پیر، 27 فروری، 2006

احمدى لوگ

احمدى يا قاديانى ـ مرزا غلام احمد قاديانى صاحب كى نبوّت پر يقين ركهنے والے لوگ احمدى كەلواتے هيں ـ
احمدى لوگ مرزا صاحب كو مسيح موعود اور امام مهدى هونے كا بهى يقين ركهتے هيں ـ
مرزا صاحب هندوستان كے شهر قاديان ميں پيدا هوئے ـ
ذندگى كا ذياده تر حصه قاديان ميں هى گزارا ان كى وفات كا مقام كسى شهر كا بيت الخلا (ٹٹى خانه)بيان كيا جاتا هے ـ
احمدى لوگ انحضرت محمد صعلم كو بهى نبى مانتے هيں اور خود كو حقيقى مسلمان هونے كا يقين اور دعوه ركهتے هيں ـ
خاتم النبيين كو خاتم النبيين مانتے هوئے ختم نبوت پر يقين ركهنے كا بهى دعوه كرتے هيں ـ
مگر لفظ خاتم كے معنے كچهـ اور بيان كرتےهوئے مرزا صاحب كو بهى نبوت كے فائز كرتے هيں ـ
احمدى لوگوں كا يقين هے كه
مرزا صاحب تصوف ميں سلوكـ كى منزليں طے كرتے هوئے ولى قطب غوث اور ابدال كى بلنديوں سے بهى اوپر نبيوں كى منزل تكـ پهنچے ـ
مرزا غلام احمد قاديانى صاحب كى تعليمات ـ
مرزا صاحب كى سارى كى سارى تعليمات اهلسنت مسلمانوں والى باتوں كو مانتے هو'يے صرف جەاد كو كينسل كرتے هيں ـ
جهاد سے منع كرتے هيں ـ
جهاد كے غير ضرورى هونے كا فرماتے هيں ـ
حكومتوں كى لڑائى كو جەاد كے طور پر بيان كرتے هيں ـ
حكومت كى اجازت كے بغير ظلم كے خلاف جدوجەد مرزا صاحب كى شريعت ميں حرام (دهشت گردى)هے ـ

منگل، 21 فروری، 2006

كالكى اوتار گذشته سے پيوسته

کالکی اوتار
نام کی تحریر سے اگے

يهاں نوٹ كرنے كى بات يه هے كه هندو دهرم كى بات يه هے كه هندو دهرم ميں ايكـ خصوصيت يا صلاحيت كهـ ليں پائى جاتى هے ـ يه مذهب اپنے اپر حمله آور يا اپنے نزديكـ رهنے والے مذاهب كو خود ميں مدغم كر ليتا هے ـ
هندو دهرم كيسے دوسرے مذاهب كو خود ميں مدغم كر ليتا هے اس پر اس پر سيانوں نے بهت لكها هے اور مطالعه كے عادى لوگ اس بات سے واقف هيں ـ
مذاهب كے بانيوں نے جو مذاهب هندو دهرم كى مخالفت ميں بنائے وقت گذرنے كے ساتهـ صرف نام كى حد تكـ هندو سے مختلف هيں ـ
مگر مذهبى رسوم اور عبادات كا طريق هندووانه هو كر ره گيا هے ـ
جس كى مثال بده مذهب سكهـ دهرم اور بهت حد تكـ اسلام كى دى جاسكتى هے ـ
(صرف مسلمان هونے كے فخر ميں مبتلا صرف نام كے مسلمان لوگ خاور پر كوئى فتوه لگانے سے پهلے ياد ركهيں كه خاور بهى ايكـ مسلمان هے جو كه توحيد كے معاملے ميں كسى كمپرومائز كا قائل نهيں هے ـ )

