بدھ، 5 مارچ، 2008

کیویں گزاریے زندگی نوں

تهوڑا عرصه پہلے میرا پاکستان والے افضل صاحب نے بهی اس مسئلے کو اٹھایا تها
اور اب میں نے کسی اور سائیٹ پر بهی دیکها ہے که کسی بلاگر کے لکهے پر کی گئی کومنٹس کچھ واہیات سی هوگئی تهیں که کچھ اور مسئله تها ـ
اس سائیٹ کے کرتا دهرتاؤں نے کومنٹ لکھنے والوں کو کسی ضابطے کا پابند بنانے کی کوشش کی ہے ـ
مجھے اس معاملے میں ضابطه اخلاق بنانے کی کوشش کرنے والوں کی تو حمایت کروں گا مگر اپنی قوم کی اخلاقی حالت پر افسوس اتا ہے که کسی صابطے پر اتی هی نہیں ہے ـ

استاد دامن نے لکھا تها
خون جگر دا رکھ کے تلی اتے
دهرتی پوچدے پوچدے ٹر چلے
ایتھے کیویں گذاریے زندگی نوں
ایھو سوچدےسوچدے ٹر چلے
ساری قوم ضابطه ہائے اخلاق هی بنانے میں لگي ہے ـ کوئی شلوار اونچی کروا رها ہو نماز میں اور کوئی داڑهی کے سائیز پر بحث کر رها ہے
اور اب یه بلاگنگ اور اس کی اخلاقیات ـ ـ ـ ـ
سن دو ہزار چار سے لکھ رها هوں بلاگ اردو میں ـ
جب میں نے اردو میں لکھنا شروع کیا تها تو انگلیوں پر گنے جاسکتے تهے اردو کے بلاگر ـ
اردو کو ٹیکسٹ میں لکھنے والی سائیٹ بی بی سی کے بعد اردو کاانسائکلوپیڈیا وکی پیڈیا تها
اور یا پهر چند لوگ بلاگ لکھتے تهے
ایک دانیال نام کا لڑکا تها
ایک شعیب صاحب تهے ایک دبئی والے اور ایک دوسرے ،
ایک اردو کے پہلے بلاگ کے دعوے والے هندوستانی صاحب تهے
جب میں نے لکھنا شروع کیا تها تو میرے خیال میں یه تها که کون پڑهے گا همارا لکها تها ابهی کمپیوٹر پر اردو پڑهنا بهی مشکل هے ـ
هاں کبهی مستقبل میں جب تکنیک ترقی کرجائے گی تو شائد کوئی ہم کو بهی پڑهنے لگے
دوهزار چار اور پانچ کے سالوں میں غالباً صرف دو کومنٹس تهیں ـ
ایک رومن لفظوں میں اور دوسری اردو میں تهی
جو که پہلی اردو کومنٹ تهی میرے بلاگ پر اجمل صاحب کی جو که اب خود بهی ایک جانے پہچانے بلاگر هیں
پهر ایک بڑا گلا هوا کرتا تها میرے لکھے میں که ڈبے بن جایا کرتے تهے میری تحریر میں ـ
اس کی وجه یه تهی که میں کمپیوٹر کے ایڈوانس ترین اپریٹنگ سسٹم میکنتوش پر لکها کرتا تها اور پڑهنےوالے مائیکروسوفٹ کا اپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے تهے
جو که اب بهی میکنتوش سے پیچھے هے
لیکن چار سال پہلے کی نسبت بہتر ہے که میرا چار سال پہلے لکها هوا اب بغیر ڈبوں کے مائیکرو سوفٹ کے آپریٹنگ سسٹم پر بهی پڑها جاسکتا ہے
اب بهی جب میں لکھ رها هوں تو میرے خیال میں ہے که یه تحاریر بهی مستقبل کے لیے هیں
جب اردو سرچ انجن عام هوں کے جب اردو میں لکها جاسکے گا ہر کمپیوٹر پر
تب هی مکن هو گا که میری قوم کے لوگ میری میری باتیں پڑھ سکیں گے ـ

