اتوار، 15 اگست، 2010

دوکانوں کی مشہوری

اج کل جی پیر صاحابن انٹر نیٹ کا استعما بھی سیکھ گئے هیں اور اپنی اپنی دوکان داری کو چمکانے کے لیے اور روحانیت کے طالبوں کو اسلام مہیا کرنے کے لیے اپنی اپنی دوکانوں کے نام اور فون نمبر اور ای میل اور ویب سائیٹس کے ایڈریس میل کررہے هیں
خاور کے خیال میں ایسے پیروں اور شخصیات کو وقت دینا شرک هے
اپ کا خاور سے متفق ہونا ضروری نهیں هے
خاور یه خیالات مسلمانوں کے الله کے احکام والی کتاب قران پڑھ کر بنے هیں
جی صرف قران
قران کے خلاصے اور ٹیسٹ پیپر نہیں
جن کو روحانیت کے پیروکار پته نهیں کیا کیا نام دیتے هیں
ہم نے تو یہی دیکھا ہے که نصاب کی کتاب هی نصاب هوتی هے اور بھر خلاصے اور ٹیسٹ پیپرز هوتے هیں
اور پاکستان میں تعلیم نصاب کی بجائے خلاصوں پر مشتمل هوتی هے اور
سیانی قومیں کی تعلیم نصاب کی کتابوں پر انحصار کرتی هے
اس لیے
فرق صاف ظاہر
اگر نظر نه ائے تو ؟
ایک پیر صاحب کو جن کی دوکان کی مشہوری کی میل مجھے وصول هوئی ، میں نے اس میل کو ری پلے میں یه لکھ کر بھیج دیا هے

سورة اعراف کی تیسری آئت کریمہ هے

‎3 ‏ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ ‎
‎جس کے انگریزی ميں معنی هیں
Follow, [O mankind], what has been revealed to you from your Lord and do not follow other than Him any allies. Little do you remember.
‎اور اردو میں هیں
‎تابع رہو اس کے جو تم پر رب نے اتارا ہے ناں که اولیاء کے ، کم لوگ اس بات کا ذکر کرتے هیں،
‎یاد رہے که الله سائیں کا یه حکم ان کے لیے هے جو قرآن کو مانتے هیں
‎الله کے واضع حکم کے بعد جو لوگ شک میں رهیں یا جان بوجھ کر الله کے حکم کی نظر انداز کریں ایسے لوگ قران کی رو سے کفر کرتے هیں
‎لیکن کم لوگ ایسی باتوں کا تذکرھ کرتے هیں کیونکه اس سے ان کی دوکان داریوں پر زد پڑتی هے

‎اس لیے پیر لوگ روحانی سلسلوں کے گدی نشین لوگ الله پرستی کے نام پر قبر پرستی اور شخصیت
‎پرستی ، اور قبر پرستی کی طرف بلاتے هیں ،
‎سورھ اعراف کی یه آیت کریمہ ایک مثال ہے، قران اسی بات کو کئی طرح سے دھراتا ہے
‎لیکن کم تذکرھ کرنے والے لوگ ایسی ائیتوں کے متعلق بتاتے هیں که یه بتوں کے خلاف هیں !، اولیا کے نہیں

‎اس لیے عورة اعراف کی یه آیت کریمه لکھی هے جس میں واضع طور پر لفظ اولیاء عربی میں لکھا هے

‎شرک کے خلاف تذکرھ کی تلقین کرنے والی آئیتوں کو ذکر کے نام سے قران کی آئیتوں کو بار بار دھرانے کا نام دیے کر لوگوں کو گمراھ کرتے هیں تاکه ، ان لوگوں کی پیری فقیری کی دوکان داری چلتی رهے
‎الله تعالی سے دعا ہے که الله شرک سے بچائے اور شرک کی طرف بلانے والوں لوگوں کو ہدایت دے که یه لوگ بھیک کی بجائے محنت کرکے اپنی اولادوں کو پالیں اور اپنا پیٹ بھی بھریں
‎منجانب
خاور کھوکھر، اردو کا ایک قدیم بلاگر

