سوموار، 14 ستمبر، 2015

دین فضولی تے لین حکمت


فرانسیس رائیٹر نے ایک کہانی لکھی تھی  جس میں ایک بندے کو ایک لمبی توپ سے گولے کی طرح داغ کر چاند پر پہنچایا جاتا ہے  ۔
اس کہانی کے لکھے  جانے کے کوئی سو سال بعد راکٹ داغ کر انسان کو چاند پر پہنچیا گیا ، فرانسیس رائیٹر کی لکھی کہانی کی توپ کی لمبائی اور اپالو گیارہ کو لے کر اڑنے والے راکٹ کی لمبائی ایک ہی تھی ۔
وہ بھی ایک فرانسیسی رائیٹر ہی تھا جس نے فکشن کہانی میں ایک کشتی کو  چمڑے میں مڑھ کر پانی کی  گہرائیوں میں ابدوز چلانے کی کہانی لکھی تھی ۔
جرمن لوگوں نے ابدوز اس کہانی کے کوئی ایک سو سال بعد ایجاد کی تھی ۔
یہاں جاپان میں ، جس معاشرت میں پاکستانی لوگ پناھ گزین ہیں ، یہان زندگی  کی اکثر  مشکلات ، معاملات کا کوئی نہ کوئی حل سسٹم میں موجود ہے ۔
جاپان کا دین انسان کی زندگی میں ہونے والے مصائب اور مسائل کے تدارک کے لئے بہت  مدد گار نظام ہے ۔
لیکن ایک مسئلہ ایسا نظر آیا ہے جس میں نظام  بھی مدد کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے ۔
وہ ہے
رقم کی وصولی  ، اگر دینے والا انکار کر دے یا کہ حیل و حجت پر اتر آئے  ۔
اصل میں نظام  مجبور بھی وہاں ہوتا ہے جہاں لوگ نظام  کی ہدیت کے مطابق  لین دین میں لکھائی نہیں کرتے ۔
قران میں بھی لین دین  کے معاملات کو لکھ لینے  یا لکھوا لینے کا حکم کیا ہے  ۔
یہاں ہمارے ایک دوست کے ساتھ معاملہ اس طرح ہوا کہ  انہون نے ایک برمی کی مدد کے لئے  اس کی گاڑی کو منڈی میں بیچنے میں مدد کی ، رقم وصول ہو جانے کے بعد اس گاڑی میں کوئی نقص نکل آیا  جس پر گاڑی واپس آ گئی  ، اس برمی نے گاڑی کہیں اور بیچ دی لیکن  منڈی کو واپس کرنے والی رقم  واپس نہیں کی ۔ جو کہ پاکستانی دوست کو  منڈی کا ممبر ہونے کی وجہ سے واپس کرنی ہی پڑی تھی ۔
اب وہ برمی بندہ پاکستانی کو رقم واپس نہیں دے رہا ۔ یہ معاملہ کوئی ڈیڑھ سال سے چل رہا ہے  ۔
دوسرا کیس  ، ایک دوست نے ، دوسرے کو اپنا نمائیندھ اور پاٹنر بنا کر تھائی کی مارکیٹ میں بٹھایا
کہ میں گاڑیاں بھیجتا ہون اپ ان کو بیچ کر رقم جاپان پہنچاؤ ، مانفع بانٹ لیا کریں گے ۔
تھائی سائڈ والے پاٹنر نے کوئی سات ملین کی رقم دبا کر  گاڑیاں کسی اور بندے سے منگوانے لگا ۔
جاپان سائڈ والا پاٹنر  رقم کا تقاضا رتا ہے تو
اس کو بتایا جاتا ہے کہ
میں اپ کی ہی رقم کے لئے کوشاں ہوں جیسے ہی انتظام ہوتا ہے  رقم اپ کو ادا کر دیتا ہوں
اس معاملے میں بھی کوئی ایک سال گزر چکا ہے ۔
اس معاملے میں کیا ہونا چاہئے ؟؟
 معاشرہ ایسے  بندے کی کیا مدد کرسکتا ہے ؟
ایک رائیٹر کے خیال میں ،اگر  اس شہر یا علاقے کے لوگ ، جو مسجد میں یا اوکشن میں ملتے ہیں  وہ سب لوگ  باری باری ،رقم دبائے بیٹھے بندے کو ۔
بڑے آرام اور تحمل سے یہ کہیں کہ
یار جی تم  جو رقم دبائے بیٹھے ہو وہ واپس کر دو ، تم ایک غلط کا کر رہے ہو !!۔
اگر ایک بندے کو صرف پینتیس سے چالیس لوگ ایک ہفتے کے اندر دو دو یا تین تین دفعہ یہ کہہ دیں تو ؟
میں نہہں سمجھتا کہ رقم کی واپسی کا کوئی طریقہ نہ نکلے ۔
یاد رہے کہ فراڈیہ بھی ایک انسان ہے  جو کہ فراڈ کو دل کی عمیق گہرائیوں میں کہیں نہ کہیں برا ضرور سمجھتا ہے ۔
معاشرے کے یاد کروانے پر اس کے دل میں بھی یہ خوف جاگ جائے گا کہ
اگر سارے لوگوں کو میرے “ بڑے “ ہونے کا علم ہو گیا تو  ، میں فراڈ کس سے کروں گا ؟؟
جیسے بھی سہی ۔ میں اس بات کا یقین رکھتا ہوں کہ
یہ طریقہ کار کام کرئے گا ۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts