جمعرات، 15 جولائی، 2010

اردو بلاگنگ کے باوا آدم

بڑی اونچی چیز هیں جی اپنے نعمان یعقوب صاحب
واہیاتی بند کروانے کی واہیات پوسٹ که میں تبصرھ کرنے گیا تو پہلا هی تبصرھ ہٹا دیے جانے کا دیکھ کر
اپنی کمتری کا احساس هوا که جی اونچی زیادھ ہی چیز هیں جی نہ مان صاحب ، تبصرھ کرکے نظر عنایت کا انتظار کرو
اگر منظوری مل گئی تو بیڑا پار
ورنہ؟؟

میری بھی عمرگزری ہے انہی راہوں پہ چل کے

میں ٹھہرے پانیوں میں بھی بھنور پہچانتا ہوں

15 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہمم۔۔۔۔۔بہت خوب۔۔۔۔کم کہا بہت ھے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

شعر تو زبردست لکھا ہے

میری بھی عمرگزری ہے انہی راہوں پہ چل کے

میں ٹھہرے پانیوں میں بھی بھنور پہچانتا ہوں

میرا پاکستان کہا...

ایسی بات نہیں ہے جناب سب کے تبصے موجود ہیں۔ آپ اب بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

Noumaan کہا...

جس تبصرے کے مٹنے کا آپ کو قلق ہے وہ ایک اینٹی پنجابی تبصرہ تھا۔ جسے مٹادیا گیا ورنہ موضوع گفتگو کچھ کا کچھ ہوجاتا۔

دیگر اعتراضات کھل کر بیان کریں۔ خفا ہوکر بیٹھنے کی کیا بات ہے اس میں؟

آپ بھی اس پوسٹ پر تبصرہ کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ کہ آپ اپنے کمہار اور اس سے متعلقہ فحش کہانیاں ساتھ نہ لائیں۔

Abdullah کہا...

خاور کھوکھر میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آپکو اصل تکلیف کس بات کی ہے؟؟؟؟؟؟
ایک تو یہ کہ کسی اردواسپیکنگ نے آپکی کنپٹی پربندوق نہیں رکھی کہ آپ ضروراردوبولیں،
دوسرے اس ملک میں اور بھی بہت سی زبانیں بولنے والے رہتے ہیں اور وہ اردو کے ساتھ ساتھ اپنی مادری زبانیں بھی بولتے ہیں خاصکر پٹھان، سندھی اور بلوچی توکراچی میں رہنے کے باوجود اردواور اپنی مادری زبانوں میں ہی بات کرتے ہیں ان پر تو کسی نے اعتراض نہیں کیااور نہ ہی انہیں اردویا اردواسپیکنگ سے زبان کے حوالے سے ایسی کوئی پرخاش ہے،
اپنی کمیونٹی کے احساس کمتری کے مارے لوگوں کے کیئے کا الزام اردواسپیکنگ پر ڈالنا کہاں کی شرافت ہے؟؟؟؟
باقی ڈفر کے بلاگ پر بھی جناب نے کچھ گل افشانیاں فرمائی ہیں،
تو ایک تو یہ کہ یہ پاکستان آپکی یا پنجاب کی جاگیر نہیں کہ جس کو چاہیں رکھیں اور جس کو چاہیں جانے کا حکم صادرفرمادیں دوسرے کس کو پتہ کہ آپکے آباواجداد بھی ہندوستان آنے سے پہلے کہاں سے آئے تھے؟؟؟؟
اپنی فکرکریں خود تو ملک سے باہر بیٹھے ہیں اور جو اس ملک میں رہتے ہوئے اس کی بہتری کے لیئے جان ماررہے ہیں انکو جانے کاحکم صادر فرمارہے ہیں!!!!!
سب کو چھوڑیں اور آپ اردو کے بجائے پنجابی میں بلاگنگ شروع کردیں آپکو کس نے روکا ہے ؟؟؟؟؟

Abdullah کہا...

اور آپ ضروراردو بولنے والوں کا تاریخ اور جغرافیہ لکھیں مگر شرط یہ ہے کہ ہوائیاں نہ ہوں بلکہ تاریخی حقائق پر مبنی ہو!!!!!

کاشف نصیر کہا...