يهاں هم صرف اسلام كى حد تكـ بات كرتے هيں
اسلام جو كه اللّه اور اللّه كے رسول كى اطاعت كے ساده سے شروع هوتا هے ـ
اسلام جو اللّه كے ساتهـ كسى كى بهى شراكت كو بردشت نهيں كرتا ـ
اسلام جس ميں الله ايكـ خالص ذات هے جو كسى ميں سے نهيں اور كوئى اس ميں سے نهيں ـ
(حواله سورة اخلاص كى تيسرى آيت لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ)
اسلام جو مورتوں كى عقيدت كے خلاف هے ـ
اسلام جو سخصيت پرستى كى مخالفت كرتا هے ـ
يهى اسلام جب برصغير ميں هندو كے ساتهـ رهنا شروع كر ديتا هے ـ
تو صدياں گذرنے كے بعد اللّه اور اللّه كے رسول كے علاوه كتنے هى خواجگان پيران شهزادگان كى اطاعت ميں مبتلا هو جاتا هے ـ
اسلام جو اللّه كے ساتهـ كسى كى بهى شراكت كو بردشت نهيں كرتا برصغير ميں كتنى هے خانقاهوں كو اللّه كے فيض كا ڈسٹي بيوٹربناديتا هے
سلام جو مورتوں كى عقيدت كے خلاف هے ـ
برصغير ميں رسول اللّه كے جوتے كى مورت كے علاوه پيران كرام كى مورت اور كئى قسم كى مورتوں كو گهر ميں خير وبركت كا باعث سمجتا هے ـ
اس قسم كے ماحول ميں ويد پركاش صاحب كى يه كتاب هندوں كو اس بات كے ترغيب دے رهى هے كه محمد كو ايكـ هندو اوتار كے طور پر لے كر
اپنے طريق سے بجائے اس كے كه محمد كى تعليمات كو قبول كريں محمد كى شخصيت كو قبول كر ليں اور محمد كى عبادت شروع كر ديں ـ
اور اتنى عقيدت كا اظهار كريں كه مسلمان اس شخصيت پرستى كے خلاف اواز اٹهاتے هوئے بهى ڈريں كه كهيں يه رسول اللّه كي توهين نه هوـ

