جمعہ، 15 جولائی، 2005

راجپوت

آریائوں اور قدیم ہندوئوں کے زمانے میں جو راجہ ہندوستان کے حکمران ہوتے تھےـ وہ کھشتری تھے۔ بدھ مت کے زمانے میں بھی جیسا کہ بدھ خود تھاـ اکثر راجا اور سردار کھشتری ہوتے تھے۔ گو بعض مثلاً چندر گپت اور اشوک شودر تھے بدھ مت کے عہد کے وسط سے لے کر مسیح کی پیدائش سے تقریباً پانچ سو سال بعد تک شمال مغربی ہند کے علاقوں میں ستھین یا سکا قوم کے راجا راج کرتے تھے۔راجہ بکرما جیت کے زمانے سے ستھین اور کھشتری راجائوں اور ان کی سلطنتوں کا ذکر سننے میں نہیں آتا۔بجائے ان کے 600ء سے 1200ء تک جدھر نظر جاتی ہے راجپوت راجائوں کے راج دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ راجپوت کون تھے؟راجپوتوں کا اپنا دعوی ـ یہ ہے کہ ہم کھشتری ہیں۔ رام چندر جی اور سری کرشن سے اور قدیم زمانے کے دوسرے کھشتری خاندانوں سے ہمارے نسب نامے ملتے ہیں۔ اور بعض عالموں کا یہ خیال ہے کہ یہ دعوی صحیح ہے۔ لفظ راجپوت کے معنی ہیں راجائوں کے بیٹے یا راجائوں کی اولاد زمانہ سلف کے کھشتری واقعی راجائوں کے بیٹے پوتے ہوتے تھے اور ایسا بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ دفعتاً کھشتریوں کی طاقتور قوم کا خاتمہ ہوگیا ہو۔بعض عالموں کا یہ خیال ہے کہ راجپوت ستھین یا سکا قوم سے ہیں جو سن عیسوی کے ابتدائی پانچ سو سال میں بڑی کثرت سے شمالی مغربی ہند میں آکر آباد ہوئی۔ اور اس فرقہ اہل یونان سے ہیں جو بھگشی میں آباد تھا۔ اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے اور اڑیسہ کی خاص خاص قومیں مثلاً وہ جو دہلی، قنوج اور ہندوستان کے مرکز میں حکمراں تھیں اصل کھشتری نسل سے ہیں اور بعض دیگر قومیں جن کا نام ابتدا میں راجپوتا نے. مالوے اور گجرات میں سننے میں آتا تھا بعد میں سکا کے خیل کے خیل حملہ آور ہو کر آباد ہوئے خدا کی اولی. نسل سے ہیں۔ راجپوت بڑی شریف اور اعلی، قوم سے ہیں۔ بڑے بہادر ہیں۔ چونکہ یہ لوگ جنگ و جدال کے بڑے مرد ہیں وہ بدھ کے رحم دلانہ دھرم کو پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ بدھ کہتا ہے کہ نہ کسی جاندار کو مارو اور نہ ستائو۔ انہوں نے جہاں تک ہوا برہمنوں کی مدد کی، بدھ مت کو دبایا اور پرانے ہندو مذہب کو از سر نو پھیلایا۔ جس زمانے کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس میں بہت سے راجپوت راجا ہوئے ہیں۔ اس سبب سے کہہ سکتے ہیں کہ 600ء سے 1200ء تک راجپوتوں کی سلطنت کا زمانہ ہے۔ آریائی عہد میں گجرات کو سری کرشن کی دوار کا کہتے تھے۔ بعد میں اس کا نام سورٹھ یا سوراشٹر ہوا۔ یہاں 416ء سے لے کر تقریباً300 سال تک بلبھی خاندان کے راجا راج کرتے تھے۔ جب چینی سیاح ہیوان سانگ سوراشٹر میں آیا تو اس نے دیکھا کہ یہ ایک زبردست سلطنت ہے، جہاں بلبھی راجائوں کا راج ہے۔ ملک خوشحال اور مالدار ہے اور دور دراز ملکوں سے تجارت ہوتی ہے۔ 746ء سے مسلمانوں کے زمانے تک سوراشٹر میں راجپوتوں کی عملداری تھی۔ یہ چالوکیہ کہلاتے تھے۔ انھلواڑہ یا انھل پٹن جس کو اب فقط پٹن کہتے ہیں، ان کی راجدھانی تھی۔
مالوے میں بکرما جیت کی اولاد حکمراں رہی۔ اس خاندان کا سب سے بڑا راجہ بکرماجیت کے بعد شلا دتیہ نامی تھا۔ جس کا حال چینی سیاح ہیوان سانگ کے سفرنامے سے معلوم ہوتا ہے۔ ان کے بعد راجپوتوں کا دور شروع ہوا۔ بعد کے زمانے میں مالوہ راجپوتوں کی نہایت زبردست سلطنتوں میں شمار ہوتا تھا۔ اڑیسہ قدیم زمانے میں اندھر کی سلطنت کے نام سے مشہور تھا۔ 474ء سے 1132ء تک یہاں کیسری خاندان کے راجپوت حکومت کرتے تھے۔ بھوونیشور ان کا پایہ تخت تھا جہاں انہوں نے بڑے بڑے خوبصورت اور شاندار مندر بنائے۔ اس خاندان کے اول راجہ کا نام یتاتی کیسری تھا۔ اس کی راجدھانی کے نام سے ظاہر ہے کہ گو زمانہ سلف میں اڑیسہ میں بدھ مت کا دور تھا اس وقت وہاں سارے ملک میں ہندو مذہب پھیلا ہوا تھا اور شوجی کی پرستش ہوتی تھی۔کیسری راجائوں کے بعد گنگا پتر خاندان کا دور شروع ہوا۔ یہ بھی راجپوت تھے۔ 1132ء سے 1534ء تک انہوں نے اڑیسہ پر حکومت کی۔ 1560ء میں یہ ملک مسلمانوں نے لے لیا۔ گنگا پتر وشنو کی پرستش کرتے تھے۔ پوری میں جگن ناتھ جی کا جو مشہور مندر ہےـ وہ اسی خاندان کے ایک راجہ کا بنایا ہوا ہے۔دریائے نربدا سے لے کر دریائے کرشنا تک سارے دکن میں سات سو برس یعنی 500ء سے 1200ء تک چالوکیہ خاندان کے راجپوت حکومت کرتے تھے۔ اس خاندان کی دو شاخیں تھیں ـ مشرقی شاخ کا پایہ تخت دریائے گوداوری پر راج مندری تھا۔ مغربی شاخ کا پایہ تخت مہاراشٹر میں کلیان تھا۔ اب ان راجائوں کے فقط نام ہی نام باقی ہیں۔ میسور کے ملک میں 900ء سے 1310ء تک بلال خاندان کے راجپوت فرمانروا تھے۔ ان کا پایہ تخت دوار سمدر تھاـ جہاں انہوں نے ہلے بید کا مشہور مندر تعمیر کیا۔ مسلمانوں نے اس خاندان کو شکست دی اور خود ملک کے حاکم اور فرمانروا بنے۔تلنگانہ میں تقریباً 1100ء سے لے کر 1323ء تک ککاتی خاندان کے راجپوت راج کرتے تھے۔ ان کا پایہ تخت وارنگل تھا۔ 1323ء میں مسلمانوں نے وارنگل لے لیا اور اس کو اپنا دارالخلافہ بنا کر گولکنڈے کی سلطنت قائم کی۔ بنگالے میں پانچ سو برس تک پال اور سین خاندانوں کے راجا راج کرتے تھے۔ 800ء کے قریب سے لے کر 1050ء تک پال راجائوں نے راج کیا اور 1050ء سے 1300ء کے قریب تک سین خاندان کا دور دورہ رہا۔ اس کے بعد یہ ملک بھی مسلمانوں نے فتح کر لیا۔دیوگری واقع مہاراشٹر میں 1100ء کے قریب سے ١٣٠٠ء کے قریب تک یادو بنسی راجپوت راج کرتے تھے۔ یہ کہتے تھے کہ ہم سری کرشن کی نسل سے یادو بنسی کھشتری ہیں۔ 130٠ء کے قریب مسلمانوں نے دیوگری کو فتح کر کے اس کا نام دولت آباد رکھ دیا۔راٹھورـ چوہان اور تنوار راجپوتوں کے مشہور خاندان ہوئے ہیں۔ 1190ء کے قریب قنوج ـ اجمیر اور دہلی میں ان کی حکومت تھی۔

