جمعرات، 26 اگست، 2010

اسلام میں لیڈر شپ

پچھلے دنوں یهاں جاپان میں مسجد نبوی کے مام صاحب تشریف لائے تھے
اور انہوں نے جاپان کی مختلف مساجد ميں امامت کروائی اور لوگوں نے ان کی اقتداء میں نمازیں ادا کیں
جب امام صاحب
تاتے بیاشی والی مسجد میں امامت کروانے آئے تو انہوں نے اپنی نماز کسر نماز ادا کی
کیونکه امام صاحب مسافر تھے اور ان پر نماز کسر کرنا جائیز هو جاتا هے
اس سے پہلے بھی ایک دفعه جماعت کے امیر صاحب کہیں دور سے آئے تھے اور ان کو امامت میں کھڑا کردیا گیا تھا
انہوں نو اپنی کسر نماز ادا کی اور مقتدیوں کو اپنی اپنی ادا کرنے کے لیے چھوڑ کر امامت سے دستبردار هو گئے
یهاں ایک سوال پیدا هوتا ہے
که اسلام ميں ایسے شخص کو بھی لیڈر بنایا جاسکتا ہے جس کی منزل هی مختلف هو،
جس نے راستے چھوڑ کر چل دیے جانا هو
قافلہ خجل خوار هو که گدھے سوار هو
دوسرا سوال که قران رمضان میں نازل هوا
ایک جاپانی نے سوال کیا که
کیا قران ایک هی دفعه ميں نازل هو گیا تھا
دعوھ بنوت کے بعد تئیس سال کے عرصے میں قران نازل هونے کی تاریخی بات کو جھٹلانے میں کیا راز ہے که سارے مولوی اسی بات پر زور دیتے هیں که قران رمضان میں نازل هوا
کیا خیال ہے جی اپ کا؟؟
رمضان میں بھی نازل هوتا رھا ہے
کہنے میں کیا حرج؟

27 تبصرے:

کاشف نصیر کہا...

خاور صاحب معاملہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ساتھ ہی لوح محفوظ سے ساتویں آسمان پر رمضان کے مہینے میں شب قدر کی رات کو نازل ہوگیا تھا جس کے بعد تھوڑا تھوڑا شان نزول کے مطابق آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کے قلب پر اتارا جاتا رہا. وللہ عالم بالصواب

محمد وارث کہا...

اس بات پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ قرآن رمضان میں نازل ہوا کیونکہ سورۃ القدر میں ہے کہ "ہم نے اسے یعنی قرآن کو شبِ قدر میں نازل کیا" اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ شبِ قدر رمضان میں ہے، ہاں رمضان کی کونسی تاریخ شبِ قدر ہے اس میں اختلاف ہے۔ باقی رہا حضور پاک (ص) پر قرآن کا اترنا تو اسے تنزیل کہا جاتا ہے۔

نازل یا نزول کا مطلب ہوتا ہے ایک ہی دفعہ مکمل اتار دینا یا اتر جانا جب کہ تنریل کا مطلب ہے تھوڑا تھوڑا کر کے
اترنا۔

کہا یہ جاتا ہے کہ جس انزال کا سورۃ القدر میں ذکر ہے وہ قرآن مجید کا پہلا نزول ہے جس میں وہ لوحِ محفوظ سے پہلے آسمان پر نازل ہوا تھا مکمل اور پورے کا پورا۔ اور اسکے بعد وحی کی صورت میں تئیس سال قرآن مجید حضور پاک (ص) پر نازل ہوتا رہا۔

مزید تفصیل کیلیے مولانا تقی عثمانی صاحب کی "علوم القرآن" یا کسی بھی مستند تفسیر کا مقدمہ یا دیباچہ دیکھیے۔

والسلام

راشد کامران کہا...

سورہ بقرہ آیت ایک سو پچاسی میں حتمی طور پر لکھا ہے کہ قران رمضان میں نازل ہوا۔۔ نزول کی تعریف کوئی کیسے کرتا ہے یہ اس کے علم پر منحصر ہے۔۔ اور تھیولوجیکل مباحثہ ہے۔۔۔ اور وقت جیسی اضافی چیز کائنات میں کوءی نہیں۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

قرآن شريف کا مطالعہ کيجئے ۔ بات سمجھ ميں آ جائے گی ۔ ويسے محمد وارث صاحب نے درست لکھا ہے

ابو سعید کہا...