جارى هے ـ

ہفتہ، 18 فروری، 2006

كالكى اوتار

كالكى اوتار ـ
ويد پركاش صاحب نے كالكى اتار كے نام سے ايكـ كتاب لكهى هے ـ
جس ميں هندو عقيدے كے مطابق اخرى زمانے ميں انے والے ايكـ اوتار يعنى پيشوا كے متعلق تحقيقى بحث كى گئى هے ـ
بقول ويد پركاش صاحب كے پرانوں اور ويد ميں لكها هے كه
وه ايكـ جزيرے ميں پيدا هو گا ـ
كهجور اور زيتون اس كى خوراكـ هو گى ـ
اور وه اپنے لوگوں ميں سچا اور امانت دار كے طور پر جانا جائے گا ـ
اس كے والد كا نام وشنو بهگت(عربى ميں جس كے معنى عبداللّه بنتے ميں )هوگاــ
اس كى ماں كا نام سومتى ديوى (عربى ميں اس كے معنى هيں امنه بى بى)هوگاـ
كالكى اوتار اپنے زمانے كى اپنے علاقے كى ايكـ انتہائى شريف اور بھلى جانى جانے والى فيملى ميں پيدا هو گا ـ
بقول ويد پركاش صاحب كے كتابوں ميں يه بهى لكھا هے کہ
خدا اس كو انتہائى تيز رفتار گهوڑے پر جنتوں كى سير كروائے گا ـ
اس لے علاوه كالكى اوتار كى تاريخ پيدائش كسى مہينے كى باره تاريخ هو گى ـ
كالكى اوتار بهت اچها گھڑ سوار اور تلوار كا دھنى هو گا ـ
جس طرح يه سارى نشانياں پڑه كر اپ بهى سمجهـ گئے هيں ، اس طرح
ويد پركاش صاحب لكھتے هيں كه كالكى اوتار! ہندو جس كا انتظار كر رہے ہيں چوده سو سال پہلے عرب ميں پيدا ہو چكا ہے ـ
يه سب پڑه كر اگر آپ مسلمان ہيں تو بہت خوش ہوں گے كه ہندو بهى نبى پاکﷺ كو ماننے لگيں گے۔
 مگر آپ يہ سوچنے كى ذرا بهى زحمت گوارہ نہيں كريں گے كہ اس ميں كوئى سازش نه ہو ـ
مگر
عقل سليم ركهنے والوں كو
اس ميں ہماليه پہاڑ سے بڑى سازش نظر ارہى هے ـ
ميں اس سازش كو بے نقاب كرنے كى اپنى سى كوشش كرتا هوں ـ
اور جن بهائيوں كى تحرير ميں اللّه نے اثر ديا ہے ميرى اس بات كو سمجھنے كى كوشش كريں اور اپنى تحارير كى ذريعے اس كو دوسروں تكـ پہنچانے كى كوشش كريں ـ
ميں نے كہيں كسى ہندو سيانے كا قول پڑھا تھا جس سيانے كا نام مجھے ياد نہيں رہا ـ
وه قول تها ـ
ہم ہندوں سے ہماليه سے بڑى غلطى ہو گئى كه ہندوستان ميں اسلام كے اتے ہى ہم ہندؤں نے مسلمانوں كے نبىﷺ كے نام كا مندر بنا كر اس كى عبادت شروع نہيں كى ـ
اگر ہم ايسا كر ليتے تو اج برصغير كے مسلمان بهى ہندوں كا ہى ايكـ فرقه ہوتے ـ
اج اگر مسلمان ويد پركاش صاحب كى كتاب كو اس ہندو سيانے كے اس قول كى روشنى ميں ديكھيں تو صاف نظر اتا ہے کہ کچھ صدياں بعد ہى سہى ہندوؤں نے حضرت محمد (صعلم)كى عبادت كو مندروں ميں كروانے كا فيصلہ كر ليا ہے ـ
يہاں نوٹ كرنے كى بات یہ ہے كه ہندو دہرم كى بات یہ ہے كه ہندو دہرم ميں ايكـ خصوصيت يا صلاحيت کہہ ليں پائى جاتى ہے ـ
يه مذہب اپنے اوپر حملہ آور يا اپنے نزدیک رہنے والے مذاہب كو خود ميں مدغم كر ليتا هے  ـ
ہندو دہرم كيسے دوسرے مذاہب كو خود ميں مدغم كر ليتا ہے اس پر اس پر سيانوں نے بہت لكھا ہے ۔
اور مطالعہ كے عادى لوگ اس بات سے واقف ہيں ـ
مذاہب كے بانيوں(سدھارتھ ، گورونانک) نے جو مذاہب ہندو دہرم كى مخالفت ميں بنائے  وقت گذرنے كے ساتھ صرف نام كى حد تكـ ہندو سے مختلف ہيں ـ
مگر مذہبى رسوم اور عبادات كا طريق ہندووانه ہو كر رہ گيا ہے ـ
جس كى مثال بدہ مذہب ، سکھ دہرم اور بہت حد تكـ اسلام كى بھی دى جاسكتى ہے ـ صرف مسلمان ہونے كے فخر ميں مبتلا صرف نام كے مسلمان لوگ خاور پر كوئى فتوہ لگانے سے پہلے ياد ركھيں كه خاور بھى ايكـ مسلمان ہے جو کہ توحيد كے معاملے ميں كسى كمپرومائز كا قائل نھيں ہے) ـ )     
 