هندو دهرم اور مذهب اسلام

عہد مغليہ ميں اکبر کے دور حکومت سے مسلم سماج کی ترتيب و تشکيل کا ايک نيا دور شروع ہوا۔ ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور ملک ميں سياسی استحکام اور سرکاری کارخانوں ميں ہر فن کے صنعت کاروں کو ملازم رکھا۔ اس کا نتيجہ يہ نکلا کہ ہندوستان کے ان قديم باشندوں کو جنھيں مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد مسلم سماج ميں مناسب جگہ نہ ملی تھی، اب مل گئی۔ ليکن اس کا يہ بھی نتيجہ برآمد ہوا کہ مسلم سماج پيشہ ورانہ طبقوں ميں تقسيم ہوگيا۔ ہندووں کی قديم طبقاتی تقسيم نے مسلم سماج کے لئے ايک نمونہ پيش کيا اور اسی طرز پر مسلم سماج ميں پيشہ ور طبقے نماياں نظر آنے لگے۔ نسلی امتياز کی وجہ سے مسلم سماج کی تنظيم رفتہ رفتہ ہندووں کے ذات پات کے نظام ميں رنگنے لگی۔ رفتہ رفتہ ہر پيشہ ور طبقے نے اپنے پيشے کو موروثی بنا ليا، اپنی مخصوص رسميں قائم کرليں اور شادی بياہ کے تعلقات ہم پيشہ لوگوں کے دائرے ميں محدود کرلئے۔ يہ تقسيم ہمارے زمانے تک موجود ہے۔ منير مير حسن نے لکھا تھا کہ لکھنوئ کے سيد خاندانوں ميں ايسا بھی ہوتا تھا کہ محدود دائرے ميں مناسب رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے بعض لڑکياں اپنی زندگی ناکت خدائی کی حالت ميں گزارتی تھيں۔

ہندوستان کے مسلمان بيٹے اور بيٹی کی شادی ميں چند رسموں کو چھوڑ کر جيسے آگ کے گرد چکر لگانا، باقی سب رسميں ہندووں کی طرح کرتے ہيں جيسے لڑکے اور لڑکی کو زرد کپڑے پہنانا اور کلائی ميں ريشمی کلاوا باندھنا عقہ سے فارغ ہونے تک دولھا کا ہاتھ ميں لوہے کا ہتھيار رکھنا اور عورتوں کی سٹھنی لگانا، آرايش کے ساتھ دولھا کو دلھن کے گھر لے جانا خالص ہند سے مخصوص ہے۔دور حاضر ميں بھی قصبات اور ديہات کے رہنے والے زراعت پيشہ مسلمانوں ميں بچپنے کی شادی ہندووں سے اخذ کی گئی رسم کی نشان دہی کرتی ہے۔ شادی بياہ کے رسوم مسلم سماج ميں اس حد تک سيرايت کر گئے تھے کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس بھی نہ رہا تھا کہ يہ رسميں غير اسلامی تھيں۔ سودا نے حضرت قاسم کی شادی کی رسوم کے ذکر ميں
ہندوستانی رسموں کو اس اندازے سے بيان کيا ہے۔ گويا يہ رسميں عربوں ميں پائی جاتی تھيں مثلاََ ساچق منہدی، برات، رقص و سورود، دھنگانا، رخصتی کے وقت رنگ کھيلنا وغيرہ۔ مسلمانوں ميں جہيز کا سامان بھی بهت حد تک ويسا ہی ہوتا تھا جيسا کہ ہندووں ميں رائج تھا۔

