جمعہ، 7 مارچ، 2008

بلاگ هسٹری

اب مجهے یاد نہیں که میں نے پہلی دفعه بلاگ کا لفظ کہاں سنا تها ـ
لیکن ہے یه اکیسویں صدی کے پہلے سالوں هی کی بات جب یه لفظ مجهے سنائی دیا یا کہیں پڑها تها ـ
انٹرنیٹ سے میرا تعارف هوا تها انیس سو پچانوے میں ـ
ان دنوں میں دنیا کی آوارھ گردی کیا کرتـا تها که جاپان ایا تها ننها جی کو ملنے که ایک دن جب ننها جی کام پر تهے که میں گهر پر ٹی وی دیکھ رها تها
جاپان کے قومی ٹیلی وژن این ایچ کے کے ایک چینل نمبر تین پر میں نے ایک پروگرام دیکها جس میں بڑی تفصیل کے ساتھ انٹرنیٹ کے متعلق بتایا جارها تها ـ
اس پروگرام میں میں نے پہلی دفعه انٹرنیٹ کا نام سنا تها
یه وه وقت تها جب کمپیوٹر نام کی چیز کے متعلق میں اتنا هی جانتا تها که امیر لوگوں کے استعمال کا ایک پرزه ہے جو که بہت اوپر کے لیول کے لوگوں کے کسی استعمال میں اتا هے ـ
کمپیوٹروں کو ایک دوسرے کے ساتھ کونکٹ کر سکنے کا بهی سنا تها
اس لیے مجهے ٹی وی پر اس پروگرام کو دیکھ کر اور سن کا یه اندازه هوا که کسی بندے نے بهت سے کمپیوٹروں کو ایک نیٹ ورک پر رکھ دیا ہے ، جس سے اب ان کمپوٹروں کی انفارمیشن دوسرے لوگ بهی جو اس نیٹ ورک سے منسلک هوں گے دیکھ سکیں گے اور انفارمیشن کو ایک دوسرے کے ساتھ شئیر بهی کر سکیں گے ـ
اسی نیٹ ورک پر فیکس کی طرح تحریری پیغامات کی ترسیل بهی ممکن هو گی جس کو الیکٹریک میل یعنی ای میل کها جائے گا ـ
یه تها جی میرا پہلا ایمپریشن انٹر نیٹ کے متعلق اور یهی تهیں ٹوٹل معلومات ـ
اس کے کچھ ماھ بعد جنوبی کوریا میں ایک جاپانی دوست '' کو تهاکے'' کے گهر پر کمپیوٹر کو چلتے هوئے دیکها اور یہیں پر پہلی دفعه انٹر نیٹ چلتے هوئے بهی دیکها تها ـ
اس وقت تک انٹر نیٹ براؤزر صرف نیٹ سکیپ هی هوا کرتا تها یا شائد مجهے هی علم نہیں تها ـ
بہرحال میں نے انٹر نیٹ ایکسپرولر بہت بعد میں دیکها تها ـ
چهیانوے میں کوریا میں هی ایک دفعه کوتهاکے نے کہا که یا ر تم ای میل کیوں نہیں بنا لیتے ؟
تم هر وقت ملکو ملک پهرتے رهتے هو تم سے رابطه کرنا مشکل هوجاتا ہے
اگر تمهاری ای میل هو کي تو رابطه کرنا اسان هو جائےگا
اس وقت تک میں سمجهتا تها که ای میل بنانے کے لیے بهی کوئی ماهانه ادائیگی کرنا پڑتی هو گی ، اس لیے میں نے کوتهاکے سے کہا که یار جی میں ماهانه ادائیگی نہیں کرنا چاهتا کیوں که میرا کوئی کاروبار تو ہے نہیں اس لیے پته نهیں که کب میں ادائیگی نه کرسکوں اور میل بند هو جائے ـ
تو کو تهاکے نے بتایا که ای میل مفت میں بن جاتی ہے صرف اس کو دیکهنے کے پیسے لگتے هیں وه بهی جب تم کسی انٹر نیٹ کافے پر دیکهو تو ورنه کسی دوست کے گهر پر مفت میں دیکهی جاسکتی هے ـ
انیس سو چهیانوے میں میں نے ای میل بنائی تهی جس کا ایڈریس تها
allha@hotmail.com
میں یه ایڈریس دوهزار ایک تک استعمال کرتا رها هوں ـ
پهر اپنی مجبوری کی وجه سے تیس مہینے تک اس اکؤنٹ کو نه کهول سکنے کی وجه سے یه اکاؤنٹ ختم هوگيا ـ
اسی دوران (آپنی آوارھ گردی کے دنوں)کراچی میں ایک بندے سے ملاقات هوئی جس نے مجهے کمپیوٹر کے پرزه جات کی اسمگلنگ کا آئیڈیا دیا تها ـ
ميں اسمگلنگ کی جرأت تو نه کرسکا مگر هارڈوئیرز کے نام اور کام کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا شروع کردیں
اس بات نے مجهے کمپیوٹر کی ساخت کو سمجھنے کا موقع فراهم کیا ـ
سنگا پور جنوبی کوریا اور جاپان کی الیکٹرونکس کی مارکیٹوں میں میں نے اتنی آوارھ گردی کی ہے که بہت سے دوکان دار مجهے اب بهی کتنے سالوں بعد بهی وهاں جاؤں تو پہچان لیتے هیں ـ

