بدھ، 7 جنوری، 2009

تبدیلیاں

میں اپنے ان محسوسات کو کیا نام دوں ؟؟
سائینسی ترقی کی رفتار ؟
یا کچھ اور؟
میرے خیال میں یه دنیا کی بے ثباتی کی بات ہے اور بندے کے اپنے مشاهدے کے غلام هونے کا ثبوت بھی
انسان مشاھدے کا غلام هے !!ـ
سکرین پر چلنے والی فلم میں جس چیز کو دیکھ رها هوتا ہے اس کی حقیقت کچھ اور هوتی هے
اپنی نظورں سے دیکھے کو هی حقیقت سمجھنے کا مغالطه کھا جاتا ہے جی انسان ـ
همارے دیکھتے هی دیکھتے کتنی چیزیں بنیں اور ختم هو گئیں
هم نے مشاهدھ کیا که یه چیز آئی اور چھا گئی اور پھر مٹ گئی
کچھ چیزوں کو لمبا وقت ملا تو ان میں انے والی تبدیلیاں حیران کن هیں ـ
ابھی اگلے دن کی بات لگتی هے که گاؤں کے سارے گھروں میں پانی کا نلکا نہیں هوتا تھا میں هینڈ پمپ کی بات کر رها هوں ـ
پھر سارے کاؤں میں هر گھر میں نلکا هوا تو دور سڑکوں پر بھی نکلے لگے که مسافروں کو پانی پینے میں میں اسانی رهے ـ
یه علیحدھ بات ہے که نلکے کی مشین چوری کر کے سکریپ بیچ کر کھانے والے نشئی هر دور میں رهے
پھر اب یه دن هیں که همارے گھر میں بھی پاکستان میں نلکا نہیں ہے
کیا اپ کے گھر میں ہے ؟؟

هاتھ سے چلنے والے آٹے کی چکی گھر میں پری تو دوکھی مگر اس پر هر روز کا آٹا پیسنے کا کام هماری پیدائیش سے چند هی سال پہلے بند هوا تھا
که گاؤں میں ایک خراس بھی هوا کرتا تھا بجلی آنے سے پہلے اٹے کی بیلوں سو چلنے والی چکی کو کہتے هیں خراس ، هآارے گاؤں میں یه خراس همارے گھر کے سامنے هوا کرتا تھا مگر بجلی کی چکیاں آنے کے بعد یه خراص بیکار پڑا رھتا تھا گاؤں کے ایک یا دو گھر ایسے تھے جو کبھی کنھی اس کو استعمال کرتے تھے
ورنه هم بچے اس پر جھولے جھولتے تھے
خراس کے پاٹ اگر جڑے هوتے تھے تو خراس کو چلانا هم بچوں سے ممکن نہیں هوتا تھا
اس لیے اس کے نیچے ایک گراری سی لگی هوئی تھی پاٹوں کا فاصله بڑھانے گٹھانے کے لیے ، آٹے کو باریک یا موٹا کرنے کے لیے پاٹوں کو اوپر نیچے کرنے کا سسٹم تھا جی یه ـ
گھٹنے نیچے ٹیک کے اور بھی نیچے چھک کر اس گراری کو کماتے هوئے ایک دن میں نے اوپر دیکھا تو اندھیرے میں مجھے ایک لاٹو سا نظر ایا
میں نے سوچاکه شائید کو کل پرزھ هو گا جی خراس کا میں نے اس کو پکڑ لیا
اور یه تھا که بھڑوں کا چھته
ایسے لگا که هاتھ میں اگ هی لگ گئی که ایک دم درجنوں بھڑوں نے ڈنگ جو لگا دئے تھے
بے سوچے سمجھے میں نے هاتھ کو زمین پر رگڑنا شروع کردیا که اس سے ساری بھڑیں مر گئیں مگر هاتھ سوج گیا تھا جی
خراس کو بجلی کی موٹر سے چلنے والی چکیاں کھا گئیں
اور چکیوں کو فلور ملیں ـ
کنؤں کو نلکے گھا گئے اور نلکوں کو واٹر سپلائی
اور واٹر سپلائی سسٹم نے میرے شہر گوجرانوالہ کو دیا ہے جی هیپاٹیٹس سی کا وائیریس ـ