نعمان بھائی کی حرکتوں پر ناراض نہ ہوا کریں، انکی عنیقہ آپا اور اسماء خالہ کی پکی دوستی ہے۔ عبداللہ چاہتے ہیں کہ تینوں کو رابطہ کمیٹی کا رکن بنادیا جائے، لیکن اللہ بچائے ان تینوں کو عبداللہ بھائی کے ارادوں سے، ویسے یہ عبداللہ صاحب ہیں کون، زرا تحقیق کرکے انکے بارے میں معلوم کریں۔ کہیں یہ لندن میں تو نہیں رہتے? ہی ہی ہی

کاشف نصیر کہا...

خاور صاحب آپ بہت سنئر بلاگر ہیں، میں آپ کی خدمات کا بہت بڑا معترف ہوں، لیکن جناب یہ ڈفر کہ بلاگ میں آپ نے کیا لکھ دیا۔
خاور بھائی آپ یہ حقیقت فراموش نہیں کرسکتے کہ اردو بولنے والے مہاجروں کی قربانیوں سے پاکستان وجود میں آیا ہے اور آج بھی اردو بولنے مہاجر وطن عزیز کی نطریاتی و جغریافیائی سرحدوں کی حفاظت اور اس کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں اور کوئی مائی کا لال انہیں پاکستان سے نہیں نکال سکتا۔ یہ ملک مہاجروں کا بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ پنجابیوں، بٹھانوں اور دیگر سن اوف سائل کا ہے۔آپ دو قومی نظریہ کو چیلنچ مت کریں۔ اگر آپ نے پاکستان کی اس بنیاد کو ہلایا تو پھر کچھ نہیں بچے گا، کچھ بھی نہیں۔
ایم کیو ایم سے مجھے بھی سخت اختلاف ہے، آپ کو بھی رکھنے کا حق ہے، لیکن مہاجروں سے متعصب روئے کا اظہار خدرا نہ کریں۔ ہمارے اباو اجداد نے اس ملک کو بنایا تھا اور ہم اس ملک سے محبت کو ایمان سمجھتے ہیں۔
معذرت کے ساتھ اگر پنجاب، سندھ اور پختون خواہ میں مہاجروں سے متعصب رویہ روا نہ رکھا جاتا تو ایم کیو ایم جیسی گلی محلے کے گنڈوں اور مسخرے بدمعاشوں کی جماعت کب کی ختم ہوجاتی لیکن جب ہم آپ کی طرف سے اس طرح کی گالیاں اور دھمکیاں سنتے ہیں تو مجبورا ہمیں ایم کیو ایم جیسوں کی مدد کرنی پڑتی ہے۔

خاور کھوکھر کہا...

کاشف نصیر صاحب
آپ کے تبصرے نے مجھے کچھ احساس دلایا ہے که میں کچھ مغالطوں کا شکار تھا
جب بھی موقع ملتا ہے میں لکھتا هوں اس پر

Abdullah کہا...

غنڈوں اور بدمعاشوں کو دوسرے بھی غنڈے اور بدمعاش ہی نظر آتے ہیں،
تمھارے خاندان میں ہوتے ہوں گے ڈاکٹر انجینیئر اور اعلی تعلیمیافتہ غنڈے،ہمارے یہاں تو لوگ پڑھ لکھ کر ملک اورعوام کی بھلائی اور بہتری کے لیئے کام کرتے ہیں جسے ایک دنیا سراہتی ہے اور جو تم جیسے عقل کے اندھوں کو نظر نہیں آتا!
مرگئے ایم کیو ایم کو ختم کرنے والے!!!!!!!
تم جیسوں کی مدد کی ایم کیو ایم کو نہ پہلے ضرورت تھی اور نہ آج ہے، کیا سمجھے مسٹر!

کاشف نصیر کہا...

عبداللہ میاں میرا تعلق چیچا وطنی سے نہیں ہے، میں بھی کراچی کی گلیوں میں کھیل کر جوان ہوا ہوں۔ مجھے بھی پتہ ایم کیو ایم کی حقیقت کیا ہے۔ جتنے قریب سے میں نے ایم کیو ایم اور اسکی قیادت کو دیکھا آپ اسکا سوچ بھی نہیں سکتے، صاحب اگر بات کسی اور علاقہ کی ہوتی تو اور بات ہوتی لیکن کراچی جیسے باشعور شہر سے ایم کیو ایم جیسی جماعت کا کامیاب ہونا پورے ملک کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اس جماعت کسی ایک لیڈر کو بھی نہ بولنے کی تمیز ہے نہ شعور و اگہی سے انکا کوئی تعلق ہے، ان لوگوں سے زیادہ سے زیادہ آپ گلی محلے کی صفائی اور سڑکوں کی کھدائی کرواسکتے ہیں۔ ملکی معاملات، خارجہ و داخلہ پالیسی، معاشی پالیسی اور دفاعی حکمت عملی کی "الیف ب" بھی ان لوگوں کی سوچ سے ماوراء ہے۔

Abdullah کہا...