يہاں ہم صرف اسلام كى حد تكـ بات كرتے ہيں
اسلام جو كه اللّه اور اللّه كے رسول كى اطاعت كے ساده سے اصول سے شروع ہوتا ہے ـ
اسلام جو اللّه كے ساتھ كسى كى بھى شراكت كو برداشت نہيں كرتا  ـ
اسلام جس ميں الله ايكـ خالص ذات ہے جو كسى ميں سے نہيں اور كوئى اس ميں سے نہيں ـ
(حواله سورة اخلاص كى تيسرى آيت لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ)
اسلام جو مورتوں كى عقيدت كے خلاف ہے ـ
اسلام جو شخصيت پرستى كى مخالفت كرتا ہے  ـ
يہى اسلام جب برصغير ميں ہندو كے ساتھ رہنا شروع كر ديتا ہے ـ
تو صدياں گذرنے كے بعد  اللّه اور اللّه كے رسول كے علاوه كتنے ہى خواجگان ، پيران ، شہزادگان كى اطاعت ميں مبتلا ہو جاتا ہے ـ
 اسلام جو اللّه كے ساتھ كسى كى بھى شراكت كو بردشت نہيں كرتا برصغير ميں كتنى ہی خانقاہوں كو اللّه كے فيض كا ڈسٹی بيوٹربناديتا ہے
اسلام جو مورتوں كى عقيدت كے خلاف ہے ـ
برصغير ميں رسول اللّه كے جوتے كى مورت كے علاوہ پيران كرام كى مورت اور كئى قسم كى مورتوں كو گھر ميں خير وبركت كا باعث سمجھتا ہے ـ
اس قسم كے ماحول ميں ويد پركاش صاحب كى يه كتاب ہندوں كو اس بات كے ترغيب دے رہى ہے كه محمد كو ايكـ ہندو اوتار كے طور پر لے كر 
 اپنے طريق سے بجائے اس كے كه محمد كى “تعليمات” كو قبول كريں محمد كى “شخصيت “كو قبول كر ليں !۔
اور محمد كى عبادت شروع كر ديں ـ
اور اتنى عقيدت كا اظہار كريں كہ مسلمان اس شخصيت پرستى كے خلاف اواز اٹھاتے ہوئے بھى ڈريں کہ كہيں يه رسول اللّهﷺ کی توہین نہ ہوـ

اتوار، 12 فروری، 2006

ابهى تو ميں جوان هوں

كسى كى دل آزارى ميرا مقصد نهيں ـ جرنل صاحب كو عظيم سمجنے والوں سے معذرت كے ساتهــ ـ

پیر، 30 جنوری، 2006

وائسرائے يا كٹهـ پتلى

ايک کارٹون ايک طنزجرنل مشرف کی سوچ پر
كسي نے مراثى (يعنى دانا اور حاضر جواب ) سے كها كه چوهدرى صاحب مر مر كے بچے هيں ـ
ميراثى نے كها كه بچ بچ كر بهى مر جائيں گے ـ

جيم جرنل

جيم جرنل صاحب ـ ذنده باد
امريکه دا چمچه بطور جرنل مشرف
فوجی ڈکٹیٹر بطور جرنل مشرف عرف شرفو وردی والا

شعيب كا بلاگ ايكـ مسئله

شعيب دبئى والے كے بلاگ كے ساتهـ ايكـ مسئله هے كه ميں اس كو اردو سياره ميں تو پڑه سكتا هوں مگراس كے اپنے بلاگ ميں ميرے كمپيوٹر پر كسى بهى براؤزر ميں يه ايكـ بلينكـ پيج نظر اتا هے ـ اس لئے ميں شعيب كى كسى بهى پوسٹ پر تبصره لكهنے سے معذور هوں شعيب صاحب اس كا كوئى حل نكاليں