اٹاوہ ميں مسلمانوں کا ايک قبيلہ تھا جو شب بازی کے فن ميں بڑی مہارت رکھتا تھا۔ البيرونی نے ہندووں کے نٹوں کے فرقے کا ذکر کيا ہے۔ مسلمانوں ميں بھی نٹوں کا فرقہ موجود تھا۔ اس فن ميں دلچسپی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ مسلمان عورتيں اس فن کی تعليم حاصل کيا کرتی تھيں۔ شہنائی بائی نامی ايک عورت نے اس فن ميں خاصی مہارت حاصل کرلی تھی۔ مسلمانوں ميں بہروپيوں کا فرقہ بھی ہندووں کی دين ہے۔ قديم ہندوستان ميں بازی گروں کا فرقہ پايا جاتا تھا۔ مسلمانوں ميں بھی بازی گروں کی ايک جماعت پائی جاتی تھی۔بھگت بازی : ہندووں کے اس فن و پيشے کو مسلمانوں نے اپنا ليا تھا۔ اور اس کے ذريعے بسر اوقات کرتے تھے۔ دہلی ميں بھگت مسلمانوں کا ايک قبيلہ تھا اور تقی نامی ايک شخص اس قبيلے کا سردار تھا۔ لکھنوئ ميں اس فن نے بہت ترقی پائی۔ واجد علی شاہ کو رہس سے خاص دلچسپی تھی يہاں امانت لکھنوی نے اندر سبھا لکھی۔ اسی طرح کٹھ پتلی کا کھيل مسلمانوں نے اپنا ليا اور اس کا نام شب بازی رکھا۔ عہد مغليہ ميں شب بازی ايک اہم مشغلہ تھا۔ اٹاوہ ميں مسلمانوں کا ايک قبيلہ تھا جو شب بازی کے فن ميں بڑی مہارت رکھتا تھا۔ البيرونی نے ہندووں کے نٹوں کے فرقے کا ذکر کيا ہے۔ مسلمانوں
ميں بھی نٹوں کا فرقہ موجود تھا۔ بابر نے مداريوں کا ذکر کيا ہے، اس فرقہ کے لوگ خود کو مسلمان صرف اس وجہ سے کہتے تھے کہ ان کے يہاں ختنے کی رسم اداہوتی تھی۔ان کی شادی کی رسميں ملّا اور قاضی ادا کرتے تھے۔ بس اسلام سے ان کا اتنا ہی واسطہ تھا۔ ان کی بقيہ رسميں وہی تھيں جن پر وہ مشرف بہ اسلام ہونے سےپہلے عمل کرتے تھے۔

بچے کی ولادت سے موت کے موقع تک عمل ميں آنے والی بعض رسميں ايسی ہيں
جو خالص ہندوستان کی زمين سے ہيں۔ عورت کی حاملہ ہونے اورپهر بچے کی ولادت کے بعد کی
جتنی بھی رسميں ہندوستانی مسلمانوں ميں مروج ہيں وہ سب کی سب ہندوستانی ہيں۔
جنھيں مسلمانوں نے جوں کا توں اپنا ليا ہے۔ ان ميں بعض کے نام تو وہی ہندوستانی ہيں
مگر طريقے بدل گئے ہيں اور بعض ميں برائے نام فرق کرديا گيا ہے۔ مثلاََ تيجا ہندووں ميں، فاتحہ
كے پھول مسلمانوں ميں اگرچہ پھول کا لفظ يہاں بھی مشترک ہے کيوں کہ ہندووں ميں پھول مردے کی جلی ہڈيوں کو کہتے ہيں۔ جو تيسرے دن چن کر مرگھٹ سے جمع کی جاتی

