ہفتہ، 14 جنوری، 2012

بلاگ پوسٹ


پاکستان میں اج کل ایک لفٹین کرنل کی بیٹی کی ذهانت کا اور اس کی بیماری کا بڑا چرچا هے
الله اسے شفا دے
که بجے سب کے پیارے هوتے هیں
بلکل انہی بچوں کی طرح که جن کے باپ فوج کے لفٹین نهیں بن سکتے
گدھا ریہڑی چلا کر بچوں کو پالتے ـ
هو سکتا ہے که کسی بلڈی سولین کا بچه بھی ذهین هو جائے؟؟
هو بھی جائے گا تو کیا!!ـ
جاڑے کی چاندنی اور غریب کی جوانی تو بس کہیں آئی آئی که ناں آئی جیسی هی هوتی هے ناں جی؟
ایک دفعه ایمبیسی میں کام پڑ گیا
کسی نے فون کر کے ایمبیسی میں بتا دیا که خاور آرها هے
اور یه بڑا زہریلا بنده هے
اس کو اعتراض کا موقع نهیں دینا ـ
عملے نے بہت تعاون کیا که ایک فارم پر میوکی کے دستخط کی ضرورت تھی لیکن دستخط نهیں تھے ،
متعلقه افسر صاحب نے کها که گھر سے فیکس کروا لیں اسطرخ سے بھی کام چل جائے گا
مجھے بڑی سهولت محسوس هوئی ـ
کام هو جانے کے بعد افسر صاحب نے پوچھا که جی اب تو کسی بات پر اعتراض نهیں ناں جی؟؟
میں نے کها که اعتراض تو ہے لیکن اکر طبع نازک پر ناگوار نان ہو تو!!ـ
مجھے اعتراض ہے که جیسا رویه اپ نے اج میرے ساتھ اپنایا هے
ایسا هی رویه سارے هی پاکستانیوں کے ساتھ هر روز اپنایا جائے تو بهتر هے ـ
افسر نے ہنس کر بات ٹال دی لیکن
خاور کی سوچ کچھ اسی طرح کی هی هے
اس لئے میری نظر میں کسی فوج کے فرشتے لفٹین کی اولاد بھی اور بلڈی سیولین کہلوائے جانے والے عام سے پاکستانی کی اولاد میں کوئی فرق نہیں ہے
اگر اچھو ڈنگر کا ابا کمپیوٹر خرید کر اپنے بچوں کو دینے کے جوگا ہوتا تو اچھو بھی شائید ڈنگر نہیں ہوتاـ
اور پاکستان میں یہ حالات کس نے پیدا کیے ہیں کہ
کچھ لوگ تو سارے پلاٹ اور رقبے
نام کر لیں اور کچھ لوگ که
جن کو روٹی کے لالے پڑے هیں ، سائیکل تک خریدنے کے لیے سالوں پلاننگ کرنی پڑتی هے
کمپیوٹر تو دور کی بات هے
یهاں کلکولیٹر چلانے کی "جاچ" سیکھنی پڑتی هے ، کیونکه میسر نهیں
سر جی پاکستان کا نظام بناؤ که پاکستان کے سورسز پاکستانیوں پر خرچ هوں
ناں که هندو کا هوّا ، کشمیر کا مسئله ، دہشت کی جنگ اور وغیره وغیره پر خرچ
تو پھر دیکھیں که پاکستان (سویلین) ميں ٹیلنٹ کتنا هے
خود داری ایک چیز هوتی هے جو که بھیک پر پرورش پانے والوں کے لیے اجنبی چیز هوتی هے
اج کل ایک اور سوال میرے ذہن ميں پیدا هو رها هے
که
ویت نام کی جنگ میں جب امریکی فوجیوں کو جنسی ٹوائلٹ کی ضرورت هوئی تو انہوں نے ڈالر کی دیواریں چن کر بنکاک اور نواح میں اپنی ضرورت پوری کرلی
اب جب که افغانستان میں نیٹو کی فوجیں مہم پر هیں اور ان کے پاس ڈالر بھی هیں اونچی دیواریں چن کر خامیوں کو چھپانے کے لیے تو؟؟
اج کل ان کی اس بھوک کا کیا علاج کیا جارها هے، جس بھوک کو فرائیڈ نے کھانے کی بھوک کے بعد کی دوسری اهم بھوک بتایا تھا
جی هاں جنسی بھوک کی بات کر رها هوں
کون هیں جو ان کو سپلائی کر رهے هیں ؟؟
مال کہاں سے آ رها هے؟
یا که تحقیق نامی مشقت سے بیزار پاک قوم کو تب هی پته چلے گا جب کوئی جاپانی یا یورپی بتائے گا؟؟

11 تبصرے:

ali کہا...

