جمعہ، 24 فروری، 2012

جواری کا مشوره

سیول اسٹیشن کے سامنے کی سڑک پار کریں تو پولیس اسٹیشن کے پچھواڑے میں واقع هے
هلٹن هوٹل!!ـ
اس هوٹل ميں تین رات کا قیام تھا ، دبئی سے جاپان واپسی پر
اس هوٹل کے گراؤنڈ فلور ( یعنی تھلے) اک جوا خانه هے جس کو کسینو کهتے هیں ـ
کورین لوگوں کا دخله یهان ممنوع هے
اور داخل هونے کے لیے ایک پاس کی ضرورت هوتی هے یا پھر اس هوٹل ميں قیام ،
اور جی هوٹل مہنگا هے
کوئی بتیس هزار روپے پاکستان شب بسری کے ،
جن میں ناشتے وغیره کا ذکر نهیں ملتا ،
کسینو میں البته مالٹے کا رس بڑا مزے دار تھا
اور مفت بھی
اس لیے صبح سویرے ایک پھیرا کسینو کا لگا کر چار گلاس مالٹے کے پیتا تھا اور پھر چل سو چل ، که زندگی چلنے کا نام هے
میرے ساتھ جاپانی دوست تھا جس کو جوئے کا شوق ہے
یه دوست دبئی کے سفر میں بھی هم سفر تھا
همارے کوریا پہنچنے سے پہلے ایک اور دوست جاپان سے کوریا پہنچ چکا تھا اور جب هم یهاں پہنچے تو
وه کسینو ميں بیٹھا کھیل رها تھا
وه والی تاش کی گيم جس ميں کہتے هیں که اکر چار یکے آ جائیں تو بنک بھی قرضه دے دیتا هے
جوئے خانے میں کچھ پاک چہرے بھی نظر ائے
جی هاں پاکستانی لوگ
ایک بندے نے مجھے پوچھا
اور لہجه تھا خاصا ڈنگر ٹائیپ
پہلی واری نظر آیا ایں ؟؟
میں نے بھی جواب دیا
آہو!!!ـ
تو جی اس کا مشوره تھا بھاگ جا یهاں سے لٹیا جائیں گا
میں نے اس کو تو کچھ نهیں کها که
مجھے بدتمیز نامی ایک اردو کے بلاکر کی بات یاد آ گئی که
جاهل کی سب سے بڑی سزا یه ہے که اس کو علم کی بات بتائی هی ناں جائے
لیکن دل ميں سوچا که
اگر یه مشوره تم خود کو دے لیتے جب پہلی بار جوئے خانے میں آئے تھے تو کیا هی بہتر هوتا
تمهارے لیے
یه جواری لاهور کا تھا
اور دو جواری میں جو که فیصل اباد کے تھے
انہوں نے بھی الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ یهی مشوره دیا که جی
یه جگه لٹ جانے والی جگه ہے
تومیں نے ان کو بتایا که میں اپ لوگوں کی طرح بہادر بنده نهیں هوں
بلکه بہت هی بزدل هوں اس معاملے ميں
که داؤ لگانے کی جرات هی نهیں هے مجھ میں ـ
ان کا بھی دل خوش هو گیا که کسی نے انکو بهادر کها هے
اور میں بھی خوش کے
که جوئے کے عذاب ميں مبتلا نهیں هوں

اتوار، 19 فروری، 2012

افلاطون مسائل اور حل

تیری بربادیوں کے منصوبے هیں آسانوں میں !!ـ
ڈاکٹر میڈ (عرفیت) جو که اصلی ڈاکٹر بھی نهیں تھے بس کہیں سے ڈاکٹری سیکھ آئے تھے
ان کے نام کے ساتھ شاه بھی لگتا تھا
اس لیے ایک دن باورے گاؤں کی ایک عورت ان کے پاس کچھ مسائل لے کر آئی تھی
جن کی بنیاد تھی جادو ٹونه
اور بی بی چاهتی تھی شاه جی سے روحانی حل !!ـ
مسائل تھے که کچے کوٹھے کی کچی سیڑهیں پر پاؤں پھسل پھسل جاتا هے
حالانکه بارش بھی نهیں هوتی
دروازے آواز کرتے هیں ، کتنی بھی آهسته سے بند کریں
سلائی مشین ، سوئیاں بڑی توڑتی هے
اور سوئیاں هیں بھی بڑی مہنگی که اس ٹونے میں مجھے اقتصادتی طور پر تباه کرنے کی سازش هے
بجلی پر بھی ٹونه کردیا کيا هےکه
میں بٹن باهر کے بلب کا دباتی هوں
لیکن بتی اندر کی جل جاتی هے
اور اندر کے بٹن سے باهر کی
اور کبی کبھی ایک بٹن سے دونوں هی جل جاتی هیں
ان سب مسائل کا بی بی جی روحانی حل چاهتی تھی
نان که تکنیکی
کچھ شاه جی بھی ان کی باتیں اس سنجیدگی سے سن رهے تھے که کوئی اور بنده اگر بات کرتا تو بی بی جی نے اس پر ملک دشمنی یا غداری کا الزام لگا دینا تھا
بلوچستان جل رها هے
بلوچی مر رهے هیں ، غائب هو رهے هیں
اور پھر مسخ شده لاشوں کی شکل میں مل رهے هیں
اور
یه غیر ملکی سازش ہے ، میڈیا کی غیر ذمه داری هے
بلکه کبھی کبھی تو بلوچ فوج کو بدنام کرنے کے لیے خود هی مر کر مسخ شده لاش بن جاتے هیں
میں ه بات لکھ رها هوں
تاکه سند رهے که
بکٹی کو مار کر فوج نے اپنے کیپٹن حمید کو بچا لیا
جس نے ایک لیڈی ڈاکٹر پر اپنی مردانگی کا مظاہره کیا تھا
اور پھر
چل سو چل
بلوچ اپنے حقوق کا مطالبه کر رهے هیں
اور حکومتی ادارے ان کو کچل رهے هیں
کسی بھی ملک نے پاکستان پر حمله نهیں کیا هوا هے
فوج کسی بھی غیر ملکی فوج سے نهیں لڑ رهی ہے
یه میں اس لیے لکھ رها هوں که اکهتر کی کاراوائی کو پاکستان ميں کچھ اس طرح سے پڑھایا گیا هے
که
پاک فوج اور هندو کی لڑائی میں
بنگالیوں نے غداری کی جس کی وجه سے شکست بلکه شکست فاش هوئی
لیکن
حقیقت یه تھی که
بنگالیوں نے اج کے بلوچیوں کی طرح اپنے حقوق مانگے تھے
جب ناں ملے
اور فوج نے ان کو کچلنے کی کوشش کی تو
بنگالیوں نے مزاحمت شروع کر دی
جس میں انڈیا نے ان کو تربیت دے کر مضبوط کر دیا
اور پھر
ملک ٹوٹ گیا
نوے هزار غازی بندے قیدی هوئے
اور قوم کو جھوٹ پڑھایا گیا که
هم بڑے بہادر
سیاستدان برے ، بنگالی غدار
اگر یه غیر ملکی سازش ہے تو دفاع کی ذمه دار فوج اب تک اس سازش کو بے نقاب کیوں نهیں کر سکی؟؟
قوم کو اعتماد میں کیوں نهیں لیا گیا
غر ملکیوں کے ایجنٹ کو ٹی وی پر دیکھا کر تو دیکھیں
عوام ان لوگوں کو ملک میں رهنے ناں دیں گے
لیکن اگر اپ خود هی غیر ملکیوں کی فوج هوں تو؟؟
بلوچستان صرف پاکستان میں هی نهیں هے اس کا جغرافیه ایران اور افغانستان تک پھیلا هوا هے
اور اس کی آزادی کی امریکی قرار داد !!!ـ
ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے والی بات بھی هو سکتی هے
لیکن اس وقت تک
ملک ٹوٹ چکا هو گا
مں نے پہلے بھی ایک پوسٹ میں خدشے کا اظہار کیا تھا که
یه ناں هو که
اگلا پاسپورٹ نیو کراوانے کے لیے
پنجاب کی ایمبیسی جانا پڑے
اس مسئلے کا حل کوئی تعویذ یا روحانی بابے نهیں هیں
اور ناں هی فج کی شان بڑھانے میں هیں
اس کا حل یه هے که
فوج بکٹی کے قتل کی معافی مانگے
ڈاکٹر شازیه کے مجرم کیپٹن حمید کو سر عام سزا دے
اور بکٹی کے قتل کے ذمه دار جرنیلوں کو تعزیرات پاکستان کے مطابق سزا دے کر بلوچوں کو راضی کیا جائے
ورنه
پھر
تیار هو جائیں که
اپ کا ملک هو گا اسلام اباد
اور چھاؤنی ره جائے
جهلم اور گوجرانواله والی
باقی جهان تک بات هم
تارکین وطن کی
تو جناب کی کے بڑوں بشمول جرنل عیوب ، سرمے والی سرکار جرنل ضیاع وغیره کی کوششوں سے پاکستان میں رهنے کے هی قابل نهیں رهے هیں
هم نے تو جی پاسپورٹ هی نیو کروانا ہے
پاکستان کا ناں هوا
امریکه برطانیه ، فرانس کا ناں هوا تو جاپان
یا پنجاب کا هو گا
اگوں تیرے بھاگ لچھیے

بدھ، 15 فروری، 2012

ڈاکٹر لبنی مرزا کی کتاب اور بلاگ

http://diabetesinurdu.com/سوئیے-اور-پائیے/
ڈاکٹر لبنی مرزا کی کتاب اور بلاگ
میں ان کی تحاریر پڑھ رها هوں 
اڈاکٹر صاحبہ جو کام کررهی هیں یه کام پاکستان میں عام لوگوں کے سر سے گزرجانے والا هے 
للیکن اگر معاشرے مین یه علم عام هو جائے تو 
بہت سی بیماریوں سے نجات مل جائے 
مثلاً انہوں نے جو سونے کے دوران آکسین کی کمی کا لکھا هے تو 
میں ستمبر 2011کی پہلی تاریخوں سے رات کو سوتے هوئے ناک پر ایک مشین لگا کرسوتا هوں 
کیونکه مجھے خراٹے اتے تھے جس کے دوران کبھی کبھی سانس رک جاتی تھی 
تو میوکی نے کها که ایسے لگتا هے که تم مر هی ناں جاؤ که کبھی کبھی تو ایک منٹ تک تمهاری اواز نهیں اتی 
اس لیے میں جب ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے ٹیسٹ کرنے کے لیے مجھے ایک رات کے لیے مشین لگا کر سونے کا کها
جس سے جو ڈیٹا ملا 
وه بتاتا تھا که میری سانس رکتی هے 
تو ڈاکٹر نے بتایا که اتنی سانس رکنے سے چند دنوں یا مهینوں میں تو کچھ نهیں هوتا لیکن 
سال هاسال گزرنے پر دماغ کو آکسیجن کی کمی شوکر اور کئی دوسری بیماریوں کا باعث بنی هے 
اور خراٹوں کی علاج کے لیے بیماری کو سمجھنے کے لیے جو سوالات یهاں جاپان مين کرتے هیں وه 
بھی دن کو نیند انے 
اور سر کی درد کے هونے یا ناں هونے کے متعلق هوتے هیں 
اور بلکل وهی باتیں ڈاکٹر صاحبہ بھی لکھ رهی هیں
اس لئے میرے خیال میں اگر یہ کتاب عام لوگوں تک ناں بھی پہنچ سکے تب بھی جو لوگ یہ بلاگ پڑہ رہے ہیں
یا بلاگ لکھنے والوں کو ضرور یہ کتاب پڑہنی چاہیے

پیر، 13 فروری، 2012

دبئی ۳

دبئی کے لوگ اس کو برج خلیفہ کہتے ہیں
ایک اونچی سی عمارت ہے جس پر چڑہنے کے پیسے لگتے ہیں
چار سو پچیس درہم
جو کہ دبئی میں ایک مزدور کی ادہ مہنے کی تنخواہ ہوتی ہے
اور ڈرامہ یہ ہے کہ عمارت کی ادہ سے کچھ اوپر کی ایک جگہ پر چڑہا کر ٹرخا دیا جاتا ہے
عملے میں اتنی زیادہ فلپینی تھیں کہ مجھے لگ رہا تھا
فلپین آگیا ہوں
اس عمارت سے لی گئی تصاویر اپ بھی دیکھیں















ہفتہ، 11 فروری، 2012

دبئی ٢

میرا قیام تو دبئی کے هوٹل میں تھا لیکن اعجاز بھٹی کا یارڈ شارجه میں
هے
جو که همارے هوٹل سے صرف بیس منٹ کا سفر تھا
اور حاجی صاحب سڑکوں کے بھی بھیدی تھے