روایتی اوراقتدار پرست قیادت فیل ہوچکی ہےخلاءکوجماعت اسلامی پرکرےگی۔

جماعت اسلامی آزاد کشمیرکے امیر عبدالرشید ترابی نے کہاہے کہ راویتی اور اقتدار پرست قیادت فیل ہوچکی ہے،ذاتی مفادات ،برادری اور علاقوں کے دائروںسے آزاد نہ ہونے والی قیادات عوامی مسائل کیا حل کرے گی اور مسئلہ کشمیرپر کیا پیش رفت کرے گی،ذاتی مفادات ،برادری اور علاقوں کے دائروںسے باہرنہ نکلنے والی قیادت مسئلہ کشمیرکیا حل کروائی گی اور عوامی مسائل کا حل تو اس کا ایجنڈ ا ہی نہیں ہے،جماعت اسلامی آمدہ انتخابات میںہر نشت پر الیکشن لڑے گی اور تبدیلی کی نوید سنائے گی،ان خیالات کا اظہار انھوں نے ضلع مظفرآباد اورضلع ہٹیاں بالات کی شوراؤں کے اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے سواکسی کے پاس قومی اور ملی تبدیلی کا ایجنڈا نہیں ہے،ہم نے دیانت دار اور اہل قیادت عوام کے سامنے پیش کی ہے عوام اعتماد کریں تبدیلی کرکے دیکھائیں گے،لوٹے اور لٹیروں سے عوام کی گردنیں آزاد کروائیں گے،کرپٹ اور فرسودا نظام ختم کرکے اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام قائم کریں گے،میرٹ کی بحالی ،غریب لوگوں کی پروری کریں گے،اقتدار ہمارے پاس آگیاتو زکواة اور بیت المال وزراءکے لیے نہیں غریب عوام کے لیے ہوگا جو اصل مستحق ہیں،بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کریں گے،آزاد خطے کو بنیادی انسانی سہولیات فراہم کریں گے،بیس کیمپ کو تحریک آزادی کا حقیقی بیس کیمپ بنائیں گے،بجٹ کا حصہ تحریک آزادی کے لیے بھی رکھے گے،قرآن کی تعلیمات کے لیے بھی بجٹ سے حصہ رکھیں گے،عوام کے دکھوں کا مداوا کریں گے، اسلامی معاشرہ تشکیل دیں گے ،جہاں ہر فرد کو انفرادی اور اجتماعی طورپر انصاف ملے گا،حق دار کو حق ملے گا،ناانصافی اور ظلم کا دور دورہ ختم ہوگا،انھوںنے اس موقع پر کارکنوںکو ہدیت کی کہ وہ متاثرین کی مدد میں کوئی کسر نہ چھوڑیں،درست قوائف جمع کریں،اور ایک ایک متاثر تک پہنچیں،الخدمت فاﺅنڈیشن اور جماعت اسلامی متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی،اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

ابو سعید کہا...

روایتی اوراقتدار پرست قیادت فیل ہوچکی ہےخلاءکوجماعت اسلامی پرکرےگی۔

جماعت اسلامی آزاد کشمیرکے امیر عبدالرشید ترابی نے کہاہے کہ راویتی اور اقتدار پرست قیادت فیل ہوچکی ہے،ذاتی مفادات ،برادری اور علاقوں کے دائروںسے آزاد نہ ہونے والی قیادات عوامی مسائل کیا حل کرے گی اور مسئلہ کشمیرپر کیا پیش رفت کرے گی،ذاتی مفادات ،برادری اور علاقوں کے دائروںسے باہرنہ نکلنے والی قیادت مسئلہ کشمیرکیا حل کروائی گی اور عوامی مسائل کا حل تو اس کا ایجنڈ ا ہی نہیں ہے،جماعت اسلامی آمدہ انتخابات میںہر نشت پر الیکشن لڑے گی اور تبدیلی کی نوید سنائے گی،ان خیالات کا اظہار انھوں نے ضلع مظفرآباد اورضلع ہٹیاں بالات کی شوراؤں کے اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے سواکسی کے پاس قومی اور ملی تبدیلی کا ایجنڈا نہیں ہے،ہم نے دیانت دار اور اہل قیادت عوام کے سامنے پیش کی ہے عوام اعتماد کریں تبدیلی کرکے دیکھائیں گے،لوٹے اور لٹیروں سے عوام کی گردنیں آزاد کروائیں گے،کرپٹ اور فرسودا نظام ختم کرکے اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام قائم کریں گے،میرٹ کی بحالی ،غریب لوگوں کی پروری کریں گے،اقتدار ہمارے پاس آگیاتو زکواة اور بیت المال وزراءکے لیے نہیں غریب عوام کے لیے ہوگا جو اصل مستحق ہیں،بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کریں گے،آزاد خطے کو بنیادی انسانی سہولیات فراہم کریں گے،بیس کیمپ کو تحریک آزادی کا حقیقی بیس کیمپ بنائیں گے،بجٹ کا حصہ تحریک آزادی کے لیے بھی رکھے گے،قرآن کی تعلیمات کے لیے بھی بجٹ سے حصہ رکھیں گے،عوام کے دکھوں کا مداوا کریں گے، اسلامی معاشرہ تشکیل دیں گے ،جہاں ہر فرد کو انفرادی اور اجتماعی طورپر انصاف ملے گا،حق دار کو حق ملے گا،ناانصافی اور ظلم کا دور دورہ ختم ہوگا،انھوںنے اس موقع پر کارکنوںکو ہدیت کی کہ وہ متاثرین کی مدد میں کوئی کسر نہ چھوڑیں،درست قوائف جمع کریں،اور ایک ایک متاثر تک پہنچیں،الخدمت فاﺅنڈیشن اور جماعت اسلامی متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی،اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

ابو سعید کہا...