اپنے لکھے کی وجه سے دھمکیوں کے فون بهی سنے هیں اور گالیاں بهی ـ
جب اپ لکهیں گے تو ردعمل تو هوگا ناں جی؟
میاں محمد بخشنے فرمایا تها
خاصاں دی گل عاماں اگے تے نہیں مناسب کرنی
دوده دی کهیر بنا محمد ، تے کتیاں اگے رکهنی ـ

یا پهر یه بهی هوسکتا ہے که میں هی عام هوں اور خاصوں کو میری بات کی سمجھ نه لگ رهی هو
بہت سی باتیں هوسکتا ہے که مستقل کے قاری کو هی سمجھ لگیں
یا کم از کم یه تو هوگا ناں که مستقبل کا قاری یه جان سکے گا که اکیسویں صدی کے شروع میں اردو کے بلاگر کیا احساسات رکهتے تهے ـ

5 تبصرے:

اجمل کہا...

میں پیچھے نہ صرف آپ کے بلاگ بلکہ بلاگسپاٹ کے ہر بلاگ سے کافی عرصہ غیر حاضر اسلئے رہا کہ جب میں تبصرہ لکھ کر شائع کرنے کی کوشش کرتا تو نہ کر پاتا اور پچھلا صفحہ واپس آ جاتا تھا ۔ شکر ہے یہ مسئلہ ایک ماہ قبل خود بخود حل ہو گیا ۔

جناب ۔ میں ہوں بڑا گستاخ ۔ عین ممکن ہے کہ ڈبے ڈبے والی شکائت میں نے ہی کی ہو ۔ شکائت کی وجہ بلاگ میں دلچسپی کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتی ۔ یہ بیماری بنیادی طور پر بلاگسپاٹ کے تبصرہ کے خانہ میں ہے جو کہ اب بھی موجود ہے ۔ یہ بیماری میرے بلاگ میں بھی تھی جسے میں نے ایک نیک نوجوان حارث بن خُرم کی مدد سے دور کیا تھا ۔

آپ کی یہ تحریر جس فعل کی نشان دہی کر رہی ہے وہ ہماری قوم کی خصلت بن چکا ہے ۔ جب قوم اس کی اصلاح کا سوچے گی تو ترقی کی طرف تیزی سے گامزن ہو جائے گی ۔

Afzal کہا...

یہ سب جانتے ہیں کہ اگر لا ایند آرڈر نہ ہو تو حضرت انسان بے قابو ہوجائے۔ اسی لیے دنیا کی ہر مہذب تہذیب نے قوانین کے تحت ترقی کی اور ضابطے وغیرہ اسی قانون کے زمرے میں آتے ہیں۔

Afzal کہا...

خاور صاحب آپ نے بلاگنگ کی تاریخ بیان کرکے ہماری ہمت بڑھا دی ورنہ ہم تو ہمت ہارتے جارہے تھے۔ اگر چار سال میں اردو بلاگنگ یہاں تک پہنچی ہے تو اگلے چار سال میں اس کی ترقی کے روشن امکانات ہیں۔ دراصل ہم کچھ روز سے یہی سوچ رہے تھے کہ اگر قارئین کی تعداد پچاس ساٹھ ہی رہنی ہے تو پھر لکھنے کا کیا فائدہ۔ آپ کے اس نقطے سے بھی ہم اتفاق کرتے ہیں کہ کم از کم مستقبل میں قاری ہماری تحاریر کو پڑھ کر ہمارے زمانے کے حالات سے آگاہی حاصل کرے گا۔

راشد کامران کہا...

حضرات کیا جاتا ہے اگر پڑھنے والے چار ہوں یا چالیس ہزار ۔۔ دل کو تو تسلی ہے کے حق بلند کیا۔۔ آپ حضرات تو اردو بلاگرز کے لیے مشعل راہ ہے۔۔ کبھی بھولے سے بھی لکھنا نہ چھوڑیں

Madhu کہا...

By typing in Urdu search the web using Yanthram.
http://www.yanthram.com/ur/

Popular Posts