لیکن یارو  جس طرح دبئی فلپنیوں کا هے
اسی طرح شارجه پٹھانوں کا هے
ایک جگه میرے جاپانی دوست نے مینگنیاں سی دیکھ کر
مجھے پوچھا که کیا اس یارڈ والوں نے خرگوش پالے هیں؟؟

میں نے پوچھا که کیوں تو اس نے اشاره کیا که یه کس چیز کی مینگنیاں هیں

اب مجھے بھی سمجھ نهیں لگی که یه کس چیز کی مینگنیان هیں

حالانکه میں پینڈو هوں اور خاصا زیاده پینڈو هونےکی وجه سے جانوروں سے واقف هوں

جن میں دو ٹانگوں والے بھی شامل هیں

سمجھ ناں لگنے کی وجه سے میں نے پٹھان ساتھی سے پوچھا که یه کیا چیز هے ؟

تو اس کے جواب نے حیران کر دیا که

یه نسوار هے
منه سے نکال نکال کر پھینکی هے
اور یهان سارے هیں بھی پٹھان

اس لیے کثرت سے هیں
تو جی شارجه میں پٹھان هی پٹھان نهیں تھے

یهان هزاره لوگ بھی هیں
سائیکلوں پر سامان خریدنے نکلے هیں ـ

ایک هزاره کو سائیکل کے هینڈل پر کار کے سٹیرنگ لادھے دیکھ کر جاپانی دوست ابھی تک حیران هے که ان کا یه کیا کرے گا
که ایک گاڑی ميں ایک هی سٹیرنگ هوتا هے
دو کی ضرورت نهیں هوتی اور سٹیرنگ کے خراب هونے کے چانسز بھی ناں هونے کے برابر هیں

تو سٹیرنگ کیا کیا کیا جاتا هے؟

اس کا سوال اپنی جگه لیکن میں دبئی کے کنٹینر  میں سٹیرنگ بھی ڈالتا هوں

جن کو فروفت کرنا اعجاز کی ذمه داری ہے
اب یه بات اعجاز یا نومی یا پھر ملک شهباز صاحب هی بهتر جاتے هیں که

اس سٹیرنگ کے ساتھ کیا واردات کرتے هیں که

بک جاتا هے !!ـ

جمعرات، 9 فروری، 2012

دبئی ١

دبئی پہنچنے سے پہلے هی جاپان ميں همارے دوست هیں احمد خان صاحب ، ان کے تعارف سے جمال شاه صاحب میرے هوٹل پہنچتے هی ملنے کے لیے آ گئے تھے
اور اس کے بعد هر روز جمال شاه صاحب اور حاجی صاحب مجھے اور میرے باس کو ساتھ لے گر گھوم رهے هیں
اجنبی جگه پر یه ایک بہت بڑی سهولت هے جو جمال شاه صاحب نے مجھے دی هے
کل هم هوٹل کی چھت پر بیٹے تھے اور میں نے ان کی تصویر بنائی هے
اور تصویر بناتے هوئے میں بھی اس تصویر میں شامل هوں