اتوار، 29 جنوری، 2006

بھائی ننھا کی یادیں


بچپن ميں سنی ہوئی بعض باتيں جن کو بظاہر ادمی بھول چکا ہوتا ہے ـ 
کہيں کسی کی بات سن کر ياد آ جاتی ہيں ـ
ميرا چھوٹا بھائی جس کو ہمارے گاؤں اور اور اردگرد کے ديہات ميں لوگ حاجی ننھا کے نام سے جانتے ہيں ـ
لڑکپن ميں حاجی ننہا نے گدھا ريڑہ بنايا ہوا تھا ـ
 اس لئے حاجی ننہا عموماً اپنے ماموں کے سيلر(رائس ملز) پر بھی بيٹھا کرتا تھا ـ
جہاں لوگوں کاجمگھٹا لگا رہتا ہے ـ حقّہ چھکنے کے عادی بزرگ. فصل کے لین دين کے لئے آئے ہوئے ذميندار، پل دو پل بيٹھ کر جانے والے راہگزر ـ
ايکـ دن ننھا کہنے لگا کہ اج سيلر پر ايکـ مراثی ايا تھا جو لوگوں کو قسمت کا حال بھی بتاتا تھا اور بڑی دلچسپ باتيں کرتا تھا ـ
کسی نے اس مراثی سے پوچھا کہ بھائی کہاں کے رہنے والے ہو ؟
اس مراثی نے جواب ديا ـ
ڈسک پور دے کول گلہوٹ گڑہ جتھے شمسا ندی وگدی اےـ
اس پر حاجی ننھے کا تبصرہ تھا  کہ اس مراثی نے ڈسکے کو ڈسک پور بناديا ہے اور گلوٹياں (يہ وہی قصبہ ہے مشہور گلوکار غلام علی جہان کے پلے بڑہے ہيں) کو گلوٹ گڑہ اور نندی پور والی نہر(گوجرانوالہ سے ڈسکہ جاتے ہوئے راستے ميں اتی ہے جس پر نندی پور پاور اسٹيشن ہے) کو شمسا ندی بنادياہے ـ
يہ بات مجھے اس لئے ياد آ گئی کہ بی بی سی پر کسی صاحب کی کتاب کے متعلق لکھا تھا ـ نيرولا صاحب جو کہ تحصيل ڈسکہ کے ايک گاؤں کندن سياں کے پيدائشی تھے جو تقسيم کے وقت ہندوستان چلے کئے تھے ـ
ميرے بہائی ننھا کے بقول اس ميراثی کے متعلق نيرولا صاحب لکھتے ہيں ـ

نیرولا نے خانہ بدوش سکھوں کے ایک قبیلے کا بھی ذکر کیا جو دنیا بھر میں گھومتے تھے اور سال دو سال بعد کچھ ماہ کے لیے ڈسکہ میں اپنے گاؤں گھولاٹیاں (گلوٹياں) آ جاتے تھے۔

یہ لوگ قسمت کا حال بتاتے تھے۔ ان میں سے کچھ ہاتھ دیکھتے، کچھ ماتھا دیکھتے اور کچھ تاش کے پتوں کی مدد لیتے تھے۔

بھترا سکھوں کے آنے سے ڈسکہ میں رونق ہو جاتی تھی۔ ان میں سے کچھ سخت گرمیوں میں سکاٹ لینڈ سے خریدے گئے گرم سوٹ اور روسی ٹوپیاں پہن کر بازار میں گھومتے تھے۔

یہ لوگ چھ ماہ ڈسکہ میں رہتے اور اِن کے آتے ہی ہر چیز مہنگی ہو جاتی۔دنیا بھر سے کمایا ہوا پیسہ لٹا کر قیمتی سامان بیچ کر ایک بار پھر مختلف بّرِاعظموں کی طرف روانہ ہو جاتے۔

اور اگر کوئی ان کے گھر کے بارے میں پوچھتا تو بڑے پیار سے بتاتے کہ ڈسکپوری اور گھالوٹ گھر کے بیچ ایک چھمکا ندی بہندی ہے، شیر تے بکری اک گھاٹ تے پانی پیندے ہن، ہنس موتیاں دی چوغ چوغدے ہن، اوس نگری دے اسی رہن والے ہین

اس قبیلے کے ایک فرد نے کئی سال بعد لندن میں ماربل آرچ پر نارولا کو روک ان کے مستقبل کا حال بتانے کی کوشش کی۔ نارولا نے کچھ دیر اس کی بات سننے کے بعد اس سے پوچھا کہ وہ ڈسکہ کا رہنے والا تو نہیں۔

وہ سکھ ڈسکہ کا نام سن کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اس کا کہنا تھا کہ گھر تو وہ پہلے بھی کم ہی رہتے تھے لیکن دِل میں ایک امید اور یاد ضرور ہوتی تھی۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد
اب یہ دونوں بھی نہیں رہیں۔