‎اب جی مجھے جی خلاصے اور ٹسٹ پیپروں کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کا الزام لگانے والی
‎میلیں آ رهی هیں
‎میرا جاوب ہے که اے پیر پرست اور شخصیت پرستو
‎اگر اتنی اسانی سے توحید کی بات سمجھ جاتے لوگ تو نبیوں کی مخالفت کیوں هوتی
‎اور میں نصاب کا طالب علم هوں
‎خلاصے اور ٹیسٹ پیپروں کا نهیں
‎اور نصاب ( قران)میں کوئی ایک آیت قبر پرستی یا شخصیت پرستی کی حمایت میں نکال کردیں یا پھر جن کو اولیا الله کہتے هیں ان کی پرستش کی حمایت میں هی آیتیں بتا دیں که
‎قران کے نصاب کے طالب علم کے علم میں اضافہ هو
ورنہ میں اپ کو الله کے سوا کی مخالفت میں کئی آئیتیں نکال دیکھتا هوں
اور پیر صاحب اپ سن لیں کہ اپ الله نهیں هو
الله کے سوا کوئی اور چیز هو
جی اپ ! پیر صاحب

‎ورنہ دو میں سے ایک بات ضرور هے
‎یا تو میں پاگل هوں
‎یا پھر اپ مشرک هیں

23 تبصرے:

عثمان کہا...

بہت خوب!
لیکن آپ ایک پرستش کا ذکر کرنا بھول گئے. اور وہ ہے مذہب پرستی. اور یہ ہمارے ہاں بہت ہے.
جسطرح قبرپرست کو یہ پتا نہیں چلتا کہ وہ قبر کی پرستش کررہا ہے کہ خدا کی.
اسی طرح مذہب پرست کو بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ مذہب کی پرستش کررہا ہے کہ رب کی.

ھارون اعظم کہا...

قبر پرستی اور اولیاء اللٰہ سے محبت میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے۔ دین میں غلو سے منع کیا گیا ہے۔ نیز قبر پرستی کو برا کہنے کی آڑ میں اولیاء کرام کی خدمات سے انکار بھی غیرمناسب بات ہے۔

شکریہ

جاویداقبال کہا...

السلام عیلکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی قبرپرستی کی ہرکوئی مذمت کرتاہےاوررہی شخصیت پرستی بات یہ تواسلام میں سراسرغلط بات ہےاوراولیاء اللہ کی خدمات سےانکارنہیں ہےلیکن گدی نشینوں کاسلسلہ بس کیاکہیں کہ اللہ ہی حافظ ہے۔ اللہ تعالی میرےملک پراپنارحم و کرم کردے۔ آمین ثم آمین

والسلام
جاویداقبال

fikrepakistan کہا...

میں قبر پرستی کے خلاف ھوں شخصیت پرستی کے خلاف ھوں، مگر بزرگان دین کی خدمات کا دل سے قائل ھوں برصغیر پاک و ہند میں آج جتنے مسلمان ھیں وہ سب اس بزرگان دین کی ھی بدولت ھیں۔ اور جہاں تک رہی بات شرک کی تو اس کے لئیے حضور پاک صلی اللہ علیھ وسلم کی بہت ہی واضع حدیث موجود ھے۔ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کے، مجھے یہ خدشہ نہیں کے میری امت شرک میں مبتلا ھوجائے گی مجھے یہ خدشہ ھے کے میری امت مال و دولت کی محبت میں گرفتار ھوجائے گی۔ تو جب حضور کو یہ خدشہ نہیں تو ھم اس خدشے میں پڑنے والے کون ھوتے ھیں؟ اور ویسے بھی قرآن میں اللہ نے فرما دیا ھے کے ھم قیامت کے دن تمہاری نیتوں کو کھنگالیں گے۔ اسلئیے یہ بحث انتہائی فضول اور تفرقے میں پڑنے کے مترادف ھے۔

Anwer کہا...