مہاجر مسلمان بعض تفريحی مشاغل اپنے ساتھ لائے تھے ليکن رفتہ رفتہ انھوں نے خالص ہندوستانی کھيل تماشے اپنی تفريحی طبع کے لئے اپنا لئے۔ ان کو عربى يا فارسی کے نام دے کر اور بعض ضمنی تبديلياں کرکے انھيں اسلامی بناليا۔ مثلاََ پتنگ بازی، عہد مغليہ ميں مسلمانوں ميں پتنگ بازی کا عام رواج تھا۔ اٹھارويں صدی کے خواص و عوام مسلمان دونوں پتنگ بازی سے خاص طور پر دلچسپی رکھتے تھے۔ انند رام مخلص نے دہلی ميں پتنگ بازی کے عام رواج کا ذکر کيا ہے، دہلی ميں آج بھی پتنگ بازی کا رواج عام ہے۔ نہ صرف دہلی بلکہ شمالی ہندستان کے تقريباََ سارے بڑے شہروں کے مسلمان پتنگ بازی ميں خاصى دلچسپی ليتےتھے۔ ميسز مير حسن علی نے لکھنوئ کے مسلمانوں ميں پتنگ بازی سے خالص دلچسپی کا ذکر کيا ہے۔ آگرہ ميں بھی پتنگ بازی کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ نظير اکبر آبادی نے ان مقابلوں کا تفصيلی ذکر کيا ہے۔ نوابين و امرائے بنگال اودھ پتنگ بازی ميں دلچسپی ليتے تھے۔ نواب آصف الدولہ کو پتنگ بازی کا بڑا چسکا تھا۔
گھريلو کھيلوں ميں شطرنج، چوسر، چوپڑ خالص ہندوستانی کھيل
تھے۔ عہد مغليہ کے بادشاہ امرا اور عوام ان کھيلوں سے بڑی دلچسپی لےتے تھے۔ اکبر نے فتح
پور سيکری ميں فرش پر شطرنج کی بساط بنوائی تھی اور مہروں کی جگہ غلام عورتوں
کو کھڑا کرکے وہ شطرنج کھيلا کرتا تھا۔ شاہی حرم کی مستورات شطرنج کھيلا کرتی تھيں۔ زيب
النساء کو چوسر کھيلنے سے بڑی دلچسپی تھی۔ ان کھيلوں کے علاوہ چندل مندل اور گنجفہ کا
کھيل مسلمانوں نے ہندوستان سے اخذ کيا تھا۔0پرندوں اور جانوروں کی لڑائياں :مختلف قسم کے پرندوں کو آپس ميں لڑانے کا شوق ہر طبقے کے مسلمانوں ميں پايا جاتا تھا۔
ان ميں مرغ بازی، بٹير بازی، تيتر بازی، گلدم بازی، لوا بازی، طوطے بازی اور درندوں ميں ہاتھی، شير، ہرن چيتے، سور تيندوے، سانڈ، مينڈھے اور دوسرے جانوروں کو آپس ميں لڑا کر اس منظر سے مسلمان محفوظ ہوا کرتے تھے۔ اسپير نے لکھا ہے کہ شام کے چار بجے محل کے سامنے کئی آمراء جمع ہوجاتے اور اپنے مرغ لڑا کر بہادر شاہ ظفر کا دل بہلاتے تھے اور غالباََ يہ روزانہ کا شعل تھا۔ لکھنوئ کے عوام و خواص اپنی فارغ البالی کی وجہ سے اپنا يشتر وقت پرندوں کو لڑانے اور محفوظ ہونے ميں صرف کرتے تھے۔ دوسرے تفريحی مشاغل ميں غبارے بازی، ہنڈولا، بيل گاڑيوں کی دوڑ کے مقابلے اور درياوں ميں چراغاں کرنا شامل تھے۔ اسی طرح بچوں اور لڑکوں کے بہت سے کھيل خالص ہندوستانی تھے اور ان کے نام بھی ہندی ميں تھے۔ انشاء الّلۃ نے ان کھيلوں کا تفصيلی ذکر کيا ہےـ

منگل، 12 جولائی، 2005

اردو محفل

ايك دعوت تهى شموليت كى ايكـ فورم ميں جو مشتعمل هے سارا اردو پر ـ جناب قدير احمد رانا كى طرف سے ـ
We Have Created World's First Complete Urdu Forum. Please join us at
http://www.urduweb.org/mehfil
اردو كى يه محفل سجائى هے جناب اجمل صاحب كے بيٹے زكريا ـ قدير احمد رانا ـدانيال اور ان كے دوستوں نے مل كر ـ مقصد ەے ان كا اردو كى انٹر نيٹ پر ترقى كى كوشش ـ
ان سب لوگوں كى ان كوششوں كا كوئى فائده هو گا يا نەيں ؟ يا اگر هو گا بهى تو كيا هو گا ! ميرے خيال ميں كوئى انقلاب آنے سے تو رەا !
مگر مجهے ان لوگوں كے اس قدم سے كوئى اختلاف نەيں ـ كيون كه ميں جانتا هوں كه اس طرح كے جنونى كام شروع فضول نظر اتے ەيں مگر ضرورى نەيں كه فضول ەى هوں !
ماركونى اور گراەم بيل كى شروع ميں فضول نظر انے والى كوششيں آج اپ سب كے سامنے ريڈيو اور ٹيلى فون كى شكل ميں موجود ەيں ـ
صديوں سے انسان كى پرندوں كى طرح اڑنے كى كوشش رائٹ برادرز كى پەلى اڑان تكـ فضول كوششوں كى ايكـ تكرار ەى تو تهى ـ
ايكـ دفعه چلنے كے بعد مسلسل چلتے رهنے والى مشين پر تجربات ،مسٹر سٹيفن كے بهاپ والے انجن كى ايجاد تكـ كيا تهے؟
اكر آپ كو كبهى طوكيو ميں اكيهابارا جانے كا اتفاق هو (اكي ها بارا دنيا كى سب سے بڑى اور ايڈوانس اليكٹرونس ماركيٹ هے ) اكيهابارا اسٹيشن سے شوواتهورى (تهورى يا دواورى بمعنى گذرگاه )تكـ كى جگه ميں آپ كو بهت سى تنگ كلياں اور ان گليوں ميں اليكٹرونس پارٹس كى دوكانيں مليں گى ـ ان گليوں ميں ميں نے گلاس كے پيندے جتنے موٹے عدسوں كى عينكيں لگائے ەونكـ سے جاپانى لڑكوں كو اكثر پهرتے ديكها هے ـ
عمومآ يه لڑكے كم آميز هوتے ەيں جلدى كسى سے كهلتے نەيں ەيں يه وه لوگ ەيں جو پارٹ ٹائم موكرياں كر كے اور ان پيسوں سے مختلف پرزے خريد كر تجربات ميں لگے رهتے ەيں ان لوگےں كى تكنيكى آپروچ اتنى هے كه فوجى جمهوريه پاكستان ميں ره كر آپ تصوّر بهى نهيں كر سكتے ـ ميرے ايكـ ايسے هى جاپانى دوست نے حيران هو كر مجهـ سے پوچها تها كه تم ريڈيو بهى نەيں بنا سكتے
اس كا لەجه ايسا تها كه جيسے اپ كسى سے پوچهـ رهے هوں كه يعنى تم خود سےكپڑے بهى نەيں پەن سكتے ـ
اور ايسے هى جاپانى لوگوں كى كوششوں كا نتيجه ايك ترقى يافته اور مضبوط جاپانكى صورت ميں آپ كے سامنے هے ـ
زكريا ٠رانا٠دانيال جيسے لوگوں كو ضرورت هے هله شيرى كى داد اور حوصله آفزائى كى ـ
چلتے چلو دوستو هم تمهارے ساتهـ هيں ـ

