جمعہ، 30 جنوری، 2009

عزت دے کر ازمائیش

بندے کی کوالٹی کا معلوم کرنے کے لیے میں اس طرح کیا کرتا هوں که
هر کسی کو بہت زیادھ عزت دیتا هوں
اتنی زیادھ کی اس بندے کے گاؤں کے چوھڑے نے بھی اس کوکبھی جی جناب کہـ کر نہيں بلایا هوگا که میں اس کو جی جناب کہـ کر پکارتا هوں ـ
سارا گاؤں جس کو حسینا مراثی کہـ کر پکارتا هو میں اس کو بھی حسین بھائی حسین بھائی کہـ کہـ کر بڑی عزت دیتا هوں
اچھو نے ایک دن کہا
خاور صاحب آپ بھی کافی سے زیادھ کھسکے هوئے هو
مج کی موتری جیسا منه بنا کر کھسیانی هنسی والے حسینے کو اپ بھائی بھائی کہـ کر پکارتے هو
کیوں اس کا دماغ خراب کرنا ہے
تو میں نے کہا اشرف صاحب آپ کو بھی تو سارا گاؤں اچھو کہتا ہے میں آپ کو بھی تو اشرف صاحب کہتا هوں ناں ؟
او جی هم بھی آپ کی عزت کرتے هیں ناں ؟
تعلیم نهيں هے تو کیا جی همیں بندے کی پہچان ہے
میں یه سمجھتا هوں که اگر اپ نے کسی کو اس کی اصلیت میں دیکھنا ہے تو اس کو بے جا عزت دے کر دیکھو اگر تو اس بندے کی اصلیت اچھی هو گي تو وه آپ کا مشکور هو گا اور اپ کی بھی عزت کرے گا
لیکن کم ظرف بندھ تھوڑے هی دنوں میں آپ کی شاستگی کو اپ کی کمزوری سمجھ کر سوار هونے کی کوشش کرے گا
یہاں پوائینٹ کی بات ہے که جیسے هی بندھ آپ کو توں تکار پر ائے اپنا شاستگی کا لبادھ اتار دیهاتی بن جاؤ اور اس بندے کی ماں بہن کے ڈنگروں کے ساتھ تعلقات جوڑنے شروع کروں اور گالیوں کی بھر مار کردو
تو ایسا بندھ پھر آپ کو معتبر سمجھنے لگے گا
بندوں کو آپ ائینه لگتے هیں اور اپ میں وه خود کو دیکھتے هیں
اگر وه ادمی جھوٹا هو گا تو اپ اس کو عزت دیں گے تو وه اپ کو جھوٹا کہے گا
اور اگر سچا هوگا تو آپ سچا سمجھے گا
اگر عزت والا هوگا تو آپ کی عزت کرے گا اور اگر بے عزتا هے تو جی آپ کو بے عزت کرکے هی چھوڑے گا ـ
باقی جی یه میرا فارمولا هے
هوسکتا ہے که آپ اس سے متفق ناں هوں

6 تبصرے:

ڈفرستان کہا...

ہاہاہاہا
بہت اچھا طریقہ بتایا خاور صاحب
اب میں بھی لوگوں پہ اس کے تجربات کر کے دیکھتا ہوں
پھر آپکو نتایج سے آگاہ کروں گا
"مج کی موتری جیسا منه" اس میں "مج کی موتری" کس کو کہتے ہیں؟

خاور کھوکھر کہا...

مج کی موتری بمعنی بھینس کی پیشاب والی جگه ـ

محمد وارث کہا...

مجھے لگا کہ میں اپنی کہانی پڑھ رہا ہوں تھوٹی سے تبدیلی سے!

میرے فیکڑی مالکان کو ہمیشہ مجھ سے یہ شکایت رہی ہے کہ میں صفائی کرنے والوں کو بھی "صاحب" کہہ کر پکارتا ہوں اور انکی ماں بہن ایک نہیں کرتا سو ایک "اچھا" مینیجر نہیں ہوں!

افتخار اجمل بھوپال کہا...

بات آپ نے درست لکھی ہے میں نے جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کیا بلکہ عادت کے طور پر ہر ایک کے ساتھ کیا ۔ اب میں محسوس کرتا ہوں کہ اس کا مجھے بہت فائدہ ہوا ۔ کئی دکاندار اگر سستا نہیں تو کم از کم اُسی قیمت میں بہتر سودا مجھے دیتے ہیں ۔

BilluBilla کہا...

Buhat acha

faisal کہا...

ایسی آزماءش صرف آپ ہی نہیں کرتے۔ اللہ تعالی کسی کو دے کر اور کسی کو نہ دے کر آزماتا ہے۔ کچھ لوگ ہر حال میں شکر گزار ہوتے ہیں، کچھ کبھی بھی نہیں ہوتے۔ آزماءش کے وقت شور مچاتے ہیں اور آسانی کیوقت کہتے ہیں کہ یہ تو ہمارا اپنا کمال ہے۔

Popular Posts