چارا کاٹنے والی مشین ٹوکا همارے پاس تو تھی مگر میں نے اپنے داداجی حاجی اسماعیل تڑوائی کے چھوٹے بھائی دادا جی ابراهیم کو دیکھا ہے که ان کے گھر پر هاتھ سے چارا کترا کرتے تھے
لکڑی کی منڈھی پر هاتھ والے ٹکوے سے ـ
پھر جی مشین والے ٹکوے بھی گئے که اب موٹر والے ٹوکے هیں ـ

چاول کے چھڑنے کو اوکھلیوں میں چھڑنے کی صرف باتیں سنی هیں
هم نے چاول کو مشینوں پر هی چھڑتے دیکھا ہے
ستر کی دھائی میں همارے گاؤں میں جو تین چار مشینیں تھیں ان میں ایک میرے چاچا مالک اور چاچا یونس کی ملکیت تھی
ابا جی کے تین بھئیوں میں سے ان دونوں میں سے بھی چچا یونس تو زمینوں پر رهتا تھا چچاملک هی مشین پر کام کیا کرتا تھا
چاول چھڑنے کی مشین کے ساتھ ایک مسئیله تھا که جب بھی سیزن شروع هوتا تھا تو پولیس والے مشینوں کو سیل کرنے اجاتے تھے
اس سیل کو توڑ کر مشین چلا کر دوبارھ لگانا بھی ایک فن تھا جی
رات کو هر روز مشین چلایاکرتےتھے
که ستر کی دھائی میں سو روپے تک کی دھاڑی لگا کرتی تھی ـ

پھر جی سیلر آ گئے
مشین اور پھک ایک کہانی سی بن کے رھ گئے هیں جی اب تو ،
پھک که گھوڑے بڑی رغبت سے کھاتے تھے
کہتے هیں که گھوڑا اگر کڑوا بادام کھا لے تو مرجاتا ہے
میں نے دیکھا ہے همارے گھوڑے کی کھرلی میں کوئی پھک میں بادام ڈال جاتا تھا که ان کا گھوڑا مر جائے
لیکن جی اللّه کا فضل هی رھا جی ورنه جی ماڑے بندے کا گھوڑا مر جائے تو اس کے لیے چاهے امریکه کا صدر بھی مر جائے گھوڑے کا غم زیادھ هوتا ہے ـ

بجلی بھی همارے دیکھتے هوئے هی آئی جی همارے گاؤں میں بھی اور همارے گھر میں بھی ـ
اور ٹیلی وژن کا انٹینا چوھدریوں کی چھت پر اختر خان صاحب عرف کوکن مراثی کو لگاتے دیکھ کر هر بندھ دوسرے سے پوچھ رها تھا که یه کیا لگ رها ہے که چوھدریوں کی چھت پر؟

بانس پر کبوتروں کو چھتری جیسی چیز لگاتا هوا کوکن مراثی مجھے وه سین اب بھی کل هی کی بات لگتا ہے
میں جب پہلی بار ٹیلی وژن دیکھنے گیا تو خبریں لگی هوئیں تھی
چوھدریوں کے گھر آنے والے مهمانوں جیسا ایک بندھ تھا که کچھ کہے جارها تھا
مجھے اس کی کسی بات کی سمجھ نہیں لگی مجھے یه بھی یاد نهیں که وه کون سی زبان بول رها تھا
پھر جی کچھ هی سالوں میں گھرگھر ٹی وی هی ٹی وی هو گئے ـ
هان ٹیلی وژن ایک ایسی چیز ہے که جس کے ختم هونے کا مجھے تو انے والی کچھ دھائیوں تک بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا ـ