اتوار، 10 جولائی، 2005

جيت؟؟؟

وقت خود ەى يه بتائے گا كه ميں زنده ەوں
كب وه مرتا ەے جو زنده رهے كردار كے ساتهـ
آ ميرے دوست ذرا ديكهـ !! ميں ەارا تو نەيں ؟
ميرا سر بهى تو پڑا ەے ميرى دستار كے ساتهـ
سعد اللّه شاه صاحب كے يه شعر نوائےوقت كے مستقل كالم نگار عرفان صديقى صاحب نے آپنے كالم نقش خيال ميں لكهے ـ
آ ميرے دوست ذرا ديكهـ !! ميں ەارا تو نەيں ؟
ميرا سر بهى تو پڑا ەے ميرى دستار كے ساتهـ

جمعہ، 8 جولائی، 2005

محمود غزنوى!! هيرو يا ڈاكو؟

لڑائی کا گھمسان ہوا۔ راجپوت پسپا ہوئے۔ محمود نے آگے بڑھ کر نگر کوٹ کے مندر کو لوٹا۔ چاندی سونے موتیوں اور جواہرات کے انبار جو مدتوں سے دیندار اور بااعتقاد ہندوئوں کے چڑھائے ہوئے مندروں میں جمع تھے' سب لوٹ کھسوٹ کر غزنی میں لے گیا۔

غزنی پہنچ کر محمود نے ایک بڑی بھاری دعوت کا سامان کیا۔ تمام افغانوں کو بلوایا۔ تین دن تک ان کی ضیافت کی۔ ہند سے جو زر و جواہر ریشم و کمخاب سونا اور چاندی لوٹ کر لایا تھاـ نمائش کے طور پر چوکیوں پر سجا کر سب کو دکھایا۔ سرداروں اور امرا کا تو کہنا ہی کیا ہے' ان کو تو نہایت قیمتی تحفے دئیے اور غریب سے غریب افغان بھی ایسا کوئی نہ تھا کہ دعوت سے خالی ہاتھ گیا ہو اور ایک معقول انعام نہ لے گیا ہو۔
جى هاں محمود غزنوى ٩٩٧ء سے ١٠٣٠ء پاكستان ميں پڑهايا گيا هے كه
محمود بہادر سپاہی تھا۔ اپنے ہم عصروں سے زیادہ ظالم اور بیرحم نہ تھا۔ لڑائی میں جو قیدی ہاتھ آتے تھےـ ان کو قتل نہیں کرتا تھا۔ سلطنت افغانستان کا انتظام بڑی خوبی کے ساتھ کرتا تھا۔ ہندوستان کی دولت سے اس نے غزنی میں بڑی بڑی عالیشان عمارتیں بنائیں اور اس کی رونق بڑھائی ـ بہت سے شاعر اور باکمال دور دراز ملکوں سے آکر غزنی میں آباد ہوئے۔
فردوسی شاعر کے ساتھ ايكـ کارروائی ۔ محمود نے فردوسی سے شاہنامہ لکھنے کی فرمائش کی اور صلے میں فی شعر ایک اشرفی دینے کا وعدہ کیا۔ تیس برس کی محنت کے بعد فردوسی ساٹھ ہزار شعر لکھ کر لایا۔ محمود ایک کتاب کے لیے ساٹھ ہزار سونے کی شرفیاں دینے سے ہچکچایا اور اشرفیوں کی جگہ چاندی کے ساٹھ ہزار دینار دینے لگا ـ فردوسی نے دینارلے كر آپنے اس خادم كو دے دئيےجس نے يه شاه نامه لكهنے كے دوران عظيم فردوسى كى خدمت كى تهى اور خود فردوسى مایوس ہو کر فارس میں اپنے وطن کو چلا گیا۔ کچھ دنوں بعد محمود اپنی حرکت پر پشیمان ہوا اور ساٹھ ہزار سونے کی اشرفیاں دے کر قاصد کو فردوسی کے پاس بھیجا۔ مگر اب کیا ہونا تھا ادھر محمود کا قاصد اشرفیوں کی تھیلیاں لیے شہر میں داخل ہوا ادھر معلوم ہوا کہ فردوسی کا جنازہ قبرستان کی طرف چلا جا رہا ہے۔

تیس برس کی عمر میں محمود تختِ شاہی پر جلوہ گر ہوا۔ جب تک بارش کا موسم رہا اور درے برف سے صاف نہ ہوئےـ خاموش بیٹھا رہا۔ اس کے بعد اپنی فوج لے کر ہند پر چڑھ آیا۔ بہت سے اونٹ اور گھوڑے لوٹ کا مال لاد کر لے جانے کو اپنے ساتھ لایا۔ دیکھا کہ جے پال جو اس کے باپ سے لڑ چکا تھاـ اس کے مقابلے پر لڑنے کو موجود تها لیکن محمود اور اس کے افغان ہمراہیوں نے جے پال کو بھگا دیا اور بہت سا قیمتی مال و زر لوٹ کر غزنی لے گئے۔
انند پال نے دیکھا کہ ہندوستان کے سر پر ہر وقت خطرہ لگا ہوا ہے۔ پس اس نے اجین ـ گوالیارـ قنوج ـ دہلی اور اجمیر کے راجائوں کو پیغام دیا اور کہا کہ محمود سالِ آئندہ میں ضرور پھر حملہ کریگاـ آپ آئیں اور میرے ہمراہ ہو کر اس کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے منظور کیا اور راجپوتوں کے دل كےدل پنجاب میں داخل ہوئے۔ لیکن شمالی سرد ملکوں کے افغان ہند کے گرم میدانوں کے راجپوتوں سے طاقتور تھے۔ لڑائی کا گھمسان ہوا۔ راجپوت پسپا ہوئے۔ محمود نے آگے بڑھ کر نگر کوٹ کے مندر کو لوٹا۔ چاندی، سونے، موتیوں اور جواہرات کے انبار جو مدتوں سے دیندار اور بااعتقاد ہندوئوں کے چڑھائے ہوئے مندروں میں جمع تھےـ سب لوٹ کھسوٹ کر غزنی میں لے گیا۔
اور ايكـ دعوت كا انتظام كيا جس دعوت كا ذكر اس پوسٹ كے دوسرے پيرے ميں كيا گيا ەے ـ

