جمعہ، 17 مارچ، 2017

جاپان اور معدنی دولت

جنگ کے بعد کے جاپان ، یعنی جنگ عظیم دوم کے بعد !،۔
جاپان نے جو معاشرت ترتیب دی ہے اس کی نظیر اقوام عالم کی تاریخ میں نہیں ملتی ،۔
سو سال کی تعلیم کو اس ترقی کی اساس کہوں گا
اور
معدنی دولت  کو اپنی منظم محنت سے ترقی کی معراج بنا دیا ،۔
معدنی دولت   کوئلہ اور سیمنٹ   ،جی ہاں جاپان کوئلہ اور سیمنٹ  کی معدنی دولت سے مالامال ہے ،۔
جنگ کے بعد چالیس اور پچاس کی دھائی  جاپان  آبادی کی اکثریت کان کنی میں مصروف تھی ، اور باقی کی لوہے کو  ڈھالنے میں لگی ہوئی تھی ،۔
زلزلوں کی سرزمین جاپان  میں فلک بوس عمارتیں  لوہے اور سیمنٹ   انبار ہیں ،۔
یہاں گنماں کین کے پہاڑوں میں اتنا سیمنٹ ہے کہ جاپان کی سو فیصد ضرورت کو پورا کرتا ہے ،۔
گنماں کی پہاڑیوں سے زمین دور ٹرینیں سائیتا کین کے کوما گایا شہر تک چلتی ہیں ،۔
کوماگایا  جہاں جاپان  ایک عظیم سیمنٹ فیکٹری کام کر رہی ہے ،۔

پاکستان ، بھی ان دو چیزوں کوئلہ اور سیمنٹ کی دولت سے مالا مال ہے ،۔
لیکن عربوں کی سنت ہے کہ تیل کی دولت مالامال لیکن ریفائنری کی تکنیک میں نا اہل ،۔
پاکستان  بھی عربوں کی سنت پر عمل پیرا نظر آتا ہے
کہ
کوئلے اور سیمنٹ کو استعمال کرنے کی تکنیک سے نااہل،۔
فارن کی کمائی سے لاکھوں ڈالر پاکستان بھیجنے والا ایک محنتی شخص جب دس سال بعد پاکستان گیا تھا
تو اس نے دیکھا کہ اس کی کمائی ساری کی ساری ضائع ہو چکی ہے ،۔
گھر پر وہی  برتن ، وہی چمچ اور وہی رضائیاں تھیں جو وہ چھوڑ کر گیا تھا ،۔
ابا جی نے اس کو بتایا کہ
جو بھی کاروبار کیا اس میں نقصان ہوا 
بس جی میری قسمت ہی خراب تھی ،۔پاس ہی گاما کھڑا تھا
کہنے لگا
چاچا تیری قسمت نئیں ،دماغ خراب اے ،۔
آپ کا کیا خیال ہے ؟
پاکستان کے ارباب اقتدار کی بھی قسمت ہی خراب لگتی ہے ،۔

بدھ، 15 مارچ، 2017

جاپان

دنیا کی پرانی ترین معاشرت ، ہندو  جاپان سے مدد لے کر اپنی معاشرت کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے ،۔
تیل کی دولت سے مالا مال  سعودی عرب کا بادشاھ اج یہاں  جاپان سے مدد مانگنے آیا ہوا ہے کہ
جاپان کا یہ نظام جو کہ نہ  مال غنیمت پر اور نہ ہی تیل کی دولت پر انحصار کرتا ہے ،
یہ نظام ہمیں بھی بنا کر دیں ،۔

