خبر اور سیاق و سباق
اڑتی هوئی خبر تھی وھ زبانی طیور کی
که جس میں غالب کی جنت میں ڈالی هوئی واردات کا ذکر تھا لیکن
یه خبر بھی بس زبانی طیور کی هی سمجھ لیں که ، بڑی بھاری گدی کے نسلی اور اصلی ،اور خاندانی شاھ صاحب کو پولیس نے گرفتار کر لیا ان کے ڈیڑے سے شراب کی بھاری مقدار اور چرس کے علاوھ لوٹے هوئے مال کی بھاری کھیپ کی برامدگی کے علاوھ جوئے کی رقم اور "چلنے والی بیبیاں " بھی گرفتار کی گئیں ، علاقے کے لوگاں کو شاھ صاحب کے سب کاموں کا علم تھا ،اور ان کاموں کو شاھ صاحب هی کی نظرسے دیکھتے تھےلیکن اس خبر کے میڈیا میں آجانے سے شاھ صاحب کو کچھ مشلات کا تو سامنا کرنا پڑا لیکن چند دن بعد هی تھانیدار کی معطلی سے لے کر ایس پی تبدیلی تک کے ایسے کام هوئے که خدا کی قدرت پر علاقے کے لوگوں کا اور بھی یقین پختہ هو گیا ،اور شاھ صاحب کی کرامات اور دینی اور دنیاوی پہنچ کی ایک دفعه پھر دھوم مچ گئی ـ
لیکن میڈیا میں اس خبر کو اچھالنے سے شاھ کی ریپوٹیشن دور دراز کے علاقوں میں خراب هو سکتی تھی اور موصول هونے والے نذزرانوں میں کمی واقع هو سکتی تھی اس لیے شاھ صاحب کو بڑی پریشانی تھی که اس کا کچھ حل نکلنا چاھیے
ویسے تو شاھ صاحب نے مقامی میڈیا المعروف بھانڈ مراثی هاتھ میں رکھے هوئے تھے لیکن اج کا دور هے جی ماس پروڈکشن کا ، تھوک کی دوکان داریوں کا ، اس لیے چند قصبوں تک محدود بھانڈ مراثی تو ٹی وی اخبار کے سامنے پرچون کے دوکان دار بن کے رھ گئے هیں
تو شاھ صاحب نے سوچا که کیوں نه انٹر نیٹ کا سہارا لیا جائے یا کسی اخبار کا تاکه اپنی ریپوٹیشن کو بحال رکھا جاسکے اور بات کو اس کے اصلی رنگ (شاھ صاحب کا اپناوالا) میں لوگوں تک پہنچایا جاسکے
تو اس بات گے لیے انہوں نے ایک اخبار کے بندے کو بلوایا که ان کا انٹرویو شائع کیا جائے
تو جی شاھ صاحب نے جو باتیں اخباری نمائندے کو بتائیں ان کا ذکر یهاں کرکے اپ لوگوں کے اپمان کی تازگی کا بندوبست کیا جارها ہے
شاھ صاحب نے بتایا که جی دیکھیں یه جو لوٹ مار یا ڈاکؤں کو پشت پناہی کا الزام ہے اس کی حقیقت یه ہے که
همارے گاؤں کے مشرقی طرف کچھ گاؤں دیہات هندؤں اور سکھوں کےهیں ، رات کو همارے مجاہدین جو که همارے مریدان بھی هیں ان کافر لوگوں کے ساتھ جہاد کے لیے نکلتے هیں ، اور مال غنیمت لوٹ کر لاتے هیں ، مریدان کی کوشش تو هوتی ہے که زیادھ شور شرابا نه هو لیکن ، کبھی کبھی کافر لوگوں کی انکھ بھی کھل جاتی ہے اور لڑائی وغیرھ هو جاتی ہے جس میں کافر لوگ مارے بھی جاتے هیں اور کبھی کبھی همارے مریدان بھی شہید یا زخمی هوتے هیں ،
اب دیکھیں ناں جی اس بات کو سیاق سباق سے ہٹ کر بیان کرنے والے اس بات کو ڈاکه ذنی اور لوٹ مار کا کہـ کر یه لوگ هم شاھ صاحب لوگوں سے حسد کی وجه سے ایسا کرتےهیں ـ
دوسری بات که همارے ڈیرے سے شراب ملی ہے
ایسا بلکل بھی نهیں هوا هے
جس کو یه لوگ شراب کہـ رهے هیں یه خالص همارا مقامی طور پر تیار کردھ مشروب ہے