اسلام اور سیاست

کوئی کہتا ہے کہ تم مذہب کی تبلیغ کرو، سیاست میں کیوں دخل دیتے ہو۔ مگر ہم اس بات کے قائل ہیں کہ "جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی" اب کیا یہ لوگ ہم سے یہ چاہتے ہیں کہ ہماری سیاست پر چنگیزی مسلط رہے اور ہم مسجد میں "مذہب" کی تبلیغ کرتے رہیں؟ اور آخر وہ مذہب کون سا ہے جس کی تبلیغ کے لیے وہ ہم سے کہہ رہے ہیں" اگر وہ پادریوں والا مذہب ہے جو سیاست میں دخل نہیں دیتا تو ہم اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور اگر وہ قرآن و حدیث کا مذہب ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں تو وہ سیاست میں محض دخل ہی نہیں دیتا بلکہ اس کو اپنا ایک جزو بناکر رکھنا چاہتا ہے۔
کوئی کہتا ہے کہ تم پہلے مذہبی لوگ تھے، اب سیاسی گروہ بن گئے ہو۔ حالانکہ ہم پر کبھی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب ہم غیر سیاسی مذہب کے لحاظ سے "مذہبی"رہے ہوں، اور آج خدا کی لعنت ہو ہم پر اگر ہم غیر مذہبی سیاست کے لحاظ سے سیاسی بن گئے ہوں۔ ہم تو اسلام کے پیرو ہیں اور اسی کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جتنا مذہبی ہے اتنے ہی ہم مذہبی ہیں اور ابتدا سے تھے۔ تم نےنہ کل ہمیں سمجھا تھا جب کہ ہم کو" مذہبی" گروہ قراردیا۔ اور نہ آج سمجھا ہے جبکہ ہمارا نام "سیاسی جماعت" رکھا۔ سیاست اور مذہب میں تمہارا استاد یورپ ہے۔ اس لئے نہ تم نے اسلام کو سمجھا اور نہ ہمیں۔
کوئی کہتا ہے کہ الٰہ تو صرف معبود ہے تم نے یہ سیاسی حاکمیت اس کے لیے کہاں سے ثابت کردی؟ اوراس پرغضب یہ ہے کہ تم اس حاکمیت کو اللہ کے لئے مخصوص کرتے ہو اور انسانی حاکمیت کے منکر ہو۔ یہ تو خالص خارجیت ہے۔ کیونکہ تمہاری طرح خارجی بھی یہی کہتے تھے کہ اِنِ الحکم اِلا للہ اگر ہمارے نزدیک قرآن و حدیث کی رو سے خدا کا حق صرف عبادت و پرستش ہی نہیں بلکہ اطاعت و عبدیت بھی ہے۔ ان میں سے جس حق میں بھی خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کیاجائے گاشرک ہوگا۔ بندوں میں سے کسی کی اطاعت اگر کی جاسکتی ہے تو صرف خدا کے اذنِ شرعی کی بنا پر کی جاسکتی ہے اور وہ بھی خدا کی مقرر کردہ حدود کے اندر۔ رہا خدا سےبے نیاز ہوکر مستقل بالذات مطاع ہونا تو وہ تو رسولؐ کا حق بھی نہیں ہے کجا کہ کسی انسانی ریاست یا سیاسی و تمدنی ادارے کا حق ہو۔جس قانون، عدالت اور حکومت میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو مسند نہ مانا جائے،جس کا بنیادی اصول یہ ہو کہ اجتماعی زندگی کے جملہ معاملات میں اصول اورفروع تجویزکرنا انسانوں کا اپنا کام ہے اور جس میں قانون ساز مجلسیں خدا ئی احکام کی طرف رجوع کرنے کی سرے سے ضرورت ہی نہ تسلیم کرتی ہوں اور عملا ان کے خلاف قوانین بناتی ہوں اس کے اطاعت کے لزوم تو درکنار جواز تک کا کوئی ثبوت قرآن وحدیث میں موجود نہیں ہے۔ اس بلا کو زیادہ سےزیادہ صرف برداشت کیاجاسکتا ہے جب کہ انسان اس کے پنجہ اقتداد میں گرفتار ہوجائے۔ مگر جو شخص ایسی حکومتوں کے حق فرمانروائی کو تسلیم کرتا ہے اور اس بات کو ایک اصول برحق کی حیثیت سے مانتا ہے کہ خدائی ہدایت کو چھوڑ کر انسان بطور خود اپنے تمدن،سیاست اورمعیشت کے اصول و قوانین وضع کرلینے کے مجاز ہیں وہ اگر خدا کو مانتا ہے تو شرک میں مبتلا ہے ورنہ زندقہ میں۔ ہمارے مسلک کو "خارجیت" سے تعبیر کرنا مذہب اہل سنت اور مذہب خوارج، دونوں سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ علماء اہل سنت کی لکھی ہوئی کتب اصول میں سے جس کو چاہے اٹھا کردیکھ لیجئے۔اس میں یہی لکھا ملے گا کہ حکم دینے کا حق اللہ کے لئے خاص ہے مثال کے طور پر علامہ آمدی اپنی کتاب الحکام فی اصول الاحکام میں لکھتے ہیں کہ "اعلم انہ لا حاکم سوی اللہ ولا حکم الا ماحکم بہ"جان لو کہ حاکم اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور حکم صرف وہ ہے جو اللہ نے دیا ہے"۔

ابو سعید کہا...