ہفتہ، 4 فروری، 2012

مستقبل

ایک وقت تھا کہ میں یہ سوچا کرتا تھا کہ
اس دنیا کو بناے والا کوئی ہے ضرور
لیکن اس کے بعد اس بنانے والے نے دنیا کو بڑے ہی باریک ضابطوں میں باندھ کر اس دنیا کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہو ا ہے
میرے خیال میں وہ خود جہاں ہے اس کو لامکاں کا نام دیں تو
وہاں وقت نامی چیز نہیں ہے
لیکن ہم ہیں کہ وقت نامی چیز میں ہیں
جہاں سے ہمیں گزارے جانے یا گزرنے کا احساس ہے
ہم ہیں کہ صدیوں کا سفر کر رہے ہں کہ زمانوں کی بات کر رہپے ہیں
لیکن
اس کے لیے یہ لمحوں کا بھی معاملہ نہیں ہے کہ اس کے لیے وقت ہے ہی نہیں
کائینات
جو که ایک بہت هی بڑی چیز هے همارے لیے،
وقت سے وراء هستی کے لیے کیا حثیت رکھتی هے ؟ کیا اس کا تصور کر سکتے هیں هیں آپ؟؟
میرا تصور هے که ایک لاٹو
صرف ایک لاٹو جتنی چیز
جو که وقت سے وراء والی هستی کے سامنے چل رها هے یا اسے چلنے کا حکم هے
کن فیکون
میں تو وهاں تھا نهیں که کب کی بات ہے
یه کب کبھی کیا هے ؟
یه کب بھی تب هے جب وقت هے
لیکن اُس کے لیے ناں کب هے ناں تب هے
ناں جب هے، ناں یهاں وهاں
چیزیں اور ان کی وجوه
کی بحث جو که میرے اندر چھڑی تو
میں اس نتیجے پر پہنچا که
ایک دن اُس کو خیال ایا هو گا
لیکن یه ایک دن کی اصطلاح بھی میری هے که میں ایک مجبور محض وقت میں پیدا وقت سے وراء سوچ سوچ هی نهیں سکتا
تو جی ایک دن اس نے
کها
کن فیکون
ایک چھناکا(بگ بین) هوا یا پھر نهیں پھر هوا هو گا
چلو جی روشنی کا جھماکا هوا هو گا یا پھر نهیں هوا هو گا
ایک خاموشی چھا گئی هو گی
هو سکتا ہو که نان هی چھائی هو
کچھ هوا ضرور تھا
که میں وهاں تھا هی نهیں
چیزوں کے هونے اور ان کی وجوه کے هونے اور ناں هونے کی بات تو انسانی علم بس اتنا هی هے نان جی که پنجاب کے لوگ سمجھتے تھے که زمین ایک بیل کے سینگوں پر ٹکی هے
تو کسی نے بابے نانک سے پوچھا که وھ ٹگا (بیل) کهاں کھڑا ہے تو انہوں نے کها که
ٹگے تے ٹگا تے فیر ٹگا
تو جی هو سکتا ہے که میرا یه خیال بھی ٹگے پر ٹگے کے خیال جیسا هو اور انے والے زمانوں کے لوگ کهیں که یه خاور بھی کیا معصوم خیالات کا مالک تھا
تو جی ایک پہیه ، ایک لاٹو یا کسی اور شکل میں کہـ لیں چالو هو گیا
اب جی بنانے والے نے اس میں جو کوڈ ڈالے هیں
کوئی بھی نفس اس کوڈ سے زیادھ کا کام تو نهیں کرسکتا ناں جی

تو
کیا کریں جی
لیکن جی بعد میں احساس ہوا کہ
اس رب کا جو بھی نام ہو
لیکن میں اس کو اللہ کے نام سے پکارتا ہوں
وہ سدا اس کائینات کو سنبھالتا ہے

باریک ضابطوں میں سے کچھ بڑے بڑے ضابطے هیں
وزن ، وقت میں قید چیزیں وزن رکھتی هیں
اور اس وزن ، وقت اور دیگر کے اصول ساری کائینات میں مقرر هیں