شش۔۔ سچی باتیں کرنا منع ہے
قوم کو بد ہضمی ہو جاتی ہے۔
پھر بد ہضمی میں اور تو کچھ نہیں کرنا جاپان کا سفارتخانہ گلا دینا ہے انہوں نے کہ جاپان نے خاور کھوکھر کو پناہ دی ہوئی ہے۔

گمنام کہا...

SH. RASHEED Views about CJ Ifikhar
http://www.youtube.com/watch?v=k_VE_b5dDU0

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمدہ۔
جنسی ٹائلٹ کی معلومات آپ کو آئی ایس آئی یا
پھر جنرل کیانی صاحب ہی دے سکتے ہیں، یا پھر چند سالوں بعد۔۔۔۔فلموں اور ڈراموں کے ہیرو ہیروئین دیکھ کر سمجھ آئے گے۔

بنیاد پرست کہا...

ہمارے دل کی باتیں کیں ہیں جی ۔
مزے آیا۔

ضیاء الحسن خان کہا...

بات تو آپ نے سچ ہی کہی ہے خاور بھائی کہ ہمارے ملک میں ہی کیا دنیا میں ہر جگہ ہر کام بہت آسانی سے ہو جاتا ہے اگر آپ کے پاس اچھا اور تگڑا واسطہ ہو ۔۔۔ اور جہاں تک اچھو ڈنگر کی بات ہے تو میں ایسے کئی اچھو ڈنگروں کو جانتا ہوں کے جنکے ابا نے اسے کمپیوٹر بڑی مشقت کے بعد دلایا اور اچھو ڈنگر اس پر صرف پورن مووی دیکھنے اور فیس بک کے علاوہ کچھ نہیں کرتا ۔۔۔ یہ تو جو اصل میں انسان کے اپنے اندر کی لگن ہوتی ہے کہ وہ کچھ کرنا چاہتا ہے یا نہیں، ورنہ تو بڑے بڑے پروفیسروں کی اولادیں بھی اچھو ڈنگر ہی رہتی ہیں اور ایک موچی کی اولاد بھی آنسٹائن بن جاتی ہے

شازل کہا...

واقعی تسی زہریلے ہو
آپ کی باتوں میں تلخی اور چھبن کا احساس ہوتاہے۔
آپ کے اندر یہ تلخی کس طرح آئی کچھ اس بارے میں بتائیں۔

احمد عرفان شفقت کہا...

وہ ارفع کریم فوت ہو گئی ہے جی۔

Pak Army .. کہا...

فوج کون سا ایسا آسمانی ادارہ ہے کہ جس پر تنقید کرنا گناہ ہے؟ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ اس ملک کی بنیادوں میں جو زہرگھولا وہ فوج نے ہی گھولا۔ اس ملک پر اگر جنگ مسلط ہوئی تو فوج ہی کی وجہ سے اور اس ملک میں جمہوریت فروغ نہیں پائی تو وہ بھی فوج ہی کی وجہ سے جس کا دوسرا نام اس ملک میں اسٹبلشمنٹ ہے۔ واہ، آج یہ جو لٹیرا ٹولہ ہم پر مسلط ہے تو یہ بھی فوج ہی کی وجہ سے ہے تو حقانی صاحب نے کون سا ایسا گناہ کیا تھا فوج پر تنقید کر کے؟ جب تک عوام میں قوتِ گویائی نہیں آئےگی ہم پِستے رہیں گے۔

aaleezae کہا...

aap ki baat say ta'assub ki jhalak nazar ati hay..jb hm kisi mamlay may radday amal wala rawayya ikhtayar krtay hain tb hmari soch sirf naray baazi tk hi mehdood rh jati hay.hmaen taraqi pasand naqadeen ki trah srf naray baazi nhi krni chahea k ye srf wqti ishtial hay

گمنام کہا...

اللہ تعالی ارفع بیٹی کو جنت میں بھی عالی درجات سے نوازے گا۔انشاءاللہ جلنے والے کا منہ کالا جی کچھ کرنےوالوں کو بھی تنقید کا نشانہ اور نہ کرنے والوں پر بھی سب کے لۓ ایک ھی سوچ ۔۔۔ اچھی بات نہیں جی۔ملک کے لے خود کچھ بھی کیا ھے۔تو جناب آپ سب وہ بھی کبھی کبھی لکھ دیا کریں۔ تاکہ اس پر بھی تبصرے کۓ جا سکیں

گمنام کہا...

Tarek Fatah Blasts Establishment

http://www.youtube.com/watch?v=26lC3A7dbgQ