انیس سو ستانوے میں میں نے ایک هوم پیج بهی بنایا تها ایک فری هوسٹ پر یه هوسٹ بهی ختم هوگيا اور اکاؤنٹ بهی ـ
اس هوم پیج کا ایڈریس تها
http://allha.goplay.com
سن ننانوے میں میں نے اینٹر نیٹ پر دوکان بنانے کا پروگرام بنایا اور اس کے لیے دومین نیم بهی لیا مگر تکنیکی صلاحیت کی کمی کی وجه سے یه بیل منڈھے نه چڑھ سکی ـ
میں نے اپنا پہلا کمپیوٹر خریدا تها فروری دوهزار میں ـ
اور پہلا میکن توش کمپیوٹر خریدا تها اپریل دوهزار میں ـ
آئی میک نام کے اس کمپیوٹر میں ڈی وی ڈی پلئیر لگا تها
یه میرا پہلا ڈی وی ڈی پلئیر بهی تها ـ
دو هزار ایک کے اخری دنوں سے دوهزار تین کے وسط تک حالات کچھ اسطرح کے رہے که میں انٹر نیٹ تک رسائی نه کرسکا ـ
دو هزار تین میرے پاس ایپل کمپیوٹر کی میکن توش پاور بک تهی
ایڈونس ترین اپریٹنگ سسٹم اور طاقتور پروسیسر که مجهے اس کے استعمال کے لیے بهی تربیت کی ضرورت تهی ـ
ان دنوں میں پیرس کے حالا ت سے دل برداشته هوکر سپین کے شهر بارسلونا منتقل هوگیا تها
بارسلونا میں پرانے شهر کے وسط میں ایک گلی ہے ری اے ریتا ـ
اس گلی ری اے ریتا کے مکان نمبر پانچ میں میري ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے هوئی که میں نے تکنیکی طور پر ان سے بہت کچھ سیکها ـ
غار نما یه تاریک سا مکان جس کا لوہے کا دروازه عموماً بند رهتا ہے
دروازے کے ساتھ هی ایک شٹر بهی ہے جو کبهی کبهی کهلا هوتا ہے جب کا مطلب ہے که کوئی اندر ہے اور یه سارا دن اندر کا کرے گا ورنه شارٹ ٹائم کے لیے آنے والے شٹر کهولنے کی تکلیف نہیں کرتے ـ
جی یه هے ری اے ریتا نیٹ
http://riereta.net
اندر داخل هوں تو کمپوٹر مشینوں اور میوزک مشینوں کا ایک سلسله هے یہاں سے انٹر نیٹ ریڈیوں
ری اے ریتا ریڈیو چلایا جاتا تها
اور ان دنوں سٹریم پر کام کرنے والے محقق یہاں جمع هوتے تهے ـ
ری اے ریتا پر جب کبهی موقع ملا میں تفصیل سے لکهنے کی کوشش کروں گا ـ
کیونکه ری اے ریتا آپنے اندر ایک جہاں ہے اور یہاں ملنے والے کردار بهی اپنی اپنی جگه ایک انجمن ـ
یہیں میں نے اردو کے انسائکلوپیڈیا پر لکهنا شروع کیا تها
اور اس سے پہلے میں اپنا هوم پیج بنا چکا تها جو که ری اے ریتا نیٹ کے سرور پر هی ہے
http://khawar.riereta.net
یہیں میں نے ڈریم وویور نام کی اپلیکیشن کو چلانا سیکها
فلیش کی فائیلوں پر کام سیکها ـ
حتی که میک پر اردو یا عربی کیسے لکهی جا سکتی هے یه بهی میں نے یہیں سیکها تها ـ
دو هزار چار میں گوگل پر اردو میں سرچ ممکن هو چکی تهی
اس لیے اس سرچ کے ذریعے میں کچھ اور بلاگروں کے بلاگ تک بهی پہنچا تها
جس میں سے ایک تها دانیال اور دوسرا اردو کے پہلے بلاگ کے دعوے دار ایک صاحب تهے بهلا سا نام تها ان صاحب کا جو اب مجهے یاد نہیں رها ـ