جماعت اسلامی ہی کیوں



جماعت اسلامی کانام آپ نے ضرور سنا ہوگا، لیکن جب بھی سنا ہوگا شاید یہسوچ کرگزر گئے ہوں گے: ایسی مذہبی اور سیاسی جماعتیں تو بہت سی ہیں کیاضروری ہے کہ میں اس میں شامل ہونے اور کچھ کرنے کاسوچوں؟
آپ جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دیں؟
آیئے! بات یہاں سے شروع کریں کہ زندگی آپ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ زندگیہے تو دنیا کی ہرنعمت سے آپ لطف اندوز ہوسکتے ہیں، اور آخرت کی ساریلازوال نعمتیں بھی کما سکتے ہیں۔ اگر زندگی ہی اصل نعمت ہے تو پھر زندہرہنا ایک خوش گوار تجربہ اور لذت بخش کام ہونا چاہیے۔لیکن............سوچیے، تو آپ کاد ل خود پکاراٹھے گا کہ آج زندگیپریشانیوں کے بوجھ تلے پسی جا رہی ہے اور زندہ رہنا ایک تلخ تجربہاورتکلیف دہ کام بن گیا پیٹ بھرنے کی فکر میں، اور جن کا بھرتا ہے ان کواور بھرنے کی فکر میں تگ و دو کرتے صبح سے شام ہوجاتی ہے۔ پھر بھی ساریعمران ہی فکروں میں گزر جاتی ہے کہ دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ہوئی قیمتوںکے ساتھ خرچ نہیںپورا ہوتا، رہنے کے لیے صاف ستھرا مکان میسرنہیں،بچوں کوداخلے نہیںملتے اور مل جائیں تو روزگار کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتےپھرتے ہیں،علاج کے لیے کمرتوڑ اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر بس سے باہر ہیں۔
وطن عزیز کو دیکھیے تو ہر طرف ظلم اورفسادکاراج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سبانسانوں کو برابر بنایا ہے، لیکن چند لوگوں نے اپنے حق سے زیادہ زر، زمیناورطاقت حاصل کر لی ہے۔ اپنے جیسے انسانوں کی گردن پرسوار ہو کر ان پرغربت و جہالت مسلط کررکھی ہے۔ اپنے ہم وطنوں کو کمزور بنا کر ان کے حقوقدبالیے ہیں اور ان کو زندگی کی معمولی خوشیوں سے بھی محروم کررکھا ہے۔بددیانتی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور جائز سے جائز کام بھی سفارشاوررشوت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ پولیس کے ہاتھوں عزت محفوظ نہیں، جیبیں خالیکرکے بھی عدالتوں میںانصاف نصیب نہیں ہوتا ، تعلیم کا معیار پست ہے اوراخلاق کااس سے بھی کہیں زیادہ گرا ہوا۔ گھر کے اندر ہوں یا باہر، دل ونگاہ کو پاک رکھنا محال ہے ۔ فوجیں دشمن کو فتح کرنے کے بجاے اپنی قوم کوہی مارشل لا کے ذریعے بار بار فتح کرنے میں لگی ہوئی ہیں اور سرکاری افسرعوام کے خادم بننے کے بجائے ان کے آقا بن بیٹھے ہیں۔
امت کو دیکھیے،تواگرچہ دنیا کا ہر پانچواں آدمی مسلمان ہے، مگرمسلمان کادنیا میں وزن ہے نہ عزت۔ دنیا کی غالب قومیں دونوں ہاتھوں سے اس کولوٹنےاوردبانے میں لگی ہوئی ہیں، مگر وہ بے بس تماشا ئی ہے یا خوشی خوشی ان کےدام میں پھنستا ہے۔
آپ اکثر سوچتے ہوں گے کہ مسائل کا یہ جنگل کیسے صاف ہوسکتا ہے اورزندگی اطمینان کاگہوارہ کس طرح بن سکتی ہے۔
جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام اسی سوال کا جواب ہے۔
ہمارا پیغام