منگل، 31 جنوری، 2012

دی خاور کنگ اور بلاگ

ميں نے اردو میں بلاگ لکھنا شروع کیا تھا
تو مجھے اس بات کا یقین تھا که پانچ چھ سال تو کوئی شائد اس کو پڑھنے بھی نهیں آئے گا
کیونکه انٹر نیٹ ابھی شروع هوئے چند هی سال هوئے تھے اور
لوگاں کو انگریزی ایسے چڑھی هوئی تھی جیسے چوھڑے کو شراب چڑھی هو
کمپیوٹر میں اردو کے لکھنے کا حال اج بھی یه ہے که
انگریزی چڑھے لوگ اس کو
کار محال است
بیکار است
غریب است
که
کار دیگران هی سمجھتے هیں
جب میں نے بلاگ لکھنا شروع کیا تو مجھے کچھ علم نهیں تھا که کوئی اور بھی اردو ميں بلاگ لکھ رها هے که نهیں
اور بلاک لکھنے کی اخلاقیات اور موضوعات وغیره کیا هیں
صرف ایک لفظ پڑھا سنا تھا جی انٹر نیٹ پر
اور بس پھر مفت بلاگ بنانے کی سائیٹ بلوگر مل گئی اور چل سو چل ـ
جب لکھنا شروع کیا تو دلچسپی هوئی که اردو میں سرچ کریں
تب جا کر کچھ دوسرے بلاگ ملے جن ميں مجھے جو یاد هیں
ان ميں دانیال کا نام آتا ہے اور
بعد میں شیعب دبئی والا
اور پھر
ایک هی گھر کے تین اردو بلاکر
اجمل صاحب ، ان کے بیٹے زکریا اور ان کی بیٹی عنبرین کا بلاگ تھا
بہت عرصه تو میں نام کے معاملے میں هی کنفیوژن کا شکار رها که
نام کیا رکھیں جی بلاگ کا؟
خاور کی بیاض
کے نام سے کچھ کاپی پیسٹ اور نقلیں بھی لکھیں
میرے بلاگ پر پہلا تبصره ایک خاتون نے کیا تھا
رومن اردو ميں
که ميں بھی اردو لکھنا چاهتی هوں
اور دوسرا تبصره تھا اجمل صاحب کا
جو که میری توقع سے بہت جلدی هوئے
که میں اس کی توقع نهیں کرتا تھا
مجھے یاد هے که پہلے پہل تو تبصرے کے جواب کا کیا کروں کهاں لکھوں کی پریشانی بن گئی که
بات میرے بلاگ پر لکھی هے تبصره بھی یهیں هوا هے اور ميں سوچ رها هوں که جواب تبصره کرنے والے بندے کے بلاگ پر لکھا هو گا؟؟
اک بد تمیز تھا
ایک رانا قدیر تھا
یه رانا قدیر بھی بڑی بچگانه طبیت کا بنده تھا
بس رس رس جاتا تھا اور بلاگنگ چھوڑنے كی دھمکیاں
قارئین کی ناں چھوڑنے کی درخواستیں
لیکن اج اس نام کے بندے کو کوئی جانتا بھی کم هی هو گا که
اگر بلاگنگ کرو کے تو بلاگر کی پہچان کے مالک هو ں گے ناں جی
ورنه
جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟؟
اردو کی بلاگنگ کی دنیا ميں بڑے لوگ داخل هوئے
لیکن مستقل مزاجی سے چلنے والے هیں
اپنا ڈیره والے منیر صاحب
میرا پاکستان والے افضل صاحب
منافقت کے خلاف والے اجمل صاحب
اور
میں خود خاور کنگ!!ـ
یه کنگ کا لاحقه بھی جی میرا خود کا خود کو دیا هوا نهیں ہے
اسی کی دهائی میں راشد پٹواری نے پہلی دفعه کها تھا اور پھر علاقے کے سارے هی لوگ کہنے لگے
معنوں کا علم ہے که نهیں
لیکن اج بھی همارے علاقے کا رهنے والا کهیں بھی مل جائے ، کنگ صاحب هی که کر بلاتا هے
بلاگنگ کے چند سالوں ميں کئی لوگ آئے اور چلے گئے
میں جو که خود زیاده مذہبی نهیں هوں
اس لیے مذہبی ریا کاروں کی مخالفت کرتا رهتا هوں
اور سمجھتا هوں که اردو کی بلاگنگ میں اگر تغرے ، تعزیے اور تعویز لگے بلاگ نهیں هیں تو اس میں میری بھی کوشش شامل هےـ
