جمعہ، 19 جنوری، 2007

خبردار

کل دوپہر سے طبیت بہت مکدر هے ـ کتنی دفعه قے کر چکا هوں ـ اور بار بار ایسا لگتا ہے که منه میں بال آ گیا ہے ـ
جی چاهتا هے که حلق میں انگلی ڈال کر قے کردوں ـ
ایسا بهی محسوس هوتا هے که پیٹ میں گند بهرا هوا هے ـ
میری طبیت کی یه خرابی میرے جسمانی نظام میں کڑبڑ کو وجه سے نہیں هے ـ
بلکه اس لیے هے
کل جمعه انیس جنوری کو میں نے کام کی سائیٹ پر فرانسیس زبان کاایک میگزین دیکهاـ
جس میں ایک تحقیقی آرٹیکل تها که حلال گوشت کا لیبل لگا کر جانتے بوجهتے لوگوں کوکیسے حرام گوشت لحم خنزیر کهلایا جا رها هے ـ
گوشت کو بهوننے کا ایک یونانی طریق جس کو باہر کی دنیا میں ترک لوگوں نے متعارف کروایا ـ
اس کو گریق سینڈویچ کہتے هیں ـ
برطانیه میں ڈونر کباب بهی کہتے هیں اور هو سکتا هے که مختلف ملکوں میں اس کے لئے مختلف الفاظ بولے جاتے هوں ـ
ایک افقی سلاخ پر گوشت کو تہـ در تہـ پرو دیا جاتا هے ـ
گوشت کا یاک لمبا سا لٹو بن جاتا هے ـ
یه لٹو نما تقریباَ پچاس کلو کا هوتا هے اس لٹونما کو آهسته آهسته چلنے والو موٹر پر فٹ کرکے مسلسل آنچ دیتے هیں اور اوپر سے کوشت کو کاٹ کاٹ کر ڈبل روٹی میں لگا کر بیچتے هیں ـ
عموماَ یه گوشت ٹرکی نام کی ایک بڑی سی مرغی کا هوتا هے ـ
لیکن چهوٹے گوشت اور مرغی کے کوشت کے ریسٹوران بهی بہت هیں ـ
جلوتری کے ذائقے والے ٹرکی اور چهوٹے گوشت کے مکس بهی ـ
بہت هی کم دوکانیں هیں جہاں گوشت کے یه لٹو نما خود بنائے جاتے هیں ـ
ورنه یه بن کر آتے هیں فیکٹریوں سے اور ہوٹلوں والےاس کو لوگوں کو کهلاتے هیں ـ

فرانسیسی میگزین میں اس تحقیقی آرٹیکل میں یه ثابت کیا گیا تها که ان فیکٹریوں میں جہاں یه گوشت کے لٹو نما بنتے هیں وہاں ان میں پورک یعنی لحم خنزیر بهی شامل کیا جاتا ہے ـ
کیونکه سور کا گوشت چهوٹے گوشت سے ایک یورو پرکلو سستا هےـ
کباب کے یه ہول سیلر آپنے اس کام کو چهپا کر نہیں کر رہے ـ قانونی طریق سے جس کباب میں جتنا سور کا کوشت هے اس پر لکها هوا هوتا هے ـ
لیکن اس کو خرید کر ریسٹورنٹ چلانے والے لوگوں کو دهوکے سے سور کهلا رہے هیں ـ
دوکان کے باہر عربی الفاظ میں حلال لکھ کر مسلمان گاہکوں کو متوجه کرتے هیں ـ
دوتین سو کلو روزانه بیچنے والا دوکان دار اس طرح زیاده کمائی کر لیتا هے ـ
لیکن ہم جیسے کیا کریں جو ٹریپ هو رہے هیں ـ
یورپ کے ملکوں میں پهرنے والا کون پاکستانی هو گا جس نے یه سینڈویچ نہیں کهایا هو گا ؟
اوسطاَ مہینے میں ایک دفعه تو مجهے بهی کهانے کا اتفاق هوتا رها هے ـ
کل سے جب بهی یه خیال آتا هے جی متلی کرنے لگتا هے ـ
یارو باہر حلال لکھ کر اندر حرام بیچنے والے ان مسلمان لوگوں کی کیا سزا ہونی چاهیے ؟
میرے جیسوں کے لئے تو یه ذہنی ٹارچر بهی ہے ـ که یه میں کیا کرتا رها ہوں ؟
اور بہت بڑا گلا هے مجهے صحافت کے ٹهیکداروں سےاس طرح کی معاشرتی برائیوں کو اجاگر کرنے کی بجائےیه اور هی کاموں میں لگے هوئے هیں ـ
خود کو صحافی کہلوانے والے نام نہاد صحافیوں سے مجهے کوئی گلا نہیں هے که ان میں سے کسی ایک نے بهی جرنلزم کی تعلیم حاصل نہیں کی هوئی هے ـ
میرے اس پوسٹکو لکهنے تک کسی بهی مسلمان نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا ہے که فرانس اور یورپ میں یه کیا هوتا رہا هے اور هو رهاہے ـ
کسی نے کوشش نہیں کی که ساده دل مسلمانوں کو سور کا گوشت کهانے سے بچانے کے لئے ان کو کسی طریقے سے بتا دیں ـ
میں نہیں کہتا که ان کو سزا دو جلوس نکالو یا ہنگامے کرو ـ میں یه چاهتا هوں که صرف جو لوگ میڈیا سے وابسطه هیں وه لوگ زره سیاستدانوںکی مشہوری کے علاوه اس طرح کے کام بهی کرلیا کریں جن سے عام لوگ کو دهوکے بازوں سے بچنے کا موقع ملے ـ
میری یه پوسٹ پڑهنے کے بعد هی آپ اپنی آآپنی اخبار جس کے آپ رپورٹر ہونے کے ناطے ''صحافی'' کہلوا رہے هیں کو اس بات کا لکهنے کا کہیں ـ
که شائد مقامی زبانوں سے ناواقف پاکستانی آج کے بعد هی سور کا گوشت کهانے سے بچ جائیں ـ

2 تبصرے:

گمنام کہا...

سلام
آپ اس کی بات کرتے ہیں ہر جگہ یہ خنزیر کھلایا جا رہا ہے۔ پاکستان تک میں آپ کھا کر آئے ہیں۔ تفصیلات انتہائی بھیانک ہیں لیکن کوئی کچھ نہیں بولتا۔

گمنام کہا...

بھئی ہم نے خود ہی اپنی شکل بگاڑ لی ہے ، ورنہ ہمارے پاس سب کچھ تھا کھانے پینے کو ۔۔ ۔ مگر ہمیں وہ چاہیے جو وہ کھاتے ہیں جو وہ پہنتے ہیں جو وہ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر جہاں پر انہوں نے اپنی “عقل“ استعمال کی ہے وہاں سے ہم دور بھاگتے ہیں ۔ ۔۔

ویسے خاور وہ “بالغوں والا“ بلاگ کونسا ہے آپ کا؟ ، بھئی ہمیں بھی تو بتاؤ ۔ ۔ ۔ یقین کرو میں بقلم خود “بالغ“ ہوں ؛)

Popular Posts