اگرمسلمان آج دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور ان کے مصائب سب سے بڑھکر ہیں تو وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ہم نے وہ مشن فراموش کردیا ہے، جسکے لیے یہ امت بنی تھی۔ ہم ا للہ اور اس کے رسولﷺ سے بے وفائی کررہے ہیں۔ہم نے اس دنیا کوہی اپنا محبوب ومطلوب بنا لیا اور خدا کے دین کے لیے اپنےوقت اور مال کاکوئی حصہ صرف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلمان قرآن پڑھتےاوررسولﷺ کی محبت کادم بھرتے ہیں ،لیکن ان کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سےبالکل نہیں جھجکتے۔جماعت اسلامی ہر مسلمان کویہ پیغام دیتی ہے کہ خداکوخدااوررسول کورسول مان کرتمہارے لیے جائز نہیں کہ تم زندگی کے کسی حصے میں انکے خلاف چلو بلکہ تمہارا فرض ہے کہ پوری زندگی میں اللہ کے دین کو غالبکرنے کے لیے جان و مال سے جہاد کرو۔ اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جبتک تم جمع ہوکرایک جماعت نہ بن جاو۔
اس کارِرسالت کے فرض کو اداکرنے کے لیے جماعت اسلامی بنی ہے۔یہ محض ایکسیاسی جماعت نہیں جس کی سرگرمیاں انتخابات تک محدود ہوں، نہ ایک مذہبیجماعت ہے جس کی دلچسپیاں صرف اعتقادی و فقہی اور روحانی مسائل ہی کے لیےمخصوص ہوں۔بلکہ ہماری ساری جدوجہد کامقصد صرف ایک ہی ہے کہ ہم اللہ کےمطیع اورفرمانبردار بن جائیں اور اس کی رضا اورقربت حاصل کریں۔ یہ رضا اورقربت ایک ایسے انقلاب کے لیے جدوجہد سے ہی حاصل ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میںدلوں پر بھی اللہ کی حکومت قائم ہوجائے اور پوری زندگی پر بھی وہ پرائیویٹہوں یاپبلک۔ یہ اعلان کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے”اس ہمہگیرانقلاب“ کی دعوت ہے۔

وقار اعظم ( کاشیف نصیر ) کہا...

جماعت اسلامی ہی کیوں


جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دیں؟
جماعت اسلامی کانام آپ نے ضرور سنا ہوگا، لیکن جب بھی سنا ہوگا شاید یہسوچ کرگزر گئے ہوں گے: ایسی مذہبی اور سیاسی جماعتیں تو بہت سی ہیں کیاضروری ہے کہ میں اس میں شامل ہونے اور کچھ کرنے کاسوچوں؟
آپ جماعت اسلامی کا ساتھ کیوں دیں؟
آیئے! بات یہاں سے شروع کریں کہ زندگی آپ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ زندگیہے تو دنیا کی ہرنعمت سے آپ لطف اندوز ہوسکتے ہیں، اور آخرت کی ساریلازوال نعمتیں بھی کما سکتے ہیں۔ اگر زندگی ہی اصل نعمت ہے تو پھر زندہرہنا ایک خوش گوار تجربہ اور لذت بخش کام ہونا چاہیے۔لیکن............سوچیے، تو آپ کاد ل خود پکاراٹھے گا کہ آج زندگیپریشانیوں کے بوجھ تلے پسی جا رہی ہے اور زندہ رہنا ایک تلخ تجربہاورتکلیف دہ کام بن گیا پیٹ بھرنے کی فکر میں، اور جن کا بھرتا ہے ان کواور بھرنے کی فکر میں تگ و دو کرتے صبح سے شام ہوجاتی ہے۔ پھر بھی ساریعمران ہی فکروں میں گزر جاتی ہے کہ دن دوگنی رات چوگنی بڑھتی ہوئی قیمتوںکے ساتھ خرچ نہیںپورا ہوتا، رہنے کے لیے صاف ستھرا مکان میسرنہیں،بچوں کوداخلے نہیںملتے اور مل جائیں تو روزگار کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتےپھرتے ہیں،علاج کے لیے کمرتوڑ اخراجات اور ہسپتالوں کے چکر بس سے باہر ہیں۔
وطن عزیز کو دیکھیے تو ہر طرف ظلم اورفسادکاراج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سبانسانوں کو برابر بنایا ہے، لیکن چند لوگوں نے اپنے حق سے زیادہ زر، زمیناورطاقت حاصل کر لی ہے۔ اپنے جیسے انسانوں کی گردن پرسوار ہو کر ان پرغربت و جہالت مسلط کررکھی ہے۔ اپنے ہم وطنوں کو کمزور بنا کر ان کے حقوقدبالیے ہیں اور ان کو زندگی کی معمولی خوشیوں سے بھی محروم کررکھا ہے۔بددیانتی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور جائز سے جائز کام بھی سفارشاوررشوت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ پولیس کے ہاتھوں عزت محفوظ نہیں، جیبیں خالیکرکے بھی عدالتوں میںانصاف نصیب نہیں ہوتا ، تعلیم کا معیار پست ہے اوراخلاق کااس سے بھی کہیں زیادہ گرا ہوا۔ گھر کے اندر ہوں یا باہر، دل ونگاہ کو پاک رکھنا محال ہے ۔ فوجیں دشمن کو فتح کرنے کے بجاے اپنی قوم کوہی مارشل لا کے ذریعے بار بار فتح کرنے میں لگی ہوئی ہیں اور سرکاری افسرعوام کے خادم بننے کے بجائے ان کے آقا بن بیٹھے ہیں۔
امت کو دیکھیے،تواگرچہ دنیا کا ہر پانچواں آدمی مسلمان ہے، مگرمسلمان کادنیا میں وزن ہے نہ عزت۔ دنیا کی غالب قومیں دونوں ہاتھوں سے اس کولوٹنےاوردبانے میں لگی ہوئی ہیں، مگر وہ بے بس تماشا ئی ہے یا خوشی خوشی ان کےدام میں پھنستا ہے۔
آپ اکثر سوچتے ہوں گے کہ مسائل کا یہ جنگل کیسے صاف ہوسکتا ہے اورزندگی اطمینان کاگہوارہ کس طرح بن سکتی ہے۔
جماعت اسلامی کا پیغام اور پروگرام اسی سوال کا جواب ہے۔

(محمد وقار اعظم ( کاشیف نصیر کہا...

