سوموار، 12 جولائی، 2010

ٹوکیو کا لنچ

اک دوست نے کہا که اؤ جی جمعه کی نماز شہر پڑھنے جاتے هیں اور وهیں کہیں لنچ بھی کرلیں کے ، کسی ریسٹورنٹ میں !- یه سن کر ذہن میں خیال آیا که باہر کا کھانا کچھ عیاشی سی هوتی هے ناں جی ؟
پیسے هوں تو بندھ چاھتا ہے که من بھایا کھائے ، جیسے که امیر لوگ کسی کے کھانے کے آداب سے اس کی مالی حالت کی تاریخ کا پہچانتے هیں ، یورپ ميں چھری کانٹے سے کھانا کھانا اور پھر ان چھری اور کانٹوں سے ویٹر کو اشارے کرنا که ابھی کھانا ختم هوا هے که نهیں اور جب ختم هو تو اس کو برتن اٹھانے کا اشارھ کانٹوں اور چھری کے رکھنے انداز سے بتانا، لیکن ان دنوں جو آداب چل رهے هیں وھ فرانسیسی هی هیں ،
تو جی جب ریسٹورنٹ میں کھانے کا سنا تو سوچا که مولی کنڈے والی روٹی، گڑ والے میٹھے چاول، پلّی کی چٹنی یا پھر سوانجلے کی مولی کا اچار چاهے تیل کا تڑکا هوا هی هو
پڑتھا کیے بتؤں (بینگن) جن کو سلیس اردو ميں غالباً تندوری بینگن کہیں گے ؟
ایک تو یارو هم پنجابیوں نے مہاجروں کو پناھ گير جان کر ان کے سامنے خود سپردگی کی وھ منزلیں طے کی هیں که اب همارے بچے اپنی ماں بولی پنجابی سے بھی گئے هیں اور یه "اردو سپیک " هیں که " ڈو مور" کا راگ الاپے جاتے هیں ، اور اردو کی زبان کا المیه ہے که ان کے پاس الفاظ کا زخیرھ بھی نهیں هے
پنجابی کے پڑتھا کو برتا نهیں کہ سکتے که ٹوٹے ٹوٹے هو گا تو برتا هو گا ناں جی
نلکے والے کھرے کا متبادل لفظ نهیں ہے اردو ميں که اردو سپیک لوکاں کے پاس کھرا هوتا هی نهیں تھا
اور برتن کو پڑ جانے والے "چب' کو اردو ميں کیا کہیں گے ؟؟ایم کیو ایم؟؟
پڑتھا بتؤں پر نمک چھڑک کھایا ہے کبھی؟
نہیں ؟
تے فیر تسی جمے ای نهیں !!-
یارو اگر ریسٹورنٹ میں من پسند کھانے نهیں ملنے هیں تو ؟؟
جو مل جائے چل جائے گا که پيٹ کا دوزخ بھرنا بحرحال ہے
میں نے پچھلی دفعه مولیکنڈے والی روٹی دبئی میں کھائی تھی ایک چھبر ٹائپ ریسٹوریٹ میں ،روٹی انے سے پہلے میں نے منڈے سے پوچھا کیسی هے یه روٹی ؟
بس جی ایوں سی هے جی !!-
یه ایویں سی تھی جی بلکل گھر کے مزے والی ریسٹورینٹ میں پکے مساله دار کھانے سے مختلف شائد اسی لیے منڈے نے جو که بیرا تھا اس کو ایوں سی کہا تھا
اب منڈے کی بات سنیں جی یه فرانس والے بھی روسٹورینٹ میں کام کرنے والے کو منڈا(گارسون) هی کہتے هیں
اور ان کو یه بات دیسی سی نهیں لگتی لیکن هم منڈے کو منڈا کهیں تو دیسی سا لگتا ہے اور لارڈ مکالے کی تعلیم کی بنیاد هی یهی ہے که دیسی چیز ہے هی کم تر
آپ کسی فرانسیسی سے پوچھیں
یو سپیک انگلش؟
تو یه فرانسیسی بندھ اس کا جواب ٹھیٹھ پنجابی دے گا
پاء پاگل اے (پا پاغلے)،
اور هم پنجابی بولیں تو جی دیسی سے پینڈو سے
مولی کنڈے والی روٹی کی بجائے پیزا کہتے هیں لیکن پنجاب کی مسی روٹی کا نام بھی نهیں آتا ہے
یه مسّی روٹی بھی انمول چیز هوتی تھی
ہر گھر کا علیحدھ ذائیقہ اور علیحدھ چیزیں که جن کے کھیتوں میں ان دنوں میتھرے اگے هوتے تھے ان کی مسی میتھرے والی هوتی تھی اور جن کے کھیتوں میں آلو یا چنے هوتے تھے ان کی ان چیزوں والی
لیکن جی اس مسی روٹی کو پیزا کہتے هیں جی اب پاک لوک
یارو میرا تے پاکستان ای گواچ گیا اے تے میں اینا پاگل آں که اینہوں باہر لبنا پیاں واں
سقراط کو جب دیس نکالا یا زهر کے بیالے میں انتخاب کی سزا ملی تو اس کے شاگردوں نے کہا که ملک چھوڑ کر چلتے هیں ، جان اے تے جہاں اے
لیکن اس سقراط نے کہا تھا اس بچے کی طرح جو ماں سے مار کھا کے پھر اسی کی گود میں گھستا ہے اپنا ملک نهیں چھوڑنا
جب میں نے یی پڑھا تھا تو سوچا تھا
که سقراط نے
غریبی نهیں دیکھی هو گی
لیکن اب جب ميں دنیا میں گھوم گھوم کر تھک چکا هوں تو اس بات کا احساس هوتا ہے که
اگر میں بھی اس بات کا فیصلہ کرلیتا که پاکستان نہیں چھوڑنا تو
اج میں پاکستان میں بھی اچھی زندگی گزار رها هوتا
جامن کھائے کتنا عرصہ هوا ؟
اب یاد نهیں

