایسا ہی لکھا کریں۔ سچ اور دل سے۔

Abdullah کہا...

جو قوم کا درد رکھتے ہیں وہ جب بولتے یا لکھتے ہیں تو اس میں ایسا ہی درد پایا جاتا ہے جیسا آپکی آج کی تحریر میں موجود ہے ،
پر اس درد کا احساس بس درد دل رکھنے والوں کو ہی ہوتا ہے
:(
اندھوں کے شہر میں چراغ بیچنے جیسی تحریر ہے!

Popular Posts