جیسا که اپ دیکھ سکتے هیں گاؤں کے اردگرد انگور اور گنے کے کھیت هیں ، هم لوگ ایسا کرتے هیں که انگور کا رس نکال لیتے هیں ،اور اس کو مٹکوں ميں ڈال کر رکھ لیتے هیں ، اور یه مشروب سارا سال ہمارے کام آتا ہے ، یه مشروب جسم میں چستی پیدا کرتا ہے
اسی طرح هم گنے سے بنائے گڑ سے کرتے هیں که جب گڑ پرانا هو جائے تو هم اس کو اپنے خاندانی نسخے کے مطابق جو که صدیوں سے همارے خاندان میں چلا آ رها ہے اس کے مطابق اس گڑ ميں کیکر اور پیپل کے چھال ڈال کر اس کو خسته کرلیتے هیں ، جس کے بعد اس کا عرق کشید کرلیتے هیں اس انگور کے رس اور گنے کے کشید کیے عرق کو میڈیا والے شراب کے نام سے لکھ کر هم نسلی اور خاندانی لوگوں کو بد نام کررهے هیں
ہمارےمریدان جب رات کو سکھوں اور ہندوں کے ساتھ جهاد پر نکلتے هیں تو یه مشروب ان کے جسم میں چستی پیدا کرتا ہے اور سردیوں کی راتوں میں مریدان کو حرارت پہنچاتا ہے
اب اپ هی بتائیں که بھلا اس مشروب کو شراب کہنے والے لوگ صرف حسد میں هی ایسا کہـ سکتے هیں ناں جی؟؟
تیسری بات جو جوئے کے متعلق کہی جارهی ہے اس کی حقیقت یه ہےکه هم نے اپنے علاقے میں وسائل کی تقسیم کا ایک انتظام بنایا هوا هے
جس کے مطابق مال غنیمت جو که صرف مجاہدین کا هی حق هوتا هے اس کو عام لوگوں تک پہنچاتے هیں
مریدان جب معرکے پر نہیں هوتے هیں تو یهاں ڈیرے پر پاشا نام کا ایک کھیل کھیلتے هیں ، جس ميں هارنے والے لوگ جیتنے والے مجاہدین کو انعام میں اپنے حصے کے مال غنیمت سے انعام دیتے هیں
اس طرح یه هوتا هے که انعام میں زیادھ رقم ملنے پر مجاہد لوگ خرید داری کرتے هیں علاقے کے کمی لوگوں سے کام کرواتے هیں جس سے ان کمینوں تک بھی جہاد کے فوائد پہنچ جاتے هیں
ایسے رفاہی کام کو یه پولیس والے جوئے کا نام دے کر هم شاھ صاحب لوگوں کو بد نام کرتے هیں
اخری بات که یه جن عورتوں کو پیشه وار یا بد کار کہـ رہے هیں ، یه همارے ڈیرے پر مریدان کی لونڈیاں هیں ، جو مریدان نے جہاد ميں حاصل کی هیں یا پھر کچھ ان میں رضاکارانہ طور پر مریدان کی لونڈیاں بن گئیں هیں
یه لونڈیاں انٹیلیجنس کا کام بھی کرتی هیں ، دن کے وقت ہندوں اور سکھوں کے دیہاتوں میں پھر کر اس بات کا اندازھ لگاتی هیں که اگلا حمله کسی کافر کے گھر یا حویلی پر هونا چاەیے اور دشمن کے اسلحے اور دفاع کی کیا پوزیشن ہے ، وغیرھ وغیرھ،
اب جب که یه عورتیں مریدوں کی لونڈیاں هیں تو یه اپس میں لونڈیوں کا تبادله بھی کرتے رہتے هیں اور خوش هو کر اپنی لونڈی انعام میں بھی کسی اور مرید کو دے دیتے هیں ـ
یه میں نے اپ کو ساری بات بتائی هے اب اب هی انصاف سے بتائیں که اس ميں کیا بات غلط ہے ؟؟
صرف میڈیا اس بات کو سیاق سباق سے ہٹ کر بیان کر رها هے جس کی وجہ سے ہمیں بے جا پریشان کیا جارها ہے
آپ ذرا اس بات کو تفصیل سے اپنی اخبار ميں لکھیں که اصل بات کیا هے اور ان میڈیا والوں کو یه بھی کہیں که ہمارے مریدان اگر اپ کے خلاف جهاد پر نکل آئے تو یه اپ کے لیے بھی ٹھیک نهیں هو گا
هماری بے گناہی کی سب سے بڑی دلیل یه ہے که جن پولیس والوں نے همارے ڈیرے پر چھاپا مارا تھا سب کے سب
کھڈے لائین لگا دیے گئے هیں