جاپانی قوم ایک عظیم قوم ہے ، معلوم تاریخ میں ایسی معاشرت کی مثال نہیں ملتی ،۔
آج کے جاپان کا معیار زندگی  تاریخ میں کسی بھی قوم کو نصیب نہیں ہوا ،۔ معدنی دولت ، جنگوں کی کمائی یا کہ غلاموں کے استعمال کے بغیر صرف اور صرف امداد باہمی سے تعمیر کی کئی معاشرت کو بے مثال اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ
برف کے دوسرے طوفان کو ختم ہوئے کوئی گیارہ ہزار سال ہونے کو ہیں ،۔
جن میں سے صرف چھ ہزار سال کی تاریخ کو معلوم تاریخ کہا جاتا ہے ،۔
جس میں بہت سے ابہام بھی ہیں ،۔
اگر چہ کہ جاپان میں برف کے طوفان کے دوران  کی ایک تہذیب کے بھی ثبوت ملتے ہیں
لیکن جاپان سے باہر کی دنیا میں بلخصوص ایشا میں انسانی تہذیب کے سب سے پرانے نشانات میں حمورابی کے قانون کے
نشان ملتے ہیں ، بادشاھ حمورابی کی معاشرت میں بھی غلاموں سے کام لینے اشارے ملتے ہیں م،۔
میسوپٹومیا ،  چار ہزار سال سے پانچ ہزار سال  پہلے کی تہذیب جس سے ملنے والی تحاریر سے حمورابی کا سراغ ملتا ہے ،۔
جو کہ اندازاً کوئی ایک ہزار سال کے واقعات ہوں گے م،۔
سمیری لوگ خود تاجر پیشہ تھے ، سمندروں میں سفر کرنے کے لئے انہوں نے بھی غلاموں  سے کام لیا ،۔
سمیریوں کو  لوٹنے والے  بادشاھ سارگون کے قبائل کی اسودگی  کی بنیاد سمیریوں سے لوٹی ہوئی دولت تھی ،۔
اس کے بعد مصر میں فرعونوں کی تہذیب ہمارے لئے نشانیاں لئے ہوئے ہے ،۔
یہ تہذیب بھی غلاموں کی محنت سے اپنے وقت میں عروج پر تھی ،۔
مصریوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر
اسودہ معاشرت قائم کی ،۔

 اس سے پہلے یا کہ ساتھ ساتھ موہن جودڑو کے کھنڈرات ہیں ، جس کی تحریر کو پڑھا ہی نہیں جا سکا
ہو سکتا ہے یہاں انسانی برابری کا کوئی معاشرہ ہو
 یا کہ نہیں بھی ہو سکتا ،۔ْ

ادبی ذوق اور فنون لطیفہ  کی لیڈر قوم یونانی،۔
یونانیوں میں دولت کی بہتات  جنگوں سے لوٹ کے مال اور اغوا کئے ہوئے غلاموں  کی وجہ سے تھی ،۔
یہودی  تجارت کے ساتھ ساتھ غلاموں  کی خرید فروخت سے اسودہ زندگی کی ایک تاریخ رکھتے ہیں ،۔
دنیا کی پرانی ترین معاشرت ، ہندو !،۔
ہر دور میں مال اور کھانے کی بہتات لئے اس معاشرت میں طبقاتی اونچ نیچ تھی ،۔
امیر بہت امیر اور غریب بہت غریب  تھے ،۔
ہندو معاشرت جو کہ جاپانیوں کے لئے مذہبی ، روحانی اور معاشرتی طور پر ہمیشہ قابل رشک رہی ہے ،۔
خود اس معاشرت میں ایسی برابری کبھی نہیں رہی جیسی کہ اج کے جاپان میں ہے ،۔
آج کے جاپان میں دولت ہے ، مال ہے ، لیکن یہ معاشرت نہ تو جنگ میں لوٹی ہوئی دولت سے اور نہ ہی زمین سے نکلنے والی دولت  کی طاقت سے بنی ہے ،۔
اور نہ ہی اج کے جاپان میں ،غلامی کا کوئی تصور ہے ۔
یہ معاشرت صرف اور صرف باہمی امداد اور رواداری سے بنی ہے ،۔
امریکہ اور یورپ کی معاشرت کا تقابل  جاپان سے کرنا ہے تو
صرف اس بات تک کہ وہ ساری چیزیں جو جاپانی استعامل کر  رہے ہیں اور ایسی ہی انسانی برابری  یورپ اور امریکہ میں بھی پائی جاتی ہے ،۔
لیکن
یاد رہے
کہ
یورپ کی یہ مال داری افریقہ اور ایشیا کے ممالک سے کالونیوں کے عروج کے دور میں لوٹی ہوئی دولت ہے ،۔
امریکہ کی دولت مندی کے پیچھے جنگ کی فروخت ہے ،۔
جاپان میں نہ کالونیون سے چرائی ہوئی دولت ہے
نہ جنگی مال بیچ کر کمایا ہوا مال
نہ یہاں کوئی سونے کی کانیں ہیں اور نہ ہی مال غنیمت سے بنا ہوا کوئی بیت المال !!،۔
دنیا کی پرانی ترین معاشرت  ہندو ، جاپان سے مدد لے کر اپنی معاشرت کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے ،۔

