اتوار, مارچ 30, 2008

انداز فکر

اچ کل جاپانی ین کا ریٹ ڈالر کے مقابلے میں کافی مہنگا هے ـ
تقریباً پچانوے ین کا ایک ڈالر هے ان دنوں ـ
اگر ین سے ڈالر خریدیں تو کافی سستا مل رها هے
عام طور پر ایک ڈالر اک سو بیس ین کا هوتا ہے
کبهی کبهی ایک سو پچاس کا بهی هوجاتا ہے ، میں نے اب تک جوسب سے مہنگا ریٹ دیکها هے ایک سو ستر ین کا ڈالر کا دیکها هے ـ
ان دنوں اگر کسی کے پاس دولت هو تو ڈال خرید کر دکھ لے تو اک مہینے ميں پندرھ پرسنٹ تک منافعے کا موقع ہے ـ
میں اپنے ایک جاننے والے جاپانی دولت مندسے کہا که تم کیوں نہیں ایک دو کروڑ ڈالر خرید لیتے ؟
لاکھو ڈالر کے منافع کی امید هے ـ
تو اس نے مجھ سے تفصیل کے ساتھ ڈالر کی خرید فروخت کا طریقه کار پوچھا ، جب اس کو ساری سمجھ اگئی تو بولا که یه تو صرف هندسوں کو حرکت دے کر پیسے بنانے والی بات هوئی ناں ؟
میں نے کہا ،هاں!ـ
تو اس نے کہا که مجھے اس طرح کے منافع سے نفرت ہے جس میں مال حرکت نه کرے ، مال کی خرید فروخت کو بات کرو تو سوچتے هیں ـ
ان دنوں هیوی ڈیوٹی کرینوں کی ایکسپورٹ مین مندی کا رجحان ہے اس لیے منڈی میں سستی مل جاتی هیں میں نے اس کو کہا که پھر لفٹر کرینیں خرید کر سٹاک کر لیتے هیں ـ
وه چونک بولا یعنی زخیرھ اندوزی؟؟
میں نے کہا هاں
تو اس نے کہا که اب کے بعد یه بات نه کرنا اگر میرے ابا جی کو پته چل گیا تو تم سے نفرت کرنے لگے گا اور تمہارا ہماری کمپنی میں آناجانا بند هو جائے گا ـ
میں اس فیملی کو جانتا هوں ، ان کا ردی کاغذ کا کاروبار ہے اور یه فیمل کافی سے زیادھ دولت مند ہے ـ
جاپان جہاں کی زمین دنیا کی مہنگی ترین زمین ہے اس ملک میں ان کی ایکڑوں میں پھلی فیکٹریاں هیں اور کتنے هی شہروں میں هیں ـ
میں نے پھر اس سے پوچها که آپ کی فیملی میں سود کے منافع اور زخیرھ اندوزی کے متعلق یه فلسفه آیا کہاں سے هے ؟؟
تو اس کا وه کوئی تسلی بخش جواب نه دے سکا مگر کہنے لگا که هماری فیملی کا یہی اصول ہے ـ
پهر میں نے اس ک بتایا که میں جس دین کو مانتا هوا اس میں سود کو حرام کیا گیا ہے اور زخیرھ اندوزی کی ممانعت ـ
میں نے اس کو یه بتا تو دیا مگر مجھے خود سے بهی شرم سی انے لگی که میں اس کو ان باتوں کی تجویز دے رها هوں جو که میرے هی دین میں منع هیں
اور بے دین جاپانی ایک دین (سسٹم)کا پابند ہے ـ
یارو اللّھ بڑی بے نیاز ذات ہے
پہلے خود هی کسی کو عقل دے دیتا ہے اچھے برے کو سمجھنے کے لیے اور پھر اس کو مال دولت سے بهی نواز دیتا ہے ـ
اور جس کو سزا دیتا ہے اس کو کملا سا کردیتا ہے ـ
پنجابی کا ایک محاورھ ہے
رب ناں مارے ڈانگاں
پر پُٹھی کر دے مت ـ
رب لاٹھی چارج نہیں کیا کرتا بندے کی عقل الٹ دیتا ہے ـ

3 تبصرے:

urdudaaN کہا...

برادرِ من
آپ کی تحریر اچھی لگی۔ خدا آپ کو نیک ہدایت دیتا رہے۔
میرا جب تک جاپان آنا جانا رہا، مجھے پاکستانی بھائیوں کی حرکتوں (شراب فروشی، جوے بازی) پر غیر لوگوں میں شرمندہ ہونا پڑا، ایک مسلمان ہونے کے ناطے۔
افسوس ہوتا تھا کہ میرے جیسا بے عمل مسلمان بھی خود کو ان سے قدرے مختلف پاتا ہے۔ شاید میرا بے اصولوں سے ہی پالا پڑا ہو۔

adam brown کہا...
یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
Akinogal کہا...
یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

Popular Posts