ایسی ایسی ترغیبوں اور تحریصوں سے محمود افغانوں کو ہند پر چڑھا لاتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی ہمت کا دریا طغیانی پر تھاـ ہر بار جو قدم تھا آگے ہی آگے پڑتا تھا۔ جہاں کہیں کسی مالدار شہر یا مندرکا پتہ پایا وہیں اپنی فوج کو لے کر جا طوفان بپا کیا۔ مندر ڈھائےـ بت توڑےـ پجاریوں کے سینکڑوں برس کے جوڑے ہوئے مال و اسباب لوٹے۔ راجپوت راجا آپس میں لڑتے تھے مگر مندروں کے مال کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ اس سبب سے مدتوں کی آمدنی سے ہر مندر میں دولت کے انبار اکٹھے ہوگئے تھے۔ ترک ایرانی اور افغان اس مال و دولت کے لوٹنے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے۔ جہاں اس نے ہند پر حملہ کرنے کے لیے فوج کے جمع ہونے کا حکم دیا وہیں یہ لوگ آندھی کی طرح اٹھے چلے آئے۔ پھر محمود کے ہر حملے میں فوج کی کثرت نہ ہوتی؟ تو کیا ہوتا؟
محمود١٠٢٤ء میں آخری بار ہند پر حملہ آور ہوا اور سومناتھ کے مندر پر پہنچا۔ یہ گجرات دیس میں ایک بہت پرانا اور بڑا مندر تھا جو اپنی بے شمار دولت کے سبب تمام ہند میں مشہور تھا۔ سندھ کے ریگستان میں ساڑھے تین سو میل کا دور دراز سفر طے کر کے محمود اس مندر کے سامنے آن موجود ہوا اور ہندوئوں کی اس بڑی فوج کو شکست دی۔ جو مندرکی حفاظت کے لیے جمع کی گئی تھی۔ جب یہ مندر کے اندر داخل ہوا تو ڈرتے کانپتے پجاریوں نے التجا کی کہ اگر آپ ہمارے سومناتھ دیوتا کی مورت کو جوں کا توں چھوڑ دیں تو ہم اس کے عوض آپ کو بہت سا روپیہ دینے کو تیار ہیں۔ لیکن ان کی بات نہ مانی ـ
یہاں سے افغانستان واپس جانے کے کچھ ہی عرصے بعد محمود مر گیا۔ یہ خود ہند ميں كبهى نہیں ٹھیرا ــ

منگل، 5 جولائی، 2005

پستول پردار

Example

اتوار، 19 جون، 2005

اردو میڈیم کے پڑھے لوگ

اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے لوگ
ہمارے گاؤں میں ایک ڈالکٹر صاحب ہیں ڈاکٹر یونس صاحب ۔
ڈاکٹر یونس ایم بی بی ایس،۔
ان ڈاکٹر صاحب کے خاندان میں کئی ڈاکٹر ہیں ،۔
کچھ ڈنگر ڈاکٹر اور کچھ میڈیسن ڈاکٹر اور پٹواری ، مطلب یہ کہ ڈاکٹر صاحب کئی نسلوں سے پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رھتے ہیں ،۔
ڈاکٹر صاحب کا بیٹا گوجرانوالہ کے کسی انگلش میڈیم سکول میں پڑھنے جاتا تھا ،۔
پچھلے دنون ڈاکٹر صاحب نے اپنے اس بیٹے کو انگلش میڈیم سے خارج کروا کر گورمنٹ پرائمری سکول تلونڈی موسے خان میں داخل کروا دیا ہے ،۔
ڈاکٹر صاحب کے اس عمل سے کسی نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ
اج جب کہسب لوگ اپنے بچوں کو بڑے بڑے ناموں والے سکولوں  داخل کروا رہے ہیں ،۔
اس دور میں اپنے بچوں کو گورمنٹ پرائمری سکول میں  داخل کروانا کچھ احمقانہ سا فیصلہ تو نہیں ہے ،۔
تو ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ
میں خود ڈاکٹر محمد ہونس ایم بی بی ایس اس گورمنٹ پرائمری سکول کا پڑھا ہوا ہوں ،۔
اور اج ایک ڈاکٹر ہون ، میرا چاچا ڈاکٹر ہیں اور اسی سکول کے پڑھے ہوئے ہیں ، میرے والد پٹواری ہیں اور اسی سکول کے پڑھے ہوئے ہیں ،م۔
جناب ممتاز خان صاحب سابق سیکرٹری وزارت خزانہ جن کے ایک روپے کے نوٹوں پر دستخط ہوتے تھے اسی پرائمری سکول کے پڑھے ہوئے تھے ،۔
مشہور شاعر عبدلحمید عدؔم بھی اسی سکول کے پڑھے ہوئے تھے ،۔
ہم سب اس سکول کی ننگی زمین پر ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم یافتہ ہیں ،۔
اسی سکول میں ٹاٹوں پر بیٹھ کرتعلیم لئے لوگ اج بڑے بڑے کاروباری ، ڈاکٹر انجنئیر ہیں