تیل کی دولت سے مالا مال  سعودی عرب کا بادشاھ اج یہاں  جاپان سے مدد مانگنے آیا ہوا ہے کہ
جاپان کا یہ نظام جو کہ نہ  مال غنیمت پر اور نہ ہی تیل کی دولت پر انحصار کرتا ہے ،
یہ نظام ہمیں بھی بنا کر دیں ،۔

جاپان انڈیا کو گائڈ کر رہا ہے کہ کیسے اپنے مزدوروں سے کام لے کر ملک سے بجلی کی قلت کو ختم کر سکے ، تیز ترین ٹرین کیسے چلا سکتا ہے ، ٹیکسوں اور بیمہ کے معاملات کی تربیت دے رہا ہے ،۔
اسی طرح اج اسلامی دنیا کا ان داتا سعودیہ یہاں جاپان سے “ہدایت “ کی امید لئے آیا ہوا ہے ،۔
 پاکستان کا دشمن  انڈیا سیانا ہے کہ کوالٹی کی قدر جانتا ہے ،۔اسی لئے جاپان سے مدد لے رہا ہے ،۔
پاکستان کا ان داتا سعودیہ بھی کوالٹی کی قدر کی سمجھ رکھتا ہے اسی لئے ، سعودیہ کا بادشاھ شاھ سلیمان  یہاں جاپان سے  تکنیک ، علم ، اور ہنر کی مدد مانگنے آیا ہوا ہے ،۔
پاکستان کو پتہ نہیں کس افلاطون نے مشورہ دیا ہوا ہے کہ وہ چین سے مدد مانگتا ہے
چین خود جس کے اپنے ملک میں برابری نہیں ہے اور جو خود جاپان کی تکینک اور ہنر کی نقل کرتا ہے ،۔
پاکستان کے لئے بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
اس ملک پر اللہ کا عذاب ہے
اور اللہ کا کیا ہوتا ہے ؟
اس کو پنجابی دانش میں ایک محاورے میں بیان کر دیا جاتا ہے ،۔
رب نہ مارے ڈانگاں
بس، پٹھی کر دے مت !،۔