خاور صاحب ، آپ مختلف چیزوں کو گڈمڈ کرنے کے بہت عادی ہیں ۔
مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آپ اس پوسٹ سے کیا بات کہنا چاہتے ہیں ۔ بات اگر ’پرستی‘ کی ہے ، تو قران ، اللہ کے علاوہ ہر قسم کی پرستی سے واضح طور پر منع کرتا ہے ۔ حتیٰ کہ ’نبی پرستی‘ سے بھی ۔ تو ظاہر ہے کہ جب نبی پرستی جائز نہیں تو کیا اولیاء ، کیا پیر ، اور دوسری شخصیات ۔ کسی کی بھی پرستش منع ہے ۔ آپ کی پوسٹ میں لفظ ’اولیاء‘ پر زور دینے کی بات سمجھ نہیں آئی ۔
ویسے عربی میں اولیاء کے معنی غالباً ساتھی کے ہوتے ہیں (اگر میں غلطی پر ہوں تو براہ کرم تصحیح کردیں )۔ اردو میں ہم اولیاء محدود معنوں میں استعمال کرتے ہیں ، اس لئے کچھ کنفیوژن کا احتمال ہوتا ہے ۔
باقی رہی نصاب اور خلاصوں کی بات ۔ تو آپ کی یہ بات تو درست ہے کہ اصل چیز نصابی کتاب ہے ، اس سے ہٹنا نہیں چاہئے ۔ لیکن طالبعلم کو نصابی کتاب سمجھنے کے لئے اساتذہ کی بھی تو ضرورت ہوتی ہے ۔ میٹرک کا طالبعلم ، پرائمری کی نصابی کتاب تو سمجھ اور سمجھا سکتا ہے ، لیکن میٹرک کی کتاب سمجھنے کے لئے اسے بہرحال اساتذہ (یا ریفرنس بکس) کی ضرورت پڑے گی ۔
پھر قران تو ایسی جامع کتاب ہے ، جس میں مختلف موضوعات ہیں ۔ اور یہ ہر دور کے لئے بھی ہے ۔ اس کے کچھ حصے تو اتنے آسان ہیں کہ کوئی بھی شخص پڑھ کر پس منظر جانے بغیر سمجھ سکتا ہے ۔ لیکن کچھ حصے مشکل بھی ہیں ۔ انہیں سمجھنے کے لئے ان کی شان نزول کو بھی دیکھنا پڑتا ہے ، اور ان کے بارے میں صاحب قران کے اقوال (حدیث) و افعال (سنت) کو بھی ۔ ان سب چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی کسی معاملے میں نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے ۔ اگر کسی کے پاس اتنا علم ہے کہ وہ ،یہ تمام کام خود سے کر سکے (یعنی عالم ہو) تو یہ انتہائی آئیڈیل صورتحال ہوگی ۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری اکثریت اس قابل نہیں ہوتی ۔ چنانچہ ہمیں علماء (دین کے اسکالرز) کی رائے لینی پڑتی ہے ۔ خود نبی کریم نے علماء کو انبیاء کا نائب قرار دیا ہے ۔ اس لئے ان کی عظمت میں کوئی شبہ ہی نہیں ۔
لیکن بہرحال کسی بھی عالم کی رائے کو ، دوسرے عالم کی مزید بہتر رائے آنے پر رد کیا جاسکتا ہے ۔ ’علماء پرستی‘ سے بچتے ہوئے ، علماء کی عزت اور ان سے اکتساب علم کیا جانا چاہئے ۔
واللہ و اعلم بالصواب ۔

Anwer کہا...

خاور صاحب ، اگر دکانداری چمکانے والی ای میلوں میں سے کوئی نمونے کے طور پر پوسٹ کردیں ، تو آپ کی پوسٹ کا پس منظر سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔

سعد کہا...

میں انور صاحب سے پوچھنا چاہوں گا کہ یہ بزرگان دین کے مزاروں کی گدیوں پر موٹے موٹے پیٹ والی ریفرنس بکوں سے اسلام کی کتنی خدمت کی جا رہی ہے؟

احمد عرفان شفقت کہا...