مثلا محمد اسحق كميار ـ ڈاكٹر اصغرمسترى ـ باؤ مختار احمد عرف باؤ كميار ـ حاجى محمد صادق كميار ـ غلام مرتضے كميار عرف حاجى ننها كميار ـ بهلّـا كميار ـ حاجى اسماعيل تڑوائى ـ
كيا خيال هے آپ كا ڈاكٹر محمد يونس ايم بىبىايس صاحب كے ان خيالات كے متعلق؟؟؟؟

بكرمى كيلنڈر كى وضاحت

ميرى بكرمى مهينے والى پوسٹ پر جناب اجمل صاحب نے اسلام اباد سے تبصره لكها هے ـ جناب اجمل صاحب سرد گرم چشيده ايكـ ريٹائرڈ انجئنير هيں ـ اور بلاگروں كو كچهـ نه كچهـ لكهنے پر اكساتے رهتے هيں ـ جناب اجمل صاحب لكهتے هيں ـ

بکرمی جنتری بھی اب موسموں کے حساب سے صحیح نہیں رہی ۔ ہاڑھ جو پورا نام ہساڑھ ہے اس مہینہ میں بہت بارشیں ہونا چاہیئں جس سے دریاؤں میں ہاڑھ آ جائے اسی لئے اس مہینہ کو ہاڑھ کا مہینہ بھی کہتے ہیں مگر اب ایسا نہیں ہے۔

مندرجہ ذیل یو آر ایل پر اردو میڈیم کے ایک طالب علم نے کچھ انکشاف کیا ہے ۔ ذرا دیکھئے تو یہ اردو میڈیم طالب علم کیا کہتا ہے ۔
http://hypocrisythyname.blogspot.com/2005/06/urdu-medium-school.html


پنجاب كے جس گاؤں ميں ميں پلا بڑها هوں وهاں بهى فلڈ يعنى سيلاب كو هڑ كهتے تهے يا شائد اب بهى كهتے هيں ـ همارے گاؤں ميں ايك ميله اٹهاره هاڑ كو لگا كرتا تها ـ بچپن ميں بهت انتظار رها كرتا تها اس ميلے كا ـ اس لئے مجهے هاڑ مهينه ياد هے ـ يا پهر اس اٹهاره هاڑ والے ميلے كى وجه سے مجهے بكرمى جنترى كا علم هوا ـ اور يه بهى ياد هے كه هاڑ مهينے ميں هڑ يعنى سيلاب آيا كرتا تها ـ اب اگر اس دور ميں بارشوں كى ٹائمنگ بگڑ گئى هے تو يه بكرمى جنترى اور موسموں كا تغير نهيں هے ـ بلكه بڑهتى هوئى آلودگى كى وجه هے ـ اوزون كى تەـ ميں سوراخ بهى اسى آلودگى كى وجه هے ـ اور اس وجه كى ذيلى وجوهات هيں موسموں كے مزاج ميں تلخى يعنى گرميوں ميں بهت گرمى اور سرديوں ميں بهت سردى ـ
عيسوى جنترى ميں اگر هر چار سال بعد فرورى كے 29 دن يه كريں تو سو سال ميں يه بنتے هيں 30دن يعنى تين سو سال ميں تين مهينے ـ يعنى اگر تين سو سال ميں سے تين مهينے كا نكاس كر ديا جائے تو فرورى مهينه ــ چلچلاتى گرمى اور جولائى كڑكڑاتى سردى ميں بهى آسكتا تها ـ زمين كا سورج كے گرد چكر 365دن كى بجائے 365دن كچهـ گهنٹے كچهـ منٹ اور كچهـ سيكنڈ ميں مكمل هوتا هےـ جس كا علم هونے كے بعد عيسوى كلينڈر ميں ليپ كا سال بنايا گيا تها ـ مگر بكرمى كلينڈر ميں ايسا كوئ سال نهيں هوتا بهر كيا وجه هے كه گرمياں جيٹهـ هاڑ ميں هى اتى هيں حبس ساون بادوں ميں هى هوتا هے اورسردى پوه ماگ ميں هى پڑتى ەے ـ
كهتے هيں كه زمانه قبل از مسيح ميں بهى ەندو برهمنوں كو آسٹرونومى كا علم تها وه جانتے تهے كه زمين گول هے اور سورج كے گرد گومتى هے ـ ان لوگوں كو سرج گرهن اور چاند گرهن كے ٹهيك ٹهيكـ وقت كا بهى علم هوتا تها ـ مگر عام لوگوں كو يه سورج اور چاند كا امتحان اور پته نهيں كيا كچهـ بتا كر اور خود كو بهگوان كا قريبي دوست اور سورج اور چاند كى اس سزا كو ختم كروا سكنے كى سفارش كے لئے كواليفائي هونے كا بتاكر چندا بٹورا كرتے تهے ـ يه ەندو جو كه ەمارے برصغير كے لوگوں كے آباء بهى تهے (باهر سے انے والے حمله آوروں كى اولاد مغل چغتائى ابدال غورى وغيره وغيره هندوں كى اولاد نهيں هيں وه جو چاهے خود كو سمجتے رهيں ) ـ انهوں نے هميں يه كلينڈر بنا كر ديا تها ـ ـ ليكن همارے آباء،ميں ايك بڑا نقص تها اور شائد آج بهى هم ديسى لوگوں ميں هے كه هم بهت بخيل واقع هوئے هيں هم علم كى بات كسى كو بتانے كى بجائے ساتهـ قبر ميں لے جاتے هيں هم ميں بڑے بڑے سيانے حكيم هوئے هيں جو مردے ميں جان ڈال ديتے تهے مگر انهوں نے يه نسخے كسى كو بتائے نهيں مگر ساتهـ لے كر مر كئے ـ ايك انگريز هيں كه جس كے پاس جو علم تها يا هے كو كتاب ميں لكهـ ديا كه سب لوگ پڑه ليں اور اگر كوئى اس علم كو لے كر اگے جا سكتا هے تو ترقى كرے ـ اورانگريز كى اس روايت نے آج دنيا كو ترقى كے اس مقام پر بەنچا ديا هے كه معلوم انسانى تاريخ ميں اس كى مثال نهيں ملتى ـ