جمعرات، 2 مارچ، 2017

کن فیکون

شائد یہ کائینات ناتمام ہے ابھی

آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

فلمی سین ہے ، کالج میں لڑکی کتابیں لے کر چل رہی ہے ، اس سے ایک لڑکا آ کر ٹکرا جاتا ہے ،۔
کتابیں بکھر جاتی ہیں
دونوں بیٹھ کر کتابیں اکٹھی کر نے لگتے ہیں ،۔
دونوں اوپر نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں ،
کن ہو جاتا ہے
اب فیٰکون ہوتا چلا جائے گا ،۔
پنجاب کے کسی گاؤں کا منظر ہے
لڑکا جوان ہو گیا ہے ، فارن بھیجنے کے لئے  ایجنٹ کو پیسے دئیے ہیں ،۔
بس منڈا ایک دفعہ فارن پہنچ جائے ،
تو ؟ کن  ہو جائے گا
اور فیٰکون ہوتا چلا جائے گا ،۔
پڑوسویں کی فارن کی کمائی سے ،اپنے دیس میں کن کی کوشش میں ایک بندے نے بیٹری  سیل بنانے کی فیکٹری بنا لی ہے ،۔
مشہور برانڈ کے لیبل چھپوا لئے ہیں ،۔
کن ہو گیا ہے ۔؎اب فیٰکون ہوتا چلا جائے گا م،۔
جیدا سائیں بھی سوچ رہا ہے کہیں سے بھی کیسے بھی ،رقم کا کن ہو جائے تو شہر میں ایک پلازا بننے کا فیکون اور اس کے بعد ہن برسنے کا فیکون ہوتا ہی چلا جائے گا ،۔
اچھو نے کمیٹیان ڈال  ڈال  کر چاند گاڑی کا کن  کیا لیکن اس  فیکون نہیں ہو سکتا اچھو کو روز  ہر روز چاند گاڑی پر سواریاں ڈھونی  پڑتی ہیں ،۔
مجبوری ہے ،۔
گامے کا زمیندارہ ہے ، زمین پر ہل چلاتا ہے ،۔ کھاد بیج کے لئے شاھ جی (سود خور) سے رقم لے کر چھ مہینے پھوٹک کی تلفی ، کھرپی سے پولائی ، دن رات کی محنت سے فصل اٹھتی ہے ،۔
کن اور فیکون ، شاھ جی (سود خور)  کا ہو ہوتا ہے ،۔ فصل ان کے گھر جاتی ہے ،۔
مجبوری اے ۔
دیوندر سنگھ کی ماں دیوندر کے رشتے کے لئے مراثیوں اور وچولوں کی منتیں کرتی ہے تب جا کر رشتہ ہوتا ہے تھرو پراپر چینل ،۔
اس  کو کن اور فیکون کا علم ہی نہیں ہے م،۔
برائین ، کے ذہن میں بچپن سے ہی ڈال دیا گیا ہے
کہ جو جتنی زیادہ کوشش کرئے گا اس  کی کمائی اتنی ہی زیادہ ہو گی ،،۔
برائین ، سکول  کالج کے بعد یونیورسٹی تک کی تعلیم لے کر ملازمت کرتا ہے ، اس کو ہر روز کام پر جانا پڑتا ہے ،۔
اس کو بھی کن اور فیکون کا نہ علم ہے نہ تصور ،۔
تاناکا  سکول کے بعد ٹیکنیکل کالج سے تعلیم لے کر پرنٹنگ پریس لگا لیتا ہے ،۔
ہر روز نئے نئے ڈیزائین ، نئے رنگ  کی سوچ اور مسلسل محنت اس کا مقدر بن جاتی ہے ،۔
اس کو بھی  کن اور فیکون کے فلسفے کا علم ہی نہیں ہے ،۔

فرق صاف ظاہر ہے
سوچ اپنی اپنی  عمل آپنا آپنا ،۔
میکنتوش والوں کا سلوگن ہوتا تھا ،۔
تھنک ڈیفرینس یعنی کی سوچ ای وکھری اے ،۔