باتوں کو گڈ مڈ کرنے سے بات سمجھ نہیں آ سکتی۔
جب بھی قرآ ن کی تعلیمات کو بنیاد بنا کر یہ بتایا جائے کہ شرک اللہ کی نگاہ میں سب سے زیادہ قابل مذمت عمل ہے تو ہم لوگ قبر پرستی کا دفاع کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ قرآن کو تو یہ کہہ کر سائڈ پر کر دیا جاتا ہے کہ قرآن ہر کسی کے سمجھ میں آنے والی کتاب نہیں ہے۔ جبکہ اللہ قرآن میں خود فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟
جیسے ہی قبر پرستی سے روکنے کی بات کی جاتی ہے، ہم اولیاء اللہ کی عزت و تکریم کی بات آگے لے آتے ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ کوئی جتنی چاہے ان نیک لوگوں کی عزت کرے مگر عزت کرنے کے اس عمل کو ان شرکیہ اور حرام اعمال سے الگ رکھے جو ان بزرگوں کی قبروں پر کیے جاتے ہیں۔ ان کی عزت دل میں رکھنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ ان بزرگوں کو وہ مقام دے دیا جائے جو صرف اللہ کے شایان شان ہے۔ اللہ کی صفات اس کی مخلوق سے منسوب کر دینا یہ کہاں کا عزت دینا ہوا۔اللہ کے وقار کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا یا نہیں؟
اگر ان بزرگوں نے بر صغیر میں اسلام پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا تو اس کا اعتراف کرنے کا طریقہ تو نہیں کہ ان کی قبروں پر جا کر ان سے مانگا جائے۔ یا یہ گمان دل میں رکھا جائے کہ ہم مانتے میں کہ حاجت روا اللہ ہی ہےمگر چونکہ اللہ ہماری سنتا نہیں اور ان مرحوم و مدفون لوگوں کی بزرگی کی وجہ سے ان کی موڑتا نہیں اس لیے ہم ان فوت شدہ لوگوں کے ذریعے سے اللہ سے مانگتے میں۔ یا یہ کہ مانگتے تو ہم اللہ سے ہی میں مگر یہ قبریں، آستانے، خانقاہیں کیونکہ با برکت جگہیں ہیں اس لیے یہاں آ کر مانگنے سے دعا جلدی قبول ہوتی ہے۔ان بزرگوں کے لیے احترام و تکریم کا اظہار کرنے کے لیے نہ تو سو کالڈ بہشتی دروازے بنوانے کی ضرورت ہے نہ ان دیگر غیر شرعی خرافات کی جن کا اہتمام ان قبور پر سارا سال کیا جاتا ہے جو عرس وغیرہ کے موقعہ پر اور زور و شور پکڑتا ہے۔
کسی کی عزت کرنا الگ ہے اور اللہ کو غضب دلانے والے شرکیہ اعمال الگ چیز ہیں۔
باتوں کو واقعی گڈمڈ نہیں کیا جانا چاہیے۔

Anwer کہا...

احمد عرفان شفقت صاحب ۔
ماشاء اللہ کافی اچھا تبصرہ کیا ہے آپ نے ۔ آپ کی تقریباً تمام ہی باتیں درست ہیں ۔ صرف ایک بات سے اختلاف ہے ۔
آپ نے کہا ، ’ جیسے ہی قبر پرستی سے روکنے کی بات کی جاتی ہے، ہم اولیاء اللہ کی عزت و تکریم کی بات آگے لے آتے ہیں‘ ۔
جی نہیں معاملہ گڈ مڈ اس وقت ہوتا ہے ، جب قبر پرستی کی مذمت اور اس کی جانب راغب کرنے والے پیروں ، اور جعلی عالموں کی مذمت کرتے کرتے ، علماء اور اولیاء اللہ کی بحیثت مجموعی تکذیب شروع کردی جاتی ہے ۔ اور جب کوئی علماء دین (حقیقی) کا دفاع کرتا ہے تو بعض لوگ اسے قبر پرستی یا پیر یا آستانہ پرستی کا دفاع سمجھ لیتے ہیں ۔
اسی لئے اللہ تعالیٰ نے دین کیں غلو سے منع فرمایا ہے ۔ ہر غلط کام کی ، اور اس کی تکزیب کرنے والوں کی سخت مذمت کریں ، لیکن علماء اور اولیاء اللہ کا بحیثیت مجموعی انکار نہ کریں ۔ ان اولیاء نے نہیں کہا تھا کہ ان کی قبروں کو آستانے بنا لینا ۔ بلکہ انہوں نے تو مزار بنانے کا بھی نہیں کہا تھا ۔ یہ تو موقع پرستوں نے یا پھر جاہلوں نے انہیں آستانہ بنا لیا ہے ۔ لیکن اس کے لئے صاحب قبر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔
کسی قبر کی پرستش پر صاحب قبر کو ذمہ دار ٹھہرانے کا اصول نہایت خطرناک ہے ۔ کیونکہ جاہلوں کو تو موقع ملتا ہے تو وہ نبی کریم کے روضہ مبارک کی پرستش سے بھی باز نہیں آتے ۔ حالانکہ انہوں نے اس کی سخت ممانعت فرمائی تھی ۔

