بدھ, مارچ 19, 2008

گرگ باراں دیدھ

ملک صاحب بڑے سیانے بندے هیں جی
ان کی سیانف کی سب سے بڑی دلیل ہے ان کی دولت مندی ـ
بڑے بادشاھ گر اور ٹولے باز بهی هیں جی
جوانی میں بندوں کی اسمگلنگ میں بهی نام اور دولت کمائی
اور اب جوانی ڈهلنے پر ہے اس لیے دهارمک (مذهبی) بن گئے هیں ـ
اور نمازی ٹولے بنانے کی کوشش میں هیں اور پھر اس کے بعد کاروباری ٹولے بنیں گے ـ
لیکن کہتے ناں جی که بندھ مشاهدے کا غلام هوتا هے
اس لیے نمازی ٹولا بنانے میں تو کامیاب هو هی گئے هیں مگر کچھ باتوں میں جاپان کے ماحول کو ابهی سمجھ نہیں سکے هیں ـ
لیکن هیں بڑے عقلمند اس لیے سمجھ ضرور جائیں گے ـ
فجر کی نماز میں جاپان کی کسی بهی مسجد میں نمازی کم هی هوتے هیں
که صبح اٹھنا کافی مشکل هوتا هے ناں جی ـ
لیکن ملک صاحب نے ٹھاٹھ کے چند نمازی لوگ پرکھ کر ان کو صبح کی نماز ميں انے کی درخواست کرنے لگے
اور پھر تلقین
چند دن بعد غیر حاضر نمازی کو کھانا کھلوانے کی سزا کی کا شغل شروع کردیا ـ
اب هر روز فجر کی نماز میں کوئی نه کوئی غیر حاضر هو هی جاتا ہے
تو ملک صاحب چاهتے هیں که سب لوگ ان کے ساتھ چلیں که غیر حاضر نمازی کے گھر چلیں که ناشته کروائے
مگر سب لوگ جانے سے جان چھڑواتے هیں
کیوں که
جاپان میں رزق اتنا زیاده ہے که کوئی بهی کهانے کا لالچ نہیں کرتا بلکه لوگ اس بات کی خوشی محسوس کرتے هیں که اگر کوئی ان سے کچھ کها لے یا ان کی دعوت قبول کرلے ـ
لیکن ملک صاحب ابهی اس بات سے واقف نهیں هیں ـ
ملک صاحب کا جاپان سے تعلق تو بہت پرانا ہے
که اسی کی دهائی میں جاپان بندے بھیجا کرتے تهے
ملک صاحب کے چمچے کڑچھے ان بندوں کو وصول کرکے ان سے ٹریول چیک اور ٹکٹ لے کر ملک صاحب کو بهیج دیا کرتے تهے
جب جاپان کا ویزه هو گيا تو اس ویزے کے لیے ملک صاحب ملک ملک پھر کر جاپان کو بندے اسمگل کیا کرتے تهے اس سیاحت کے دنوں میں گاڑیوں کے کاروبار میں پڑکر کافی سے زیاده دولت کما چکے هیں ـ
ایجنٹ ملک صاحب ، کے گرد مجبور لوگ شکم کی آگ بچهانے کے لیے ان پر ڈپنڈ کرتے تهے
سالہاسال اسے هی لوگوں سے تعلق سے ملک صاحب کو یه مغالطه لگ گیا ہے که سارے هی بندے کھانے کے لیے آجاتے هیں
یا آگر کسی کو کهانا کھلانے کا کہا جائے تو اس کے لیے مشکل هو گي که کھانے میں خرچ کرنا پڑتا ہے ـ
لیکن
جاپان مختلف هے ـ
میں نے خود یورپ میں بھوک دیکھی ہے
گھر سے باهر کا کھانا افورڈ کرنا مشکل هوتا ہے ـ
کئی لوگ اپنے دوستوں سے ملنے سے کترا جاتے هیں که کهانا نه کھلوانا پڑے ،

نحی ان المنکر اور امربلمعروف
میں توازن هی اسلام ہے
صرف نیکی هی کی تلقین کیے جانے والے بهی زیاده تر ریاکار هوتے هیں اور بدی سے هی منع کیے جانے والے پھر طالبان کی طرح انتہا پسند کہلواتے هیں ـ
نیکی کی تلقین ایسی بهی نہیں هونی چاهیے که سننے والا بے چارھ شرمندھ هی هوجائے
اور بدی سے منع کرنا ایسا بهی نہیں هونا چائے که بندھ ضد پر اتر آئے ـ
نیکی کی تلقین اور بدی سے منع کرنے میں ایک توازن هونا چاهیے، بلکه اسلام تو هر بات میں توازن چاهتاهے
کچھ ہمارے مولوی بهی نیکیاں کمانے کے گر هی بتائے جاتے هیں حقوق العباد کا نہیں بتاتے ـ
میرے خیال میں اگر ایک بندھ کسی دن نماز سے غیر حاضر هو تو اس کو اس بات کا احساس دلانے کے لیے ایسا کرنا چاهیے که
باقی کے سب نمازی اس غیر حاضر سے باری باری تشویش کا اظہار کریں که جناب کی طبیت تو ٹھیک تهی ، یا کوئی مسئله تو نہیں بن گیا تها،
یا کسی بچے کی طبیت تو خراب نہیں تهی
اس بات کا دھیان رکھنا چاهیے که باجماعت نماز کے لیے انے والے ٹھاٹھ کے نمازی کی غیر حاضری کو اس طرح کا معامله نہیں بنا دینا چاهيے که شرم کے مارے بندھ جماعت هی چھوڑ دے ـ
بار بار تشویش کا اظهار اور ان کی کمی کو محسوس کرنے کا احساس دلانا هی ایک باجماعت نمازی کے لیے کافی ہے ناں که
تھڑے بازوں کی طرح بات بات پر ''پارٹی '' کھلانے کی دھر بنانا کوئی اجھی بات نہیں ہے ـ
باقی جی تسی وی سیانے او ، اسی تے کملے لوگ هاں جی ـ
جنہاں دے گھر دانے (اناج) انہاں دے کملے وی سیانے ـ

2 تبصرے:

Afzal کہا...

ہمارے ہاں بھی ایک دفعہ صبح کی نماز پڑھنے کی طرف مائل کرنے کا کچھ اسی طرح کا طریقہ اپنایا گیا تھا۔ مسلمانوں کو اتوار کے دن صبح کی نماز پر آنے کے بدلے صبح کے لاہوری طرز کے ناشتے کی آفر دوسرے نمازی باری باری کرتے تھے۔ گرمیوں کا ایک سیزن تو خوب ناشتے ہوئے لیکن بعد میں یہ کام ختم ہوگیا۔

Sajid کہا...

Please check this link: http://www.urduweb.org/mehfil/showpost.php?p=243367&postcount=39

Popular Posts