12 تبصرے:

Jafar کہا...

اس بات پر مجھے بھی بڑا وٹ ہے جی پنجابیوں پر۔۔۔
نیانوں کو بھی ۔۔۔ کیا کھایا میلے بیٹے نے۔۔۔ کہہ کے بلاتے ہیں۔۔۔
اگر کسی کو کہو کہ اپنی زبان کیوں نہیں بولتے
تو اس کی بارہ پڑھی ماں ناک سکوڑ کے کہتی ہے کہ جی بچہ بدتمیز لگتا ہے )وہ بدتمیز نہیں )
اپنی زبان نہ بولنا کون سی تمیز ہے جی؟
پروہنے آجائیں تو جی مائیں بچوں کو گھوری پاکے رکھتی ہیں کہ خبردار جو پنجابی بولی۔۔۔۔ کیا سوچیں گے مہمان۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

گل تے سچی کیتی اے۔پر کی کرئے کہ قومی زبان اردو اے۔تے قوم نہ پچھیو میں اردو سپیکر نئیں آں۔بڑا تضاد ھے جی۔اردو سپیکر تحضیک بھی کرتے ہیں۔کہ یہ جاہل بھی اردو بولنا شروع ھوگئے۔یا تلفظ ٹھیک نہیں بولتے تمام بڑے ادبی لوگ صعف پیدائشی اردو سپیکر تھے۔تے اقبال بابا جی؟
آخر میں عرض ھے روٹی کا گلا کیوں جی؟ پوچھا تو تھا کیا کھائیں؟
لسی تے غندلاں دا ساگ ٹوکیو میں کہاں ملے گا۔

دوست کہا...

پنجابی اپنی ماں بولی نوں کھا گئے سائیں، جیداں سپ اپنے بچے کھا جاندا اے۔

ا-ب-ت کہا...

سر جی۔اردو بولیں یا پنجا بی کی فرق پیندا۔سمجا نی تے گل اے۔ لیکن محبت اور نفر ت کا اظہار ھر کو ئی اپنی ما ں بولی وچ ھی کر دا اے۔ کیوں کہ اس سے سامنے والا با ت تو کیا۔چہرے کے تا ثرات سے ھی اند ازہ لگا لیتا ھے۔باقی مولی والی روٹی کھا کر خداراگا ڑی کے شیشے مت اوپر کيجۓ گا۔ورنہ یاسر صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حجاب کہا...

لگتا ہے آپکو جامن بہت پسند ہے ایک بار پہلے آپ نے میرے بلاگ پر بھی جامن کے لیئے لکھا تھا ، پاکستان میں تو آج کل کالے کالے جامنوں کی بھرمار ہے ۔۔

میرا پاکستان کہا...

بات آپ کی سوفیصد درست ہے کہ ہمیں اپنا وطن نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔
واقعی عرصہ ہوا ہم نے بھی جامن، ریت میں بھنی چھلی، شکرقندی کھائے ہوئے۔
ابھی اس پچھلے لانگ ویک اینڈ پر ہم صرف چونسہ آم کھانے کیلیے اڑھائی سو میل کا سفر طے کر کے ٹورانٹو گئے تھے۔

bdtmz کہا...

میں پاکستان کی جو چیز سب سے زیادہ مس کرتا ہوں وہ جامن ہی ہیں۔ امریکہ اتنا بھی امریکہ نہیں۔ بہت کچھ نہیں بھی ملتا۔ آم ہی دیکھ لیں۔ کینیڈا ملتےہیں یہاں نہیں۔

پوسٹ کا عنوان انگلش میں کیوں جی لنچ؟ دوپہر دا کھانا لکھنا سی نہ

راشد کامران کہا...