Anwer کہا...

معذرت چاہتا ہوں ۔ ایک جملہ غلط ٹائپ ہوگیا ۔
’ہر غلط کام کی ، اور اس کی تکزیب کرنے والوں کی سخت مذمت کریں‘ ۔
درست جملہ یوں ہے ۔ ’ہر غلط کام کی ، اور اس کی ترغییب دینے والوں کی سخت مذمت کریں‘ ۔

خاور کھوکھر کہا...

احمد عرفان شفقت صاحب نے میرے دل کی بات کردی جی
اور بڑے هی اچھے انداز میں کی جی
الله سائیں اپ کو جزا دے
میں نے الله کی توحید کے پرچار کا ٹھیکہ لیا هوا هے جی اور اس کے بدلے میں الله نے مجھ پر کرم رکھا ہے جی که مجھے کبھی کسی کا محتاج نہیں هونا پڑا
مجھے کبھی کسے سامنے منتیں اور التجائیں کرنے کی ضرورت نہیں پڑی جی
جب بھی معاملات سخت هوئے میں نے محنت کر لی
لیکن ہاتھ نہیں پھلایا
اور الله سائیں نے هر هر جگہ سنبھالا دیا جی
بڑی هی مہربانی جی الله عالی شان صاحب کی که اس نے مجھے کھانے کو سمان دیا اور چبانے کو دانت اور چکھنے کو زبان اور هضم کرنے کو معدھ
اور سانس لینے هو صاف هوا دی
نہیں ہے کوئی الہ الله کے سوا اور محمد صعلم الله کے رسول هیں
جی هاں رسول هیں محمد،
الله نهیں هیں
تو جی کائینات میں ایک الله ہے اور باقی سب کچھ غیر اللہ ہے
عربی میں کارباری حصه دار کو بھی شریک کہتے هیں
تو جی جب اپ غیر اللہ کو اللہ کے کاروبار حصه دار بناتے هیں تو جی یہی شرک هوتا هے جی
پیر صاحب ، شرک کے خلاف
ہم
الله پرست لوگ
ضد پر اتر ایا کرتے هیں

Abdullah کہا...

خاور کھوکھر کیا آپ جانتے ہیں کہ سب سے بڑا شرک کیا ہے بندے کا خود کو کچھ سمجھنا،یہیں سے شرک کی ابتداء ہوتی ہے کیونکہ جب وہ خود کو کچھ سمجھنے لگتا ہے تب وہ دوسروں کی تذلیل پر اتر آتا ہے اورپھر وہ ایسے قانون بنانے لگتا ہے جو صرف اور صرف اسکو ہی فائدہ پہنچا سکیں اور ان فوائد کا دائرہ اس کے اپنے گھراور خاندان تک محدود ہوجاتا ہے، اس کی دیکھادیکھی بہت سے چھوٹے فرعون پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں ان میں جو سب سے بڑا فرعون ہوتا ہے وہ باقی فرعونوں کا سردار بن بیٹھتا ہے،اب باقی کمزور لوگ اس کے غلام ہوجاتے ہیں،اس کے لیئے کبھی وہ مذہب کا سہارہ لیتا ہے کبھی اپنی دولت یا طاقت کا،وہ دین کو موم کی ناک بناکراپنے حساب سے موڑتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک دن وہ خود خدا بن بیٹھتا ہے لوگوں کی عزت جان ومال اس کی دسترس میں ہوتے ہیں اور وہ ان سے اپنی مرضی کے مطابق کھلواڑ کرتا ہے اپنے خلاف اٹھنے والی ہرآواز کو کچل کر رکھ دیتا ہے اور جب معاشرہ اس ظلم کے اندھیرے میں مکمل ڈوب جاتا ہے تب اللہ اپنے کسی نیک بندے کو پیدا کرتا ہے کبھی رسول اور پیغمبر کی شکل میں تو کبھی کسی مصلح کی شکل میں اور پھراس نیک شخص کےاس دنیا سے جاتے ہی اس کے پیروکاروں یا خا ندان والوں میں سے کسی کے دماغ مین ایک بار پھر شیطان غرور کی پھونک مارتا ہے کہ تم تو ایک عالی خاندان کے فرد ہو ایک نیک شخص کی نسل سے ہو اور یوں رفتہ رفتہ یہ شیطانی چکر پھرشروع ہوجاتا ہے!