بدھ، 15 جون، 2005

بكرمى كيلنڈر

اج هاڑ مهينےكي ايكـ تاريخ هے اور سال هے ـ 2062بكرمى ـ عيسى عليه سلام كے پيدا هونے سے بهى 57سال پهلے بنايا گيا بكرمى كيلنڈر موسموں كے كسى بهى تغير كے بغير آج بهى چل رها هے ـ ياد رهے عيسوى كيلنڈر عيسى عليه سلام كے اسمان پر اٹهائے جانے كے پانچ سو سال بعد بنايا گيا اور كچهـ عرصه بعد ليپ كا سال شامل كر كے اسے موڈيفائى كيا گيا تها ـ مگر بكرمى سال جس ميں كچهـ مهينے بتيس دن كے بهى هوتے هيں اج تكـ بغير كسى موڈيفكيشن كے موسموں كے مطابق چل رها هے ـ
راجه بكرم اجيت جنكے نام سے يه كلنڈرشروع هوا یہ وہی بکرماجیت ہے جو ہند دھرم کا بڑا حامی اور علوم و فنون کا قدر دان مشہور ہے۔ اس کو بکرم اور بکرم اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تمام ہندو راجائوں سے زیادہ مشہور ومعروف ہے۔ جیسا بہادر تھا ویسا ہی عالم بھی تھا۔ اس کے دربار میں 9 صاحب کمال تھے جو اپنے زمانے کے نورتن کہلاتے تھے۔ ان میں اول نمبر پر کالی داس شاعر تھا جس کی نہایت مشہور نظمیں یہ ہیں۔ سکنتلا' رگھوونش' میگھ دوت' کمار سنبھو- ایک رتن امر سنگھ تھا جس کی سنسکرت کی منظوم لغات ہند کے ہر مدرسے میں مشہور و معروف ہے۔ چوتھا اھنونتری بید تھا۔ پانچواں در رچی تھا جس نے پراکرت یعنی اپنے وقت کی عام مروجہ سنسکرت کی' جو قدیم کتابی سنسکرت سے بہت مختلف ہے' صرف و نحو لکھی ہے۔ چھٹا رتن مشہور منجم دارا مہر تھا۔ پنج تنتر کی حکایتیں بکرم ہی کے عہد میں تصنیف ہوئی تھیں۔ بعد میں ان کا ترجمہ عربی فارسی میں ہوا اور پھر بہت سی مغزی زبانوں میں۔ بکرم اور اس کے عہد کی اور بھی بہت سی حکایتیں ہیں جو آج تک ہند کے گائوں گائوں میں بیان کی جاتی ہیں۔
بکرم کے عہد میں بدھ مت آہستہ آہستہ صفحہ ہند سے مٹتا جاتا تھا۔ کالی داس کی تصنیفوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شوالوں اور ٹھاکر دواروں کو بہت مانا جاتا تھا۔ اور ان میں ہندوئوں کے دیوتائوں کی پوجا ہوتی تھی۔ راجہ شوجی کو پوجتا تھا مگر بدھ مت والوں کے ساتھ بھی مہربانی سے پیش آتا تھا۔ اس کے دربار کے نورتنوں میں سے ایک بدھ تھا۔

ہور چوپو!!ـ

اس لطيفے كو پنجابى ميں هى پڑهنے ميں مزا ہے ـ اس لئے پنجابى ميں ہى نقل كر رہا هوں ـ يه صرف ايک لطيفه هى نهيں ـ پاكـ فوج كے پاكستان كے ساتهـ سلوكـ کی بپتا بھی ہے ،،،،


اک سردار جی دے پریوار وچ چار پنج بھرا سن۔
 اک دن بہہ کے صلاح مشورا کرن لگے۔
پئی ایتکی کیہڑی کیہڑی پیلی وچ کیہ کیہ ویجنا چاہی دا اے۔
 وڈے صلاح دتی پئی مڈھلا کلا جھونے ۰مونجی) لئی۔
 اگلا کپاہ(کپاس) لئی تے اُہنوں اگلے چاچے کیاں دے نال والے کلے چ کماد دے بروٹے سٹنے چاہی دے نیں۔
اک نے اگارا بھردے ہوئے آکھیا۔
پئی چاچے کیاں نے تاں کماد نوں اجاڑ پاء دینی ایں۔ اک ہور بولیا اِہدا علاج تاں اج ای بلکہ ہنے ای کر لیندے آں۔
چلو اٹھو آئو میرے نال۔ سارے بھرا ڈانگاں پھڑی چاچے کیاں ول ٹر گئے۔
اگے اُہ اپنے اپنے کمیں کاریں رجھے ہوئے سن۔
اِہناں جاندیاں ای آدیکھیا نہ تائ۔ ڈانگاں اگریاں تے داڑ داڑ ورھویناں شروع کر دتیاں۔
کسے نوں کھرلی وچ سٹیا۔
کوئی ویڑھے وچ ڈگا پیا۔
تے کوئی اگے لگ کے بھج وگیا۔
پر بہتیاں دے کھنے کھل گئے۔
چاچے نے بڑا پچکار کے ترلیاں نال پچھیا!!'
پئی تہانوں کیہ وگیاں؟؟
اگوں جواب ملیا۔
ہور چوپو۔
تہانوں چپا لیندے آں گنّے!!۔
لوکاں وچاریاں نال تاں ہور چوپو والا ای ہتھ ہو رہیا اے۔
کہ
کماد اجے بیجیا وی نئیں تے چاچے نال ڈانگو ڈانگی۔
 

Popular Posts