بدھ، 1 مارچ، 2017

پٹھان کی مینگنیاں

دبئی مال بھیج کر میں اپنے جاپانی مہربان کے ساتھ شارجہ کے یارڈوں پر گھوم پھر رہا تھا ،۔
احمد خان  کی مہربانی سے جمال شاھ نامی ایک فرشتہ  مجھے اپنی گاڑی پر بٹھا کر سارا دن میرے ساتھ ہوتا تھا ،۔
ایک یارڈ پر جب ہم لوگ رکے تو  جاپانی دوست نے زمین پر بکھری ہوئی مینگنیوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا
یہ کس جانور کی مینگنیاں ہیں ،۔
وہ جاپانی بھی پینڈو تھا اور میں بھی پینڈو
لیکن ان مینگنیوں کا رنگ اور ساخت دیکھ میں نہیں پہچان سکا کہ یہ کس چیز کی منگنیاں ہیں ،۔
بہت غور کیا
نہ تو بکری کی تھیں  کہ بکری کی منگینیوں سے بڑی تھیں اور کچھ ان کی ساخت  بھی گول نہیں تھی ، سوچا شائد خرگوش ہو
لیکن جاپانی کہنے لگا کہ نئیں سائز مختلف ہے ،۔
مجبور ہو کر جمال شاھ سے پوچھا کہ یہ کس چیز کی مینگنیاں ہیں ،۔
جمال شاھ بڑا زندہ دل پٹھان تھا ،۔
جمال شاھ زیر لب مسکرایا
اور
کہنے لگا یہ پٹھان کی مینگنیاں ہیں ۔
میرے چہرے پر حیرت دیکھ کر جمال شاھ بات جاری رکھتا ہے
اور کہتا ہے
یہ پٹھانوں کا یارڈ ہے ،۔
سب لوگ نسوار کا شوق کرتے ہیں ،
یہ نسوار ہے  ،۔
منہ سے نکال کر ادھر ادھر پھینکی ہوئی ہے ،۔
یہ علیحدہ بات ہے
کہ
اس کے بعد جاپانی دوست کو نسوار کی ساخت ، نسوار کے خواص ، رواج اور دیگر معلومات کی  وضاحت پر کئی دن لگے تھے ،۔

نسوار کے خواص


کہیں کسی جھیل پر کوئی خان صاحب کانٹے سے مچھلیاں پکڑ رہے تھے کی ان کے  کینچوے (گنڈوئے) ختم ہو گئے ،۔
خان صاحب اپنا سامان اٹھا کر کوچ کرنے لگے تھے کہ انہوں نے سرسراہٹ سنی ، اس طرٖف دیکھا تو ایک سانپ نظر آیا جس نے منہ میں ایک مچھلی پکڑی ہوئی تھی ،۔
خان صاحب کے ذہن میں آئیڈیا آیا کہ منہ میں مچھلی پکڑا سانپ کاٹ تو سکے گا نہیں تو کیوں نہ اس سے مچھلی چھین کر  اس مچھلی کو گنڈوئے  کی جگہ  استعمال کر کے شکار جاری رکھا جائے ،۔
خان صاحب سانپ پر جھپٹے ، سانپ کو گردن سے پکڑ لیا ،۔
مچھلی سانپ کے منہ سے گر گئی ،۔
مچھلی کے سانپ کے منہ سے نکلتے ہی خان صاحب کے سامنے پریشانی سر اٹھائے کھڑی ہوئی کہ اب سانپ کو چھوڑیں کیسے ؟
سانپ تو پلٹ کر کاٹے گا !!،۔
خان صاحب کی نایاب عقل میں ایک آئیڈیا آیا ، کاں صاحب نے دوسرا ہاتھ جیب میں ڈال کر نسوار کی ڈبی  نکالی جس میں انہوں نے نسوار کو ٹشو پیپر میں لپیٹ کر پڑیاں بنا کر رکھی تھیں ،۔
خان صاحب نے دو تین نسوار کی پڑیاں سانپ کے منہ میں ڈال دیں ، سانپ کا منہ بند ہو گیا ، خان صاحب نے سانپ کو جھیل میں پھینک دیا م،۔
سانپ کے منہ سے نکلی مچھلی کو ٹکڑے کر کے کانٹے پر لگا کر کانٹا ، پانی میں ڈالے بیٹھے تھے کہ
پھر سرسراہٹ محسوس ہوئی ۔
جھک کر دیکھا تو؟
وہی سانپ تھا جس کو جھیل میں چھوڑا تھا
وہ سانپ منہ میں دو مچھلیاں دبائے  خان صاحب کا منہ دیکھ رہا تھا
کہ
ماڑا تھوڑی نسوار تو دو !!م،۔
حاصل معالعہ
باہمی بھائی چارے کے لئے نسوار ناگزیر چیز ہے ،۔

Popular Posts