ہفتہ، 16 جنوری، 2010

اصلی نقلی

اصلی اورنقلی کی پہچان کیسے کی جائے ؟؟
میں نےایک پینٹر خاتون سے پوچھا تھا
اس نے بتایا که اصلی پینٹنگ کو زیادھ سے زیادھ دیکھنے جاؤ
بہت زیادھ اصلی چیزوں کو دیکھنے سے جعلی چیز ایک هی نظر ميں پہچانی جائے گی
آپ ني اگر کبھی اصلی والے سوٹ اور اصلی والے کپڑے پہن کردیکھے هوں تو سستے کپڑے اپکی کی نظر میں جچتے هی نهیں
اسی طرح کھانے کے متعلق هے
آپ میں سے سرسوں کے تیل میں نکلے پکوڑے کتنے لوگوں نے کھائے هیں ؟؟
پکوڑے سرسوں کے تیل کے هی اوریجنل هوا کرتے تھے
سرسوں کے تیل کے پکوڑے چکنائی والے نهیں هوتے هیں
لیکن جی
چکنائی کے نقصانات کا هی پاک لوگوں معلوم نهیں هے
اسی طرح بات ہے دین کی
سسٹم کی
جمہوریت کی
میڈیا کی
تعلیم کی
اخلاق کی
معاشرتی اقدار کی
یارو پاکستان مین ہر چیز جعلی ہے
اتنی جعلی که اصلی کی پہچان هی ختم هو گئی هے
جاپان میں دس سال پہلے ٹوکیو کو گاڑیوں کے دھوئیں سے پاک کرنے كے لیے سلینسر کا معیار قایم کیا گیا تھا
جس کے مطابق لوگوں کو ڈیزل والی گاڑیوں کے سلینسر پر اضافی پرزھ لگوانا پڑتا تھا (اب یه میکر سے لگا هوا هي آتا ہے ) اس خاص سلنسر والا ایک ٹرک یہان جاپان سے پاکستان بھیجا تھا
یه پرزھ دس ہزار ڈالر تقریباً کا هوا کرتا تھا
لیکن
چار مہینے بعد پاکستان گیا تو معلوم هوا که وھ اتار دیا ، کیونکه اس سے سفید دھواں نکلتا تھا اور جب بھی لاہور جاتے تھے پولیس والے چالان کرلیتے تھے که یه ٹرک پلوشن کا باعث بنتا هے
دنیا کے صاف ترین شہر ميں داخلے کی شرائط پر پورا اترنے والا سلنسر لاہور کی پاک فضا کو خراب کردیتا هے
اللّه دی شان اے ناں جی

3 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

اس دِل کو چھڑتے ہو بار بار کس لئے ؟ اچھے وقتوں کی ياد دِلا کر ۔
اب تو اصل کو نقل اور نقل کو اصل سمجھا جاتا ہے ۔ آپ نے شاید وہ وقت نہیں دیکھا جب ہمارے ملک میں بھی اصل اصل ہوتا تھا۔ میں 1983ء میں دساور سے واپس آیا تو ایک جاپانی کار پرسنل بیگیج سکیم کے تحت منگوائی ۔ جب کار کی ڈلیوری لینے گیا تو میرے ہاتھ میں ایک لپٹی ہوئی چیز بھی دی گئی ۔ پوچھا "کیا ہے ؟" تو بتایا گیا ۔" تھرموسٹیٹ والو" ۔ پوچھا "یہ سپیر ساتھ آیا ہے ؟" کہا گیا " نہیں ۔ ہمارے ملک میں گرمی ہوتی ہے اسلئے اُتار دیا"۔ میں نے تھرموسٹیٹ والو واپس فِٹ کرنے کا کہا اور اُنہیں بتایا کہ "جاپانی لوگ بیوقوف نہیں ہیں جہاں مال بھیجنا ہوتا ہے پہلے وہاں کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں"۔ میں تو تعلیم اور عملی طور پر انجیئر تھا ۔ باقی کیا کرتے ہوں گے ۔
کچھ سال گذرے میں کسی کے ہاں ملنے گیا ۔ صاحبِ خانہ عمر میں مجھ سے بھی بڑے تھے ۔ پرانے زمانہ کی باتیں شروع ہوئیں تو کہنے لگے "دیسی گی کھانے کو ترس گیا تھا ۔ لے کر آیا ہوں مگر بچے کہتے ہیں اس سے بدبُو آتی ہے" میں نے مانگا تو اُنہوں نے مجھے بطور تحفہ دے دیا

خرم کہا...

ہائے دیسی گھی۔۔ خیر امریکہ میں تو اورگینک نے مشکل حل کردی ہے کہ دیسی چیز کا فیشنی نام ہے اورگینک۔ فیسن ایبل لوگ اب واپس جا رہے ہیں انہی بنیادی چیزوں کی طرف جنہیں ہم دھڑا دھڑ پھینک رہے ہیں بے فضول سمجھ کر۔ اور جی خاور جی بات آپ کی بھی ٹھیک ہے لیکن اب جب کسی نے اصل دیکھی ہی نہ ہو تو وہ نقل کی پہچان کیسے کرے؟ ہمارے یہاں تو اصلی مال ملنا شائد میری پیدائش سے بھی پہلے ختم ہوگیا تھا۔ دیہہ بچے تھے اب وہ بھی "ماڈل" ہو گئے ہیں۔

الصقر الجرئ کہا...

مدونة رائعة ذات شعبية

Popular Posts