Abdullah کہا...

فکر پاکستان اب آپکی بات کا جواب ،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شدت سے شرک سے بچنے کی تلقین کی کسی اور چیز سے نہیں کی ،اسی لیئے آپنے فرمایا کہ شرک ایسا ہے جیسے اندھیری سیاہ رات میں سیاہ چیونٹی کہ جو ہے مگرنظر نہیں آتی،
رہی مال و دولت سے محبت کی بات تو یہ مرض بھی شرک پیدا ہونے کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ مال کو اپنی محنت کا پھل سمجھ کراس پر صرف اپنا حق سمجھتا ہے اسے اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے اسے تکلیف ہونے لگتی ہےاور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ مال کی محبت میں اس حد تک ڈوب جاتا ہے کہ حلال اور حرام کا فرق بھی مٹا دیتا ہے اور اس کا مزہب دولت کا حصول بن جاتا ہے چاہے حلال ذریعے سے حاصل ہو یا حرام ذریعے سے!!!

Abdullah کہا...

قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ میں ہر گناہ معاف کردوںگا مگرشرک معاف نہیں کروں گا!
اب سوال یہ ہے کہ ہر گناہ کی جڑ میں شرک بیٹھا ہوتا ہے،تو اس کا تو یہی مطلب ہوا کہ کوئی گناہ معاف نہیں کیا جائے گا؟
نہیں وہ گناہ جو انجانے میں ناداستگی میں سرزد ہوئے وہ معاف کردیئے جائیں گے، مگرجان بوجھ کر گناہ کرنے والا اور اپنے گناہوں کو مزے لے لے کر بیان کرنے والا اور اپنے گناہوں پراترانے والا ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا جب تک کے وہ بارگاہ الہی میں گڑ گڑا کراپنے گناہوں کی معافی طلب نہ کر لے اپنی آخری سانس آنے سے پہلے پہلے

اللہ ہم سبکو گناہوں سے محفوظ رکھے ہمیں ہمارے گناہوں سے توبتہ النصوح کی توفیق عطافرمائے مرنے سے پہلے ہمارے تمام گناہوں کو بخش دے،آمین یا رب العالمین

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

سوائے خدا کے کسی کی عبادت جائز نہیں۔ خدا کے علاوہ کسی اور سے کچھ مانگنا جسے دینے کا اختیار صرف اللہ تعالٰی کو ہو ایسا کرنا حرام ہے۔جزا و سزا اور قضا و قدر پہ صرف اللہ تعالٰی کو اختیار ہے۔