خاور صاحب آپ بھی شاید ایم کیو ایم کی نفرت میں اردو زبان کے بارے میں سخت ہوجاتے ہیں اردو میں کوئی لفظ اردو کا نہیں ہے یقین کیجیے سب کچھ کہیں نا کہیں سے مستعار لے کر بنایا گیا ہے بنیادی طور پر حروف تہجی اسطرح کے ہیں کہ کسی بھی انڈو یوروپین کے اکثر الفاظ اردو میں شامل ہوجائیں گے۔ یقین نا آئے تو وکی پیڈیا دیکھ لیں۔۔ ورنہ جی چب پڑتی ہے تو فارسی اور عربی سے کام چل جاتا ہے ورنہ انگریزی میں کیا برائی ہے (:

سیفی کہا...

خاور
آپ نے "مسی روٹی" کیا یاد کروا دی ہے۔ بخدا میرے خیال میں اس سے مزیدار چیز کوئی نہیں ہے۔ ساتھ "چاٹی" کی پتلی لسی ہو نمک ڈلا ہوا۔

گمنام کہا...

گم هو جانے والے پیاروں کا د کھ بندےکو پاگل کرکے ر کھ دیتا ہے


جناب جی آپ کو دماغی امراض کے کسی اچھے ڈاکٹر کی ضرورت ھے ، بندے کی مشہوری اکثر دماغ پر چہڑ جاتی ھے ،،

Anwer کہا...

اگر میں بھی اس بات کا فیصلہ کرلیتا که پاکستان نہیں چھوڑنا تو
اج میں پاکستان میں بھی اچھی زندگی گزار رها هوتا

نہیں خاور صاحب ، آپ غلطی پر ہیں ۔ آپ وہ زندگی گزار رہے ہوتے ، جو ابھی تو آپ کو اچھی لگ رہی ہے ، لیکن اس وقت اچھی نہیں لگتی ۔
آپ پاکستان میں ہوتے تو ممکن ہے سالوں تک جامن نہ کھاتے ۔ بات صرف باہر رہ کر چیزوں کو مس کرنے کی ہے ۔ ویسے بھی ہمارا پاکستان تو وہ ہے جسے ہم بیس یا پچیس سال پہلے چھوڑ چکے ہیں ۔ پاکستان بھی بہت بدل گیا ہے ، لیکم ہم ’اوورسیز پاکستانی‘ وہی پرانا پاکستان چاہتے ہیں ، جو ہم چھوڑ آئے تھے ۔
مسئلہ پاکستان کا یا کسی دوسرے ملک نہیں ، ہماری اپنی ذہنیت کا ہے ۔ اور اب اس میں عمر کے تقاضوں کا اضافہ بھی ہو رہا ہے جب ہر چیز میں جوانی یاد آنے لگتی ہے ۔

Abdullah کہا...

خاور کھوکھر میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آپکو اصل تکلیف کس بات کی ہے؟؟؟؟؟؟
ایک تو یہ کہ کسی اردواسپیکنگ نے آپکی کنپٹی پربندوق نہیں رکھی کہ آپ ضروراردوبولیں،
دوسرے اس ملک میں اور بھی بہت سی زبانیں بولنے والے رہتے ہیں اور وہ اردو کے ساتھ ساتھ اپنی مادری زبانیں بھی بولتے ہیں خاصکر پٹھان، سندھی اور بلوچی توکراچی میں رہنے کے باوجود اردواور اپنی مادری زبانوں میں ہی بات کرتے ہیں ان پر تو کسی نے اعتراض نہیں کیااور نہ ہی انہیں اردویا اردواسپیکنگ سے زبان کے حوالے سے ایسی کوئی پرخاش ہے،
اپنی کمیونٹی کے احساس کمتری کے مارے لوگوں کے کیئے کا الزام اردواسپیکنگ پر ڈالنا کہاں کی شرافت ہے؟؟؟؟
باقی ڈفر کے بلاگ پر بھی جناب نے کچھ گل افشانیاں فرمائی ہیں،
تو ایک تو یہ کہ یہ پاکستان آپکی یا پنجاب کی جاگیر نہیں کہ جس کو چاہیں رکھیں اور جس کو چاہیں جانے کا حکم صادرفرمادیں دوسرے کس کو پتہ کہ آپکے آباواجداد بھی ہندوستان آنے سے پہلے کہاں سے آئے تھے؟؟؟؟
اپنی فکرکریں خود تو ملک سے باہر بیٹھے ہیں اور جو اس ملک میں رہتے ہوئے اس کی بہتری کے لیئے جان ماررہے ہیں انکو جانے کاحکم صادر فرمارہے ہیں!!!!!
سب کو چھوڑیں اور آپ اردو کے بجائے پنجابی میں بلاگنگ شروع کردیں آپکو کس نے روکا ہے ؟؟؟؟؟

Popular Posts