سوموار، 7 ستمبر، 2015

بے مذہب کے فلسفے


گاما ایک بے مذہب انسان ہے ، زیادہ ہی کھلے دل سے مذاہب کی ترکیب پر بھی بات کر جاتا ہے ۔
بے مذہب گاما  اپنے مالک   ( اللہ ) کی بہت رسپکٹ کرتا ہے  ۔ سوتے جاگتے ، چلتے پھرتے  کام کاروبار میں ہر جگہ اپنے مالک  کی  مرضی کا بہت خیال رکھتا ہے  ۔
کہ  کہیں کوئی کام ایسا نہ ہو جائے کہ  مالک ( اللہ)  سائیں کو اچھا نہ لگے  ۔
 بے مذہب گاما  ! دارے میں بیٹھا  حقے کے کش لگاتا  ، گاؤں کے دوستوں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا کہ
دیکھو جی  ، پڑوس کے ملک کے ہندو  لوگ جو دنیا کا قدیم ترین مذہب رکھتے ہیں ، ان کے ہاں لاکھوں ہی خدا ہوا کرتے ہیں ۔
اس کےبعد یونانی ہوئے ہیں جن میں ہزاروں ہی خدا ہوا کرتے تھے  ،۔
ہاں ہاں وہی یونانی جن میں اگر نابینا ہیومر نہ ہوتا جس نے منظوم قصے لکھ کر یونانیوں کو زندہ کر دیا تھا
تو
یونانیوں کی  عمارتوں کو دیکھ دیکھ   کر لوگ ایسے ہی ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے جیسے کمبوڈیا کی “ انکور واٹ “ کو دیکھ اج کی دنیا ٹامک ٹائیاں مار رہی ہے کہ کون لوگ تھے جو یہ عمارتیں بنا کر فنا کے گھپ اندھیروں میں کھو گئے  ۔
گاما یہاں تک پہنچا تھا کہ  ماسٹر جی بھی  حقہ  کشید کر کے لئے وہیں آ پہنچے !۔
ماسٹر جی نے لقمہ دیا
ہاں ہاں بتاؤ ناں  انکور واٹ کا قصہ بھی کہ  کوئی راز کھولو؟
گاما گویا ہوا : ماسٹر جی انکور واٹ والوں کو کوئی ہیومر نصیب نہ ہوا ، جو ان کا قصہ لکھ کر دے جاتا  ۔
انکور واٹ والوں سے تو اپنا صاحباں کا مرزا خوش نصیب نکلا کہ ان کو دمدرداس مل گیا جس نے  مرزے کی “واردات “ کو عشق کی انتہا بنا کر  مزرے کو زندہ کر دیا ۔
بھولا سنیارہ کہنے لگا  : یار بات کو درمیان میں چھوڑ کر دور نہ جاؤ وہی بات کرو کہ یونانیوں کے ہزاروں خدا تھے تو؟
ہاں ہاں
ہندوؤں کے لاکھوں اور یونانیوں کے ہزاروں خدا تھے  ،۔
اس کے بعد پارسی گزرے ہیں جن کے سینکڑوں خدا تھے ۔
پارسیوں کے بعد عیسائی  ہوئے جن کے تین خدا ہیں ۔
اور پھر ایک خدا کا تصور دیا گیا ۔
اب ایک خدا کے تصور نے تو  خدا ختم ہی کر دئے ، ہیں اس لئے کوئی نیا خدا نہیں بن رہا
ورنہ یہ مولوی  ہر مسیت میں ایک نیا خدا بنا کر بیٹھے ہوتے ۔
ماسٹر جی  پھر گویا ہوئے :
اوئے گامیا! تم پھر ڈنڈی مار گئے ہو ، کم عقل  لوگوں کو ادھوری بات بتاتے ہوئے تمہیں “مالک “ دیکھ رہا ہے کا خیال نہیں آیا؟
گاما گھسیانا ہو کر ہی ہی ہی کرنے لگا
اور پھر بولنے لگا ، ویکھو یارو ، اصل میں ایک خدا کا تصور تو ابراہیم علیہ سلام نے دیا تھا ۔
وہی ابراہیم ، جس پر تورایت انجیل زبور میں سلامتی بھیجی گئی ، جس کی آل کو دنیا کی منتخب نسل ہونے کا بتایا گیا  ،۔
وہی ابراہیم جن نے ایک خدا کے ماننے والوں کو پہلی دفعہ مسلمان کہا اور جس نے پہلی بار ایک خدا کے تصور  والے نظرئے کو  اسلام کہا ۔
بات سے جان چھڑانے والے انداز میں  کہتا ہے
بس اس کے بعد اسی ایک خدا کے فلسفے کو  ہر دوکاندار نے اپنے اپنے انداز میں کیش کرانے کی کوشش کی کسی  نے ایک کو  “تثلیث” کا کہہ کر ایک ہی خدا ہے  تین بنا دیئے
اور کسی نے اس کو “نور کا ہالہ “ بنا کر لاتعداد کرنیں بنا دیں ۔
بس یارو اب کوئی کچھ بھی کہلوائے
جو دین ابراہیمی کی طرح کا  سیدہی راھ پر چلنے والا ہے وہی مسلمان ہے اور جو نظام سیدھی راہ دیکھاتا ہے وہی اسلام ہے  ۔
ہاں ہاں وہی اسلام جس کے ہمیشہ عروج پر رہنے کی  اللہ نے ضمانت دی ہے ۔
ہر زمانے میں  مسلمان ہی سرخرو رہتا ہے  ۔
مسلمان کہلوانے والا کم فہم اور بد نظم  کبھی بھی سرخرو نہیں ہو سکتا ۔
گاما  یہ بات کہہ کر نکل گیا تھا کیونکہ گاما ، قران کا علم رکھنے والے ماسٹر جی کے سامنے  اپنے بے مذہبی کے فسلفے بکھارنے سے کتراتا ہے  ۔

1 تبصرہ:

Muhammad Ramzan Rafique کہا...

خوبصورت لکھا ہے، آپ کے لکھنے میں ایک ناول نگار کی سی روانی ہے، اس کو مختصر افسانوں تک محدود نہ رکھیں۔۔۔۔۔۔۔آپ اتنا اچھا لکھتے ہیں کہ پہلے سٹے رشک سا آنے لگتا ہے، لکتھے رہیئے

Popular Posts