ہندؤستان برصغیر پاک و ہند کے اؤلیاء اللہ نے اگر اسلام کی خدمات کیں تو انھوں نے خدا کا دین پھیلایا اور اسے اپنی فرض اور ڈیوٹی سمجھ کر کیا۔ جس کا اجر اللہ تعالٰی انھیں دے گا۔ ان کے لئیے ایصال ثواب کے لئیے محض اسلئیے دعا مانگنا احسن ہے کہ انھوں نے ھند کے لوگوں کو باطل کے اندہیروں سے باہر نکالا ۔ میری ذاتی رائے میں ان کے لئیے ایسے ہی دعا مانگنا جیسے ہم پاکستان کے وجود پہ قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کے لئیے مشکور ہو کر ان کے لئیے دعا مانگتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے آباء و اجداد کے اسلام میں آنے کی وجہ سے اور ہماری مسلمانی کی وجہ سے اور اسلام کی بے مثال خدمات کی وجہ سے ایسے مستند اؤلیا ءاللہ کے لئیے دعا رحمت مانگنے میں کوئی حرج نہیں ۔ مگر قبور اور مزاروں پہ منتیں ماننا ۔ ماتھا ٹیکنا۔ اسلام کی رُو سے سخت منع ہے۔

قرآن کریم نہایت آسان اور سمجھنے والی الہامی کتاب ہے۔ شرط یہ ہے کہ آپ باقاعدگی سے اسکی تلاوت کرتے رہیں۔ آپ کو ہر دفعہ نئے نئے معانی کا ادارک ہوگا اور ذہنی گھتیاں سلجھیں گی۔

اس بات میں کوئی شک نہیں جس نے خدا کو اپنا پیر ، اپنی سفارش جانا اسے زندگی بھر کسی پیر یا سفارش کی ضرورت نہیں رہتی۔

عربی میں اولیاء کے معانی دوست کے ہیں۔

اسلام کی ابتداء لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے ہوتی ہے۔جس کے معانی ہی یہی ہیں کے عبادت کئیے جانے کے لائق صرف اللہ ہے۔ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ رسول یعنی اللہ کا پیغام لانے والے رسالت کرنے والے خدا کا مراسلہ لانے والے یعنی پیغمبر ہیں رسول ہیں ۔ اس کلمے کا ایک مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالٰی کی اور نبی کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ جب خدا خود فرما رہا ہے کہ عبادت صرف اسی کی اور اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا بھی یہی حکم ہے ۔ تو ایسے میں الٹی سیدھی تاویلات سے خدا کے کاروبار کائینات میں کسی کو کسی بھی
صورت یا لیول میں شامل کرنے والے خود بھی مشرک ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی گمراہی کی طرف بلاتے ہیں۔

اسلام میں قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ سے ہر بات طے ہے ۔ اس میں کسی قسم کے غیر اسلامی ڈھونگ یا مکر فریب کی کوئی گنجائش نہیں۔

fikrepakistan کہا...

جاوید گوندل صاحب صرف اتنی تصیح کرنا چاھوں گا کے اسلام کی ابتداء لفظ اقراء سے ھوئی ھے۔ اور آج ھمارے ملاوں نے پڑھنے کو ہی کفر بنا دیا ھے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

فکر پاکستان!

آپکی بات اس لھاض سے درست ہے کہ قرآنِ کریم کی پہلی آیت مبارکہ جو اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ نازل ہوئی وہ ، اقراء یعنی پڑھ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱ اِقرا باسم ربک الذی خلق ۔ ۲۔ خلق الانسان من علقٍ ۳۔ اقرا وربک الاکرم ۔
۴۔ الذی علّم بالقلم ۔ ۵۔ علّم الانسان مالم یعلم ۔
ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے
۱۔ پڑھ اپنے پروردگار کے نام سے جس نے جہان کو پیدا کیا۔ ۲۔ وہی جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔
۳۔ پڑھ کہ تیرا پروردگار سب سے زیادہ مکرم و باعزت ہے۔ ۴۔ وہی جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ۔
۵۔ اور انسان کو وہ سب کو کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

بصد احترام عرض ہے کہ اسلام کی ابتداء کے جو الفاظ میں نے اس گزشتہ تبصرے میں لکھے ہیں ۔ اس سے مراد کسی بھی انسان و جن کے ایمان کی ابتداء ۔ اسکے مسلمان ہونے کی پہلی شرط۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ ہے۔ اور اسی نسبت سے اوپر وضاحت کی ہے۔