جماعت اسلامی ہی کیوں


ہماراپروگرام


جماعت اسلامی کاپروگرام یہی ہے کہ اپنے پیغام سے غافل لوگوں کوجگائے۔جوساتھ دیں ان کی تربیت کرکے ان کو منظم قوت بنادے، معاشرے میں صحیحاسلامی فکر، اسلامی سیرت اور سچے مسلمان کی سی عملی زندگی پیداکرنے کیکوشش کرے اورعوام کی قوت سے زندگی کے ہر شعبہ میں بالخصوص حکومت میں،خدااور رسول کے باغیوں کے ہاتھوں سے قیادت اورفرماں روائی چھین کر اس کے مطیعفرماں بردار بندوں کے حوالے کردے۔ جماعت اسلامی اپنی ساری قوت پاکستانکوایسی ایک فلاحی واسلامی ریاست بنانے میں لگارہی ہے:
٭ جو خلافت راشدہ کانمونہ ہو
٭ جوہرشہری کوا س کی بنیادی ضروریات(روٹی،کپڑا ،مکان،علاج،تعلیم،انصاف) کی ضمانت دے اوروسائل کی منصفانہ تقسیم کرے۔
٭ جہاں تمام بنیادی انسانی حقوق محفوظ ہوں۔
٭ جہاں عوام انتخابات کے ذریعے اپنی مرضی سے جسے اقتدار میں لاناچاہیں لاسکیں اور جسے ہٹانا چاہیں ہٹا سکیں۔
آپ کادل کیا کہتا ہے؟
اگرجماعت اسلامی کاپیغام اور پروگرام آپ کوبرحق لگتا ہے تو ہم آپ کودعوتدیتے ہیں کہ آپ اس جدوجہد میں ہمارے ساتھی بنیں اور جماعت اسلامی میںباقاعدہ شامل ہوں، جماعت اسلامی چندمخصوص لوگوں کا گروہ نہیں بلکہ عوامالناس کی جماعت ہے۔ وہ عوا م الناس جو ظلم اور ناانصافی پرکڑھتے ہیں اوراسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ظلم کاشکنجہ گھر بیٹھ کر کڑھنے یازبانی جمعخرچ سے نہیں ٹوٹ سکتا۔ یہ شکنجہ تبھی ٹوٹے گا جب آپ خودجدوجہد میں شاملہوں گے۔لہٰذا آپ خود اٹھ کراپنے وقت اورمال کاایک معقول حصہ اللہ کے کا ممیں لگا دیں۔ جب آپ کی طرح سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ دن دور نہیں جبظلم اور بے انصافی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے، عدل کاسورج طلوع ہوگا اور ہمسب پر صرف اللہ کی حکومت ہوگی۔
آپ کا ضمیر ،آپ کاملک، آپ کی ملت، دکھی انسانیت ، سب آپ کو پکار رہے ہیں ۔ دنیا میں عزت و سربلندی اورآخرت میں جنتآپ کی منتظر ہے۔
کونو انصار اللہ اللہ کے مددگار بن جاو
نحن انصار اللہ ہم اللہ کے مددگار ہیں

گمنام کہا...

یار مجھے بھئ لگتا ھے وقار اعظم جماعت اسلامی والا اور کاشیف نصیر ایک ہی بندہ ھے جو دو مختلف بلاگ و نام سے تبصرے کرتا ھے ۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وقر اعظم اور کاشیف نصیر دونوں جماعتئے ہیں۔
لیکن دونوں دو مختلف بندے ہیں۔
باقی خاور جی کی پوسٹ پر ہم بلاتبصرہ ہی گذریں گے۔

گمنام کہا...

"مگر ہم اس بات کے قائل ہیں کہ "جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی"

ظاہر ہے دين سياست سے جدا ہوگا تو دين والوں کے حلوے مانڈے کا کيا بنے گا؟ ڈيزل پرمٹ کيسے ليئے جائيں گے اور دين کے نام پہ اسمبلی ميں سيٹيں ليکر فوائد حاصل کرنے کا کيا بنے گا؟ نہيں جي دين سياست کے ساتھ رہنی چاہيئے تاکہ دين والے دين پيچنے کی اپنی صلاحيت کا کما حقہ فائدہ اٹھاسکيں پہلے کی طرح-

گمنام کہا...

پاکستانوں اگر اپنی حقیقت دیکھنا ھے تو اس وڈیو کو دیکھوں،،

http://www.youtube.com/watch?v=G4jl1WYdZZI

Anwer کہا...