بہت خوب اسے کہتے ہیں اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی!!!!
یہ جو صوبائی خود مختاری کی دستاویز تیار کی گئی ہے یہ تمھارے نون لیگ والوں نے تیار کی ہے کیا؟؟؟؟
اور یہ جو اٹھارویں ترمیم میں ایم کیو ایم کا اتنا بڑا کرداررہا جو اندھوں کو بھی نظرایا سوائے عقل کے اندھوں کے!!!!!!
یہ ملکی معاملات،داخلہ و خارجہ پالیسی،معاشی پالیسی،اور دفاعی حکمت عملی کے بارے میں پہلے خود معلومات حاصل کرو پھر دوسروں کو جاہل کہنا،
مینے کہا تھا کہ تم ابھی بچے ہو جاکر اپنی تعلیم مکمل کرو زرا دنیا کے سردو گرم کا مزہ چکھو پھرسیاست پربات کرنا مگر عقل کی بات تم جیسوں کے دماغ میں گھستی ہی نہیں!!!!!
یہ ان کی گلیوں محلوں میں کام کرنے والی بات بھی تمھیں مجبورا کرنا پڑی ہوگی کہ آجکل متحدہ کے کارکن جھاڑو پکڑے صفائیاں کرتے پھررہے ہیں ورنہ بات پرانی ہوجاتی تو شائد تم ان کو اس کا بھی کریڈٹ نہ دیتے اپنے دوسرے بھائی بندوں کی طرح!!!!
جاؤ جاکر اپنی گلی میں جھاڑو دو پھرمتحدہ کے کسی معمولی کار کن سے مقابلہ کرنا!

گمنام کہا...

خاور صاحب۔آپ نے بھی تو میرا تبصرہ لگا کر ہٹا دیا تھا۔جب کے اس میں کوئی بات بھی غلط نہیں تھی التجا کی تھی۔جب آپ نے کسی کی ماں اور خاندان کو گالیاں دی تھیں۔اور میں نے کہا تھا ماں تو ماں ھوتی ھے۔چاھے دشمن کی۔ آپ کی مہربانی آپ نے وہ پوسٹ ہٹا لی۔لیکن بعد میں پھر لگا دی میرے تبصرے کے بغیر۔آپ کیسے کسی اور پر اعتراز کر سکتے ھیں؟

خاور کھوکھر کہا...

جناب نامعلوم صاحب اپ کی بات واقعی صحیع ہے اور ميں نے اپ کے تبصرے پر هی وھ پوسٹ ھٹا دی تھی جس کے ساتھ هی اپ کا تبصرھ بھی ڈیلیٹ هو گیا تھا
لیکن پھر کافی سوچ کر اس بات کا فیصلہ کیا تھا اور پوسٹ کے شروع میں جو الفاظ تحریر کیے تھے وھ بھی اپ کے تبصرے کے اثر کی وجه هے
لیکن اس وقت تک اپ كا تبصرھ بھی ڈیلیٹ هو چکا تھا
جس کا مجھے قلق ہے
اور ایک بات جس میں اپنی کسی تحریر میں بھی ذکر کرنا چاھتا هوں که پچھلے کچھ ہفتوں سے نامعلوم کے نام سے بڑے معقول تبصرے هو رهے هیں
یه کوئی فرد واحد بھی هو سکتا هے اور نہیں بھی
لیکن یه ایک اچھی روایت قائم هو رہی هے ورنه جو بندھ نام چھپاتا ہے عموماً اپنے اندر کا گند نکالنے کے لیے کرتا ہے

Hyderabadi کہا...

بھیا لوگ۔ ایک پارٹی کو لے کر آپ لوگ آپس میں دست و گریباں ہوتے ہیں تو پورے پاکستان کو پھر کون سنبھالتا ہے؟
ہمارے ہاں بھی ایسی ہی ایک سیاسی جماعت ہے (واحد مسلم سیاسی جماعت) جس میں غنڈے تو بھرے ہیں مگر کچھ پڑھے لکھے بھی مل جاتے ہیں خیر سے۔ مگر ۔۔۔۔ سارے مسلمان مل کر صرف اسلئے اس جماعت کو فتح دلاتے ہیں کہ لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے۔ جنگل کے قانون میں ہم کسی شریف مولوی کو تبلیغ کیلئے بھیج نہیں سکتے پاشا۔

Popular Posts