یهی حال وکی پیڈیا میں بھی هے که
مذہبی ریا کاروں کا راسته روکنے میں میری کوشش اس لیے کامیاب رهی که یهاں
اصلی والے اهل علم بھی تھے جنهوں نے میرا ساتھ دیاـ
مجھے اپنے بلاگ لکھنے کا ایک فخر هےـ
که یه میری پہچان هے
لیکن اردو کے وکی پیڈیا سے تعلق بھی میرا فخر هے ـ
اردو سیاره اور پھر اردو محفل بعد کی باتیں ، لیکن ان دو سائیٹوں نے انٹر نیٹ پر اردو کی اشاعت کے لیے بهت نام پایا هے ـ
مجھے یاد هے که اردو محفل کی شروعات پر میں نے ایک پیسٹ بھی لکھی تھی ـ
لیکن یقین کریں که مجھے اس وقت تک بلکل بھی سمجھ نهیں تھی که جو چیز یه لوک بنانے جا رهے هیں یعنی که فورم !!ـ تو یه هو گی بلا اور کرے گی کیا؟
اردو کی بلاگنگ میں اج کے لکھنے والے لوگ !ـ
میں سمجھتا هوں که مجھے سے زیاده علم والے اور سمجھدار هیں ـ
مجھے یاد نهیں آ رها که کسی شاعر نے کها تھا
که میں چراغ سحر تو هوں لیکن میرے بعد اندھیرا نهیں اجالا آ رها هے
اسی طرح سے میں بلاگ لکھنے والوں میں پرانا ترین تو هوں لیکن
بہتر ترین نهیں هوں ـ
لیکن اس بات کی خوشی ضرور هے که
اج کے دور کے بهترین لوگ جو که لکھنے والے هی هوتے هیں کسی بھی دور کےـ
اور اج کے بهترین لوگ هیں جی وه لوگ جو لکھتے هیں
اور ان ميں سے بھی اچھے هیں وه لوگ جو کسی کے لیے نهیں اپنے لیے لکھتے هیں
اور وه هیں جی بلاگر
میں بھی ان لوگوں میں شامل هوں ـ
بلکه مشکور هوں که ان لوگوں نے مجھے بھی شمولیت دی هوئی هے ـ
ان اچھے لوگےں ميں بھی کچھ عادتیں
بری هیں ـ
جیسے که کچھ بری عادتیں مجھ میں بھی هیں
ایک سب سے بری عادت جو هے
وه هے
تبصره کرنے والے پر چڑھ دوڑنے کی!!ـ
پنجابی میں کہتے هیں
لکدی لاء کے چڑھ جانا
اس بات کی معنویت پر غور کریں ـ
لکدی لاء کے چڑھ جانا
اور یه کوئی اچھا رویه نهیں هےـ
میں نے تبصروں کے متعلق یه رویه رکھا هوا هےکه
میں نے جو اچھا سمجھا اپنی دانست ميں اسے لکھ دیاهے
اب تبصره کرنے والا تنقید کرے یا تائید مجھے اس کا جواب دینا نهیں بنتا
که اس طرح سے جواب در جواب کا ایک سلسله چل نکلتا هے جو که بلاگنگ نهیں چاٹنگ کهلوائے گا
چاٹنگ میرا مقصد نهیں هےـ
هاں اکر میں محسوس کروں که تحریر میں کچھ کمی ره گئی هے
تو اس کے لیے یا تو میں ایک اور پوسٹ لکھوں گا
یا پھرپھر صرف اس خامی یا کمی کی بابت بتا کر !!ـ بس!!!ـ
اور تبصره کتنا بھی غلط یا تلخ کیوں ناں هو میں اسے ڈیلیٹ نهیں کروں گا
کیوں؟؟
کیونکه
اج سے سالوں بعد یا صدیوں بعد اگر کوئی اس تحریر کوپڑھے تو اس کو اندازه هو سکے که لکھاری کیا سوچتا تھا اور اس دور کے لوگ اس تحریر کے متعلق کیا رویه رکھتے تھے
گندی گالیاں تک لکھ جانے والے بھی هوتے تھے که نهیں "اُس" دور ميں ؟؟
میں نے اپنی سوچ کو الفاظ کا روپ دے کر چھوڑ جانا هے
اوراس تحریر کی بقا کی دعا مانگنی هے
باقی میں غلط تھا که صحیع ، گندا تھا که پاک ؟
اس بات کا فیصله انے والے وقتوں کے لوگ کریں گےـ
یعنی اپ !!ـ جو اس تحریر کو پڑھ چکے هیں ـ