میرے خیال میں جو چیزیں لمبا عرصه همارے ساتھ چلیں گی وه هوں گی ٹیلی فون کسی بھی شکل میں ریڈیو اور ٹیلی وژن اور اخبار ـ
میوزک کے لیے هر ماسٹر وائیس کے ریکارڈ جس پر کتے کی بھنپو کے سامنے فوٹو هوتی تھی ـ
بہت بعد میں پته چلا که یه کتا هے جی
هاچی کو جس کا مجسمه طوکیو شہر کے شی بیا اسٹیشن کے سامنے هے ـ
شیبیا سپیشن پر حاچی کو کا مجسمه ملاقات کرنے والو ں کے ملنے کی مشہور جگه هے ـ
ان ریکارڈ پلیئیر میں ریکارڈ کو بدلنا گانے کا مزا کرکرا کر دیتا تھا اس لیے ریکارڈ کو آٹومیٹک میں بدلنے والی چینچر نام کی مشین کے انے سے اس ریکارڈ پلئیر کا نام هی چینجر پر گیا ـ
عنایت کوٹیا کمهار که چالیس اور پچاس کی دھائی کا ایک پنجابی لوک گلوکار جس کے گانے اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے ، هاں اپنا او آر جی ڈاٹ کوم کی سائیٹ پر اس کے کچھ گانے مل هی جاتے هیں
عنایت کوٹیے کے بہت سے ریکارڈ ابا جی کے ننھیال ميں ڈسکه میں میں نے دیکھے تھے که عنایت کوٹیے کمهاروں کا همارے ڈسکه والے رشته داروں سے بڑا تعلق تھا
لیکن کیونکه همارے دادا جی ان عنایت کوٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے اس لیے عنایت کوٹ کے کمهار همارے علاقے مین بھی انے سے گبھرایا کرتے تھے
میں نے جب اباپنے دادا جی سے مخالفت کی وجه پوچھی تو انہوں نے بتایا که
یه عنایت کوٹیے جس گاؤں میں جاتے هیں اس گاؤں کی عورتوں کو بگھا لے جاتے هیں ورغلا کر
اس لیے ـ
دادا جی کی اس بات پر دادی نے جو تبصرھ کیا تھا وه قابل تحریر نہیں که اس میں میری انسلٹ کا پہلو نکلتا هے ـ
میٹرک میں پڑھنے کے دوران مجھے اس بات کا شوق چڑھا که میں پنجابی کے لوک فنکار عنایت کوٹیے کے ریکارڈ محفوظ کر لوں
اس کے لیے میں جب ڈسکه گیا اور ابا جی کے ماموں کے بیٹوں سے ان ریکارڈوں کا پوچھا تو انہوں نے بتایا که همیں تو ان سے دلچسپی هی نہیں هے کہیں صندوقوں کے پیچھے پڑے هوں گے
بڑی تگ دو کے بعد ان ریکارڈوں کو نکالا تو سب کے سب هی کہیں ناں کہیں سے ٹوٹے هوئے تھے که کوئ بھی قابل استعمال نہیں تھا
جب میں نے چینچر کا پوچھا تو
بالے نے ہنستے هوئے بتایا که وه تو کباڑی کو دے دی
وه چلتی بھی نہیں تھی لیکن کباڑی کوئی بیوقوف تھا که اس کے بھی پیسے دے گیا
میں نے سوچا که چاچا بالے بیوقوف کباری نہیں تم هو که جس نے ایک انٹیک چیز بیچ دی ـ
بحرحال پھر جی ٹیپ ریکارڈ آئے
واک میں کا چرچا رها که سی ڈی آ گئی اور اب ایم پی تھری پلیر هیں که آئ پوڈ اور پته نہیں جی که کیا کیا ـ
ویڈیو كی كہانی که بیٹا تو چلا هی کم دن لیکن ویڈیوپر بڑی بہار ائی که لوگ بھالے شهر سے ویڈیو کرایه پر لے کر اتے تھے جس کے ساتھ تین فلمیں هوتی تھیں
صبح تک فلمیں دیکھ دیکھ ان کا براحال هو چکا هوتا تھا
مجھے یه فلمیں دیکھنے کا اتفاق نہیں هوا که ایک تو جی ابا جی فلموں کے خلاف تھے اور دوسرا عشاء کی نماز گے بعد گھر سے باهر رهنے کا تو جی تصور هی نہیں کیا جا سکتا تھا ـ
اب سنا هے که ویڈیو کیسٹ کی فروخت بھی بند هو گئی هے ـ
ثبات ایک ، تغیر کو هے زمانے میں
گندم کو بالیوں سے نکالنے کا عمل انگریزی میں ویٹ تھریشنگ کہتے هیں جی
مجھے یاد ہے که هم بیلوں کے ساتھ پھلے کے ساتھ کیا کرتے تھے کتنے هی دن لگ جاتے تھے اور پھر بھی کندم کے پودے ميں ایک گانٹھ سی هوتی هے وه گندم کے دانے کی هی هم وزن هو جاتی هے اس کو نکالنا بہت مشکل هوتا تھا
مستری محمد حسین نے پہلی بار تھریشر مشین بنائی تھی جی همارے گاؤں میں مستری صاحب نے کہیں مشین دیکھی تھی که آ کر لکڑی سے اس کی کاپی بنا لی اور بجلی کی موٹر پر اس کو چلاتے تھے اس کو پہیے بھی نہیں لگے هوتے تھے اس کو جہان بھی لے کر جانا هوتا تھا کسی چیز پر لادھ کر لے جاتے تھے ـ
پھر مستری محمد حسین کے بیٹوں نے لوہے که چادر سے ویٹ تھریشر بنا کر بیچنا شروع کیے
تو جی پسرور روڈ پر سڑک کے کنارے مستری عبدالرحمان شاد اور مستری بشیر بھٹی بھنگو والے کے بنائے هوئے تھریشروں كی قطاریں لگی هوئی تھیں ـ
پھر کمبائین مشینیں آگئیں
لیکن کمپائین کا ایک نقصان هوا که هم توڑی اور پرالی کو ضائع کرنے لگے هی اور همارے پاس کا کوئی حل بھی نہیں ہے
لیکن جن ممالک میں یه چیز ایجاد هوئی هے انہوں نے بیلر نام کی مشین سو توڑی اور پرالی کو اکٹھا کرنے کا بھی انتظام رکھا هوا ہے
میں ایک دفعه مستری عبدلرحمان سے بات کی کیون ناں اب بیلیر بنا کر لوگوں کو دئے جائیں
کمبائین کے انے سے تھریشروں کا کاروبار ختم هونے کی وجه سو عبدلرحمان شاد کی پوزیشن بھی کمزور هی هے
اور اس نے کہا که ایک دفعه وه مشین لا دیکھاؤ تو سهی
لیکن یارو میں بھی پچھلے کتنے هی سالوں سے کچھ اس بری طرح حالات میں پھنسا هوا هوں که
یه کام نہیں کر سکا
استاد دامن کے یه شعر
هان جی میں استاد دامن کو پسند کرتا هوں
اس لیے عام طور پر میرے بلاک بر استاد دامن کےشعر هوتے هیں