کچھ لکهنے کا تو سوچتے رهتے تهے مگر لکهنے کا پلیٹ فارم ملا
بلاگر ڈاٹ کم
جب میں نے لکهنا شروع کیا تها تو اردو کو نیٹ پر ٹیکسٹ کو صورت لکهنا تو مشکل تها هی پڑهنا بهی مشکل تها ،ایسے میں آپنی تحاریر کے لیے کسی قاری کے هونے کے هونے کی تو امید هی نہیں تهی ـ
لیکن میں نے کہیں پڑها تها که تاریخ مرتب کرنے کا طریقه یه ہے که اس دور کی میسرتحاریر کو دیکھ کر اس دور کے حالات کا اندازه لگایا جاتا ہے اور اس کو تاریخ کہتے هیں ـ
اس لیے میں بهی یه سوچا کرتا تها که هر دور میں تاریخ کو جن تحاریر کی بنیاد پر لکها گیا تو اس دور کے فاتح لوگوں نے لکهوائی تهیں یا ان ظالم اور غاظب لوگوں کی خوشامد کے لیے لکهی گئیں تهی ـ
کسی بهی دور کے عام سے لوگوں کی تحاریر کہیں نہیں ملتی هیں
تو کیوں نه اب جب کے اکیسویں صدی میں یه ممکن ہے اور مجهے میسر بهی تو میں جو که ایک عام سا بنده هوں آپنے احساسات کو لکھ دوں ـ
میرے آپني تحاریر مین اپنے کمہار هونے کا بار بار ذکر اور آپنے تعلیم نه حاصل کرسکنے کا باربار لکھنا بهی اس بات کو ثبوت کے طور پر چھوڑنا ہے که یه واقعی ایک عام سے بندے کی تحاریر تهیں جو که حادثاتی طور پر اپنے باتوں کو تحریر کے قابل هوگیا تها ـ
آپ اج بهی اس بات کا اندازه لگا سکتے هیں که لکهاری کتنے غیر جانبدار هو کرلکھتے هیں
گجرات کے چوھدریوں کے مظالم پر ان کے دور حکومت میں کسی نے بهی نهیں لکها ، اب ان کے هارنے پر شرماتے شرماتے کچھ باتیں لکھنے والے هوں بهی تو کیا یہی جرنلزم ہے؟؟
حکمرانوں کی خامیوں اور حکومتی ملازمین کی کوتاهیوں پر گلا پهاڑ کر للکارا مار کر لوگوں کو بتانے کا نام ہے
جرنلزم!!ـ
دو هزار چار میں جب میں نے بلاگ سپاٹ پر بلاگ بنایا تو دور دور تک میرے ذہن میں خیال نہیں تها که کوئی اس کوپڑھے گا بهی ، میرے خیال میں تها که پانچ سے سات سال کے بعد کچھ لوگ اس کو دیکهے کی زحمت گواره کریں ـ
ایک تو اردو کو کمپیوٹر پر پڑھنا مشکل ہے اور کچھ همارے لوگ بهی احساس کمتری کے مارے هیں ان کو اپنی زبان ہمیشه سي کمتر هی لگتی رهی ہے
پہلے جب تهوڑا پیسا آتا ہو تو پنجابی سے جان چھڑاتے هیں اور جب کچھ اور پیسه آ جائے تو اردو بهی دیسی دیسی سے لگنے لگتی هے ـ
ولایتی زبان ولایتی مشینین ، ولاتی لوگ ، اور ولایتی غلام حکومت ـ
اس لیے میں اردو کی انٹر نیٹ کی ترقی سے کافی مایوس تها
لیکن پچهلے سالوں میں اردو کی ترقی کے لیے جوان لڑکوں نے کافی کام کیا ہے
ان میں سے زیاده تر اردو محفل کے ممبران هیں
میں ان کے نام نہیں لکهنا چاهتا که اگر کسی کا نام ره جائے تو اس کو دکھ نه هو
مگر اردو محفل پر جانے والے لوگ بهی جانتےهیں اور جو نہیں جانتے ان میں سے بهی کافی لوگوں کو ان میں سے کچھ نام معلوم هیں ـ