جمعہ، 27 جنوری، 2012

لوک کہانی اور میڈیا

جاپانی زبان کی ایک لوک کہانی کے
جس ميں ایک بچه جس کا نام هوتا هے
اورا شیما تارو
ایک دن سمندر کے کنارے شرارتی بچوں کی زد میں آئے ایک کچھوے کو بچاتا هے
جس پر کچھوا اوراشیما تارو کو اپنے دیس کی سیر کی دعوت دیتا هے
کچھوا تارو کو لے کر زیر آب اپنے دیس لے جاتا جهاں تارو کجھ دن گزارتا هے
واپسی پر کچھوے اس کو ایک بکس دیتے هیں که اسے ناں هی کھولنا که تمهارے لیے یه هی بہتر هے
جب اوراشما تارو سمندر سے باهر اتا هے تو زمین پر زمانے بدل چکے هوتے هیں صدیوں کا فرق پڑ چکا هوتا هے
لوگوں سے اپنے متعلق پوچھتا ہے تو بڑے بوڑھے اس کو بتاتے هیں که
هاں اس نام کے ایک لڑکے کا سنا تو تھا جو سمندر میں ڈوب کر مر گیا تھا
اس بات پر اوراشیما کی حیرانی اور حالت کو جاپانی زبان میں محاورے کے طور پر بولتے هیں
مثلاً ایک سڑک سے چند سال بعد گزر هو اور وهاں عمارتیں هیں عمارتیں بن چکی هوں تو
کهتے هیں میری تو اوراشیما تارو والی حالت هو گئی
که زمانه هی بدل چکا تھا
میری بھی کچھ یهی حالت هوئی
که مسالے خریدنے تھے
عمران کے خلال فوڈ نما ریسٹورینٹ پر گیا تو سوچا که کھانا بھی کھاتے چلے جاتے هیں
ٹی وی پر مولوی لگے تھے تغرے چل رهے تھے
عمران کا بھائی پوچھنے لگا که مولوی هی چلنے دوں یا
خبریں دیکھیں گے؟
مجھے پاک ٹی وی دیکھنا کم هی نصیب هوتا هے بلکه
سالوں سے دیکھا هی نهیں هے
پاکستان بھی گیا تو
کچھ بجلی کی کم اور کچھ دوسری مصروفیات
اور کچھ همارے گھر میں کیبل کی کمی
ٹی وی پر پروکرام چل رها تھا
جرم بولتا هے
میری بھی حالت اورا شما تارو والی هو ئی
که زمانه هی بدل چکا هے
سنسنی انگیز طرزکلام
پراگنده خیالات
یه کیا دیکھایا جارها هے لوکاں کوجی؟
مجھے محسوس هوا که
پروگرام دیکھانے والوں کے ذہن بھی واضع نهیں هیں که وه لوگان کو بتانا کیا چاهتے هیں
ایک خبر میں مجرموں کو مظلوم بنا کر پیش کیا چارها هے تو دوسری میں پولیس کو بیوقوف
تیسری میں قانون کی بے بسی
تو چوتھی ميں قانون کو ظالم بنا کر پیش کیا جارها هے
اور هر بات پر لقمه دیا جارها هے !ـ
تو
پھر
جرم بولتا هے!!!ـ
اور یه انداز بیاں
یه سنسنی خیزیان
لگتا هے پنجابی فلموں کی انڈسٹری کو تباه کر دینے والے مکالمه نگاراور کہانی کار
اور دوسرے فنکار مل کر اج کل میڈیا چلا رهے هیں !!ـ
اچھے خاصے مرد
خاور کی سوچ کو پریشان کرکے رکھ دیا هے جس چیز نے اس کو روز دیکھنے والے
کس سوچ کے مالک هوں گے؟؟
سوچ کی پریشانی هے که
زلف پریشان کی طرح گلیان سڑکیں ، شهر ابادیاں
هر چیز پریشاں هے
الجھی هوئی سوچ هے که هر چیز الجھی هوئی هے
که
سلجھی هوئی هوئی کوئی چیز بھی هوگی پاکستان میں ؟؟
هندو ، مسلمانوں کو بیوقوف سمجھا کرتا تھا
پاکستان بنا کر
هم نے ساٹھ سالوں ميں هندو کا نظریه صحیع ثابت تو نهیں کر دیا کهیں؟؟
اورا شیما تارو والی حالت هے جی میری!!!ـ

اتوار، 22 جنوری، 2012

بلا عنوان

یه پاکستان میں هر مشکوک موت کے ڈانڈے آرمی سے کیوں ملتے هیں
یا که
هر مشکوک قتل کے اشارے آرمی کی طرف کیوں جاتے هیں؟؟
http://www.bbc.co.uk/urdu/rolling_news/2012/01/120121_rollingnews3.shtml
وه مسخ شده بلوچ لاشیں
غائب شائیب لوگ
پراسرار قتل
نامعلوم قاتل
بے شناخت لاشیں

میری پاک قاتلوں سے بہت عاجزانه درخواست هے که
پاکستانیوں کو قتل ناں کریں
کیونکه
قتل هو کر بنده مرجاتا ہے

Popular Posts