خاور صاحب ،
قرآن کریم کے ایک ساتھ رمضان میں نزول اور تیئیس سالوں میں تنزیل کے بارے میں تو کچھ افراد نے وضاحت کردی ہے ۔ امید ہے کہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی ۔ ویسے بھی یہ حقیقت (فیکٹ) کا معاملہ تھا ، جس پر انفرادی رائے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کو یہ بات معلوم نہیں تھی ، اب ہو گئی ہوگی ۔
باقی رہی بات لیڈرشپ کی ، تو کیا آپ ایسا لیڈر چاہتے ہیں ، جس کی آپ آنکھیں بند کرکے تقلید کریں ، اور آپ کو کوئی سوچ بچار نہ کرنی پڑے ۔
اگر ایسا ہے تو یقیناً آپ کو مسافر امام کی امامت میں نماز ادا نہیں کرنی چاہئے ۔ لیکن عام مسلمانوں کو بھی نماز کا مکمل طریقہ معلوم ہوتا ہے ۔ ڈسپلن کے لئے نماز باجماعت پڑھنے کا حکم ہے ۔ لیکن امام کے دو رکعت نماز (صلوٰاۃ قصر) کے بعد سلام پھیر دینے کے باوجود مقتدی بے سمت نہیں ہوجاتے ۔ اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اگر آپ کسی سے اوساکا جانے کا راستہ پوچھیں تو یہ ضروری تو نہیں کہ وہ راہنما آپ کو اوساکا تک چھوڑ کر آئے ۔ وہ آپ کو اسٹیشن تک لے جاکر ٹرین میں سوار کروادے ، تو کیا آپ اسے راہنما نہیں تسلیم کریں گے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

وقاراعظم کہا...

اگر آپ نے کہیں ایم کیو ایم کے کے خلاف کچھ لکھا تو بھائی لوگ آپ کے نام سے ہی الٹے سیدھے تبصرے کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

خارو صاحب، یہ جو تبصرے کیے گئے ہیں میرے، کاشف اور ابو سعید کے نام سے تو ذرا ان کی آئی پی چیک کرکے بتاسکتے ہیں کہ یہ کس ملک سے کیے گئے ہیں؟

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

امید ہے کہ آپکے کے اٹھائے گئے نکات پہ سیر حاصل گفتگو سے، اور قابل احترام قارئین کی دی گئی معلومات سے بہت سے لوگوں کو دین سمجھنے میں مدد ملے گئی ۔


موضوع سے ہٹ کر جماعت اسلامی کے بارے میں بغیر کسی وجہ کے ایک ہی بات کاپی پیسٹ کرتے ہوئے۔۔ اور پھر انہی لوگوں نے اسے بنیاد بنا کر مولوی ، مُلا وغیرہ کی شان میں اول فول بکنا شرع کر دیا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کہ مرزا غلام اھمد قادیان مردو و ملعون کے چیلے پاکستانی مولوی کو بُرا بھلا کیوں کہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ مولوی ، مُلا کو پاکستان جیسے ملمنا ملک میں ایک اسلامی روایت سمجھتے ہوئے بُرا بھلا کہتے ہیں ۔ انھیں ہر اُس چیز سے خوف ہے جس کا کائی ہلکا سا تعلق بھی کسی اسلامی شناخت سے بنتا ہے۔

فرحان اختر کہا...

آپ جو اکثر شور مچاتے ہو کہ اسلام خود سے سمجھنو، بزرگوں اور علمائے دین کو چھوڑو، یہ ہے نتیجہ اس کا جب ایک عام آدمی خود سے اسلام سمجھنا چاہتا ہے۔ اتنی سی بات ہی میں الجھ گئے، قرآن کی طرف تک نظر نہ گئی کہ اس میں کیا لکھا ہے۔

Talib کہا...

Most Heinous crime of Moududi sahib is to attribute the use of sword to Beloved prophet the Rahmatullilaalameen for spreading Islam.(Naudubillah)

In Pakistan it is known that Qadianis are agent of British but I always wonder that how muslims of Pak regard Moududi sahib as an Islamic scholar.

He declared Pak as Pleedistan and than migrated in.He has done against the Sunna.Holy prophet focused on public and never tried to grab the state to perform his duty of reforming the world.BUT Moududi sahib stress on grabbing the state first and than reforming the public by force.

There are pious ulama in Islamic world but in real minority. Prophecy of Holy prophet SAW has fulfilled and we see that now Majority of Ulama are worst creature under the Sky.They are source of all fitna.

talkhaaba کہا...

میرے نام سے کیے گئے تبصرے میرے نہیں ہیں۔ تبصرہ نگار اگر جماعت اسلامی کا ہمدرد، یا کارکن ہیں تو مجھے بے حد افسوس ہے۔
ایسا نامناسب ہے۔میں جماعتی اسلامی کا حامی ہوں لیکن میں کسی کو اپنے نام سے تبصرے کی اجازت نہیں دوں گا۔ بغیر اجازت کے تبصرہ کرنے والے کو اسلام کو مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
خاور صاحب میرے نام سے کیے گئے تبصرے حذف کیے جائیں۔ شکریہ

Anwer کہا...