اردو کی ترقی کے لیے کام کرنے والوں کی مہربانی سے یه ممکن هوا که میں میری توقع سے پہلے هی ایک بلاگر کے طور پر پڑها جانے لگا
لیکن یقین کریں که اب بهی اپنے بلاگ لکھنے سے زیاده اپنے وکی پیڈیا سے تعلق هونے پر فخر ہے ـ
وکی پر کام کرنے والے ثاقب سعود کے مشورے پر هی میں نے اردو کے سب رنگ بنایا
http://khawar.riereta.net/urdu
مگر اس میں ایک خامی ہے که یه کھلنے میں دیر لگاتا ہے
شائد که کبهی میں تکنیکی طور پر اس کو ٹھیک کرنے کے قابل هوجاؤں ـ
اس وقت اردو میں بلاگ لکھنے والے زیاده تر بلاگر میرے دیکھتے هی بنے هیں ـ
اور ان میں سے زیاده تر کا لکھنے کا معیار بہت اچها هے
اتنا اچها که یه کسر نفسی نہیں ہے که میں اپنی تحاریر کو غیر معیاری پاتا هوں ان کے سامنے ـ
نئے لکھنے والوں کا معیار دیکھ کر میں اردو کے مستقبل کے متعلق بہت پُر امید هوں ـ
هر بندے کا اپنا آپنا لکھنے کا انداز بهی هوتا ہے اور نقطه نظر بهی ، جیسے که میرا پاکستان والے افضل صاحب سیاسی تجزیے کرنے میں ماهر هیں تو اجمل صاحب معاشرتی کجیوں پر لکھتے هیں مگر جب جب ان کی عمر بڑهتی جا رهی ہے کچھ زیاده هی مذهبی هوتے جارہے هیں
بلکه جذباتی مذہبی
بدتمیز صاحب کو پاکستان کی پس ماندگی کا افوسوس ہے اس لیے
ترقی یافته قوموں کی باتیں لوگوں کو بتانے کی کوشش میں پھاوے هوئے جارہے هیں ـ
قدیر احمد رانا بچوں کی طرح روٹھتا رهتا هے اور چهوڑجانے کی دهمکیاں دیتا رهتا ہے
بس بچوں کی طرح لوٹنیاں لگانے کی کسر ره جاتی هے ـ
شیعب صفدر صاحب بهی پاک مقیم وکیل هیں
پاک سیاست کو پاک کرنے کی کوشش میں لگے رهتے هیں
محب علوی صاحب ایک بلاگر بهی هیں اب انہوں نے وکی پیڈیا پر بهی لکهنا شروع کیا ہے
ایک بہت هی تعمیری کام کی طرف ایک باصلاحیت بندے کا قدم ـ
منیر احمد منیر صاحب بهی ایک پرانے لکھنے والے هیں ان کی غالب کو سرائیکی میں پیروڈی والی نظمیں تو بهت هی اچهی تهیں ـ
باقی بلاگروں کے متعلق بهی تاثرات بهر کبهی سہی ـ
باقی فیر سہی

3 تبصرے:

محمد شاکر عزیز کہا...

واہ
آپ تو بہت پرانے نکلے پاء جی،
اردو کا تاریخی ورثہ ہیں آپ تو پھر۔
تاثرات پڑھ کر اچھا لگا۔
مجھے آپ سے یہ گلہ ہے کہ آپ کے بلاگ کا ٹیمپلیٹ اور فونٹ بالکل بھی اردو کے لیے موزوں نہیں۔

Afzal کہا...

آپ نے تو اردو بلاگنگ کی پوری تاریخ کھنگال ڈالی۔ کمپیوٹر کیساتھ آپ کے رشتے کی داستان پڑھ کر اچہا لگا۔ کمپیوٹر کیساتھ اپنا رشتہ کتنا پرانا ہے یہ ہم اپنے بلاگ پر لکھیں گے۔

Waqar Ali Roghani کہا...

sukar ha app na comments allow kardeya.

muja app ka blog awar app ka leknay ka style pasand ha. I like it, because it is simple, direct and effective.

Popular Posts