اتوار, جنوری 31, 2010

مہنگائی کا علاج

میری نظر میں مہنگائی کا ایک هی علاج ہے که
لوگ
آپنی قوت خرید بڑھائیں !!ـ
قوت خرید بڑھانے کے لیے ضروری هے که محنت کریں !ـ
کیونکه بزرگوں نے دولت کمانے کا ایک هی منتر بتایا ہے
اور وھ ہے
محنت
لیکن یاروں محنتی تو گدھا بھی بہت هوتا ہے ؟؟
اس کے پاس صرف محنت هوتی هے تکنیک نهیں اس لیے
گدھا کھوتا ہی رهتا ہے
محنت کے لیے تکنیک حاصل کرنی هو گی
اور تکنک حاصل کرنے کے لیے علم حاصل کرنا هو گا
لیکن جی ہماری تو حکومتوں کا صدیوں سے یه چلن رها ہے که تعلیم تک لوکاں کی رسائی ناں هو
اسی لیے لوگاں کو اصل مرض نظر نهیں آتا که علم هی نهیں هے
اوے بھولیو لوگو اصل مسئله مہنگائی نہیں ہے جی
لیکن اب تو پاک حمکرانوں نے معامله اتنا گمگھیر کردیا ہے که تعلیم نہیں روٹی کے لالے پڑے هیں
کس کس چیز کا رونا روئیں جی
اب تو لگتا ہے که عنیقه ناز صاحبه کی یه بات پوری هو گی که افغان هی قبضه کریں گے پاک ، سر لوگوں کی زمیں پر ، که صدیوں سے یه افغان هی حملے کرتے هیں جی
اسلام کے نام پر
اب بھی مولوی عمر والے طالبان امریکه سے جیت گئے تو
بقول اقبال سیالکوٹی کے
کراچی کے ساحل سے لے کرکاشغر کی خاک تک
سب مٹی پاک هو جائے گی
پر سانوں کی جی
اسی جاپان ميں هیں
اور تسی کسی اور ملک ميں
کوئی کسی ملک میں اور کوئی کسی ملک میں
ابے کے نام پر سیاست کرتی بے نظیر بھی کسی اور ملک کی شہریت رکھتی تھی اور بی بی کی سیاست کرتے زردار بھی باھر کے دورے پر رہتے هیں
اور بلاول جو بے بے کے نام پر سایست کرے گا
وھ ھی باھر هی رہتا ہے
جاپان میں پاکستانی لوگوں کا ٹولی بس پر کہیں جارها تھا که بس ميں پٹھانوں کے لطیفے شروع هو گئے
جب محفل چنگی گرم هو گئی تو جی خسروخان جو که باراکی کا ایک مشہور کاروباری ہے اس نے مائیک سنبھال لیا اور کہنے لگا
یارو سب میرا بات سنو !ـ
میں ایک پٹھان هوتی
اس لیے کہتی که تم میں سے اگر کسی کے ساتھ کسی پٹھان نے سیکس کیا هے تو کھڑا هو جائے میں ننگا هوجاتا هوں وھ میرے ساتھ کر لے
سب کو سانپ سونگھ گیا
وھ فرانس مين ایک حافظ مزمل صاحب هوا کرتے تھے ان دنوں غالباً سپین میں هیں
ان سے رو دی سینٹ ڈینی پر ایک پٹھان صاحب پٹھانوں کی مردانگی که قصے سنا رہے تھے که کیسے پٹھان مردوں سے مردانگی کرتے هیں
تو حافظ مزمل نے پوچھا که
کیا پٹھانوں کی مردانگی کے شکار یه لوگ کہاں سے ایمپورٹ کرتے هو؟؟
پٹھان چپ
حافظ مزمل نے لقمه دیا
خود هی پہلے مفعول هوتے هو پھر فاعل بن جاتے هو اور فعل پر فخر کرتے هو ـ
بات کہاں سے کہاں
نکل گئی
مہنگائی کا علاج ہے جی تعلیم
تہاڈا کی خیال اے جی
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا علاج بھی ہے تعلیم
جعلی جمہوریت سے نجات کا نسخه بھی تعلیم ہے
فوجی کالونیوں اور رقبوں کا علاج بھی تعلیم میں ہے
اور تو اور جی
مذھب اور دین کا فرق بھی تعلیم هی بتائے گی
اور اس فرق سے کیا فرق پڑتا ہے اس کا بھی تعلیم هی بتا سکتی ہے
لیکن مزے کی بات هے که خود میرے پاس تعلیم کی کمی هے اس لیے اگر کسی اصلی والے تعلیم یافته کو یه بات بونگی لگے تو معافی چاھتا هوں

3 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جناب محنت لازمی ہے لیکن ہمارے ہموطنوں کا ایک اور بھی مسئلہ ہے ۔ وہ ہے چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانا ۔ میرا خیال ہے کہ آپ میرا مطلب سمجھ گئے ہوں گے لیکن بہت سے قاری نہیں سمجھیں گے

میمن کہا...

خاور صاحب ، بلکہ خاور جی ۔
باتیں تو آپ کی ٹھیک ہیں کہ محنت بھی لازمی ہے اور تعلیم بھی ، تاکہ مئنت درست رخ پر ہو سکے ۔ لیکن اچھی خاصی باتیں کرتے ہوئے اچانک آپ پٹڑی سے اتر جاتے ھیں ۔ اس بار پٹڑی سے ارع کر آپ پٹھانوں کی طرف جا نکلے ۔

میمن کہا...

ہجے کی غلطیوں کے لئے معذرت ۔ دراصل کنٹس ٹائپ کرتے وقت کئی حروف کی جگہ خانے بن جاتے ھیں ، اس لئے غلطی کا احساس نہیں ہوتا ۔ لیکن پھر بھی معذرت ۔

Popular Posts