جمعہ، 27 جنوری، 2006

بهكارى بادشاه

منگتا يعنی بهکاری بطور جنرل مشرف

كوفى عنان صاحب كے ساتهـ اپنے مشرف صاحب كى يه تصوير ،سنسنى خيز خبروںوالے اخبار خبريں كے انٹر نيٹ ايڈيشن پر لگي هوئىملى هے ـ
اس تصوير ميں دونوں اصحاب كے تاثرات غور كرنے كے قابل هيں ـ اور روشن خيالى بهى يهاں هے ـ
پاكستان ميں مشرف صاحب فرعون كى طرح بااختيار رستم كى طرح طاقتور لقمان كىطرح عقلمند حاتم طائى كي طرح دهيالو(يعنى سخى) هونے كى غلط فهمي ميں مبتلا هيں ـ
مگر اس تصوير ميں بڑى گرم جوشى سے كوفى عنان صاحب كا هاتهـ پكڑ كر توجّه كے طلب گار هيں ـ
مگر كوفى صاحب هيں كه ان كو اپنى فوٹو بنوانے كى پڑى هوئى هے ـ

بدھ، 11 جنوری، 2006

عيد قربان

مباركاں سب مسلماناں نوں وڈى عيد دياں مباركاں ـ
يه عيد ڈهائى دن كى هوتى ەے شائد اس لئيے اسے بڑى عيد كہتے ەيں ـ
پاكستان ميں آج سب لوگـ طرح طرح كے گوشتى پكوان كها رهے هوں گےـ
همارے بچپن ميں جب ہمارى چچاؤں سے عليدگى ہوئى تو ہم كافى غريب ہو كئے ـ
جو غربت آج تكـ ہمارے ساتھ چل رہى ہے ـ
ليكن ەمارى ماں (مرحومه)كو گوشت كهانے كا بەت شوق تهاـ
مگر غريبى ميں ہر روز پراپر گوشت تو مشكل تها اس لئيے ەفتے ميں دو دن پراپر گوشت ەوتا تھا اور دوسرے دنوں ميں كبهى سرى پائے اور كبهىدل كليجى اور كبهى صرف مغز اور كبهى پهيپهڑا اور كبهى اوجڑى پكاتے تهے ـ
بهنى هوئى سرى كے كان كتنے لوگوں نے چبائے ہوں گے ؟
مگر ەم نے چبائے ەيں ـ
گردے كپورے جن كو اج كل پاكستان ميں ٹكاٹكـ كہتے ہيں ـ
آج سے بيس سال پەلے قصائيوں كے گردے اور كپورے بكا نەيں كرتے تهے
سستے ہونے کي وجه سے ہمارے گهر په گردے كپورے بهى بنا كرتے تهے ـ
بڑا گوشت سستا ہونے كى وجه سے ەمارا تندورى اور كباب بنا كرتا تها ـ
گائے كى ذبان كاسالن بڑا ەى لذيذ ەوا كرتا تها ـ
بچهى يعنى وه گائے جو ابهى نابالغ ہو اس بچهى كےہوانا(تهنوں كے اوپر والى جگه)كاسالن بهى كيا ەى لذيذ بناكرتا تهاـ
بڑے سرى پائے اج فيشن ەے مگر ەم اپنى غريبى كے مارے كه سستے مل جاتے تهے عمومآ پكايا كرتے تهےـ
دمپخت اور يخنى صرف بڑى عيد پر بنا كرتى تهى ـ
كچى كليجى كهانے كى عادت آج تكـ نهيں گئى اس لئيے كه جب ميں جاپان كيا تو ان كے كلچر ميں بهى كچى كليجى كهاتے ەيں همارے گهر په پەلے ەى كهائى جاتى تهىـ
اسلئيے هفتے ميں ايكـ دفعه لاتا هوں مگر كسى پاكستانى كے سامنے نهيں كهاتا كه لوگ نفرت كريں گےـ
غرض يه كه ەم نے سارا ليلا (يا پيڈو كہـ ليں )چكها هوا ەےـ

Popular Posts