اے دنیا محل سراں دی اے، تے مسافراں بیٹھ کھلو جانا

واری واری اے ساریاں کوچ کرنا، آئی وار ناں کسے اٹک جانا

میرے ویہندیاں ویہندیاں کئی هو گئے تے میں کنیاں دے ویہندیاں هو جاناں

دامن شال دوشالے لیراں والیاں نے ، سبھناں خاک وچ سمو جانا ـ

3 تبصرے:

ڈفر کہا...

ٹیکنالوجی کو دور میں رہنے اور ہر وقت اس کو استعمال کرنے کو باوجود پتا نہیں کیوں لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ ساری ترقی ختم ہو جاءے اور ہم پھر سے اسی دور میں چلے جایں۔
مجھے تو کوءی مارایی کہانیاں لگتی ہیں جب اپنے بڑوں سے سنتا ہوں ایسی باتیں
کہتے ہیں کہ اس دعر میں پیار محبت بہت تھا لوگوں میں لیکن جوں جوں ترقی ہویی وہ سب ہوا ہو گیا
بلا ترقی کیسے یہ سب ختم کر سکتی ہے؟
تو جواب ملتا ہے کہ پہلے صرف ریڈیو ہوتا تھا اور پورے گاوں میں ایک ہی
رات کو ساروں کی ایک بیٹھک ہوتی تھی اور اسی میں بیٹھ کر ریڈیو سنتے تھے
لوگ سوشل ہوتے تھے سو پیار محبت پیدا ہونا فطری بات تھی
ٹیی وی وی سی آر اور دوسری چیزوں ننے تو سماجی اقدار کے ساتھ ساتھ لوگوں کا آپس میں گھلنا ملنا بھی ختم کر دیا۔ اور جب آپ کسی کو جانیں ہی نا تو کیسا پیار اور کیسی محبت؟

Abdul Qudoos کہا...

لگتا ہے آپ میرے اس مضمون سے متاثر ہوئے ہیں
http://abdulqudoos.info/%d9%be%d8%a7%da%af%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%ac%d9%85%d9%86/

رضوان کہا...

خاور صاحب نہیں رِیساں
بہت اُچے چلے گئے او

Popular Posts