خاور صاحب ، پچھلے تبصرے میں ایک بات رہ گئی تھی ۔
آپ نے لکھا ہے ؛
’’ دعوھ بنوت کے بعد تئیس سال کے عرصے میں قران نازل هونے کی تاریخی بات کو جھٹلانے میں کیا راز ہے که سارے مولوی اسی بات پر زور دیتے هیں که قران رمضان میں نازل هوا۔‘‘

حالانکہ میں نے کبھی کسی مولوی کو یہ بات جھٹلاتے نہیں سنا ۔ لوح محفوظ سے ستائیسویں رمضان کو ایک ساتھ نازل ہونے والی بات کی طرح ، تیئیس سالوں میں نبی کریم (صلعم) پر نازل ہونے والی بات بھی میں نے مولویوں ہی سنی ہے ۔ اور یقیناً دونوں باتیں پڑھی بھی ہیں ۔
آپ کی ہر تحریر کے بعد مجھے لگتا ہے کہ آپ کسی ’عالم‘ سے ملے ہی نہیں ہیں ۔ محلے کی مسجد پر تو ہمارا زور نہیں چلتا کہ وہاں عالم کی بجائے جاہل مولوی ہو تو بھی اسے ایسے ہی برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن محلے سے باہر نکل کر ، اور پھر ملک سے باہر نکل کر ، اور دنیا گھوم کر بھی اگر آپ کسی عالم کو پانے میں ناکام ہیں ، تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی کوششیں خام ہیں ۔ ہیرا ڈھونڈھنے کے لئے جو محنت کرنی پڑتی ہے ، وہ شاید آپ نے نہیں کی ۔
یہ آپ کی تحریروں سے لگایا گیا اندازہ ہے ۔ اگر غلط ہو تو معذرت ۔

toto4103@yahoo.com کہا...

وقار اعظم اور کاشیف نصیر دونوں جماعتئے ہیں۔
لیکن دونوں دو مختلف بندے ہیں۔
باقی خاور جی کی پوسٹ پر ہم بلاتبصرہ ہی گذریں گے۔
Thursday, 26 August 2010

یہ میرا ہی تبصرہ ھے۔
جماعتئے کا مطلب جماعت اسلامی سے ھے نہ کہ ایک دوسری جماعت جو خبیثوں کی ھے۔
اور نہ ہی ایسا لکھنے میں میرا کوئی خاص مقصد تھا۔
خوامخواہ میں تبصرہ کر دیا تھا۔
اگر میرے تبصرے سے کاشیف یا وقار بھائی کی دل آزاری ہوئی ھے تو میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔
اور نہایت ہی معذرت خواہ ہوں۔

toto4103@yahoo.com کہا...

وقار اعظم اور کاشیف نصیر دونوں جماعتئے ہیں۔
لیکن دونوں دو مختلف بندے ہیں۔
باقی خاور جی کی پوسٹ پر ہم بلاتبصرہ ہی گذریں گے۔
Thursday, 26 August 2010

یہ میرا ہی تبصرہ ھے۔
جماعتئے کا مطلب جماعت اسلامی سے ھے نہ کہ ایک دوسری جماعت جو خبیثوں کی ھے۔
اور نہ ہی ایسا لکھنے میں میرا کوئی خاص مقصد تھا۔
خوامخواہ میں تبصرہ کر دیا تھا۔
اگر میرے تبصرے سے کاشیف یا وقار بھائی کی دل آزاری ہوئی ھے تو میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔
اور نہایت ہی معذرت خواہ ہوں۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

مرزا مردود ملعون ٹتی میں گر کر مر گیا مگر اپنے پیچھے مردود چیلوں کا گرو چھوڑھ گیا جو کچھ وقت جاتا ہے رفتہ رفتہ خود ہی کنیڈا وغیرہ کو ایکسپورٹ ہوجائیں گے اور کنیڈا حکومتیں بھی مرزا مردود ملعون کذاب کے چیلوں سے تنگ آکر انھیں کہیں اور ایکسپورٹ کرنے کا سوچہیں گے۔ مرزا مردو ملعوں نے ٹٹ میں گر کر مرنے سے پہلے جھوٹ کو بھی اپنی سنت کے طور پہ اپنے چیلوں میں متعارف کروایا تھا۔ اسل لئیے بھی یہ شرفاء کا نام استعمال کرکے مرزا غلام قادیان ملعون مردود پآخانے میں لتھڑ کر مرنے والے جھوٹے نبی کے مذموم پروپگنڈہ کے لئیے استعمال کرتے ہیں۔

جس طرح لاحول۔۔۔ پڑھنے سے شیطان بھاگ جاتا ہے اسی طرح مرزا غلام قادیان ملعون مردود کے کرتوت کھول کر بیان کئیے جائیں تو مرزا ملعون کے چیلے رفو چکر ہوجاتے ہیں۔

سب مل کر پڑھیں
لعنت اللہ علٰی الکاذبین

گمنام کہا...

جماعت اسلامی کے خلاف ایک اور سازش ،،

گمنام کہا...

جماعت اسلامی کے خلاف ایک اور سازش ،،

گمنام کہا...

کسی نے سہی کہا ھے خبیث جماعتیوں کے لیے ،، شکل مومنین تے کام شیطان و کافروں والے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Popular Posts