جہاں تک ملاؤں کے طرزِ عمل کا ذکر ہے۔ اس اعتراضات کرنا آجکل محبوب مشغلہ ہے۔ جبکہ مُلا بھی ہمیں سے بنتے ہیں۔ اور ہم سب بہ حیثیت مجموعی کس حد تک اخلاقی ، دینی، قومی اور اجتماعی ذمہ داریاں محسوس کرتے ہیں اور انھیں نبھاتے ہیں۔ اسکے بار ے میں ہمیں قطعی احساس ذیاں نہیں ۔ کوئی پیشمانی نہیں ۔ یہ ہے وہ اصل مسئلہ جس وجہ سے ہم بشمول پڑھنے لکھنے کے دنیا کے ہر کام میں پیچھے ہیں۔ پھر صرف مُلا کو الزام دینے سے ملک و قوم کے حالات بہتر نہیں ہونگے۔

ویسے آپ کی اس بات سے مجھے اتفاق ہے کہ بغیر پڑھے لکھے یعنی علوم کے حصول کے اور ٹیکنالوجی کی مہارت کے ترقی و عزت کاخواب دیکھنا ، اپنے آپ کو دہوکا دینے کے مترادف ہے۔

ajnabihope@yahoo.com کہا...

لھاض..
کو ۔۔۔ لحاظ ۔۔۔ پڑھا جائے

گمنام کہا...

جناب خاور صاحب۔بات چھوٹی سی عرض ھے۔کہ جو بندے سے مانگتا ھے وہ بندے بندے سے مانگتا ھے۔جو صرف اللہ سے مانگتا ھے۔وہ صرف ایک اللہ ھی سے مانگتا ھے۔

بدتمیز کہا...

جناب بارہ سنگھا صاحب آپ نے وہ بات سنی ہو گی کہ علم بغر عمل در فٹے منہ؟
آپ یہ اچھی اچھی باتیں دوسری طرف بھی یاد رکھا کریں نہ جی

عمران جاٹ کہا...

بد تمیز عرف دماغی مریض رمضان کا خیال کر ۔۔۔۔
در فٹے منہ ۔۔۔۔۔

کاشف نصیر کہا...

خاور اس بحث میں حصہ نہیں لوں گا.
البتہ یہ بتاتا چلوں کہ یہ خاکسار بھی سوائے اللہ بزرگ و برتر کسی اور کے سامنے اپنی حاجت پیش نہیں کرتا اور سوائے اسکے کسی سے مدد طلب نہیں کرتا. لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے پیر اولیاء (اولیاء اللہ) سے کوئی عقیدت اور محبت نہیں، اللہ کی قسم میں ان لوگوں کو عزیز رکھتا ہوں جو اللہ، اسکے رسول اور بندوں کو عزیز رکھتے ہوئے اپنی ساری زندگیاں سادگی اور قناعت کے ساتھ گزاردیتے ہیں. تصوف اور روحانیت کی اصطلاحات تو خود مجدد الف ثانی اور امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ کے یہاں بھی ملتی ہے. شاہ ولی اللہ کو کون نہیں جانتا انکا گھرانا برصغیر میں توحید کی اشاعت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، شاہ صاحب کے پوتے شاہ اسماعیل شہید کی کتاب تقوۃ الایمان تو توحید کے مضمون ایک بہترین کتاب سمجھتی جاتی ہے.
ہمارے محترم ڈاکڑ اسرار احمد صاحب کہتے تھے کہ خرابی تصوف میں نہیں ہے، بلکہ ملوکیت اور غلامی کے ادوار میں قرآن کریم سے دوری کی وجہ سے کئی برائیوں نے جنم لیا جن میں نذر و نیاز، قبرپرستی، شخصیت پرستی،توسل اور سجادہ نشینی اور بغیر کسی عمل صالح کہ محض پیر کے نظر کرم سے بخشے بخشائے جنت میں جانے کا تصور وغیرہ شامل ہیں.
علامہ اقبال بھی جہاں نام نہاد تصوف کے تاریک گوشوں سے بیزاری سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں وہیں مرد قلندر کے گن بھی گاتے نظر آتے ہیں.

Power Point Slide Shows کہا...

Yeah we should follow the instructions of our Lord and avoid to follow the trends because trends are created for a specific goal but our Lord's rules are created for the benefits of our own life and businesses.

Nice post thanks for sharing

Popular Posts